جشن یسوع ۔ لندن کی ایک مسیحی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال

16 جولائی 1994ء کی بات ہے ورلڈ اسلامک فورم کے ایک وفد کو کچھ عرب دوستوں سے ملنا تھا۔ ملاقات کی جگہ لندن میں چیئرنگ کراس ریلوے اسٹیشن کے ساتھ اسی نام کے ہوٹل کے گیٹ پر طے تھی۔ وفد میں راقم الحروف کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی برکت اللہ شامل تھے۔ اتفاق سے عرب دوستوں کو پروگرام کے دن کے بارے میں غلط فہمی ہوگئی اور فون کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ملاقات کے لیے تشریف نہیں لا سکیں گے۔ ہم تینوں کو باہمی گفتگو کے لیے مناسب جگہ کی تلاش ہوئی، وہیں لندن کی شہرہ آفاق نیشنل آرٹ گیلری ہے جس کے سامنے ایک کھلا میدان ہے جو ہر وقت سیرگاہ بنا رہتا ہے اور ویک اینڈ پر یعنی ہفتہ و اتوار کے دن چھٹی کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ ہم نے سوچا کہ وہیں کسی بینچ پر بیٹھ کر باہمی گفتگو کر لیں گے اور پھر اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔

میدان میں پہنچے تو میلے کا سماں تھا، ایک طرف اسٹیج بنا ہوا تھا جس پر ایک گروپ موسیقی کے آلات سنبھالے گانے بجانے میں مصروف تھا جبکہ چاروں طرف خواتین و حضرات کا ایک ہجوم تھا جو آواز کے زیروبم کے ساتھ تھرکنے میں مگن تھا۔ ایک طرف کبوتروں کی ایک بڑی تعداد زمین پر دانہ چگنے میں محو تھی، عورتیں اور بچے اپنے ہاتھوں میں ان کے لیے دانہ لیے ادھر ادھر پھر رہے تھے اور ان کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں کبوتر منڈلا رہے تھے۔ یہ کبوتر روزانہ اس جگہ لوگوں کے انتظار میں ہوتے ہیں اور لوگ ایک تفریحی مشغلہ کے طور پر جمع ہو کر انہیں دانہ ڈالتے رہتے ہیں۔ خیر ہم اس سارے منظر پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ کر اپنی گفتگو میں مصروف ہوگئے۔ دورانِ گفتگو ایک دو بار میری نظر بعض نوجوانوں کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی صلیب پر پڑی۔ حسب عادت چونکا کہ صلیب کا اس میلے کے ساتھ کیا جوڑ ہو سکتا ہے، غور سے دیکھا تو اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں صلیب نظر آئی بلکہ ایک دو بڑی صلیبیں نمایاں طور پر نصب تھیں اور بیشتر لوگوں کے کپڑوں، جسموں اور چہروں پر مختلف رنگوں سے صلیب کے نشان بنے ہوئے تھے۔

زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے میں اسٹیج پر ہونے والی گفتگو اور گانوں کا مفہوم سننے کے باوجود سمجھ نہیں رہا تھا اس لیے مولانا مفتی برکت اللہ صاحب کو اس طرف متوجہ کیا کہ اس میلے کے بارے میں مجھے بتائیں کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ مفتی صاحب نے اسٹیج کی طرف غور سے دیکھا اور چند لمحات اسٹیج پر ہونے والی گفتگو اور گانے کو سن کر فرمایا کہ یہ تو ان کی مذہبی تقریب ہے اور سب مذہبی جوش و جذبہ کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہیں۔ تقریب کی کیفیت یہ تھی کہ اسٹیج پر ایک گروپ آلاتِ موسیقی سنبھالے ہوئے تھا، یہ لوگ کبھی گانے لگتے، کبھی ان میں سے کوئی شخص تقریر کے انداز میں گفتگو کرنے لگتا۔ لاؤڈ اسپیکر کی وجہ سے آواز کافی فاصلہ پر بھی سنائی دے رہی تھی۔ گانے کے چند بول جو ہماری سمجھ میں آئے اس قسم کے تھے

’’یسوع! ہم یہاں ہیں، اے یسوع! ہم تم سے محبت کرتے ہیں، ہمیں یسوع کی ضرورت ہے۔‘‘

اسی طرح مختلف بینر بھی میدان میں لگے ہوئے تھے جن پر اسی قسم کے سلوگن درج تھے۔ ایک پر لکھا تھا

’’یسوع کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔‘‘

ایک گول اسٹیکر جو اکثر لوگوں نے کپڑوں اور چہروں پر چپکا رکھا تھا اور مختلف کارکن جگہ جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو یہ اسٹیکر لگا رہے تھے اس کا مضمون یہ تھا

THE UK NEEDS JESUS (برطانیہ کو یسوع کی ضرورت ہے)

بعض اوقات اسٹیج پر گائے جانے والے گانے کی دھن کے ساتھ تقریب کے اکثر شرکاء ناچنے لگ جاتے اور کچھ لوگوں کو باقاعدہ اس طرح کا ’’حال‘‘ پڑتا نظر آرہا تھا جیسے ہمارے ہاں قوالی کے موقع پر ہوتا ہے۔ مفتی برکت اللہ ازراہ تفنن کہنے لگے کہ یہ کچھ صوفی قسم کے عیسائی لگتے ہیں۔ میں نے بھی اسی وزن پر گرہ لگا دی کہ صوفی بھی چشتی طرز کے نظر آتے ہیں (صوفیائے کرام سے دلی معذرت کے ساتھ)۔ اسٹیج کے ایک طرف دو منزلہ بس کھڑی نظر آئی جس کی پیشانی پر مستقل طور پر لکھا تھا

THE MODERN JESUS ARMY (جدید مسیحی فوج)

یہ بس اسی آرمی کی تھی جس کے ساتھ مسیحی فوج کا ایک ٹرک اور ایک ویگن بھی کھڑی تھی۔ اسی دوران اسٹیج سے اعلان ہوا کہ یہ تقریب شام کو ایک اور میدان میں ہو رہی ہے جس سے اندازہ ہوا کہ یہ ایک متحرک مذہبی میلا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ایک طرف کچھ لڑکیاں مختلف رنگ برتنوں میں گھولے بیٹھی تھیں اور لوگ اس رنگ سے اپنے کپڑوں، بازوؤں اور چہروں پر صلیب کے نشان بنوا رہے تھے۔ بعض لڑکیوں نے اپنے بال رنگے ہوئے تھے، بعض نوجوانوں کی پشت پر پورے پنجے کے نشان بھی تھے۔ ایک بچہ اپنے دونوں ہاتھ رنگ کر باپ کے کپڑوں پر ثبت کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا مگر باپ اس کے لیے تیار نہیں تھا۔

خیر اسی گہماگہمی میں مولانا عیسیٰ منصوری تو گفتگو سے فارغ ہو کر جلدی چلے گئے مگر راقم الحروف اور مولانا مفتی برکت اللہ نے اس مذہبی میلہ کے گرد ایک چکر لگانا مناسب سمجھا۔ اسٹیج کے قریب گئے تو ایک نیا منظر دیکھا کہ اسٹیج پر کھڑا ایک گروپ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے بلند آہنگ نوحہ کے انداز میں پکار رہا تھا

’’اے یسوع! ہم یہاں ہیں‘‘۔

نوحے کا انداز دیکھ کر اپنے ہاں کے شیعہ ذاکروں کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ آگے بڑھے تو ایک چھوٹا سا اسٹال نظر آیا جس پر پمفلٹ اور کتابچے فروخت ہو رہے تھے۔ ایک ورقہ جس پر اس قسم کی تقریبات کا پروگرام درج تھا مفت تقسیم ہو رہا تھا۔ ایک طرف ایک بھاری بھر کم ملنگ دو چار حواریوں کے گھیرے میں مست بیٹھا تھا، اسے دیکھ کر اپنے محترم اور کرم فرما بزرگ جہلم کے حاجی عبد الخالق یاد آگئے۔ میں نے مفتی برکت اللہ صاحب کو آمادہ کیا کہ ان سے ہلکا پھلکا انٹرویو کر لیا جائے۔ قریب گئے تو ان کا ایک ساتھی بات کے لیے آگے بڑھا، اس سے پوچھا کہ یہ تقریب کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ ہماری مذہبی تقریب ہے جو ہم سال میں دو دفعہ کرتے ہیں اور یہ تقریبات بھی ہماری تبلیغ کا حصہ ہیں۔ ہمارے سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ عملی اور اجتماعی زندگی سے مذہب کی لاتعلقی پر خوش نہیں ہیں اور مذہب کو دوبارہ عملی زندگی میں لانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تھوڑی دیر مسیحیوں کے مذہبی میلے میں گھوم کر ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا اور ٹیوب اسٹیشن کے گیٹ پر جدا ہونے لگے تو ایک خوبرو نوجوان لڑکی نے، جو یورپی لباس میں تھی اور سر اور ٹانگوں سے بے لباس تھی، ہمارے قریب آ کر ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ وہ میری طرف متوجہ تھی مگر میرے لیے زبان کا مسئلہ گفتگو میں رکاوٹ تھا۔ مفتی صاحب اس سے ہم کلام ہوئے تو اس لڑکی نے بتایا کہ وہ بوسنیا کی ہے اور پناہ گزین ہے۔ مفتی صاحب اسے سلام کہہ کر آگے بڑھ گئے اور بتایا کہ یہاں خانہ بدوشوں کی ایک مستقل قوم ہے جنہیں جپسی (gypsy) کہا جاتا ہے، ان لوگوں نے بوسنیا کے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بھیک مانگنے کا اچھا خاصا ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور یہ لڑکی بھی آپ سے کچھ مانگنے والی تھی، انہوں نے بوسنیا کے مظلومین کے نام پر اس قدر بھیک مانگی ہے کہ خود بوسنیا کے پناہ گزینوں کو اس پر احتجاج کرنا پڑا اور انہوں نے خاصی محنت کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی کہ یہ بھیک مانگنے والے لوگ بوسنیا کے نہیں ہیں۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۹۴ء