چودھری ظہور الٰہی شہید

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اکتوبر ۱۹۸۱ء

ممتاز مسلم لیگی راہنما چودھری ظہور الٰہی گزشتہ جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب مولوی مشتاق حسین کو اپنی گاڑی پر ان کے گھر چھوڑنے جا رہے تھے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ایک سڑک پر نامعلوم حملہ آوروں کی وحشیانہ فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس حادثہ میں مرحوم کے ڈرائیور بھی قتل ہوگئے جبکہ مولوی مشتاق حسین موصوف زخمی ہوئے۔ چودھری ظہور الٰہی مرحوم نے پاکستان کی قومی سیاست میں جو سرگرم کردار ادا کیا ہے اور قومی تحریکات میں جس جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوتے رہے ہیں اس کے باعث قومی حلقوں میں ان کی المناک موت اور وحشیانہ فائرنگ کی اس مذموم کاروائی پر گہرے رنج و غم اور شدید غم و غصہ کے جذبات کا مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے۔

چودھری صاحب مرحوم کا تعلق مسلم لیگ سے تھا اور پاکستان کی بانی جماعت ہونے کے ناطے سے مسلم لیگ کے احترام کے باوجود ہمیں مسلم لیگی طرزِ سیاست سے ہمیشہ بوجوہ اختلاف رہا ہے۔ لیکن چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا شمار ان معدودے چند لیگی راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مخلصانہ روش، تحمل، رواداری اور اجتماعی سوچ کے باعث کم و بیش سبھی محب وطن حلقوں سے احترام اور اعتماد حاصل کیا۔ مرحوم کی سیاسی زندگی کا سب سے تابناک دور وہ ہے جب انہوں نے بھٹو آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور اس سلسلہ میں تخویف و تحریص کے تمام ہتھکنڈوں کا پوری جرأت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے نہ صرف پنجاب کی روایتی سیاست کے بارے میں سابقہ تاثرات کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا بلکہ اپنی پنجابیت پر فخر کرتے ہوئے سرحد و بلوچستان کے عوام کے ساتھ یک جہتی اور محبت کا عملی اظہار کر کے علاقائی منافرت پیدا کرنے کی سازش کے تار پود بکھیر کے رکھ دیے۔ ہمیں اس دور کی سیاست کے حوالے سے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے یہ تاثرات اچھی طرح یاد ہیں کہ اگر پنجاب کا یہ سیاستدان ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو ہمیں پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کے عوام کے درمیان منافرت پیدا کرنے کی مکروہ سازش کو ناکام بنانے میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ مرحوم کو اس حب الوطنی کی پاداش میں مقدمات، کردار کشی اور داروگیر کے تمام مراحل سے گزرنا پڑا لیکن وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے مشن پر کاربند رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔

ہمارا مقصد چودھری ظہور الٰہی مرحوم کی خدمات کا احاطہ نہیں بلکہ صرف یہ گزارش کرنا ہے کہ قومی زندگی میں ان کا رویہ ہمیشہ مثبت اور حب الوطنی کا آئینہ دار رہا ہے اور انہوں نے قومی وحدت کے فروغ کو باقی ہر بات پر ترجیح دی ہے۔ آج جبکہ محب وطن عناصر اور مثبت سیاسی قوتوں کے درمیان یک جہتی کے قیام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، اس ضرورت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرنے والے ایک سیاسی راہنما کی موت بلاشبہ ایک قومی نقصان ہے۔ ہم اس غم میں مرحوم کے خاندان، رفقاء اور محب وطن حلقوں کے ساتھ شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

اس مسئلہ کے دوسرے پہلو پر سرِدست ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ قومی زندگی میں تشدد اور دہشت پھیلانے والوں کا محاسبہ روایتی طریقوں سے نہیں ہوگا بلکہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مسئلہ صرف چودھری ظہور الٰہی کی موت کا نہیں، قومی زندگی کو تشدد اور دہشت سے محفوظ رکھنے کا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے المناک قتل کے محرکات و عوامل اور اس کے پشت پناہ عناصر کو بے نقاب کرنے، دہشت گردی کے سرچشموں کا سراغ لگانے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔