وراثت کے مسائل اور وفاقی شرعی عدالت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء

گزشتہ کالم میں وفاقی شرعی عدالت کے دو فیصلوں کے بارے میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کی تھیں، آج کی صحبت میں انہی میں سے ایک فیصلہ کے ایک اور حصہ کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ ۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس میاں محبوب احمد، جسٹس اعجاز یوسف اور جسٹس فدا محمد پر مشتمل فل بینچ کے جس فیصلے کی خبر شائع ہوئی ہے اس میں یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں شریک کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ خبر کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’یتیم پوتے کو جائیداد میں حصہ دیا جائے چاہے دادا نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔‘‘

اس سے قبل یہ مسئلہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں نافذ کیے جانے والے عائلی قوانین کے حوالہ سے علمی و دینی حلقوں میں زیر بحث آچکا ہے جب عائلی قوانین میں یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں حصہ دار قرار دیا گیا تھا جس کی ملک بھر کے علمائے کرام نے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ضابطہ شرعی اصولوں کے منافی ہے۔ علمائے کرام کا موقف یہ تھا کہ ایک شخص کی وفات کے وقت اگر اس کی حقیقی اولاد یعنی بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں تو اس کی زندگی میں فوت ہو جانے والے اس کے کسی بیٹے یا بیٹی کی اولاد اس کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوگی۔ ہاں اگر مرنے والے کے اپنے بیٹے یا بیٹیاں موجود نہیں ہیں تو ان کی غیر موجودگی میں اس کی وراثت اس کے پوتوں کو منتقل ہو جائے گی۔ علمائے کرام کے اس موقف کی بنیاد بخاری شریف کے ایک باب پر ہے جس میں امام بخاریؒ نے اسی عنوان کے تحت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا فتویٰ نقل کیا ہے کہ مرنے والے کی اپنی اولاد اگر زندہ ہے تو اس کی زندگی میں مرنے والے کے بیٹے یا بیٹی کی اولاد کو اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

حضرت زید بن ثابتؓ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’چیف سیکرٹری‘‘ تھے اور ان کے بارے میں خود آنحضرتؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے صحابہؓ میں وراثت کے مسائل و احکام کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابتؓ ہے۔ پھر حضرت زید بن ثابتؓ کے اس قول پر صحابہ کرامؓ کا اجماع بھی ہے جو بجائے خود شریعت کے بنیادی دلائل میں سے ایک اہم دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے جمہور علمائے کرام نے عائلی قوانین میں شامل کی جانے والی اس شق کی مخالفت کی تھی اور اسی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت کا مذکورہ فیصلہ بھی ملک کے جمہور علمائے کرام کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔

اس بارے میں ایک بات بڑے جذباتی انداز میں کہی جاتی ہے کہ جب بیٹوں کو وراثت میں حصہ مل رہا ہے تو یتیم پوتے زیادہ مستحق ہیں اس لیے انہیں بھی وراثت میں شریک کیا جائے ورنہ نا انصافی ہوگی۔ مگر یہ بات محض جذباتی سی ہے اس لیے کہ وراثت کی تقسیم کا تعلق اجتہادی امور میں سے نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت میں واضح حصے متعین کر دیے گئے ہیں اور خلفائے راشدینؓ صحابہ کرام کے اجماعی فیصلوں کی صورت میں ان کی وضاحت و صراحت ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم شرعی اصولوں کے مطابق ان میں کسی ردوبدل کے مجاز نہیں ہیں اور نہ ہی وارثوں کی فہرست میں کسی کمی بیشی کا ہمیں اختیار حاصل ہے۔

پھر وراثت کے استحقاق کا تعلق ورثاء کی حالت اور ان کے قابل رحم ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد مرنے والے کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت پر ہے۔ کیونکہ شرعی اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار وارث قرار پاتا ہے اور قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں بالواسطہ رشتہ دار وراثت کا مستحق نہیں سمجھا جاتا۔ یہ ایک طے شدہ اصول ہے جس سے انحراف کی صورت میں پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ مثلاً پوتوں اور نواسوں کو ایک طرف رہنے دیجئے، خود براہ راست اولاد میں ایک بیٹا فرمانبردار و خدمت گزار ہے اور اس نے باپ کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جبکہ دوسرا بیٹا نافرمان ہے اور اس نے زندگی بھر باپ کو تنگ اور ذلیل کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا، اگر ہم معروضی حالات کو بنیاد بنا کر انصاف کرنے لگ جائیں تو ہمارا فیصلہ بظاہر یہ ہوگا کہ فرمانبردار بیٹے کو ساری جائیداد دے دی جائے اور نافرمان بیٹے کو وراثت کے قریب بھی نہ آنے دیا جائے۔ مگر شریعت اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ اس کے فیصلےمعروضی حالات کے تابع نہیں ہوتے بلکہ دائمی اور فطری اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس لیے شریعت کی نظر میں مرنے والے باپ کا فرمانبردار بیٹا اور نافرمان بیٹا دونوں وراثت میں یکساں حصہ دار ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی باپ اگر اپنے کسی بیٹے کو زندگی میں عاق کر کے اپنی وراثت سے لاتعلق کرنے کا اعلان کر گیا ہے تب بھی شرعاً وہ بیٹا وراثت سے محروم نہیں ہوگا بلکہ دوسرے فرمانبردار بیٹے کے برابر حصہ کا حقدار ہوگا۔

شریعت نے باپ کے ہاتھ پاؤں بالکل نہیں باندھے بلکہ اسے حق دیا ہے کہ وہ اپنے کسی ایسے عزیز کے لیے جو شرعاً اس کی وراثت کا حصہ دار نہیں بنتااگر اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ دینا چاہتا ہے تو وہ بطور وصیت اس کے لیے حصہ مقرر کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ وصیت اس کی کل جائیداد کے تیسرے حصے سے زیادہ نہ ہو کیونکہ اگر تیسرے حصے سے زیادہ کسی کے لیے وصیت کرے گا تو یہ وارثوں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ نا انصافی شمار ہوگی۔ اس سلسلہ میں جناب نبی کریمؐ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ ایک صحابیؓ (حضرت سعد بن وقاصؓ) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اپنی جائیداد اللہ تعالیٰ کے نام وقف کرنا چاہتا ہوں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ نہیں اس میں تیرے وارثوں کا حق ہے۔ صحابیؓ نے کہا کہ نصف جائیداد وقف کر دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ نصف بھی زیادہ ہے۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ کیا تیسرا حصہ وقف کر دوں؟ تو اس پر آپؐ نے فرمایا کہ ہاں تیسرا حصہ ٹھیک ہے اور یہ بھی بہت ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق آنحضرتؐ نے ان صحابیؓ سے کہا کہ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تو اپنی ساری جائیداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دے اور تیری اولاد لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتی پھرے؟

اس حوالہ سے ہماری گزارش یہ ہے کہ شریعت نے وراثت کے حصے اور ورثاء کی فہرست تو درجہ بدرجہ طے کر دی ہے جس میں کسی سطح پر بھی ہم ردوبدل کے مجاز نہیں ہیں البتہ معروضی حالات میں کمی بیشی کو وصیت کے ذریعے پورا کرنے کے حق کی گنجائش بھی رکھ دی گئی ہے تاکہ اگر کسی جگہ ضرورت محسوس ہو تو اس سے استفادہ کیا جا سکے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی میں فوت ہو جانے والے اس کے کسی بیٹے یا بیٹی کی اولاد بھی ضرورت مند ہے اور اسے اس کی جائیداد میں حصہ ملنا چاہیے تو وہ تیسرے حصے کے اندر اندر ان کے لیے بھی وصیت کر سکتا ہے۔ لیکن اگروہ خود وصیت کی ضرورت محسوس نہیں کرتا تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ورثاء کی فہرست میں اپنی طرف سے ردوبدل کریں۔

البتہ اس حوالہ سے ہم ایک اور ضروری بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ معروضی حالات کے عنوان سے مفروضے قائم کر کے انصاف فراہم کرنے کے لیے تو ہم شرعی احکام و ضوابط میں ردوبدل سے بھی گریز نہیں کر رہے مگر وراثت کے باب میں جو نا انصافیاں عملاً ہو رہی ہیں ان کے ازالہ کی طرف ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں عورت کو وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھا جاتا جو ہندووانہ تہذیب کا اثر ہے کہ بہت کم گھرانے ایسے ہیں جہاں باپ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد میں سے بیٹیوں کو بھی وراثت میں عملاً حصہ ملتا ہے۔ ورنہ عام طور پر جہیز کو وراثت کے حصے کا قائم مقام قرار دے کر وراثت کے اصل حصے سے اس کی چھٹی کرا دی جاتی ہے یا اس سے زیادہ بات ہو تو ان سے معاف کرانے کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اور جس انداز سے ہمارے ہاں غریب عورت سے مہر کی رقم اور وراثت کا حصہ معاف کرایا جاتا ہے اس کی کوئی اخلاقی یا شرعی صورت سرے سے نہیں بنتی مگر ہم معاشرتی اور خاندانی دباؤ کے تحت اس کے منہ سے معافی کا ایک لفظ کہلوا کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، یہ سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ نا انصافی اور ظلم ہمارے ہاں ملک کے بعض حصوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ صرف جائیداد کے تحفظ اور اسے تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے جوان لڑکی کو شادی کے فطری اور شرعی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اس کی گود میں قرآن کریم رکھ کر کہہ دیا جاتا ہے کہ تیری شادی (نعوذ باللہ) قرآن کریم کے ساتھ کر دی گئی ہے۔ اس لیے علمائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو یہ خدشہ ہو کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اپنی بہنوں کو وراثت میں ان کا حق نہیں دیں گے تو اسے زندگی میں بیٹیوں کو ان کا حصہ دے دینا چاہیے اور بہت سے محتاط دیندار لوگ ایسا کرتے بھی ہیں۔

اس لیے ہم وفاقی شرعی عدالت کے معزز جج صاحبان سے یہ گزارش کریں گے کہ معروضی حالات میں انصاف کے لیے مفروضوں کو بنیاد بنانے کی بجائے معاشرہ میں ہونے والی عملی نا انصافیوں کا جائزہ لیں اور غریب لوگوں بالخصوص خواتین کو وراثت اور دیگر معاملات میں انصاف فراہم کرنے کی راہ ہموار کریں۔ اس کے ساتھ ہی اگر فاضل جج صاحبان اسے گستاخی پر محمول نہ کریں تو ان سے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ دستور پاکستان کے تحت انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ قرآن و سنت کے مسلمہ احکام و ضوابط کے دائرہ میں ہے، اس لیے ان کا کام یہ ہے کہ اگر کسی تجویز یا رواج کو قرآن و سنت کے منافی پائیں تو اسے شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے پیش رفت کریں، نہ یہ کہ شرعی قوانین میں سے کسی کو مروجہ قوانین کے خلاف پا کر اس میں ردوبدل شروع کر دیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فاضل جج صاحبان اس بارے میں اپنی دستوری ذمہ داریوں کا ایک بار پھر جائزہ لے لیں تو یہ زیادہ مناسب بات ہوگی۔

درجہ بندی: