وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۲۰۱۷ء

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ تقریر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ براہ راست سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی۔

ہمارے نزدیک وزیراعظم کی تقریر کا مجموعی اور عمومی مفہوم یہ بنتا ہے کہ دہشت گردی کے مبینہ جواز کے لیے اسلامی تعلیمات کا جس طرح غلط طور پر حوالہ دیا جا رہا ہے علماء کرام کو اس کا جواب دینا چاہیے، ملک کے امن و استحکام کے لیے دینی تعلیمات کو مثبت انداز میں وضاحت کے ساتھ سامنے لانا چاہیے اور معاشرہ کی فرقہ وارانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے دینی مدارس کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں سے کسی بھی مکتب فکر کے سنجیدہ حضرات کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن ’’نئے قومی بیانیہ‘‘ کی اصطلاح کچھ عرصہ سے جس فکری تناظر میں عام کی جا رہی ہے اس کے پس منظر میں وزیراعظم کی زبان سے ’’متبادل دینی بیانیہ‘‘ کے جملہ نے ذہنوں میں سوالات کی ایک نئی لائن کھڑی کر دی ہے جو ہمارے خیال میں شاید وزیراعظم کے مقاصد میں شامل نہیں ہوگی۔ لیکن اب چونکہ یہ سوالات سامنے آگئے ہیں اور انہیں مختلف حوالوں سے دہرایا جا رہا ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنے کی ضرور ت ہم بھی محسوس کر رہے ہیں۔

’’قومی بیانیہ‘‘ سے مراد اگر ملک و قوم کی بنیادی پالیسی اور ریاستی تشخص کے بارے میں ’’قوم کی متفقہ رائے‘‘ ہے تو یہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ’’قرارداد مقاصد‘‘ کے عنوان سے طے شدہ ہے جو ملک کے ہر دستور میں شامل رہی ہے اور موجودہ دستور کا بھی باقاعدہ حصہ ہے۔ حتیٰ کہ چند برس پہلے جب پارلیمنٹ نے پورے دستور پر نظر ثانی کی تھی تو قرارداد مقاصد کو متفقہ طور پر دستور کے باضابطہ حصہ کے طور پر برقرار رکھا گیا تھا جو اس کی پوری قوم کی طرف سے از سر نو توثیق اور تجدید کے مترادف ہے۔ اس لیے ملک کے نظریاتی تشخص اور اس کے نظام و قوانین کی اسلامی بنیادوں کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کی کوئی بھی بات دستور سے انحراف کی بات ہوگی جو ملک کی دستوری وحدت اور معاشرتی استحکام کو ایک ایسے خلفشار کا شکار بنا سکتی ہے جسے سمیٹنا عالمی قوتوںکی مسلسل اور ہمہ نوع مداخلت کے موجودہ ماحول میں شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔ اس لیے ملک کے نظریاتی تشخص کے حوالہ سے کسی نئے قومی بیانیہ کا نعرہ اپنے اندر فکری اور تہذیبی خلفشار بلکہ تصادم کے جن خطرات کو سموئے ہوئے ہے ان سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں اور نہ ہی ملک و قوم کو فکری طالع آزماؤں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر ’’قومی بیانیہ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرہ کی فرقہ وارانہ تقسیم اور دہشت گردی کے لیے دینی تعلیمات کا غلط اور مسلسل حوالہ دیے جانے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس دلدل سے قوم کو نجات دلانے کے لیے علمی اور عملی جدوجہد کی جائے تو یہ بلاشبہ آج کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں اب تک کی جانے والی اجتماعی کوششیں وزیراعظم کے سامنے نہیں ہیں، مثلاً

  • ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے رکھے تھے جو دینی حلقوں کی طرف سے پیش کیا جانے والے ’’قومی بیانیہ‘‘ ہی تھا۔ جبکہ ۲۰۱۳ء میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ علمی فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے مختلف مکاتب فکر کے ۵۷ اکابر علماء کرام کو ازسرنو جمع کر کے ۱۵ وضاحتی نکات کے اضافہ کے ساتھ ان ۲۲ نکات کی ازسرنو توثیق کرائی تھی جس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ملک میں نفاذِ اسلام ضروری ہے مگر اس کے لیے مسلح جدوجہد اور ہتھیار اٹھانے کا طریق کار شرعاً درست نہیں ہے، اور اسلامی قوانین و نظام کا صحیح نفاذ پرامن قانونی جدوجہد کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔
  • جب امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی طرف سے دیوبندی مکتب فکر کو موجودہ دہشت گردی کا پشت پناہ قرار دیا گیا تو اپریل ۲۰۱۰ء میں دیوبندی مکتب فکر کے تمام حلقوں اور مراکز کی قیادتوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں جمع ہو کر متفقہ طور پر اس دہشت گردی سے برأت کا اعلان کیا اور نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کو شریعت کے منافی قرار دیا جسے رینڈ کارپوریشن اور اس کے ہمنوا اب تک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
  • ستمبر ۲۰۱۵ء کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ دہشت گردی سے برأت کے بارے میں اجتماعی موقف کا ایک بار پھر اظہار کیا جائے تو مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمان، مولانا عبد المالک، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا محمد یاسین ظفر اور مولانا قاضی نیاز حسین نقوی پر مشتمل کمیٹی نے وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ’’متفقہ قومی بیانیہ‘‘ مرتب کر کے وزیراعظم ہاؤس کو بھجوایا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے صرف اس لیے ’’داخل دفتر‘‘ کر دیا گیا کہ اس میں شریعت کے نفاذ کی بات بھی شامل تھی۔

یہ چند حوالے جو ہم نے پیش کیے ہیں قومی پریس کے ریکارڈ میں موجوود و محفوظ ہیں جنہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر کے نئے دینی اور قومی بیانیہ کا مطالبہ بار بار دہرایا جا رہا ہے جس پر کم از کم الفاظ میں افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے گزارش ہے کہ دہشت گردی کی مذمت اور ملک میں کسی بھی حوالہ سے ہتھیار اٹھانے کو ناجائز قرار دینے پر آج بھی تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پوری طرح متحد ہیں اور ان کا دوٹوک موقف یہ ہے کہ

  • پاکستان کی نظریاتی اساس ’’قرارداد مقاصد‘‘ ہے جس سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
  • شریعت کا نفاذ ریاست کے مقاصد اور فرائض میں سے ہے لیکن اس کی جدوجہد دستور و قانون کے دائرہ میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے ہتھیار اٹھانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
  • دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے تمام دینی حلقے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
  • جبکہ ملک کے نظریاتی تشخص، سیاسی استحکام، قومی وحدت اور امن کے قیام کے لیے بیرونی مداخلت کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔