دینی اور دنیاوی علوم کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
مدینۃ العلوم، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۱ء (غالباً‌)

( مدینۃ العلوم، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ میں خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے تو میں ورجینیا امریکہ میں اس نئی دینی درسگاہ مدینۃ العلوم کے آغاز ، سرگرمیوں اور پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا اور اس کے بانی مولانا عبد الحمید اصغر نقشبندی و منتظمین اور آپ سب حضرات کو مبارک باد دینا چاہوں گا۔ خیر کا کوئی کام جہاں بھی ہو پورے علاقے اور اس کے مکینوں کے لیے برکت کا باعث ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام متعلقین کے لیے اس کارِ خیر کو دنیا و آخرت کے لیے برکت کا ذریعہ بنائے، سعادتوں کا ذریعہ بنائے اور خوشیوں و کامیابیوں کا ذریعہ بنائے، آمین یا رب العالمین۔

کار خیر میں حصہ دار

ہم دیکھتے ہیں کہ پڑھنے والے پڑھتے ہیں، پڑھانے والے پڑھاتے ہیں، انتظام کرنے والے انتظام کرتے ہیں اور تعاون کرنے والے حضرات تعاون کرتے ہیں۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ بس یہی لوگ ہیں جو اس نیک کام میں حصہ دار ہیں لیکن در حقیقت ہم اس بات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس کارِ خیر کا دائرہ اثر کتنا وسیع ہوتا ہے اور اس میں کون کون کس درجے میں شریک ہوتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی وقت کسی پڑھنے والے بچے یا بچی کو پڑھتے دیکھ کر کسی بزرگ مرد یا خاتون یا خاندان کے کسی فرد نے اس بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کی حوصلہ افزائی کی تو اللہ کے ہاں وہ بزرگ بھی اس کار خیر میں شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ خبیر بھی ہیں اور لطیف بھی، وہ چھوٹے سے چھوٹے حصے کو بھی جانتے ہیں، وہ کسی کا حصہ بھولتے بھی نہیں ہیں اور کسی کا حصہ ضائع بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کون کون کس کس درجے میں اور کس نیت کے ساتھ شریک ہے۔

اور علم تو روشنی ہے۔ روشنی جہاں روشن ہوتی ہے اس سے روشنی کرنے والا بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور جس کے لیے روشنی کی جاتی ہے وہ بھی فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ اردگرد کا سارا ماحول مستفید ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو روشنی کرنے والوں کے شاید ذہن میں بھی نہیں ہوتے اور پھر شاید ان لوگوں کی اپنی نیت بھی فائدہ اٹھانے کی نہ ہو۔ لیکن جب کسی جگہ پر روشنی جلتی ہے تو اردگرد جہاں جہاں وہ پہنچتی ہے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ علم بھی روشنی ہے یہ جہاں جہاں اپنا آپ دکھاتی ہے اس سے پورا ماحول متاثر ہوتا ہے اور اردگرد کے لوگوں پر اس کے کسی نہ کسی طرح اثرات ضرور ہوتے ہیں۔

اچھی صحبت کا فائدہ

ہمارے ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ۔ بہت بڑے اللہ والے تھے، چشتیہ سلسلے کے بڑے شیخ تھے۔ اللہ کی قدرت دیکھیں کہ علمائے دیوبند کے جو بڑے بڑے مشائخ ہیں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، یہ سب حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے خلفاء ہیں۔ اور پھر بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ بھی حضرت حاجی صاحبؒ کے خلیفہ ہیں۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحبؒ دیوبندیوں اور بریلویوں سب کے مشترکہ پیر ہیں۔ دونوں انہی سے فیض حاصل کرتے ہیں اور وہ سب کے سانجھے پیر ہیں۔ ایک دفعہ حضرت حاجی صاحبؒ اپنے عقیدت مندوں کی محفل میں تشریف فرما تھے کسی شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت! بہت سے لوگ خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ میری قبر فلاں نیک آدمی کے ساتھ ہو تو اس کی کیا حیثیت ہے۔ یعنی اس عقیدت مند کا سوال یہ تھا کہ قبر تو اپنے ایمان و اعمال کی کیفیات کے ساتھ ہوتی ہے اور ہر آدمی کی اپنی اپنی قبر ہوتی ہے تو یہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اور وصیت کرتے ہیں کہ فلاں نیک آدمی کے ساتھ میری قبر ہو تو کیا اس کا مرنے والے کو کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اس زمانے میں بجلی کے پنکھے نہیں ہوتے تھے، ہاتھ سے جھلنے والے پنکھے ہوتے تھے جنہیں خادم لے کھڑے ہوتے تھے اور مجلس میں پنکھا ہلاتے رہتے تھے۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے اس خادم کی طرف دیکھا جو پنکھا جھل رہا تھا۔ حاجی صاحبؒ نے پوچھا کہ یہ پنکھا کس کو جھل رہا ہے؟ جواب ملا جی آپ کو۔ پھر پوچھا کہ کیا باقی مجلس والوں کو اس کی ہوا پہنچ رہی ہے یا نہیں؟ جواب ملا کہ جی پہنچ رہی ہے۔ حاجی صاحبؒ نے فرمایا کہ قبر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک نیک آدمی کی قبر پر اللہ کی برکتوں کی بارش برستی ہے تو اردگرد والوں کو بھی ٹھنڈی ہوا پہنچتی ہے۔

کہیں دور بارش ہو رہی ہواور ہمیں نظر بھی نہ آرہی ہو لیکن جب ٹھنڈی ہوا پہنچتی ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ضرور کسی جگہ بارش ہو رہی ہے۔ بعض حضرات یہ وصیت بھی کرتے ہیں کہ انہیں فلاں بزرگ یا فلاں نیک آدمی کی قبر کے قریب دفنایا جائے۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کو خواہش کے مطابق کسی نیک آدمی کی قبر کے ساتھ جگہ مل بھی جاتی ہے۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہمارے گوجرانوالہ کے ایک بڑے بزرگ تھے، اکابر علماء میں سے تھے اور ہمارے والد حضرت شیخ الحدیث سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ تھے۔ اس طرح مفتی صاحب ہمارے دادا استاذ بنتے ہیں۔ میں نے ۱۹۷۰ء تا ۱۹۸۲ء مسلسل بارہ سال ان کی نیابت میں کام کیا ہے۔ وفات سے چند روز قبل ہسپتال میں بیماری کی حالت میں تھے۔ میں عیادت و بیمار پرسی کے لیے گیا تو فرمانے لگے کہ زاہد مجھے لگتا ہے کہ میں جا رہا ہوں اس لیے میری دو وصیتیں ہیں۔ ایک تو میری خواہش ہے کہ میرا جنازہ حضرت درخواستیؒ پڑھا دیں۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ہمارے ملک کے بڑے بزرگ تھے اور حافظ الحدیث تھے کہ انہیں ہزاروں حدیثیں یاد تھیں۔ مفتی عبد الواحدؒ صاحب نے کہا کہ میری دوسری خواہش یہ ہے کہ مجھے حافظ نظام الدینؒ کی قبر کے پاس جگہ مل جائے تو مجھے بڑی خوشی ہوگی۔ حافظ نظام الدینؒ ہمارے شہر گوجرانوالہ میں ایک پرانے بزرگ تھے بہت نیک آدمی تھے اور ساری زندگی انہوں نے قرآن مجید پڑھایا۔

مفتی عبد الواحدؒ نے یہ دو وصیتیں کیں۔ پہلے تو مجھے یہ اشکال ہوا کہ حضرت درخواستیؒ خانپور میں ہوتے ہیں جو کہ کافی دور ہے اور آتے جاتے پورا دن گزر جاتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ حضرت درخواستیؒ کیسے دستیاب ہوں گے اور میں کیسے انہیں گوجرانوالہ جنازے کے لیے لے کر آؤں گا۔ اس زمانے میں آمد و رفت کا سلسلہ اتنا آسان نہیں تھا جیسا کہ آج کل ہے۔ بہرحال میں نے مفتی صاحبؒ کو تسلی دی کہ ان شاء اللہ ہم اس کی پوری کوشش کریں گے۔ اللہ کی قدرت دیکھیں کہ جب حضرت مفتی صاحبؒ کا انتقال ہوا تو میں نے فوری طور پر رابطہ کر کے معلوم کیا کہ حضرت درخواستیؒ اس وقت کہاں ہیں؟ پتہ چلا کہ وہ لاہور آئے ہوئے تھے، مجھے تسلی ہوگئی کہ یہ والا کام تو بن گیا ہے ۔ اور پھر حافظ نظام الدینؒ صاحب کی قبر کے نزدیک مفتی صاحب کو قبر بھی مل گئی۔ حافظ نظام الدینؒ کے گھر والوں نے کہا کہ ہم نے اپنے گھر کے ایک فرد کے لیے اس قبر کی جگہ رکھی ہوئی تھی لیکن مفتی صاحبؒ اللہ کے نیک بندے تھے۔ ان کی اگر خواہش تھی تو ٹھیک ہے ان کے لیے ترجیح ہے کہ وہ ہمارے بزرگ تھے۔ چنانچہ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ باذوق لوگ خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ میری قبر فلاں نیک آدمی کے پاس ہو۔

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جہاں اللہ کی رحمت کی بارش ہوتی ہے، جہاں اللہ کے دین کی روشنی پھیلتی ہے اور جہاں علم کا چراغ جلتا ہے تو اس سے پورا ماحول فائدہ اٹھاتا ہے اور اردگرد اس کے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ چار ساتھی پڑھ لیتے ہیں اور دو اساتذہ پڑھا دیتے ہیں تو چلو اس سے چند لوگوں کو ثواب مل جاتا ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے اور یہ اتنی معمولی سی بات نہیں ہے۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور پورے ماحول پر اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اِس دینی ادارے مدینۃ العلوم کی شکل میں اس کارخیر کو قبول فرمائیں اور اِس کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ وسیع فرمائیں۔

دنیاوی زندگی کے بعد کی خبریں

دینی اداروں میں جو علوم پڑھائے جاتے ہیں ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہماری اس دنیاوی زندگی کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ برزخ کی زندگی، حشر کی زندگی اور پھر جنت و جہنم کی زندگی وغیرہ۔ ہمارے ہاں ایک مزاج بن گیا ہے اور ایک رجحان پیدا ہوگیا ہے کہ ہم قیامت کے متعلق دریافت کرتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؐسے بھی یہ سوال اکثر ہوتا رہا۔ متی الساعۃ؟ سوال کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ استہزاء و تمسخر والے لوگ بھی تھے اور ایمان و یقین والے لوگ بھی تھے۔ سوال کرنے والے کافر بھی تھے اور مومن بھی۔ دونوں طرح کے لوگوں نے یہ سوال کیا۔ کافروں کا سوال کرنے کا مقصد تو تمسخر اور مذاق اڑانا تھا کہ کہاں ہے جی وہ آپ کی قیامت کب آئے گی ہمیں تو آتی نظر نہیں آرہی۔ متٰی ہذا الوعد ان کنتم صادقین اگر آپ سچ کہہ رہے ہیں تو وہ قیامت کہاں ہے آتی کیوں نہیں ہے? یہ تو کافروں کا رویہ تھا۔ لیکن یہ سوال کرنے والے اہل ایمان بھی تھے کہ اپنی معلومات، یقین اور تسلی کے لیے پوچھتے تھے کہ یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی؟

اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں اس سوال کا مختلف حوالوں سے ذکر کیا ہے اور جناب نبی کریمؐ نے بھی مختلف مقامات پر مختلف لہجوں میں اس کا جواب دیا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ایک جگہ تو یہ فرمایا یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَ یَّانَ مُرْسٰھَا ۔ فِیْمَ أَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا۔ اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھٰھَا۔ اِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَن یَّخْشٰھَا (سورہ النازعات ۴۲ تا ۴۵) آپ سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا ، آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ، اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے، بے شک آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔ جبکہ سورہ الاعراف میں اللہ رب العزت نے اس سوال کے جواب میں جناب نبی کریم ؐسے کہلوایا یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَ یَّانَ مُرْسٰھَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا اِلَّا ھُوْ ثَقُلَتْ فِی السَّمَوَاتِ وَالْاَرْض لَا تَأْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃ (سورہ الاعراف: ۱۸۷) قیامت کے متعلق آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے، کہہ دیجئے کہ اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں ہے، وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا، وہ (قیامت) آسمانوں اور زمین میں بھاری بات ہے، یہ تم پر محض اچانک آجائے گی۔

فرمایا کہ جتنے ہلکے انداز سے تم قیامت کے متعلق پوچھتے ہو یہ اتنی ہلکی چیز نہیں ہے، قیامت تو اس زمین و آسمان سے بھاری ہے۔ پھر فرمایا کہ جب بھی آئے گی اچانک آئے گی۔ چنانچہ اللہ رب کریم نے قرآن مجید میں ان لوگوں کے سوال کا جواب جناب نبی کریمؐ سے دلوایا۔ جناب نبی کریمؐ سے ایک تو حضرت جبریلؑ نے یہ سوال کیا تھا۔ یہ مشہور حدیث ہے کہ جبریلؑ انسانی شکل میں آئے اور آپؐ سے کچھ سوالات کیے ما الاسلام، ما الایمان، ما الاحسان، متی الساعۃ کہ اسلام کیا ہے، ایمان کیا ہے، احسان کیا ہے، قیامت کب آئے گی؟ حضورؐ نے جواب دیا تھا کہ ما المسؤل عنھا بأعلم من السائل فی خمس لا یعلمھن الا اللّٰہ کہ پوچھنے والے کو جتنا معلوم ہے، پوچھے جانے والے کو اس سے زیادہ معلوم نہیں ہے، قیامت کا وقت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اس (اللہ کے ) سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ یعنی حضورؐ نے جبریلؑ سے کہا کہ بھئی جتنا آپ جانتے ہیں میں بھی اتنا ہی جانتا ہوں۔ قیامت کا علم اور قیامت کا وقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر جبریلؑ نے کہا کہ جناب وقت نہ سہی کوئی علامتیں ہی بتا دیں۔ ما أماراتھا؟ چنانچہ حضورؐ نے پھر علامتیں بتا دیں۔

اگرچہ جناب رسول اللہؐ نے دو ٹوک یہ بتلا دیا تھا کہ قیامت کا وقت اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے باوجود قیامت کے وقت کے متعلق جستجو کا یہ ذوق زمانہ در زمانہ چلا آرہا ہے اور آج بھی ہے۔ بعض لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ مولوی صاحب حساب لگا کر بتائیں کہ قیامت کب آئے گی۔ کونسی نشانیاں پوری ہوگئی ہیں کونسی باقی ہیں کونسی نشانی کتنا وقت لے گی۔ بہت سے لوگوں کا تو یہ ایک مستقل شغل ہے۔

ظہورِ قیامت کی پیشین گوئیاں

یہاں کیلی فورنیا، امریکہ کے ایک پادری صاحب ہیں فادر کمبنگ، اس وقت ۹۰ سے اوپر ان کی عمر ہے۔ انہوں نے بائبل کی علامات اور نشانیوں سے حساب لگا کر یہ بتایا تھا اور چند مہینوں سے اس کی تشہیر دنیا بھر میں ہو رہی تھی کہ قیامت ۱۲ اپریل ۲۰۱۱ء میں آئے گی۔ پادری صاحب نے قیامت کے آنے کا وقت بھی بتایا کہ یہ شام ۶ بجے آئے گی۔ ہم پاکستان میں پادری فادر کمبنگ کی اس پیشین گوئی کی یہ کہانی اخبارات میں پڑھتے رہے اور پھر آپس میں دل لگی کے لیے یہ حساب لگاتے رہے کہ جب امریکہ میں شام کے ۶ بجے کا وقت ہوگا تو پاکستان میں کیا وقت ہوگا۔ مجھ سے کچھ دوستوں نے اس کے متعلق پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی لوگ ایسی پیشین گوئیاں کرتے رہے ہیں۔

اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے گوجرانوالہ میں ڈاکٹر ای چارلس نامی ایک بڑے پادری تھے انہوں نے بھی ایک زمانے میں قیامت کے ظہور کے متعلق پیشین گوئی کی تھی۔ کھوکھرکی، گوجرانوالہ میں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے یہ وہاں کے پادری تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کیتھولک عیسائیوں کا پورے ایشیا کا سب سے بڑا مرکز ہے، وہاں پادری تیار ہوتے ہیں اور عیسائیت کی نشر و اشاعت کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ یہ اتنا بڑا ادارہ ہے کہ یوں سمجھ لیں کہ کیتھولک عیسائیوں کے لیے وہ دار العلوم دیوبند ہے۔ چنانچہ پادری ای چارلس نے آئینۂ احوال کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو کہ ۱۹۴۰ء میں یعنی میری پیدائش سے آٹھ برس قبل چھپی تھی۔ یہ کتاب میرے پاس موجود ہے جس سے میں نےساتھیوں کو اقتباسات سنائے کہ بھئی اس سے پہلے بھی یہ پیشین گوئیاں ہو چکی ہیں۔ پادری ای چارلس نے بائبل کی پیشین گوئیوں کے حوالے سے ایک لمبا چارٹ بنایا تھا جو کتاب کے ساتھ تہہ کر کے منسلک کیا گیا تھا کہ ۱۹۴۲ء میں یہ ہوگا، ۱۹۴۵ء میں یہ ہوگا اور فلاں سن میں یہ ہوگا فلاں سن میں یہ ہوگا اور پھر بالآخر ۱۹۹۴ء میں قیامت آجائے گی۔ پادری صاحب کی بہت سی پیشین گوئیوں میں چند پیشین گوئیاں پوری بھی ہوئیں۔ تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یار جیسے ۱۹۹۴ء گزر گئی ہے ایسے ہی ۲۰۱۱ء بھی گزر جائے گی، ان شاء اللہ العزیز۔ اس لیے کہ قیامت کا اصل وقت اللہ ہی کو معلوم ہے۔

ہمارے ہاں اِس حوالے سے ایک اور بحث بھی چلتی رہتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی یہ دعویٰ بڑے طمطراق سے کرتے رہے ہیں کہ چودھویں صدی ہجری آخری صدی ہے۔ میں آخری صدی کا مجدد بھی ہوں اور امام مہدی بھی اور یہ کہ پندرہویں صدی نہیں آئے گی۔ مرزا صاحب نے بہت سے دعوے کیے کہ میں یہ بھی ہوں، وہ بھی ہوں اور فلاں بھی ہوں۔ ان دعوؤں کی بنیاد یہ تھی کہ چونکہ چودھویں ہجری صدی آخری صدی ہے اس لیے وہ شخصیات جن کے ظہور کی اسلام میں پیشین گوئیاں ہیں آئندہ تو ان کے ظہور کا امکان نہیں ہے اس لیے میں ہی وہ سب شخصیات ہوں۔ حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی ہمارے بڑے مجاہد اور بزرگ تھے۔ ان کی مرزا صاحب کے ان دعوؤں پر ایک دلچسپ تقریر ہوتی تھی کہ چودھویں صدی ہجری آخری صدی نہیں ہے۔ بہرحال چودھویں صدی بھی گزر گئی اور اب ہم پندرہویں صدی ہجری میں ہیں۔

میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارے ہاں بھی یہ رجحان ہے۔ لوگ آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ مولوی صاحب کون سی علامت گزر گئی ہے کون سی علامت باقی ہے اندازہ لگا کر بتائیں کہ قیامت کب آئے گی۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اللہ کے بندو ! جب اللہ رب العزت نے دو باتیں واضح طور پر کہہ دی ہیں، پہلی لا یجلیھا لوقتھا الا ھو کہ اللہ کے سوا قیامت کا وقت کوئی نہیں جانتا، اور دوسری لا تأتیکم الا بغتۃ کہ قیامت اچانک آئے گی۔ اب اس کے بعد اس بحث میں پڑنے کا کیا فائدہ ہے? ہاں علامات کی بات درست ہے- لیکن قیامت کا وقت متعین کرنا کہ اتنے سال بعد آئے گی یا اگلی صدی میں آئے گی، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

روزِ قیامت کے لیے تیاری

جناب نبی کریمؐ نے ایک سوال کے جواب میں ایک اور بات فرمائی جو میں یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللّٰہ متی الساعۃ؟ کہ اے اللہ کے رسول قیامت کب آئے گی؟ یہ وہی سوال ہے جو کافر بھی کیا کرتے تھے اور جو جبرائیلؑ نے کیا تھا۔ حضورؐ نے جواب دیا کہ ما أعددت لھا؟ کہ (قیامت کا تو پوچھ رہے ہو) کوئی تیاری بھی کر رکھی ہے؟ یعنی جناب نبی کریمؑ نے سوال کا رخ موڑ دیا کہ ایک مسلمان کا یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ مسلمان کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میری قیامت کے لیے تیاری کتنی ہے؟ ایک چیز نے آنا ہے، بتائے بغیر آنا ہے، اچانک آنا ہے اورکسی وقت بھی آسکتی ہے۔ تو اصل کام وقت معلوم کرنا ہے یا اصل کام اپنی تیاری کا حساب لگانا ہے۔ اس پر صحابی نے جواب دیا کہ یا رسول اللّٰہ ما أعددت لھا کثیر ولٰکنی أحب اللّٰہ ورسولہ یا رسول اللہ میں نے کوئی زیادہ تیاری تو نہیں کر رکھی لیکن مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ضرور ہے۔ حضورؐ نے فرمایا انت مع من احببت جس کے ساتھ تیری محبت ہوگی اسی کے ساتھ تو شمار ہوگا۔

چھوٹی قیامت

ایک اور حدیث میں جناب نبی کریمؐ نے ایک دوسرا جواب دیا۔ فرمایا کہ بڑی قیامت تو تب آئے گی جب اس کا وقت ہوگا لیکن چھوٹی قیامت تو تمہارے سر پر کھڑی ہے۔ فرمایا من مات فقد قامت قیامتہ کہ جس کی موت ہوگئی پس اس کے لیے قیامت کا آغاز ہوگیا۔ یعنی فرمایا کہ تم کس قیامت کی بات کر رہے ، جونہی سانس نکلا تمہاری قیامت تو شروع ہوگئی۔ قیامت نام ہے حساب کتاب کا اور ایک انسان کا حساب کتاب کب شروع ہوگا؟ جیسے ہی آنکھ بند ہوئی حساب کتاب شروع۔ چنانچہ نہ چھوٹی قیامت کے وقت کا کسی کو پتہ ہے اور نہ بڑی قیامت کے وقت کا کسی کو پتہ ہے۔آپؐ فرمایا اس بڑی قیامت کے وقت کا انتظار مت کرو بلکہ اپنی قیامت کے لیے تیاری کرو اور اس کا انتظار کرو۔

جناب رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ جب انسان کو قبر میں ڈالا جاتا ہے اور ابھی گھر والے قبرستان سے باہر نہیں نکلتے تو سوال کرنے والے یعنی منکر نکیر آجاتے ہیں۔ اس جہان میں یعنی عالم برزخ میں مرنے والے کو بیٹھا کر پوچھتے ہیں کہ ہاں بھئی اپنا تعارف کرواؤ من ربک ما دینک من نبیک؟ تمہارا رب کون ہے، تمہارا دین کیا ہے، تمہارا رسول کون ہے؟ چنانچہ حضورؐ نے فرمایا کہ تمہاری قیامت تو مرتے ہی شروع ہو جاتی ہے اس لیے بڑی قیامت کے چکر میں مت پڑو کسی لمحے بھی سوئچ آف ہو سکتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب کسی قبر کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو جاتے تھے اور ڈاڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی داڑھی بڑی گھنی تھی۔ حضرت عثمانؓ زاروقطار رونے لگ جاتے تھے۔ کسی نے پوچھا امیر المؤمنین! آپ تو اللہ کے بزرگ بندے ہیں آپ کے سامنے جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہوتا ہے حشر کے ہولناکیوں کا ذکر ہوتا ہے اور قیامت کے مناظر کا ذکر ہوتا ہے تو آپ نہیں روتے لیکن قبر کو دیکھتے ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ یعنی قرآن مجید نے قیامت کے اور جہنم کے بڑے بڑے خوف ناک مناظر بیان کیے ہیں انہیں سن کر اور پڑھ کر آپ کی کیفیت یہ نہیں ہوتی لیکن قبر کو دیکھتے ہی آپ کی کیفیت یکسر بدل جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ حضرت عثمانؓ فرمانے لگے بھئی بات یہ ہے کہ یہ پہلا مرحلہ ہے، جو یہاں سے صحیح گزر گیا آئندہ مراحل سے بھی اس کے صحیح گزرنے کی توقع ہے۔ لیکن جو بنیادی پرچے میں ہی فیل ہوگیا تو آئندہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ حضرت عثمانؓ وہ بزرگ ہیں جن کو حضور نبی کریمؐ نے اپنی زبان مبارک سے کم از کم چار دفعہ نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ بلکہ ایک مرتبہ تو یہ فرمایا اعمل ما شئت عثمان آج کے بعد جو مرضی کرو اللہ نے تمہاری بخشش کر دی ہے۔ یہ حضرت عثمانؓ کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔

میں نے عرض کیا کہ آج کل ہمارا یہ ذوق بنتا جا رہا ہے کہ خبروں میں، مضامین میں، مختلف چینلز کے پروگراموں میں اور مختلف مباحثوں میں ہم قیامت کے وقت کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ نہیں بھئی! ہماری جستجو یہ نہیں ہونی چاہیے کہ قیامت کب آئے گی بلکہ ہمارا سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کے لیے ہماری تیاری کیا ہے؟

دینی و دنیاوی علوم کی ضرورت

میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں جس کے متعلق مجھے کوئی اشکال نہیں ہے کہ یہ دنیاوی علوم و فنون یہ سب ہماری ضرورت کی چیزیں ہیں۔ زبان، لکھائی پڑھائی، حساب کتاب، بیالوجی، سوشیالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ یہ سب ہماری ضرورت کی چیزیں ہیں جن کے بغیر ہماری دنیا کی زندگی منظم نہیں ہوتی اور ہم سلیقے کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کی ضرورت ہمیں کب تک ہے؟ ظاہر بات ہے کہ آنکھ بند ہونے تک۔ کیا آنکھ بند ہونے کے بعد ان میں سے کوئی بھی چیز ہمارے کام کی ہے؟ کیا کوئی مرتا ہوا آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ بھئی آج کل ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی ہے اس لیے میرے فوت ہونے کے بعد ایک اچھا سا موبائل اور دو تین کمپنیوں کی سمیں میرے پاس رکھ دینا تاکہ میرا وقت ذرا مصروف گزرے۔ یا پھر یہ کہ انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ ایک لیپ ٹاپ رکھ دینا میرا وقت ذرا اچھا گزرے گا۔ یہ ساری چیزیں ہماری ضرریات ہیں لیکن آنکھ بند ہونے سے پہلے پہلے کی، آنکھ بند ہوتے ہی ماحول بدل جاتا ہے۔

ایک بات میرے اور آپ کے سوچنے کی ہے کہ آنکھ بند ہوتی ہے یا کھلتی ہے؟ تو عرض ہے کہ اِس دنیا میں تو آنکھ بند ہوتی ہے جبکہ اگلے جہان میں آنکھ کھل جاتی ہے۔ حضرت امام محمدؒ ہمارے احناف کے ایک بڑے امام گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بہت سے اعزازت سے نوازتے ہیں۔ امام محمدؒ نے وفات پائی تو کچھ عرصے کے بعد خواب میں کسی دوست کی ان سے ملاقات ہوئی۔ دوست نے پوچھا حضرت! کیا گزری؟ یعنی دنیا و آخرت کی سرحد پار کرنے کے بعد آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ یار کچھ پتہ نہیں چلا۔ مکاتبت کے ایک مسئلہ کا ایک جزئیہ تھا جس پر میں غور کر رہا تھا، ایک دم دیکھا کہ سارا کچھ بدلا ہوا ہے۔ فقہاء کا کام یہی ہے کہ دینی مسائل اور ان کی جزئیات پر غور و فکر کرنا۔

دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو کچھ پابندیاں ہوتی ہیں کہ جی فلاں چیز آپ کے ساتھ جا سکتی ہے لیکن فلاں فلاں چیز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایئر پورٹ پر باقاعدہ چیکنگ ہوتی ہے۔ ایئرپورٹ والوں کے پاس ایک فہرست جائز اشیاء کی ہوتی ہے جبکہ دوسری ممنوعہ اشیاء کی۔ اس کے مطابق وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ آپ کی کس چیز کو بارڈر پار لے جانے دیں گے اور کس چیز کو منع کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی چیز ہمارے ساتھ دنیا اور آخرت کی سرحد پار کرے گی۔ آنکھ بند ہونے سے پہلے پہلے دنیاوی علوم کی یہ چیزیں ہمارے کام کی ہیں لیکن آنکھ بند ہونے کے بعد اِن میں سے کوئی چیز بھی نہ ہماری ضرورت کی ہے اور نہ فائدے کی۔ نہ سائنس نہ ٹیکنالوجی نہ سوشیالوجی نہ بیالوجی کچھ بھی نہیں۔ وہاں قبر کی تنہائی کا ساتھی کون ہوگا؟ وہاں تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں پوچھا جائے گا، دین کے بارے میں پوچھا جائے گا، حضورؐ کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کیا ان صاحبؐ کو جانتے ہو؟ حدیث میں مذکور ہے کہ قبر میں جو سوال و جواب ہوں گے وہاں حضورؐ کا چہرہ مبارک پیش کیا جائے گا، پردے ہٹائے جائیں گے یا چہرے کی شبیہ پیش کی جائے گی، یعنی وہاں کے حالات کے مطابق حضورؐ کی زیارت کروائی جائے گی کہ ان بزرگ کو جانتے ہو کہ یہ کون ہیں؟ چنانچہ موت کی سرحد پار کر کے جو چیزیں ہماری کام آئیں گی وہ قرآن مجید اور سنت نبویؐ کے مطابق اعمال صالحہ ہیں۔

دانا لوگ کہتے ہیں کہ جتنی دیر جہاں رہنا ہو وہاں کے لیے انتظام بھی اتنا ہی کرنا چاہیے۔ اور یہ کامن سینس کی بات ہے اس کے لیے کسی لمبی چوڑی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے اگر ایک جگہ تین دن رہنا ہے تو ظاہر ہے تین دن کا بندوبست کروں گا یا چلیں احتیاطاً پانچ دن کا بندوبست کر لوں گا۔ اسی طرح اگر کسی جگہ ایک سال رہنا ہے تو اس کا بندوبست اسی حساب سے کروں گا۔ اور اگر میں نے کسی جگہ مستقل رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ظاہر ہے بندوبست بھی ویسا ہی ہوگا۔ تو میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج کل ہم جب اپنے بچے یا بچی کے متعلق یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اسے دینی درس گاہ میں پانچ، چھ سات سال کے لیے بھیجیں گے کہ یہ دین کا علم سیکھ جائے، تو عام طور پر ہمارے اردگرد کوئی نہ کوئی مشورہ دینے والا ہوتا ہے کہ یار ٹھیک ہے تم اس بچے کو دینی تعلیم کے لیے بھیج رہے ہو لیکن کیا تم نے اِس بچے کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچا ہے کہ کیا ہوگا؟ تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک فیوچر اور مستقبل دنیا کے انہی پچاس ساٹھ سال کا نام ہے ان کے حساب سے تو یہ ایک جائز سوال ہے۔ اس وقت ہم جس ملک میں بیٹھے ہیں یہاں کا ماحول تو یہی ہے، ان کے نزدیک تو سب کچھ یہی ہے۔ وَقَالُوْا اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْن (الانعام ۲۹) اور کہتے ہیں اِس دنیا کی زندگی کے سوا ہمارے لیے اور کوئی زندگی نہیں ہے اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔ دراصل یہ بات عقیدے کی ہے، جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اور بس، ایسے لوگوں کے لیے تو یہی فیوچر ہے۔ دس سال، بیس سال، تیس سال جتنا جس کا مقدر ہے۔ لیکن کیا ہم مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ہمارا مستقبل یہی دنیا کی زندگی ہے؟ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ دنیاوی زندگی تو ہمارے مستقبل کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔ کیا برزخ کی زندگی ہمارا فیوچر ہے یا نہیں؟ اور پھر حشر کے پچاس ہزار سال بھی ہمارا فیوچر ہے یا نہیں؟ اور اس سے آگے غیر معینہ فیوچر خالدین فیھا۔ تو میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے فیوچر کے سارے مراحل سامنے رکھنے چاہئیں۔

اگر مجھے اس بات کی فکر ہو کہ دنیا کی زندگی کے فلاں مرحلے میں مجھے فلاں چیز کی ضرورت پیش آئے گی تو مجھے بہرحال اس کی تیاری کرنی چاہیے اور اس کے لیے معلومات اور تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن اس دنیاوی زندگی کے بعد قبر میں جو مراحل مجھے پیش آئیں گے اس کی تعلیم مجھے کہاں سے ملے گی؟ اور پھر حشر میں جو کچھ ہوگا اور مجھے جو مراحل پیش آئیں گے ان معاملات کے لیے مجھے تعلیم کہاں سے ملے گی؟ اور پھر مجھے پل صراط سے بھی گزرنا ہے۔ جناب نبی کریمؑؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب پل صراط سے گزریں گے تو کچھ لوگ بجلی کی طرح گزریں گے، کچھ ہوا کی طرح گزریں گے، کچھ گھوڑے کی طرح جائیں گے، کچھ اونٹ کی طرح گزریں گے، اور کچھ لوگ تو گھسٹتے ہوئے جائیں گے۔ چنانچہ یہ دنیاوی زندگی کے بعد کے مراحل طے کرنے کے لیے مجھے معلومات و ترکیبات کہاں سے ملیں گی؟ یہ آخرت کا کورس کس یونیورسٹی میں ہوتا ہے؛ ہارورڈ، کیمبرج یا آکسفورڈ؟ اور کونسا کالج مجھے یہ باتیں بتاتا ہے؟

حضرات محترم! یہ مدارس اور دینی درس گاہیں ہی ہمارے اصل مستقبل کی ہمیں تعلیم دیتی ہیں۔ اِس دنیا کی تعلیم بھی ضروری ہے اور اس کے بعد کی زندگی کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ جتنا عرصہ ہم نے اس دنیا میں رہنا ہےاس قدر تعلیم یہاں کے لیے ضروری ہے اور جتنا عرصہ ہم نے اگلی دنیا میں رہنا ہے اسی قدر تعلیم و تیاری وہاں کے لیے ضروری ہے۔

دینی تعلیم کا سوسائٹی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

آج کل بعض دوست سوال کر دیتے ہیں کہ یہ جو کچھ دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے اس کا سوسائٹی سے معاشرے کی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ دیکھیں میں کوئی چھوٹی سی چیز بھی استعمال کرتا ہوں تو پہلے اس کی پہچان حاصل کرتا ہوں، مثلاً یہ ایک بوتل ہے۔

  1. پہلی بات میں دیکھتا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے؟ مجھے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک پلاسٹک کی بنی ہوئی بوتل ہے اور اس کے اندر پانی ہے۔
  2. دوسری بات میں یہ دیکھتا ہوں کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ پانی میری پیاس بجھانے کے لیے ہے اور میری سہولت کے لیے یہ ایک ڈھکن والی بوتل میں بند ہے۔
  3. پھر تیسری بات میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ بوتل کس کمپنی یا فرم کی بنی ہوئی ہے؟ اس سے مجھے یہ اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ میں کس معیار کی چیز استعمال کر رہا ہوں۔

چنانچہ ایک پانی کی بوتل کے تعارف کے لیے میرے لیے یہ تین باتیں معلوم کرنا ضروری ہے کہ یہ کیا چیز ہے، کس مقصد کے لیے ہے اور کس نے بنائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بحیثیت انسان میرے لیے اپنی ذات کا تعارف حاصل کرنا بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اس بات پر ذرا غور فرمائیں کہ آج کی سائنس نے انسان کے بارے میں بہت کام کیا ہے لیکن یہ علوم انسان کے بارے میں صرف پہلے سوال کا جواب دیتے ہیں باقی دو سوالوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ میڈیکل سائنس کا تو موضوع ہی انسان ہے۔ سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک میڈیکل سائنس کا موضوع یہی انسانی جسم ہے اور تحقیق کی خاطر ہزاروں بلکہ لاکھوں بار انسانی جسم کی چیر پھاڑ ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں محاورے میں جسے بال کی کھال اتارنا کہتے ہیں تو واقعتا میڈیکل سائنس یہی کام کرتی ہے۔ یہ بال کی کھال بھی اتارتے ہیں اور پھر کھال کی کھال بھی اتار دیتے ہیں۔ میڈیکل سائنس ہمیں انسانی جسم کے متعلق بے تحاشا معلومات فراہم کرتی ہے کہ بال کیا ہیں، ہڈی کیا ہے، گوشت کیا ہے، خون کیا ہے، پٹھے اور اعصاب کیا ہیں۔ ہم نے تو یہ تجزیہ بھی کر لیا ہے کہ یہ جو ڈیڑھ دو من کا اور پانچ چھ فٹ کا جسم ہے اس میں فارسفورس کی مقدار کیا ہے، اس میں پانی کتنا ہے، اور فلاں چیز کتنی ہے وغیرہ۔ بہت ساری تحقیق ہو چکی ہے اور مزید ہو رہی ہے۔ لیکن اس ساری جدوجہد کے باوجود مجھے یہ معلومات تو ملتی ہیں کہ میں کیا ہوں اور ان معلومات کے فائدے سے انکار بھی نہیں ہے۔ اور یہ بات بھی بڑے یقین سے کہی جا تی ہے کہ کائنات کی سب سے پیچیدہ مشینری انسانی جسم ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی مشینری اتنی پیچیدہ نہیں ہے۔ ہزاروں سال سے اس کے میڈیکل تجزیے ہو رہے ہیں اور جدید سائنس نے تو حد کر دی ہے لیکن اس سب کے باوجود آج بھی کوئی ایک سائنس دان یا کوئی ایک سائنسی ادارہ یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ ہم نے اس مشینری کو پوری طرح سمجھ لیا ہے۔ ہر چند سال کے بعد کوئی نئی بات سامنے آجاتی ہے کہ فلاں چیز کا ہمیں پتہ نہیں تھا، یا یہ بات ہمیں اب پتہ چلی ہے کہ فلاں چیز ان مخصوص حالات میں اس طرح کام کرتی ہے۔ اور یہ سلسلہ تو قیامت تک جاری رہے گا۔

عرض یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس ایک سوال کا جواب کافی ہے کہ میں بحیثیت انسان کیا چیز ہوں؟ اور یہ جو باقی دو سوالات ہیں کہ میری موجودگی کا مقصد کیا ہے اور مجھے کس نے بنایا ہے؟ کیا اِن سوالوں کا جواب مجھے درکار نہیں ہے؟ اور اگر مجھے ان سوالوں کے جوابات چاہئیں تو مجھے یہ کہاں سے ملیں گے؟ ایک پانی کی بوتل کیوں بنائی گئی ہے یہ تو مجھے معلوم ہے لیکن میں خود کیوں بنایا گیا ہوں کیا مجھے یہ بات معلوم ہے؟اور اگر معلوم ہے تو کس نے بتائی ہے؟ یعنی میرا اس دنیا میں مقصد و ایجنڈا کیا ہے، اور پھر یہ بات کہ میں ’’میڈ اِن‘‘ کیا ہوں؟ کیا سائنس کا کوئی شعبہ مجھے یہ باتیں بتاتا ہے؟

حضرات گرامی! میری بات کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ اس مدرسے کے بغیر میری اپنی ذات کا تعارف مکمل نہیں ہوتا۔ یعنی ایک سوال کا جواب مجھے میڈیکل سائنس دیتی ہے اور باقی دو باتوں کا جواب مجھے یہ دینی مدرسہ دیتا ہے۔ یہ باتیں مجھے قرآن و حدیث سے پتہ چلتی ہیں کہ میں کیوں بنایا گیا ہوں اور مجھے بنانے والا کون ہے۔ تو میں نے یہ چند گزارشات آپ کے اس مدرسے کے قیام کے حوالے سے خوشی کے اظہار کے طور پر کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اس مدرسے کو دِن دُگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ پڑھنے والے اور پڑھنے والیاں، پڑھانے والے اور پڑھانے والیاں، انتظام کرنے والے اور تعاون کرنے والے، سب کو اس علم کی برکات سے دنیا و آخرت میں بہرہ ور فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: