اسلامی قانون سازی میں امام ابو حنیفہؒ کا اسلوب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
نامعلوم

(امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ ۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ عالم اسلام کی ایک عظیم علمی شخصیت تھے ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں جن پر گفتگو ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ امام صاحبؒ کی شخصیت کے بیسیوں پہلو ہیں میں اپنے ذوق کی مناسبت سے ایک آدھ پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ اور آج کے وقت کی ضرورت یہ ہے کہ علمی و عوامی سوسائٹی کو امام صاحبؒ کی شخصیت سے متعارف کروایا جائے، ان کی تعلیمات و خدمات اور ان کے ذوق و اسلوب سے آج کی دنیا کو روشناس کرایا جائے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میری رائے ہے کہ آج کے دور میں بھی دنیائے اسلام کی علمی، سیاسی اور عملی حوالہ سے کوئی شخصیت اگر صحیح راہنما اور آئیڈیل ہو سکتی ہے تو وہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کی شخصیت ہے۔ لیکن میں تفصیلات میں جائے بغیرآپ کی خدمت میں دو سوالات پیش کروں گا اور پھر ان سوالات کے دائرے میں گفتگو کرنا چاہوں گا۔

امام ابو حنیفہؒ کا قاضی القضاۃ کا منصب قبول نہ کرنا

تاریخ کا ایک سوال ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے قاضی القضاۃ کا منصب قبول نہیں کیا تھا لیکن اپنی جان قربان کر دی تھی۔ یعنی انہوں نے چیف جسٹس کا منصب قبول نہیں کیا تھا لیکن جیل قبول کر لی تھی اور پھر جیل کے اندر آپ کو زہر پلایا گیا جس کے نتیجے میں آپ کی موت واقع ہوئی۔ میں تفصیلات میں نہیں جاتا لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے تو یہ منصب قبول نہیں کیا لیکن بعد میں ان کی مسند پر بیٹھنے والے ان کے جانشین حضرت امام ابو یوسفؒ نے یہ منصب قبول کر لیا تھا اور قاضی القضاۃ بن گئے تھے۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ تاریخ کا ایک سوال ہے۔

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس وقت امام ابو حنیفہؒ نے علمی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت کا ماحول کیا تھا۔ امام صاحبؒ کی پیدائش ۸۰ھ کی ہے۔ جب حضرت عمر بن عبد العزیزؒ امیر المؤمنین بنے تو اس وقت حضرت امام صاحب ۱۹ یا ۲۰ سال کے تھے اور علمی دنیا میں قدم رکھ چکے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو عمرِ ثانی کہا جاتاہے اور وہ واقعتاً عمرِ ثانی تھے۔ ان کی خلافت کو خلافت راشدہ کا تتمہ کہا جاتا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے دو اڑھائی سالہ دورِ حکومت میں کیا اصلاحات کیں اور کس طرح حکومتی نظام اور بیت المال سے با اثر لوگوں کی اجارہ داری ختم کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اپنے خاندان کے ہاتھوں زہر پیا اور شہید ہوئے۔ پھر ان کے منصب پر جو صاحب بیٹھے ولید بن عبد الملک، انہوں نے جو پہلا آرڈر جاری کیا وہ یہ تھا کہ ہم سے پہلے یہ بزرگ دو اڑھائی سال کے لیے بیٹھے تھے یہ مجذوب قسم کے آدمی تھے پتہ نہیں کیا کچھ اقدامات کرتے رہے ہیں، میں ان کے سارے اقدامات کو منسوخ کرتا ہوں اور اپنے عُمّال سے کہتا ہوں کہ دو تین سال پہلے کی جو کیفیت تھی اس پر واپس چلے جائیں۔ یہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے جانشین کا پہلا سرکاری آرڈر تھا کہ پچھلے دو تین سالوں میں جو ہوا وہ سب بھول جاؤ۔ چنانچہ ساری بیوروکریسی اور سارا حکومتی نظم پچھلی پوزیشن پر واپس چلا گیا، اس کی تفصیلات کا یہ وقت نہیں ہے۔

تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا یہ تجزیہ ہے کہ امام صاحبؒ نے جب یہ منظر دیکھا کہ جس نہج پر اسلامی حکومت کا نظام آگے بڑھ رہا ہے اس صورتحال میں دو بنیادی کام ضروری ہیں۔ چنانچہ امام صاحبؒ نے اپنے آپ کو اِن دو کاموں کے لیے وقف کر دیا اور پھر یہ دو کام کیے تا کہ آئندہ اسلامی ریاست و حکومت کی بنیاد بن سکیں۔

  1. اسلامی قانون سازی
  2. حکومتی مناصب کے لیے اَفراد سازی

(۱) اسلامی قانون سازی

امام صاحبؒ نے یہ بھانپ لیا کہ ان کاموں کے لیے حکومت سے لا تعلق رہنا ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر تو وہی کچھ ہونا تھا جو سرکار کے لیے قابل قبول ہونا تھا۔ اس لیے امام صاحبؒ نے شریعت کو باقاعدہ منظم قانون اور ایک مربوط دستور کی شکل دینے کے لیے ایک پرائیویٹ اور نجی ادارہ قائم کیا۔ امام صاحبؒ نے ایک مجلس بنائی تاکہ اسلامی قانون دفعہ وار اور نظم و ترتیب کے ساتھ سامنے آئے اور اس طرح اسلامی قانون کو ایک علمی حصار ملے۔ یعنی اہل علم کے اعتماد کے ساتھ ایک مربوط قانون موجود ہو اور آنے والے دور میں کسی کو یہ موقع نہ ملے کہ اسلامی قانون کے نام پر جو چاہے کرے۔ امام ابو حنیفہؒ نے جو مجلس قائم کی اس میں اجتماعی مشاورت کا اہتمام کیا، اہل علم کو مشاورت میں شریک کیا، مباحثے کی دعوت دی اور سالہا سال کی محنت سے اسلامی قانون کی ۸۰ ہزار سے زیادہ دفعات مرتب کیں۔ اور یہ قانون اس طریقے سے دفعہ وار مرتب کیا کہ فلاں معاملہ درپیش ہوگا تو اس کا حل یہ ہوگا اور فلاں مسئلہ درپیش ہوگا تو اس کا سدباب اس طریقے سے کیا جائے گا۔

امام صاحبؒ کے اس کام سے پہلے اس طرح کی قانون سازی کو فقہ فرضی کہا جاتا تھا۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ کوئی واقعہ پیش آتا تب غور کیا جاتا کہ اسلامی شریعت میں اس کا کیا حل ہے۔ بلکہ یوں بھی کہا جاتا تھا کہ کوئی واقعہ اگر پیش نہیں آیا تو اس کے بارے میں کیوں مغز کھپائی کرتے ہو۔ لیکن امام صاحب نے جو فقہ پیش کی وہ اس بنیاد پر تھی کہ آنے والے ممکنہ اور متوقع واقعات کے پیش نظر دفعہ وار قانون مرتب کیا جائے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے، وہ بھی ہو سکتا ہے، فلاں صورت حال بھی پیش آسکتی ہے، اور فلاں معاملہ بھی درپیش ہو سکتا ہے، اس لیے ان سب کے متعلق پہلے سے غور و فکر کر کے ایک قانون مرتب کیا جائے۔ ہماری پرانی اصطلاح میں اسے فقہ فرضی کہتے ہیں جبکہ آج کے دور کی جدید اصطلاح میں اسے قانون سازی کہتے ہیں۔

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے قانون سازی کا ذوق پیدا کیا اور قانون سازی کے لیے افراد جمع کیے۔ ان کی مجلس کے بڑے ارکان چالیس کے قریب بتائے جاتے ہیں جن میں نحو کے ماہرین بھی تھے، صرف کے ماہرین بھی تھے، فقہ کے ماہرین بھی تھے، معاملات کے ماہرین بھی تھے اور تجارت کے ماہرین بھی تھے۔ الغرض زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور اہل علم حضرات کو جمع کیا اور سالہا سال ایک اجتماعی فقہ مرتب کرنے کے لیے صرف کیے۔ میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں جس سے آپ کو اختلاف کا حق ہے کہ میرے نزدیک فقہ حنفی شخصی فقہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی فقہ ہے۔ فقہ حنفی ایک فرد کی فقہ نہیں ہے بلکہ مشاورت کی فقہ ہے۔ دنیائے اسلام میں قانون سازی کا پہلا مربوط کام امام ابوحنیفہؒ اور ان کی جماعت نے کیا۔ آج کی علمی دنیا میں ایک بڑا سوال ہے کہ اسلامی ریاست میں قانون سازی جائز ہے یا نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بھئی قانون سازی تو سب سے پہلے ہم نے کی ہے اور مجلس قائم کر کے کی ہے اور پھر ۸۰ ہزار سے زیادہ دفعات پر مشتمل ایک قانونی ذخیرہ امت کو دیا ہے۔

قانون سازی کا یہ کام تو امام ابو حنیفہؒ اور ان کی جماعت نے کیا لیکن اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا دستور کس نے لکھا ؟ یہ ہارون الرشید کی درخواست پر امام ابو یوسفؒ نے لکھا جو کہ امام ابو حنیفہؒ کے جانشین تھے۔ ہارون الرشید نے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیسے نظام چلانا چاہیے۔ اس زمانے میں زیادہ مسئلہ مالیات کا ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ حضرت امام ابو یوسفؒ نے ہارون الرشید کی درخواست پر ’’کتاب الخراج‘‘ لکھی جسے ایک مالیاتی دستور کے طور پر ہارون الرشید کے دور میں نافذ کیا گیا۔ پھر فقہ حنفی اس کے بعد عباسی دور میں، عثمانی دور میں اور مغل دور میں چلتی رہی۔

یہاں ایک بات پر غور فرمائیں کہ دنیا میں یہ سوال ہوتا ہے اور لوگ یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ فقہ حنفی کو دنیا میں عروج کیوں حاصل ہوا کہ عباسیوں کی فقہ بھی وہی تھی، عثمانیوں کی فقہ بھی وہی تھی اور مغلوں کی فقہ بھی وہی تھی۔ ایک جواب تو یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ فقہ حنفی والے اقتدار میں آگئے تھے اس لیے ان کی فقہ کو پذیرائی ملی۔ میرا تجزیہ ہے کہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس کی اصل وجہ امام ابو حنیفہؒ کا وہ کارنامہ تھا کہ جس حکومت کو مربوط، دفعہ وار اور ایک مرتب قانون کی ضرورت پیش آئی تو ایسا قانون صرف حنفیوں کے پاس تھا اور کسی کے پاس تھا ہی نہیں۔ حکومتوں کو ایک اچھے مرتب قانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئے قانون اتنی آسانی سے نہیں بن جایا کرتے، اس کے لیے زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین کی سالہا سال کی عرق ریزی درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک مرتب قانون کی جب بھی کسی کو ضرورت پیش آئی تو وہ صرف حنفیوں کے پاس تھا۔ باقی آئمہ بھی میرے آئمہ ہیں، ان کا احترام اور ان کی خدمات کا اعتراف اپنی جگہ پر لیکن یہ بات بھی مسلم ہے کہ اجتماعی مشاورت کے ساتھ، کھلے مباحثوں سے اور مسئلوں کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کر کے جو قانون مرتب ہوا، ایسا مرتب و منظم قانون کسی دوسری فقہ کے پاس نہیں تھا۔

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ہاں علمی مباحثے کا یہ ماحول پیدا کیا تھا کہ آپ کی محفل میں آپ کے شاگردوں کو اختلاف رائے کا پورا حق حاصل تھا۔ شاگرد احترام کے دائرے میں رہ کر دلیل کے ساتھ اپنا اختلاف پیش کرتے۔ اگر امام صاحبؒ ان کا اختلاف تسلیم نہ کرتے تو شاگرد یہ نہ کہتے کہ ٹھیک ہے استاد نے جو کہہ دیا ہم نے مان لیا۔ بلکہ وہ باقاعدہ الگ اپنا اختلافی نوٹ لکھواتے کہ اس مسئلے میں ابو یوسف کا موقف یہ ہے، محمد کا موقف یہ ہے، امام زفرؒ کا موقف یہ ہے اور امام حسنؒ کا موقف یہ ہے۔ امام صاحبؒ کی محفل میں ایک مسئلے پر ہفتوں بحث چلتی رہتی تھی اور سب باری باری اپنے دلائل پیش کرتے تھے۔ چنانچہ بہت سے مسائل میں ہمارے ہاں ایک سے زیادہ اقوال ہیں۔

حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے انفرادی اجتہاد کی بجائے اجتماعی اور مشاورتی اجتہاد کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس کے لیے کھلے علمی مباحثہ کو ضروری خیال کیا تھا۔ اس کا خاکہ مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:

’’اجتماعی مساعی اسی وقت باور آور ہوتی ہیں جب ضبط ونظم کے تحت ان کو انجام دیا جائے۔ امامؒ پر جہاں یہ راز واضح ہو چکا تھا اس کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مجلس کے تمام اراکین کو جب تک کامل آزادی اپنے خیالات کے اظہار میں نہیں دی جائے گی، اجتماع کا جومقصد ہے وہ پورا نہیں ہو سکتا۔ آزادی کے اس دائرے کو امامؒ نے کتنی وسعت دے رکھی تھی ؟ اس کا اندازہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے جس کو امامؒ کے مختلف سوانح نگاروں نے نقل کیا ہے۔ الجرجانی کہتے ہیں کہ میں امام کی مجلس میں حاضر تھا کہ ایک نوجوان جو اسی حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا، امام سے اس نے کوئی سوال کیا جس کا امامؒ نے جواب دیا لیکن جوان کو میں نے دیکھا کہ جواب سننے کے ساتھ ہی بے تحاشہ اور امام کو مخاطب کر کے اخطات (آپ نے غلطی کی ہے) کہہ رہا ہے۔ جرجانی کہتے ہیں کہ جوان کے اس طرز گفتگو کو دیکھ کر میں تو حیران ہو گیا اور حلقہ والوں کی طرف خطاب کر کے میں نے کہا کہ ’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ استاذ (شیخ) کے احترام کا تم لوگ بالکل لحاظ نہیں کرتے۔‘‘

جرجانی ابھی اپنی نصیحت کو پوری بھی نہیں کر پائے تھے کہ وہ سن رہے تھے کہ خود امام ابوحنیفہؒ فرما رہے ہیں کہ دعھم فانی قد عودتھم ذلک من نفسی ’’تم ان لوگوں کوچھوڑ دو، میں نے خود ہی اس طرز کلام کا ان کو عادی بنایا ہے۔‘‘

جس سے معلوم ہوا کہ اس آزادی کا قصداً وارادتاً امام نے اپنی مجلس کے اراکین کو کہیے یا تلامذہ کو، عادی بنا رکھا تھا اور یہ جان کر بنا رکھا تھا کہ جومقصد ہے، اس آزادی کے بغیر وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘ (امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی، ص ۲۳۸)

چنانچہ امام صاحبؒ کا یہ کارنامہ تھا کہ مربوط قانون سازی کی ایک نجی مجلس قائم کی اور آج تک اسی مجلس کے چالیس علماء و ماہرین کا کیا ہوا کام دنیا بھر میں اسلامی قانون سازی کی بنیاد ہے۔

(۲) حکومتی مناصب کے لیے افراد سازی

امام صاحبؒ نے دوسرا کام جو کیا وہ تھا افراد سازی۔ میں اس کے لیے کسی لمبی بات کے بجائے ایک حوالہ پیش کرنا چاہوں گا۔ جب امام صاحبؒ کا علمی کام تکمیل کے مرحلے کو پہنچا تو امام صاحبؒ نے کوفہ کی جامع مسجد میں ایک اجتماع کیا۔ روایت ہے کہ ایک ہزار کے قریب علماء اس اجتماع میں جمع ہوئے جن سے امام صاحبؒ نے خطاب فرمایا اور یہ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے۔ اِس خطاب کے کچھ حصے حضرت مناظر احسن گیلانیؒ نے اپنی کتاب ’’امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں نقل کیے ہیں۔

امام صاحبؒ نے اپنے شاگرد علماء سے خطاب کیا کہ بھئی میں نے تم لوگوں کو پڑھایا ہے اور تمہیں تیار کیا ہے۔ تم میں سے چالیس تو وہ ہیں جو قاضی بننے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ان میں سے دس وہ ہیں جو قاضیوں کی تربیت و نگرانی کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ میں نے رجال کار تیار کیے ہیں تاکہ حکومتی مناصب پر جو لوگ فائز ہوں وہ اہلیت کے حامل ہوں۔ اب میں تمہیں امت کے حوالے کر رہا ہوں۔ یعنی امام صاحب نے دوسرے لفظوں میں یہ کہا کہ صرف یہ مطالبہ کر دینا کافی نہیں ہے کہ اسلام نافذ کرو۔ اسلام نافذ کرنے کے لیے اسلامی نظام چلانے والے بندے تیار کر کے دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اور امام صاحبؒ نے فرمایا کہ میں نے تم لوگوں کو اسی مقصد کے لیے تیار کیا ہے تا کہ تم ایک اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکو۔ اور تم لوگوں میں سے چالیس لوگ قاضی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دس وہ ہیں جو قاضی سازی یعنی نئے قاضی بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یعنی آئندہ اگر قاضیوں کی ضرورت ہوئی تو یہ دس آدمی میرے والا کام کریں گے۔ امام صاحبؒ خود قاضی نہیں بنے کہ اس اہم کام کے لیے حکومتی اَثر سے الگ رہنا ضروری تھا لیکن شاگردوں کی ایک بڑی کھیپ کو قضا کے لیے تیار کیا۔

امام صاحبؒ نے صرف صحیح اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ امام صاحبؒ نے یہ جانچ لیا کہ جب تک اسلامی قانون ایک مدوّن شکل میں موجود نہ ہو اور جب تک قانون کو سمجھنے والے اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے قاضی موجود نہ ہوں اس وقت تک بات آگے نہیں بڑھے گی۔ گویا امام صاحبؒ نے اپنے وقت میں امت کی علمی و افرادی ضرورت کوپورا کیا کہ ایک قانون مرتب کیا اور اسے چلانے والے افراد تیار کیے اور پھر دنیا کو دو عظیم تحفے دے کر دنیا سے تشریف لے گئے۔ ایک قانون اور دوسرا قانون چلانے والے اہل کار لوگ۔

امام ابو یوسفؒ کا قاضی القضاۃ کا منصب قبول کر لینا

اب یہ وقت تھا کہ امام یوسف قاضی القضاۃ کا منصب قبول کر لیتے۔ تاریخ کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے تو قاضی القضاۃ کا منصب قبول نہیں کیا لیکن ان کے شاگرد اور جانشین امام ابو یوسفؒ نے قبول کر لیا تھا، آخر کیوں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے میں یہاں اپنے ایک بیوروکریٹ دوست کی رائے عرض کرنا چاہوں گا۔ نوے کی دہائی میں پاکستان میں شریعت بل کے نفاذ کی جدوجہد عروج پر تھی۔ میں بھی شریعت بل کے نفاذ کی تحریک کا ایک سرگرم کارکن تھا۔ ہم دینی سوچ رکھنے والے سب علماء و طلباء اور عوام الناس بہت متحرک تھے۔ سرکاری سطح پر ہم اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کرتے اور انہیں اِس بل کی ضرورت اور افادیت سے آگاہ کرتے، عوامی سطح پر ہم جلسے کرتے تھے اور جلوس نکالتے تھے، ایک وقت میں تو ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے زبردست عوامی مظاہرہ کیا تھا۔ اس زمانے میں غلام مرتضیٰ پراچہ صاحب ہمارے گوجرانوالہ ڈویژن کے کمشنر ہوتے تھے ۔ پراچہ صاحب بڑے پرانے اور گھاک قسم کے بیوروکریٹ تھے اور میرے دوست تھے۔ ایک دن ہم ایک شادی کی مجلس میں بے تکلفی سے بیٹھے ہوئے تھے، بارات کا انتظار ہو رہا تھا اور ہمارے پاس بات کرنے کے لیے وقت تھا۔ یہ شریعت بل کی تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔

پراچہ صاحب نے پوچھا مولوی صاحب (سیاسی حوالے سے) کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا شریعت بل کی تحریک چلا رہے ہیں۔ پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ میں نے کہا، شریعت نافذ ہوگی۔ پوچھا کیسے؟ میں نے کہا اسلامی شریعت کو ملک میں قانون کی حیثیت حاصل ہوگی۔ پراچہ صاحب نے کہا وہ تو ٹھیک ہے کہ شریعت ملک کا قانون بن جائے گی لیکن اسے تم لوگ ملک کے اندر عملی طور پر نافذ کیسے کرو گے؟ پھر پراچہ صاحب نے دو باتیں کہیں۔ پہلی یہ کہ مولوی صاحب! موجودہ سسٹم کے اندر تم لوگ (مولوی صاحبان) اقتدار میں نہیں آسکتے۔ یہ سسٹم بنایا ہی ایسا گیا ہے۔ اور فرض کر لو کہ تم لوگ اقتدار میں آجاتے ہو اور ایک مولوی صاحب وزیر اعظم بن جاتے ہیں پھر کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چلیں دو منٹ کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ آپ وزیر اعظم بن جاتے ہیں، اب آپ بحیثیت وزیر اعظم کیا کریں گے؟ میں نے کہا کہ شریعت نافذ کروں گا۔ پراچہ صاحب نے کہا مولوی صاحب شریعت کس کے ذریعے نافذ کریں گے؟ میرے ذریعے؟ چار ضلعے تو میرے کنٹرول میں ہیں۔ کیا آپ میرے جیسے افسروں کے ذریعے شریعت نافذ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر میری جگہ پر بٹھانے کے لیے تمہارے پاس کوئی اپنا بندہ ہے تو پھر شریعت کی بات کرو، ورنہ بھول جاؤ۔ یعنی اگر تمہارے پاس یہ انتظام ہے کہ ایسے افسر لگا سکو جو اسلامی شریعت کو سمجھتے ہیں اور تمہارے مزاج کے مطابق کام کر سکتے ہیں، پھر شریعت کی بات کرو۔ لیکن اگر اس موجودہ بیوروکریسی کے ذریعے اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو پھر مولوی صاحب خواہ مخواہ وقت ضائع مت کرو۔ یہ بات پراچہ صاحب نے ۱۹۸۸ء میں کہی تھی۔

میں نے عرض کیا کہ امام صاحبؒ نے قانون سازی بھی کی اور افراد سازی بھی۔ اور یہ دو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی جب اسلام کے نفاذ کی ہوتی ہے تو اس کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہوتا بلکہ یہ یقین ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایک اسلامی قانون میسر ہے جس میں صرف آج کے زمانے کے مطابق تجدید کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ جب یہ دو بنیادیں موجود نہیں تھیں تو امام صاحبؒ نے قاضی القضاۃ کا منصب قبول نہیں کیا۔ لیکن امام ابو یوسفؒ کے زمانے میں یہ دو بنیادیں موجود تھیں، ایک مدوّن قانون موجود تھا اور قانون کو چلانے والے افراد موجود تھے، سارا اِنتظام مکمل تھا اس لیے انہوں نے قاضی القضاۃ کا منصب قبول کیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ موقع دیا اور انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے تیار کیے ہوئے قانون اور افراد کو ایسے استعمال کیا کہ پھر فقہ حنفی آئندہ صدیوں میں عباسیوں کے قانون کی بنیاد رہی اور اس کے بعد عثمانیوں اور مغلوں کے قانون کی بنیاد بھی بنی۔

آج کا دور اور امام صاحبؒ کی حکمت عملی

کچھ دیر کے لیے تصور کریں کہ اگر امام صاحبؒ آج ہمارے ہاں موجود ہوتے تو آج کے ہمارے حالات کے تناظر میں اُن کی کیا حکمت عملی ہوتی اور وہ ہمیں اس ناگفتہ بہ صورت حال سے نجات دلانے کے لیے کونسے کام کرتے؟ میری رائے میں امام صاحب مندرجہ ذیل تین کام کرتے:

  1. اصلاحِ نظام اور نفاذِ اسلام کی تحریکات کی سرپرستی
  2. گڈ گورننس کے قیام کے لیے راہنمائی
  3. علمی دنیا میں اجتماعی مشاورت کا اہتمام

اصلاحِ نظام کی تحریکات کی سرپرستی پہلا کام میرے خیال میں امام صاحبؒ یہ کرتے کہ وہ اصلاحِ نظام اور نفاذِ اسلام کی تحریکات کی سرپرستی کرتے۔ اس لیے کہ امام صاحبؒ کے دور میں بھی اصلاحِ نظام کی تحریکیں تھیں، مسلح بھی اور غیر مسلح بھی۔ امام زید ابن علی کی تحریک، محمد بن ابراہیم کی تحریک اور پھر نفس زکیہ کی تحریک۔ یہ اُس دور کے مطابق اصلاح عامہ کی تحریکیں تھیں۔ امام صاحب نے یہاں حکمت عملی سے کام لیا کہ خود براہ راست سامنے نہیں آئے لیکن ان تحریکوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کی۔ مالی معاونت بھی کی، سیاسی سپورٹ بھی کی، مشاورت بھی کی اور اخلاقی سپورٹ بھی کی۔ میرے خیال میں امام صاحبؒ آج ہمارے ہاں ہوتے تو آج کی دینی و اصلاحی تحریکوں کے سب سے بڑے سرپرست ہوتے۔ ظاہر ہے کہ امام صاحبؒ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر امام صاحب کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ ان کی حکمت عملی، ان کے طریقہ کار اور ان کی جدوجہد کے وہ سارے پہلو ہم سنتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں۔ چنانچہ ہم یقیناًاِمام صاحبؒ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی روشنی میں،ان کی جدوجہد کے طریقہ کار سے اور اُن کی ذہانت و فراست سے راہنمائی لیتے ہوئے آج کے دور میں ایک فلاحی اسلامی حکومت کے قیام و بقاء کے لیے اپنی حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں۔

دوسرا کام آج کے دور میں امام صاحبؒ کا یہ ہوتا کہ وہ ہمارے معاشرے کو نا انصافی اور بدعنوانی سے نجات دلانے کی جدوجہد کرتے۔ آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ جسے ایک عام آدمی سے لے کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک ہر آدمی ایک تشویشناک مسئلہ سمجھتا ہے، وہ ہے کرپشن اور بد دیانتی۔ یہ کرپشن ہماری قوم کو اوپر سے نیچے تک کھا گئی ہے اور برباد کر گئی ہے۔ اِمام صاحبؒ کی ذات عالیہ کی جو کمال درجے کی صفتِ انصاف اور صفتِ امانت تھی، ہمیں آج کے دور میں اُن کی ضرورت ہے۔ میں ایک دن امام صاحبؒ کی دیانت کا یہ واقعہ پڑھ رہا تھا کہ ایک بیمار دوست کے ہاں عیادت کے لیے گئے، امام صاحبؒ کے بیٹھے بیٹھے وہ بندہ فوت ہوگیا۔ چراغ جل رہا تھا، امام صاحبؒ نے پھونک مار کر چراغ بجھا دیا۔ اور ایک ساتھی کو پیسے دیے کہ جا کر بازار سے چراغ لے کر آؤ۔ فرمایا کہ دیکھو بھئی جب تک یہ شخص زندہ تھا یہ چراغ اس کی مِلک تھی، اس کے فوت ہونے کے بعد یہ چراغ ورثاء کی مشترک مِلکیت ہے۔ اور ورثاء کی مِلک سب کی رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کرنی چاہیے اس لیے میں نے یہ چراغ بجھا دیا۔

چنانچہ آج ہمارے لیے امام صاحبؒ کے اسوہ میں انصاف اور امانت کا یہ سبق موجود ہے کہ کس طرح چھوٹی سے چھوٹی چیز اور معمولی سے معمولی سے معاملے میں انصاف کا پہلو اجاگر کر کے انہوں نے آنے والوں کو یہ فکر دی کہ انصاف اور دیانت انسانی معاشرے کی بقاء کی ضمانت ہوتے ہیں۔ آج ہمیں چاہیے کہ امام صاحبؒ کے سیرت اور اسوہ سے رہنمائی لیتے ہوئے کرپشن، بد دیانتی اور نا انصافی کے خلاف جدوجہد کریں اور امانت، سچائی اور دیانت کا عَلم بلند کریں۔

میرا حضرت امام ابو حنیفہؒ کی اُس دور کی جدوجہد کے حوالے سے ایمان ہے کہ امام صاحبؒ آج ہمارے درمیان ہوتے تو وہ علمی دنیا میں اجتماعی مشاورت کو فروغ دیتے۔ امام صاحبؒ الگ الگ علمی کاموں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے علمی دنیا میں اجتماعی مشاورت کا اہتمام کرتے اور علماء کو اکٹھا کرتے کہ بھئی امت اور قوم کے مسائل پر اکٹھے بیٹھ کر سوچو اور اکٹھے مل کر اجتماعی رہنمائی کرو۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے ان تمام شعبوں میں وہ اسباب موجود ہیں جن کے لیے امام ابو حنیفہؒ کی سیرت میں ہمارے لیے رہنمائی کے اسباق میسر ہیں۔ میں شرحِ صدر سے یہ بات کہتا ہوں کہ آج بھی دنیا کو انفرادی و اجتماعی معاملات میں، نجی و قومی معاملات میں اور دینی و علمی معاملات میں اگر راہنمائی درکار ہے تو میری رائے میں امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت ایک بہترین آئیڈیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی حسنات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔