الرشید ٹرسٹ ۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اگست ۲۰۰۳ء

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے فنڈز منجمد کرنے کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملک بھر میں اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الرشید ٹرسٹ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد اس وقت امریکی دباؤ کی زد میں آگیا تھا جب امریکہ نے عالم اسلام کی جہادی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں کچلنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مسلم دنیا کے سینکڑوں رفاہی ادارے صرف اس لیے اس دباؤ کے دائرے میں آگئے تھے کہ ان کی رفاہی سرگرمیاں اسلام اور دینی تعلیمات کے حوالے سے ہیں اور وہ کسی امتیاز کے بغیر دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حتی الوسع امداد میں مصروف چلے آرہے ہیں۔

الرشید ٹرسٹ نے اپنے قیام کے بعد مختصر سے عرصہ میں دکھی انسانیت کی خدمت اور مظلوم لوگوں کی بحالی کے حوالے سے پاکستان اور بیرون ملک جو مقام حاصل کیا ہے وہ بہت کم اداروں کے حصہ میں آیا ہے۔ اور اس حوالہ سے اس کی اہمیت و افادیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے نام پر اور ملک کے ایک معروف و معتمد دینی حلقے کی طرف سے سامنے آیا ہے جو بہت سے لوگوں کی توقعات کے برعکس ہے کیونکہ ہمارے ہاں دینی حلقوں کی سرگرمیاں مسجد و مدرسہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اگرچہ وہ بھی ایک بہت بڑا میدان ہے اور اس محاذ پر علمائے کرام اور ان کے دیندار معاونین کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عام آدمی کا دین کے ساتھ تعلق قائم ہے اور عقیدہ و اعمال کے حوالہ سے دینی تعلیمات کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس بات کی ایک عرصہ سے شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ عام معاشرہ اور سوسائٹی میں نادار اور ضرورت مند لوگوں کی امداد کا کوئی ایسا نظام ضرور ہونا چاہیے جو دین کے حوالہ سے ہو اور معیار و کارکردگی دونوں حوالوں سے آج کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔

تاریخ کے ایک طالب علم اور اسلامی جدوجہد کے شعوری کارکن کے طور پر ایک مدت سے دل میں یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ اے کاش مسلمانوں میں بھی عالمی سطح کا کوئی ادارہ ’’ریڈ کراس‘‘ کے طرز اور معیار کا ہو جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جاتا ہو اور جو دنیا بھر میں رفاہی خدمات سرانجام دے۔ انجمن ہلال احمر کے نام سے ایک گروپ سامنے آیا لیکن کارکردگی اور معیار میں وہ ریڈ کراس کا متبادل نہ بن سکا اور بہت سے دیگر ادارے بھی منظر عام پر آئے مگر بات نہ بنی۔ الرشید ٹرسٹ نے جب اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو ابتدا میں میرا تاثر یہ تھا کہ ہمارے ہاں روایت چلی آرہی ہے کہ وقتی جوش و خروش کے تحت بہت اعلیٰ سطح پر ہم کام کا آغاز کرتے ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب جوش و خروش ٹھنڈا پڑتا ہے تو کارکردگی اور معیار دونوں اس کے ساتھ ہی ٹھنڈک کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر صرف کاغذی اور رسمی کارروائیوں کی روایت باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن الرشید ٹرسٹ نے جس انداز میں پیش رفت کی اور اپنے کام اور معیار میں جس طرح روز بروز اضافہ کیا اس سے اندازہ ہونے لگا تھا کہ اگر اسی طرح کام جاری رہا اور سنجیدگی قائم رہی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہم عالم اسلام میں ریڈ کراس کی طرز اور معیار کے ایک ادارے کو آگے بڑھتا اور کام کرتا دیکھ سکیں گے۔ لیکن ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکی دباؤ کے تحت الرشید ٹرسٹ کے خلاف اسٹیٹ بینک کی کارروائی سے دل کو دھچکا لگا اور محسوس ہوا کہ الرشید ٹرسٹ شاید اس دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا نہ کر سکے اور اس کے حوالہ سے مستقبل کے جو تصورات ذہن میں ابھر رہے تھے وہ ماضی کا قصہ بن جائیں۔ مگر الرشید ٹرسٹ کے ذمہ دار حضرات کی ہمت قابل داد ہے کہ انہوں نے اس ریاستی دباؤ کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اس کا حوصلہ کے ساتھ سامنا کیا اور نہ صرف یہ کہ عدالت عالیہ میں اپنے خلاف اسٹیٹ بینک کے حکم کو چیلنج کر دیا بلکہ فنڈز منجمد ہو جانے کے باوجود تعلیمی اور رفاہی محاذ پر اپنی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں۔

الرشید ٹرسٹ جو خدمات سرانجام دے رہا ہے وہ ہماری دینی تعلیمات کا حصہ ہیں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے فرائض میں شامل ہیں جبکہ ہم بہت سے دیگر دینی فرائض کی طرح ان ذمہ داریوں سے بھی غافل ہوگئے ہیں۔ اس حوالہ سے عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے بعد مستند روایات میں آنحضرتؐ کاجو پہلا تعارف سامنے آتا ہے وہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زبان سے ہے۔ اور اگر اس ترجمہ کو جسارت پر محمول نہ کیا جائے تو وہ ایک سوشل ورکر کا تعارف ہے اور میری ناقص رائے میں جس طرح جناب نبی کریمؐ زندگی کے دیگر شعبوں میں سب سے نمایاں اور سب کے لیے آئیڈیل اور نمونہ ہیں اسی طرح وہ نسل انسانی کے سب سے بڑے سماجی کارکن ہیں اور سماجی و رفاہی خدمات کے حوالہ سے بھی قیامت تک پوری نسل انسانی کے لیے اسوہ اور آئیڈیل ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے بعد گھر واپس آکر ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبرٰیؓ کو واقعہ سنایا اور کچھ گھبراہٹ کا اظہار کیا تو ام المؤمنین نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کے کام آتے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا بنتے ہیں اور مشکلات و مصائب میں لوگوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔ الرشید ٹرسٹ نے جناب رسول اکرمؐ کی اسی سنت کو زندہ کیا ہے اس لیے ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی یہ بشارت اس کے لیے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے بس اور بے سہارا مخلوق کی خدمت کرنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے اور خلوص کے ساتھ محنت کرنے والوں کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

آج الرشید ٹرسٹ کی طرف سے حکومتِ پاکستان کے نام ایک اپیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قبول کر لے اور الرشید ٹرسٹ کے راستے میں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے یا دوسرے لفظوں میں سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کی بجائے الرشید ٹرسٹ کو آزادی کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دینے کا موقع دے۔ ہم الرشید ٹرسٹ کی اس اپیل کی حمایت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے توجہ دے اور اگر ابھی اس کا ’’چاند ماری‘‘ کا شوق پورا نہیں ہوا تو اس کے لیے بڑا وسیع میدان موجود ہے۔ ملک میں ہزاروں این جی اوز موجود ہیں جو بے پناہ سرمایہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں، پاکستانی بینکوں میں ان کے اکاؤنٹس موجود ہیں، وہ اسٹیٹ بینک کے سائے میں کام کر رہی ہیں اور ان کے معاملات اور اہداف دونوں کے حوالے سے ملک کے عام حلقوں میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ملک میں رفاہی خدمات کے نام پر عام مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ہمارے خاندانی نظام کو تتر بتر کرنے کی مہم جاری ہے، فکری انتشار پیدا کیا جا رہا ہے اور ثقافتی انارکی کی فضا ہموار کی جا رہی ہے لیکن ہماری حکومت اور اسٹیٹ بینک کو ان سرگرمیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے قابل برداشت ہے اور اگر اعتراض ہے تو الرشید ٹرسٹ پر جو دیانت و امانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ اسلام اور اسلامی روایات و اقدار کے دفاع و تحفظ کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔

ہم حکومت سے یہ درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو پورے ملک میں کام کرنے والے رفاہی اداروں اور این جی اوز کی کارکردگی کا جائزہ لے اور ریکارڈ چیک کرے، کھلی اور عوامی تحقیقات کے ذریعے حقائق کو منظر عام پر لائے اور ان کے کام کو ملک کے مفاد اور تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔ (تاکہ یہ معلوم کیاجا سکے کہ) دیانت و امانت اور کارکردگی کے مطلوبہ تقاضوں پر کونسا رفاہی ادارہ اور این جی او پورا اترتی ہے، پاکستان کی نظریاتی شناخت، وحدت و سالمیت اور قومی خودمختاری کے تقاضوں سے کون ہم آہنگ ہے اور کونسی تنظیم اس کے خلاف کام کر رہی ہے۔ حکومت کو اگر ’’چاند ماری‘‘ کا شوق پورا کرنا ہے تو اس کا اصل میدان یہ ہے ورنہ صرف الرشید ٹرسٹ کو نشانہ بنائے رکھنے کا نتیجہ مظلوموں کی بد دعائیں لینے اور کار خیر میں رکاوٹ بنے رہنے کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟