عصرِ حاضر میں امام ابو حنیفہؓ کے طرزِ فکر کی اہمیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
۲۰۱۰ء (غالباً)

(امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ نے مختلف شعبوں میں مختلف حوالوں سے کام کیا ہے۔ ویسے تو پوری اسلامی تاریخ اور اسلامی شخصیات کا تذکرہ آج کے دور کی ضرورت ہے۔ لیکن آج کے عمومی حالات سامنے رکھ کر میں یہ بات کہا کرتا ہوں کہ تین اسلامی شخصیات ایسی ہیں کہ آج کا پورا عالمی ماحول اور آج کی تمام دنیا ان تینوں سے فیضیاب ہوئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ہم میں سے ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ آج کے تناظر میں اِن تین شخصیات سے واقفیت حاصل کریں اور آج کی دنیا میں اسلام کی بات اِن شخصیات کے عنوان اور اِن کی فکر کی روشنی میں کریں کہ آج کی دنیا ایسی بات زیادہ بہتر سمجھے گی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سب سے بالا ہے اور صحابہ کرامؓ کا اپنا مقام ہے۔ ہر شخصیت کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، ایک نفسیات ہوتی ہے، ایک خاص ذہنی سطح ہوتی ہے اور پیغام پہنچانے کی ایک مخصوص فریکونسی ہوتی ہے۔ آج کی دنیا کی فریکونسی ہماری ان تین شخصیات سے بہت فٹ بیٹھتی ہیں۔ میں نوجوان علماء کو یہ دعوت دیا کرتا ہوں کہ ان شخصیات کا بطور خاص مطالعہ کیا کریں۔

(۱) سیاسیات اور حکومت کے حوالہ سے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ

(۲) فقہ و قانون کے حوالہ سے حضرت اِمام ابو حنیفہؒ

(۳) اور سیاسی فکر و فلسفہ کے حوالہ سے حضرت شاہ ولی اللہؒ

حضرت عمر اِبن عبد العزیزؒ کا طرزِ حکومت

اِنقلاب کس چیز کا نام ہے، اصلاحِ احوال کیسے ہوتی ہے، نظم کیسے درست ہوتا ہے، امت کے مسائل کیسے حل ہوتے ہیں اور حکومت کیسے کی جاتی ہے۔ ان موضوعات پر پڑھنا ہے تو پہلے حضرت عمر فاروقؓ اور پھر ان کے پرتَو حضرت عمر ابن عبد العزیزؒ کا مطالعہ کریں، یہ دونوں آئیڈیل ہیں۔ اور صرف ہم مسلمانوں کے نہیں بلکہ باقی دنیا کے بھی آئیڈیل ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ بھی اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ بھی۔ میں ان شخصیات کے متعلق تفصیل میں جاؤں گا تو معاملہ لمبا ہو جائے گا لیکن ایک جزوی واقعہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے حوالے سے نقل کرنا چاہوں گا۔ آج ہمیں اپنے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ ہماری قومی دولت بڑے بڑے لوگوں کی تجوریوں میں ہے اور سرکاری خزانہ خالی ہے۔ ہمارے ملک کے سرکاری خزانے میں لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ چند ہفتے پہلے آپ نے بھی سوئس بینکوں کے ایک ڈائریکٹر کا یہ بیان اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ ہمارے سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی اتنی دولت بیکار پڑی ہے کہ اگر یہ دولت واپس پاکستان چلی جائے تو پاکستان کو تیس سال تک اپنے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور یہ کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی رقوم جو بے مصرف پڑی ہیں اگر یہ واپس پاکستان چلی جائیں تو یہ اتنی رقم ہو گی کہ حکومت پاکستان اگر اپنے ہر شہری کو بیس ہزار روپے سالانہ وظیفہ دے تو یہ رقوم ساٹھ سال کے لیے کافی ہوں گی۔ یعنی ہمارا سرکاری خزانہ اور سرکاری دولت با اَثر لوگوں کی ذاتی تجوریوں میں ہے۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ۱۰۰ھ یا ۱۰۱ھ میں برسرِاقتدار آئے، انہوں نے تقریباً اڑھائی برس حکومت کی لیکن اس مختصر عرصے میں حکومتی نظام میں جس طرح انہوں نے اصلاحات کیں اسے آج تک دنیا یاد کرتی ہے۔ امام سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بیت المال کے پچاسی فیصد اثاثے شاہی خاندان کے قبضے میں تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ایک دوست تھے حیوۃؒ ۔ محدثین کے ہاں یہ ایک بڑا نام ہے، انہوں نے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سے ذکر کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیقؒ اور حضرت عمرؓ ایک محفل میں تشریف فرما ہیں۔ حضورؐ کی اس محفل میں آپ (عمر بن عبد العزیز) اور میں (حیوۃ ) بھی بیٹھے ہیں۔ حضورؐ نے آپ سے خطاب کر کے کہا کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو ابوبکر و عمر جیسی حکومت کرنا۔

چنانچہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جب خلیفہ بنے تو سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش تھا وہ یہ تھا کہ شاہی خاندان سے پچاسی فی صد اثاثے وصول کیے جائیں کہ یہ سارے اثاثے بیت المال واپس آئیں اور بیت المال اپنا نظام صحیح طریقے سے چلائے۔ خود حضرت عمر بن العزیزؒ کے ذاتی قبضے وہ معروف باغ فدک تھا جو کہ تاریخ میں بہت سے مباحثوں کا عنوان رہا ہے۔ حلف اٹھانے اور بیعت لینے کے بعد سب سے پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ بیت المال کے انچارج کو بلایا اور کہا کہ یہ باغ میرے قبضے میں چلا آرہا ہے، یہ باغ تم بیت المال کے لیے واپس لے لو۔ جس باغ پر سیدہ فاطمہؓ کا حق تسلیم نہیں ہوا میں کون ہوتا ہوں اس باغ پر اپنا قبضہ رکھنے والا۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے اپنی جائیداد واپس کی۔ پھر اپنے گھر اپنی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ خاتون جسے ایک امیر المؤمنین کی بیٹی، ایک امیر المؤمنین کی بیوی، اور بعد میں تین امراء المؤمنین کی بہن بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ اس وقت کمانڈر انچیف مسلمہ ابن عبد الملک کی بہن تھی۔ حضرت عمرؒ نے اپنی بیوی فاطمہ سے کہا کہ مسلمانوں کی حکومت میرے سپرد کر دی گئی ہے اور مسئلہ بہت نازک ہے کہ ہمیں بیت المال کے اثاثے واپس کرنے ہیں۔ میں نے تو وہ باغ واپس کر دیا ہے جو میرے پاس تھا جبکہ تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ تمہارے باپ اور بھائیوں نے جو کچھ تمہیں دے رکھا ہے یہ ان کی ذاتی مِلک نہیں تھی بلکہ یہ سب در اصل بیت المال کی چیزیں ہیں۔تمہارے ذاتی استعمال میں جو چیزیں ہیں یعنی زیورات اور قیمتی کپڑے اور سامان وغیرہ یہ سب کچھ بیت المال کی دولت سے ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کہا کہ فاطمہ میں تم پر جبر نہیں کرتا کہ یہ چیزیں تمہیں تمہارے باپ اور بھائیوں نے دی ہوئی ہیں لیکن میں یہ بات تم سے کہوں گا کہ اِس گھر میں یہ چیزیں رہیں گی یا پھر عمر رہے گا۔ یہ بیت المال کی چیزیں اور عمر دونوں یکساتھ نہیں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فاطمہ بنت عبد الملک کے درجات بلند فرمائے، یہ اچھے زمانے کی ایک اچھی خاتون تھی۔ آج کے دور میں ایسا ہوتا تو خاتون شاید یہ کہتی کہ حضرت آپ تشریف لے جائیں آپ کو رہنے کے لیے کوئی کوٹھی یا بنگلہ مل جائے گا میں تو یہ سامان واپس کرنے والی نہیں۔ لیکن فاطمہ نے کہا کہ حضرت میرا زیور بھی آپ ہیں اور میرا لباس بھی آپ ہیں۔ اِس گھر میں جو چیز بھی بیت المال کی نظر آتی ہے اسے اٹھا کر واپس کر دیں، فاطمہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اپنا باغ واپس کیا، بیوی کے زیورات اور وہ سامان واپس کروایا جو در اصل بیت المال کی دولت سے تھا۔ یہ سارا کام مکمل کر کے اپنی برادری کو، شاہی خاندان کو بلوالیا کہ بھئی بیت المال کے پچاسی فیصد اثاثے تمہارے پاس ہیں اور میں نے یہ اثاثے بیت المال کو واپس دلوانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں نے اپنے اور بیوی کے اثاثے واپس کر دیے ہیں، اب تم بتاؤ کہ کتنے دنوں میں اپنے تصرف کی چیزیں واپس کرتے ہو۔ امام سیوطیؒ کہتے ہیں کہ پندرہ دن کے اندر اندر تمام اثاثے بیت المال کو واپس کر دیے گئے۔

یہ سیمینار حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حوالے سے ہے اس لیے میں اِن تین اسلامی شخصیات کے تعارف میں یہ بات مزید لمبی نہیں کرتا۔ لیکن ایک طالب علم کے طور پر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انقلاب اور حکومتی نظام میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ، فقہ اور قانون میں حضرت امام ابو حنیفہؒ ، جبکہ فکر و فلسفے میں حضرت شاہ ولی اللہؒ ۔ میں علماء سے درخواست کیا کرتا ہوں کہ ان شخصیات کا بطور خاص مطالعہ کریں۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر گہرائی سے ان شخصیات کو اسٹڈی کریں۔ اس سے آج کے دور کے تناظر میں آپ کو اپنی جدوجہد کے حوالے سے بہت اچھی راہنمائی ملے گی اور معاملات ایک ایک کر کے آپ کے سامنے واضح ہوتے چلے جائیں گے۔

فقہ حنفی، ایک ہمہ گیر فقہ

اب میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی طرف آتا ہوں۔ امام صاحبؒ کی جدوجہد کا ایک بڑا شعبہ علم الکلام، مناظرہ اور عقائد کی وضاحت کا تھا۔ امام صاحب کا دور تابعین کا دور تھا اور یہ صحابہ کرام کے آخر کا زمانہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اعتقاد کے فتنے سر اٹھانے شروع ہوئے تھے۔ معتزلہ، خوارج، مرحبئہ اور کرامیہ، یہ فتنے سر اٹھا رہے تھے۔ کوئی ظاہر پرستی کی بنیاد پر اور کوئی عقل کی بنیاد پر۔ ایک طرف خوارج کی ظاہر پرستی تھی اور دوسری طرف معتزلہ کی عقل پرستی۔ دونوں انتہاء پر کھڑے تھے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے جو کام کیا وہ فقہ کے اجتماعی مفہوم میں کیا۔ میں علماء کرام کی خدمت میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امام صاحبؒ کے دور میں فقہ کی یہ تعریف نہیں تھی کہ فقہ صرف احکام شرعیہ کا نام ہے ۔ امام صاحبؒ نے فقہ کی جو تعریف کی ہے وہ صرف احکام میں محصور نہیں ہے۔ فقہ النفس ما لھا و ما علیھا ، اس فقہ میں عقائد بھی تھے، اس میں وجدانیات بھی تھیں اور اس فقہ میں احکام بھی تھے۔ فقہ النفس، فقہ الاحکام اور فقہ العقائد۔ امام صاحبؒ جس فقہ کے فقیہ ہیں اور جس فقہ میں آپؒ نے کام کیا ہے وہ صرف احکام کی فقہ نہیں تھی بلکہ ایک جامع اور کامل فقہ تھی۔

امام صاحب نے عقائد پر جو رسالہ لکھا ہے اس کا نام ہے ’’الفقہ الأکبر‘‘۔ حضرت ملا علی قاریؒ نے اس کی بڑی اچھی شرح لکھی ہے۔ ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ’’البیان الازہر‘‘ کے نام سے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے جس پر حضرت والد صاحبؒ کا مقدمہ ہے۔ چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک فقہ کا سب سے بڑا شعبہ عقائد کی تشریح و تعبیر تھا، فقہ کا دوسرا بڑا شعبہ احکام کا تھا جسے عام طور پر ہمارے ہاں پوری فقہ سمجھا جاتا ہے، اور پھر فقہ النفس کا شعبہ جسے وجدانیات اور تصوف کہتے ہیں یہ بھی ہماری فقہ اور ہمارے نصاب کا حصہ تھا۔ تصوف، اخلاقیات، وجدانیات، دل کی کیفیات، عقیدے کے ساتھ دل کی صفائی، احوال کی وضاحت، یہ چیزیں بھی فقہ کا حصہ تھیں۔ لیکن ہوا یہ کہ بعد میں عقائد نے علم الکلام کا رنگ اختیار کر لیا اور دوسرے معاملات نے تصوف کا روپ دھار لیا تو ہمارے ہاں یہ تقسیم پیدا ہوگئی۔ میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ تقسیم کہ احکام تو فقہ کے دائرے میں آتے ہیں لیکن عقائد، تصوف و اخلاقیات یہ فقہ سے الگ کوئی چیزیں ہیں، ایسا امام صاحبؒ کے دور میں نہیں تھا۔ امام صاحب کے ہاں یہ تمام شعبے دراصل فقہ کے شعبے ہی تھے۔ التوضیح والتلویح ہماری اصولِ فقہ کی مرکزی کتاب ہے، اس کتاب کا آغاز ہی اس بحث سے ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ کے نزدیک فقہ صرف احکام اور معاملات کا نام نہیں ہے۔ فقہ میں عقائد بھی شامل ہیں، تصوف بھی شامل ہے اور احکام بھی شامل ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ اور دینی تعلیم و تربیت

آج یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ ہمارے ہاں مدارس میں تعلیم ہے لیکن تربیت نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم ہمارے ہاں تشریف لائے انہوں نے جامعہ قاسمیہ میں علماء کرام سے خطاب کرتے ہوئے ایک جملہ کہا کہ ’’ مدرسوں میں پڑھایا جاتا ہے، سکھایا نہیں جاتا‘‘۔ یہ جملہ کہہ کر انہوں نے اس مسئلے کی بڑی اچھی وضاحت کی۔ ہمارے ہاں نہ عقائد کی تربیت منظم ہے اور نہ فکری تربیت۔ کیف ما اتفق معاملہ چل رہا ہے۔ چنانچہ ہماری اعتقادی اور فکری تربیت کا حال بھی یہی ہے۔ ہمارا حال خون کے الگ الگ گروپوں کی طرح ہے، جس کا گروپ جس شخصیت کے مزاج سے مل جاتا ہے تو بس وہ اسی کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں ہمارے مدارس میں فکری و اعتقادی تربیت ہو رہی ہے؟ اگر ہو رہی ہے تو کیا کسی پالیسی کے تحت ایک منظم اندازمیں ہو رہی ہے؟ اور پھر اخلاقی تربیت، اعمال کی تربیت، دل اور اس کی کیفیات کی تربیت۔ کیا آپ کو ہمارے ہاں یہ خلاء محسوس ہوتے ہیں یا نہیں؟ تو میری درخواست ہے کہ ہم حضرت امام صاحبؒ کی طرف واپس چلے جائیں۔ یعنی ہم فقہ کی اس تعریف کی طرف واپس چلے جائیں جو امام ابو حنیفہؒ نے کی اور اسے ہم اپنے نصاب کا حصہ بنا لیں۔ ذہن کی اعتقادی و فکری تربیت کو بھی، اور دل کی اخلاقی و عملی تربیت کو بھی۔ آج ہم اپنے مدارس کے نظام میں جو جو خلاء محسوس کرتے ہیں اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے میں ایک تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں امام صاحبؒ کی شخصیت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور فقہ کی اس تعریف کو سامنے رکھ کر اپنے مسائل کا حل کرنا چاہیے جو امام صاحب نے کی۔ امام غزالیؒ بھی یہی واویلا کرتے دنیا سے رخصت ہوئے کہ بھئی فقہ کے اصل دائرہ کی طرف آئیں۔ امام غزالیؒ نے اس پر بحث کی ہے کہ یتفقە فی الدین کا مطلب صرف قدوری پڑھنا نہیں ہے۔ یتفقە میں عقائد، تربیت، اخلاق اور دین کے تمام شعبے شامل ہیں اور فقہ دراصل پورے دین سے عبارت ہے۔

میں نے ایک بات یہ عرض کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فقہ کے عمومی دائرے میں کام کیا جس میں عقائد، احکام، اخلاقیات اور اصلاح نفس سب شامل ہیں۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم بھی اس عمومی دائرے کی طرف واپس جائیں جو امام صاحبؒ نے بتایا تھا، اس کے بغیر ہمارے نظام کی اصلاح نہیں ہوگی اور ہم اپنی دینی تعلیمی ضروریات پوری نہیں کر پائیں گے۔

امام صاحبؒ کا اصولِ استدلال

دوسری بات یہ کہ امام صاحبؒ نے صرف احکام و معاملات کی تشریح نہیں کی بلکہ عقائد میں بھی ہمیں ایک میزان دیا ہے۔ امام صاحبؒ کا اصولِ استدلال ہمارے سامنے بار بار آتا ہے۔ امام صاحبؒ نے یہ فرمایا ہے کہ میں سب سے پہلے قرآن کریم سے مسئلہ لیتا ہوں، پھر سنت و حدیث سے اور پھر صحابہؓ سے۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں صحابہؓ کے اقوال سے باہر نہیں نکلتا۔ یعنی صحابہ کرامؓ کے درمیان کسی مسئلے پر اختلاف ہو تو صحابہؓ ہی میں سے کسی کا قول لیتا ہوں اور ان کے اقوال سے باہر نہیں نکلتا۔ جو بات یہاں وضاحت طلب ہے وہ یہ کہ امام صاحبؒ کا یہ اصول استدلال صرف احکام و معاملات میں ہی میزان نہیں ہے بلکہ عقیدے کا میزان بھی یہی ہے اور اس سے بڑھ کر تصوف کا میزان بھی یہی ہے۔ یعنی عقائد، احکام، اخلاقیات و تربیت، فقہ النفس اور دین کے دیگر تمام شعبوں میں امام صاحبؒ کا میزان یہی ہے۔

آج عقائد کی بحث ہے اور تصوف کے بھی بڑے میدان ہیں۔ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے جو توازن قائم کیا تھا ہر شعبے میں اسی کو میزان مانا جائے۔ عقائد کی جو تعبیرات اس میزان پر پوری اترتی ہیں وہ صحیح ہیں اور جو پوری نہیں اترتی وہ صحیح نہیں ہیں۔ اہل السنت والجماعت کا معنٰی یہی ہے کہ عقائد و احکام کی جو تعبیرات و تشریحات امام صاحبؒ کے اس میزان پر پوری اترتی ہیں وہ اہل السنت والجماعت کے عقائد ہیں اور جو پوری نہیں اترتی وہ اہل السنت والجماعت کے عقائد نہیں ہیں۔ اسی طرح تصوف و اخلاقیات میں بھی جو کچھ امام صاحبؒ کے اس میزان پر پورا اترتا ہے وہ صحیح ہے اور جو پورا نہیں اترتا وہ صحیح نہیں ہے۔

معتزلہ اور خوارج کی دو انتہاؤں کے درمیان امام صاحبؒ نے توازن قائم کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری بنیاد قرآن و حدیث کے نصوص پر ہوگی اور نصوص کی تفہیم میں ہم عقل کا استعمال بھی کریں گے۔ لیکن ہماری ضرورت عقل کو استعمال کرنا ہے، عقل کے ہاتھوں استعمال ہونا نہیں ہے۔ ہم یہ بات بالکل تسلیم کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ صاحب الرائے ہیں۔ امام صاحبؒ جب رائے، عقل اور قیاس کی بات کرتے ہیں تو وہ عقل کو استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں، اور جہاں عقل کے ہاتھوں استعمال ہونے کی نوبت آتی ہے وہاں وہ قرآن و سنت اور صحابہؓ کی پناہ لیتے ہیں۔ یعنی بنیاد نصوص پر ہے جن میں تین باتیں شامل ہیں۔ قرآن ، حدیث اور تعامل و آثارِ صحابہؓ۔ چنانچہ تعبیر و تشریح میں ہم عقل کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل کا ایک جائز مقام تسلیم کرتے ہیں۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ اور ان کی فقہ کا اعزاز

اب میں تیسری اور آخری بات عرض کرنا چاہوں گا۔ ذرا غور فرمائیے کہ اللہ رب العزت نے امام اعظمؒ کی پیش کردہ دین کی تعبیر کو کتنی عظمت عطا فرمائی ہے۔ اہل سنت کے اندر عقائد کی تعبیر کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر ہیں۔ اشاعرہ ہیں، ما تریدیہ ہیں، ظواہر ہیں۔ لیکن اللہ رب العزت نے یہ مقبولیت اور مقام امام ابو حنیفہؒ کو عطا فرمایا ہے کہ آج کے دور میں بھی تمام تر داخلی اختلافات کے باوجود عقائد اور ان کی تعبیر و تشریح میں امام ابو حنیفہؒ ہی سند سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں عقیدے کے باب میں سب سے زیادہ پڑھائی جانے والی العقیدۃ الطحاویہ ایک بڑے حنفی فقیہ و محدث حضرت امام طحاویؒ کی تصنیف ہے۔ کوئی ابو حنیفہؒ کو اپنا امام مانتا ہے وہ بھی اسی کتاب کو پڑھاتا ہے اور جو ابو حنیفہ کو اپنا امام نہیں مانتا وہ بھی یہی کتاب پڑھاتا ہے۔ آج کی دنیا میں اہل سنت کے عقائد کی متوازن تعبیر کی سب سے متوازن کتاب جو پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے وہ ’العقیدۃ الطحاویہ‘ ہے۔ حنابلہ بھی پڑھاتے ہیں، ظواہر بھی پڑھاتے ہیں اور شافعی بھی پڑھاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں بھی یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے اور یہاں آپ کے شہر میں بھی یہی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ آج یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے امام ابو حنیفہ ؒ کو دیا ہے کہ تمام تر داخلی اختلافات و تعبیرات کے فرق کے باوجود دنیائے اہل سنت کے مختلف دائروں میں عقائد کی سب سے زیادہ مستند کتاب ’العقیدۃ الطحاویہ‘ سمجھی جاتی ہے۔

ایک بات اور بھی آپ کی خدمت میں عرض کر دوں جو شاید پہلے بھی آپ کے مطالعہ میں ہوگی۔ مغربی ممالک میں تو سب سے زیادہ ’العقیدۃ الطحاویہ‘ پڑھائی جاتی ہے لیکن یہ جو مشرقی پٹی ہے انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ، یہ سب شوافع ہیں۔ اور شوافع ہمارے بھائی ہیں۔ حضرت امام شافعیؒ کے مقلدین دنیا میں تیس کروڑ سے زیادہ ہیں۔ بمبئی سے آگے نکل جائیں سارے شوافع ہی ہیں اور ایسٹ کی پٹی میں اکثریت شوافع کی ہے۔ لیکن شوافع کی اس ساری پٹی میں فقیہ ابو اللیث سمرقندیؒ کی کتاب ’’العقیدہ‘‘ سب سے زیادہ پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاویؒ تیسری صدی ہجری کے ہیں جبکہ ابو اللیث سمرقندیؒ چوتھی صدی ہجری کے ہیں اور دونوں حنفی بزرگ ہیں۔

اس وقت امام صاحبؒ کے مناظروں کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے لیکن میں نے امام صاحبؓ کی جدوجہد کے حوالے سے چند باتیں آپ کی خدمت میں عرض کی ہیں۔ پہلی بات میں نے یہ عرض کی کہ امام صاحبؒ کی فقہ ایک جامع اور مکمل فقہ ہے۔ فقہ حنفی صرف احکام شرعیہ کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ دین کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ امام صاحب نے عقل و فکر اور وحی الٰہی کی کشمکش کے تناظر میں ایسا میزان قائم کیا کہ ان کے دور میں بھی دنیا نے اس میزان کو تسلیم کیا اور آج کی دنیا میں بھی اس میزان کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ تیسری بات میں نے یہ عرض کی کہ یہ اعزاز بھی امام ابو حنیفہؒ کا ہے کہ آج کی دنیا میں بھی اور آج کے مدارس میں ایک طرف عقیدے کے باب میں سب سے زیادہ پڑھائی جانے والی کتاب ’’العقیدۃ الطحاویہ‘‘ ہے، جبکہ دوسری طرف مشرق بعید کی پوری پٹی میں عقیدے کے حوالہ سے پڑھائی جانے والی کتاب ’’العقیدہ‘‘ ہے۔ ان دونوں کتابوں کے مصنفین حنفی مکتب فکر کے عالم تھے۔ اللہ رب العزت نے اہل سنت کے عقائد کی وضاحت میں اور علم الکلام کی تشریحات و تعبیرات میں امام صاحبؒ کو اور ان کے شاگردوں کو یہ اعزاز عطا کیا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم بھی اس سے کچھ استفادہ کر سکیں اور ہم بھی اس معاملے میں کوئی خدمت سر انجام دے سکیں، آمین یا رب العالمین۔