امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۰ء

امریکی نائب وزیرخارجہ مسٹر انڈرفرتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد آئے اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف اور دیگر مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں کام کرنے والے انتہا پسند اسلامی گروپوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی جو بین الاقوامی برادری کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مسٹر انڈر فرتھ نے کہا کہ حرکۃ المجاہدین سمیت بہت سے مسلح اسلامی گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سینٹروں کے وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کے اختتام پر وفد کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے پانچ شرائط پیش کی گئی ہیں۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد کی پیش کردہ شرائط یہ ہیں:

  • دہشت گردی اور مذہبی بنیاد پرستی کا ازالہ۔
  • جمہوریت کی بحالی کے لیے طریقہ کار اور ٹائم فریم ورک۔
  • ایسی وسیع تر اقتصادی اصلاحات جن میں جمہوری اصلاحات جڑ پکڑ سکیں۔
  • سی ٹی بی ٹی پر دستخط اور نیو کلیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے عالمی کوششوں میں تعاون۔
  • اور اپنے تمام شہریوں کی سیاسی، مذہبی اور اقتصادی آزادیوں کو یقینی بنانا۔

جہاں تک امریکی مطالبات اور شرائط کا تعلق ہے یہ نئی نہیں ہیں بلکہ ایک عرصہ سے یہ شرائط الفاظ اور عنوان کی تبدیلوں کے ساتھ بار بار سامنے آرہی ہیں اور امریکی حکومت ان شرائط کی تکمیل کے لیے حکومت پاکستان پر مسلسل دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے۔ مگر امریکی صدر مسٹر بل کلنٹن کے مجوزہ دورۂ بھارت سے قبل اس سلسلہ میں کسی حتمی فیصلہ کے لیے پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مسٹر کلنٹن بھارت کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی کر سکیں اور امریکہ کی منصوبہ بندی میں جنوبی ایشیا اور کشمیر کے حوالہ سے جو پروگرام پہلے سے طے شدہ ہے وہ اس کے آغاز کا اعلان کر سکیں۔

امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ جہاد کے جس عمل اور مجاہدین کے جن گروپوں کو اس نے اپنے روایتی حریف سوویت یونین کے خلاف افغانستان کے جہاد آزادی میں سپورٹ کیا تھا اور مالی، عسکری اور تربیتی امداد مہیا کی تھی، امریکہ نے ان سے یہ توقع بھی وابستہ کر لی تھی کہ مجاہدین کی یہ تنظیمیں سوویت یونین کے خاتمہ اور روس کی شکست کے بعد امریکہ کی احسان مند رہیں گی اور امریکہ آئندہ بھی انہیں اپنے مقاصد اور پروگرام کے لیے حسب منشا استعمال کر سکے گا۔ مگر جہاں افغانستان میں امریکی امداد حاصل کرنے والے افغان گروپوں کے ہاتھ سے وہاں کا اقتدار نکل گیا اور طالبان کے نام سے ایک نئی قوت نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کر کے امریکی ایجنڈے کے لیے آلۂ کار بننے سے انکار کر دیا وہاں مجاہدین کی تنظیموں نے بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے نئے محاذوں کا انتخاب کیا اور امریکی اشاروں کی پروا کیے بغیر کشمیر، فلسطین، بوسنیا، صومالیہ، کسووو اور چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لیے سرگرم ہوگئیں۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ طالبان اور جہادی تنظیمیں سنکیانگ میں وہاں کے مسلمانوں کے لیے جہاد آزادی کا میدان گرم کر کے چین کو بھی سوویت یونین کی طرح شکست دینے کے امریکی پروگرام کا حصہ بنیں مگر ان مجاہدین کی ترجیحات میں خلیج عرب سے امریکی فوجوں کی واپسی، کشمیر کی آزادی، بوسنیا، کسووو اور چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کی امداد اور فلسطین کی حقیقی آزادی جیسے معاملات زیادہ ضروری اور مقدم قرار پائے جس سے امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر اور اس کی عالم اسلام پر بالادستی کا منصوبہ فلاپ ہوتا دکھائی دینے لگا۔ چنانچہ اسی غصہ میں امریکہ بہادر ان جہادی تحریکات کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں ختم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جن کی وہ خود روسی استعمار کے خلاف حمایت و امداد کرتا رہا ہے۔ اور امریکی نائب وزیرخارجہ اور سینٹروں کے حالیہ دورۂ پاکستان کا پس منظر بھی یہی ہے مگر چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے وفد کو ملاقات کے دوران جو جواب دیا ہے وہ ہمارے نزدیک پاکستانی عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور معروضی حالات میں ایک غیور حکمران کی حیثیت سے انہیں یہی جواب دینا چاہیے تھا۔ چنانچہ روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق:

’’چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے وفد کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ اعلیٰ عسکری ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے، امریکہ کو دہشت گردی اور جہاد میں بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا۔ ان اعلیٰ عسکری ذرائع کے بقول جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور ہائی جیکنگ کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور کرتا رہے گا تاہم جہاں تک جہاد کا تعلق ہے یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہادی تنظیمیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم عمل ہیں اور یہ تنظیمیں کشمیر ہو یا چیچنیا جہاں بھی جہاد کر رہی ہیں اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

ہمارے خیال میں جنرل پرویز مشرف کی اس دوٹوک وضاحت کے بعد اس سلسلہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ البتہ جنرل صاحب کو پاکستانی عوام کے جذبات کی اس جرأت مندانہ ترجمانی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہم ان سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ امریکہ کی دیگر شرائط کے بارے میں بھی وہ دوٹوک اور صاف انداز میں وضاحت کر دیں کہ ہم ایک اسلامی ریاست کے باشندے ہیں اور اسلام صرف ہمارا سرکاری مذہب ہی نہیں بلکہ دستور پاکستان کی صراحت کے مطابق قومی دستورِ حیات اور حکومتی پالیسیوں کا سرچشمہ بھی ہے، اس لیے جمہوریت، معیشت، آزادی، حقوق اور ایٹمی قوت سمیت تمام امور کے بارے میں ہم وہی پالیسی اختیار کر سکتے ہیں جس کی قرآن و سنت کی تعلیمات میں گنجائش ہو۔

اس کے ساتھ ہی سی ٹی بی ٹی پر دستخط کی حمایت کرنے والے حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پر دستخط کر دینے سے پاکستان کی موجودہ ایٹمی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر اصولی طور پر دو باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے:

  • سی ٹی بی ٹی پر دستخط سے ایٹمی پروگرام بین الاقوامی کنٹرول میں چلا جائے گا اور ہم اس کے بارے میں کسی آزادانہ فیصلے کے مجاز نہیں رہیں گے۔ پھر اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ پروگرام کنٹرول کرنے والی بین الاقوامی اتھارٹی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک اور ختم کرنے کے لیے آئندہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔
  • سی ٹی بی ٹی کا مقصد بظاہر ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھنے سے روکنا ہے جبکہ جنگی قوت کے بارے میں قرآن کریم کا حکم یہ ہے کہ وقت کی جدید ترین جنگی قوت حاصل کرو اور اس قوت کی حد بھی قرآن کریم نے ان الفاظ کے ساتھ بیان کر دی ہے کہ ’’ترھبون بہ عدو واللہ وعدوکم‘‘ اس قوت کے ذریعے دشمن پر تمہارا رعب قائم ہو۔ جس کا مطلب اصطلاحی معنوں میں یہ ہے کہ طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے ایٹمی قوت اور وسائل کے لحاظ سے جب تک توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں آجاتا ایٹمی قوت میں مزید پیش رفت پر پابندی کو قبول کرنا قرآن کریم کی منشا کے خلاف ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح جہاد اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی سے نہیں روکا جا سکتا اسی طرح ایٹمی قوت کا اس حد تک حصول کہ توازن کا پلڑا مسلمانوں کے حق میں جھک جائے، یہ بھی ہمارا مذہبی فریضہ ہے اور اس ہدف کے حصول سے قبل ایٹمی پروگرام میں مزید پیش رفت پر پابندی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ہمیں امید ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے اور جہادی تحریکات کی طرح سی ٹی بی ٹی کے بارے میں بھی اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے امریکہ کو دو ٹوک جواب دے کر دینی حمیت اور قومی غیرت کا بروقت مظاہرہ کریں گے۔