انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری مارچ ۱۹۹۵ء

(27 و 28 نومبر 1994ء کو مظفر آباد میں حکومت آزاد کشمیر کے زیراہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس میں پڑھا گیا)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ صدر ذی وقار، معزز مہمان خصوصی اور قابل صد احترام شرکاء سیرت کانفرنس!

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ

’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘

جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔

اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔

آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔

حضراتِ محترم! مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔

دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً

  • اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔
  • محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
  • جناب رسول اللہؐ نے امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اور حکومت کے غلط طرز عمل پر نقد و جرح کو فرائض میں شمار کیا ہے جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کسی تقسیم کے بغیر معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ رسول اکرمؐ نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کو جہاد قرار دیا ہے او ریہ تعلیم دی ہے کہ جو شخص دیکھتے جانتے ہوئے بھی غلط کو غلط نہیں کہتا وہ شریعت کی نظر میں مجرم ہے۔ مگر مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری امر بن گیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’حقوق‘‘ کے تصور نے اقتدار اور اپوزیشن کی صف بندی کر دی جس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔

یہ چند مثالیں یہ بات واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ مغرب نے ’’حقوق و فرائض‘‘ کو خلط ملط کر کے انسانی معاشرہ کی گاڑی کے دونوں پہیوں کا توازن بگاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی مسلسل لڑکھڑاتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے حقوق و فرائض میں توازن قائم کیا اور اس کا عملی نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں پیش کر کے دنیا کو دکھا دیا ۔

سامعین گرامی قدر! مغرب سے انسانی حقوق کے حوالہ سے دوسری بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ حقوق کے تعین کا معیار قائم کرنے میں اس کی نگاہ انسانی معاشرے کی وسیع تر ضروریات کا احاطہ نہ کر سکی۔ مغرب نے حق کے تعین میں معیار یہ پیش کیا کہ ہر شخص کو اپنی مرضی پر عمل کرنے کا حق ہے، جب تک کہ دوسرے شخص کی آزادی متاثر نہ ہو۔ اس طرح مغرب نے حق و ناحق اور جائز و ناجائز کے تعین میں شخصی مفادات و ضروریات میں ہم آہنگی یا ٹکراؤ کو بنیاد بنایا اور اس سے آگے نسل انسانی اور انسانی معاشرہ کی اجتماعی ضروریات و مفادات تک اس کی نگاہ نہ جا سکی جس کا خمیازہ مغرب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مثلاً

  • مرد و عورت کے اختلاط میں مغرب نے یہ تصور پیش کیا کہ جس درجہ کے اختلاط پر دونوں باہم رضامند ہوں، کسی تیسرے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی قانون کو گرفت کرنی چاہیے۔ یہاں مغرب نے مرد اور عورت کی باہمی رضامندی تو دیکھ لی مگر پورے معاشرہ پر اس اختلاط کے اثرات کو نہ دیکھ سکا جس کے نتیجے میں کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فیملی سسٹم تباہی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ جبکہ جناب نبی اکرمؐ نے مرد و عورت کی اس باہمی رضامندی کو بھی جرم قرار دیا ہے جو معاشرے کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔ اور مرد و عورت کے اختلاط اور میل جول کا ایک دائرہ قائم کر کے باقی ہر قسم کے میل جول سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ کسی بھی عمل کے جائز ہونے کے لیے صرف اس عمل کے دو فریقوں کا رضامند ہونا کافی نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔ اور یہی بنیاد ہے اس توازن کی جو رسول اکرمؐ نے مرد و عورت کے تعلقات کے حوالہ سے قائم فرمایا ہے۔
  • سود کے بارے میں مغرب نے کہا کہ جب سود لینے اور دینے والے آپس میں متفق ہیں تو کسی اور کو کیا اعتراض ہے؟ یہاں بھی مغرب نے دو افراد کی رضامندی کے محدود دائرہ کو بنیاد بنایا۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے معاشرہ پر مجموعی طور پر اس کے منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ اور آج سودی معیشت نے جس طرح پوری دنیا کو چند مخصوص گروہوں کی معاشی اجارہ دارہ کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی صداقت اور جناب رسول اللہؐ کی خداداد فراست و بصیرت کی روشن اور کھلی شہادت ہے۔

ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ہمیں آج کھلے دل و دماغ کے ساتھ انسانی حقوق کے مغربی تصور کا جائزہ لینا چاہیے اورا س کے وسیع تر پراپیگنڈہ سے مرعوب ہونے کی بجائے اس کے کھوکھلے پن کو تقابلی مطالعہ کے ساتھ سامنے لا کر اسلامی تعلیمات و احکام کو واضح کرنا چاہیے۔ تاکہ مشکلات و مصائب کے صحرا میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کی اسوۂ حسنہ کے شفاف اور خوش ذائقہ سرچشمۂ حیات کی طرف راہنمائی کی جا سکے۔

حضرات گرامی قدر! مغرب اور انسانی حقوق کے حوالہ سے گفتگو چلی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے فلسفہ کی فکری بنیادوں سے ہٹ کر اس کے واقعاتی پہلوؤں پر بھی کچھ معروضات پیش کر دی جائیں۔ بالخصوص اس تضاد اور دوعملی کے پس منظر میں جو مغرب نے عالم اسلام کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے۔ اور جس نے یہ بات پوری طرح واضح کر دی ہے کہ مغرب کے نزدیک ’’انسانی حقوق‘‘ کسی فلسفہ یا اصول کا نام نہیں بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جو اس نے مخالف اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اختیار کر رکھا ہے، ورنہ

  • مغرب جو ووٹ، الیکشن اور بیلٹ باکس کے تقدس کا علمبردار ہے اور غیر جمہوری حکومتوں کا اپنے ساتھ برابر کی سطح پر بیٹھنا گوار انہیں کرتا، الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی انتخابی کامیابی پر آتش زیرپا کیوں ہے؟ اور اسلامک فرنٹ کی جمہوری قوت کو کچلنے کے لیے الجزائر کی غیر جمہوری حکومت کی پشت پناہی کیوں کر رہا ہے؟
  • آج اس مغرب کو بوسنیا کے خلاف سربوں کی جارحیت اور بوسنیا کے مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کٹتے چلے جانا نظر نہیں آرہا؟ صرف اس لیے کہ جن کی عصمتیں لٹ رہی ہیں اور جن کی گردنیں کٹ رہی ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ جبکہ مغرب سلامتی کونسل کی اٹھک بیٹھک اور زبانی جمع خرچ کے ساتھ سربوں کی مکمل فتح کا انتظار بلکہ عملاً اس کے مقاصد کے حصول کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔
  • اس مغرب کو وادیٔ کشمیر میں گھر گھر بہنے والا خون نظر نہیں آرہا اور نہ حوا کی بیٹیوں کی دل فگار چیخیں مغرب کے کانوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے ساتھ ہولی کھیلی جا رہی ہے مگر چونکہ مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ مغرب کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لیے کشمیر کے حوالے سے مغرب کے کان اور آنکھیں بند ہیں، اور اس کے انسانی حقوق کے سارے کے سارے فلسفے مصلحتوں کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیر، بوسنیا، فلسطین اور اب چیچنیا کے خلاف روسی جارحیت کے حوالہ سے منافقانہ طرز عمل نے مغرب کے چہرے سے ’’انسانی حقوق‘‘ کا ریاکارانہ نقاب نوچ پھینکا ہے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا ہے جس کے بعد اس کے پیش کردہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا ظاہری بھرم بھی قائم رہتا نظر نہیں آرہا۔

چنانچہ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور دنیا کو منطق و استدلال کے ساتھ بتائیں کہ انسانی حقوق کا حقیقی فلسفہ اور متوازن نظام وہی ہے جو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور آج بھی انسانی معاشرہ کی فلاح و کامیابی اسی نظام کو اپنانے پر منحصر ہے۔

درجہ بندی: