ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر عبد القدیر خان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۲۰۱۷ء

گزشتہ ہفتے کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ’’دعوہ اکیڈمی‘‘ کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کی آخری نشست میں حاضری کا موقع ملا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت اور عالمی ماحول میں پاکستان کی علمی پہچان تھے۔ اسلامی یونیورسٹی اور اس کے تحت دعوہ اکادمی اور شریعہ اکادمی کی تشکیل و تنظیم میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ دینی و عصری علوم پر یکساں مہارت رکھتے تھے اور بین الاقوامی اجتماعات میں اسلام کی علمی روایت کے حوصلہ مند وکیل تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی یاد میں دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کی مختلف نشستوں میں متعدد اصحاب علم و دانش نے مرحوم کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے علمی و فکری جواہر پاروں کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے تجاویز پر غور کیا گیا۔ جب ہم کانفرنس کے ہال میں پہنچے تو آخری نشست کی تیاری جاری تھی اور مہمان خصوصی کے طور پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا انتظار ہو رہا تھا، ڈاکٹر صاحب محترم کے ساتھ کسی محفل میں شرکت کا یہ پہلا موقع تھا۔ اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ فضیلۃ الدکتور احمد یوسف الدرویش اور دعوہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل حسن کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کے راہ نما فضیلۃ الشیخ محمد عبدہ عطین کی پرمغز گفتگو اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کی ایمان افروز باتیں سننے کا موقع ملا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنے دینی مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ لگتے تو پورے مولوی ہیں لیکن ڈاڑھی نظر نہیں آتی، میں کہا کرتا ہوں کہ میری ڈاڑھی باہر نہیں اندر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے دینی ذوق کی وجہ بچپن کی تربیت ہے کہ بھوپال میں جب وہ سکول کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تو قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور سیرت نبویؐ ہمارے نصاب کا حصہ تھے اور ہم نے سیرت نبویؐ پر علامہ سید سلیمان ندویؒ کے ’’خطباتِ مدراس‘‘ سبقاً سبقاً پڑھے تھے۔ وہاں نماز کی پابندی ہوتی تھی، دینی فرائض کا اہتمام ہوتا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت معمولات میں شامل تھی جس کے اثرات آج تک زندگی پر حاوی ہیں اور معمولات کا یہ سلسلہ بدستور چل رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں مقررین اور شرکاء محفل نے جس عقیدت اور جذبات کا اظہار کیا وہ اسلام اور پاکستان کے ساتھ ان کی محبت پر شہادت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب محترم نے ایک بات یہ بھی بتائی کہ وہ بہت سے ملکوں میں شہریت اور سہولتیں حاصل کر سکتے تھے اور ان کے لیے پیشکشیں موجود تھیں حتیٰ کہ ایک موقع پر انہیں سعودی عرب کا پاسپورٹ دیے جانے کی آفر بھی ہوئی لیکن ان کے دل میں یہ بات تھی کہ ان کے لیے اول و آخر پاکستان ہے اور وہ اپنے وطن میں رہ کر ہی ملک اور ملت کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔

راقم الحروف کو کانفرنس کے اختتام پر دعا اور کچھ اختتامی کلمات کے لیے کہا گیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ دونوں کے بارے میں کچھ معروضات پیش کیں۔ میں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو عموماً محسن پاکستان کہا جاتا ہے جبکہ میرے خیال میں وہ صرف پاکستان کے نہیں بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں جس کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ جن دنوں پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا غلغلہ تھا میں نے کسی بین الاقوامی سفر کے دوران ہوائی جہاز میں مہیا کیے گئے عربی اخبار میں ایک کالم پڑھا جس میں مضمون نگار نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اب اسرائیل ہوش سے بات کرے اس لیے کہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا اعتراف عالم اسلام میں موجود ہے اور اس حوالہ سے مسلم دنیا میں پاکستان پر فخر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ دینی و عصری علوم کا سنگم تھے اور عصری اسلوب میں اسلامی تعلیمات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ اور میرے خیال میں اس حوالہ سے ہمارے چند بزرگوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ اس کی عملی تعبیر تھے۔ علی گڑھ میں مولانا محمد علی جوہرؒ، حکیم اجمل خانؒ اور ان کے رفقاء نے نیشنل مسلم یونیورسٹی قائم کی تھی جس نے بعد میں جامعہ ملیہ کی شکل اختیار کی۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے آخر عمر میں علی گڑھ جا کر یہی پیغام دیا تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے دینی اور سماجی علوم کے ماہرین کو یکجا کر کے اسلامی فقہ کی تشکیل جدید کا تصور پیش کیا تھا۔ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے دارالعلوم دیوبند میں آنے سے پہلے سلہٹ میں یونیورسٹی بنانے کا پروگرام بنایا تھا اور اس کے لیے دینی و عصری علوم کا اٹھارہ سالہ مشترکہ نصاب تعلیم مرتب کیا تھا۔

میں سوچتا ہوں کہ ان سب خوابوں کو اگر عملی صورت میں کہیں یکجا دیکھا جا سکتا ہے تو وہ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ان جیسی چند گنی چنی شخصیات ہی ہو سکتی ہیں کہ آج ان کی علمی و دینی خدمات پر عالمی سطح پر خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور ان کے علمی مآثر کو باقی رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کے علمی و فکری افادات کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس علمی و فکری سانچہ کو باقاعدہ ادارے کی شکل دینے کی ضرورت ہے اور میرے نزدیک آج کی کانفرنس کا پاکستان کے ارباب علم و فکر کے لیے یہی پیغام ہے۔