’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ مارچ ۲۰۱۷ء

سیکولر حلقوں کی ایک پرانی تکنیک ہے کہ جب بھی دینی حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کو درپیش کسی خطرہ کی بات کی جاتی ہے تو بڑی آسانی سے یہ جملہ لڑھکا کر منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں کہ ’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘ پھر اس کی تشریح کی جاتی ہے کہ اسلام نے تو قیامت تک رہنا ہے اور اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اس لیے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا بلکہ مولوی حضرات اپنے مخصوص مقاصد کے لیے ’’اسلام خطرہ میں ہے‘‘ کا نعرہ لگا دیتے ہیں۔ یہ بات کوئی سیکولر یا دین بے زار شخص کہے تو اس کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے لیکن اسلام اور دین کا نام لینے والے بعض حضرات بھی مولوی کے خلاف غصے کے اظہار کے لیے جب اس نفسیاتی سہارے کی اوٹ میں کھڑے دکھائی دینے لگتے ہیں تو بے ساختہ ان کے لیے دعائے صحت لبوں پر آجاتی ہے۔

یہ بات اس حد تک درست ہے کہ اسلام کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور اس دین نے قیامت تک باقی اور محفوظ رہنا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمارے عقیدے و ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کریم مکمل اور محفوظ حالت میں رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور اس کی تعبیر و تشریح میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کا تسلسل بھی قائم رہے گا۔ حتیٰ کہ اسلامی سوسائٹی کی عملی اور آئیڈیل شکل بھی صحابہ کرامؓ کی معاشرتی زندگی کی صورت میں تاریخ کے ریکارڈ کا بدستور حصہ رہے گی۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اور دین کو کسی حوالہ سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا؟ ملت اسلامیہ کی چودہ سو سالہ تاریخ پر نظر رکھنے والا کوئی باشعور شخص اس مفروضہ کی تائید نہیں کر سکتا۔ اسلام اور دین کو حقیقی خطرات تو خود جناب رسول اکرمؐ کے دور میں لاحق ہوگئے تھے جب مسیلمہ کذاب ، طلیحہ اسدی، اسود عنسی اور پھر سجاح نے نبوت کا دعویٰ کر کے متبادل وحی کا تصور پیش کیا تھا اور اپنی خودساختہ وحی کے مجموعے بھی پیش کر دیے تھے۔ ان کی ایسی حرکتوں سے جو خطرات سامنے آئے تھے وہ براہ راست دین کو ہی درپیش تھے، چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت اور ان کے ساتھ ساتھ منکرین زکوٰۃ کے خلاف جو محاذ آرائی کی اس کا عنوان ’’دین کو خطرہ‘‘ ہی تھا جس کا اظہار خلیفہ ٔ اولؓ نے اس جملہ کی صورت میں فرمایا تھا کہ أینقص الدین وانا حی؟ کیا دین میں کمی کی جائے گی اور میں بھی زندہ رہوں گا؟

پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں جب یہ بات عام حلقوں میں پھیلائی گئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اور دین کی عام تعلیمات سے ہٹ کر حضرت علیؓ کو کچھ خصوصی تعلیمات بھی دی ہیں جنہیں معلوم کرنے کا ذریعہ صرف وہی ہیں، یہ بات دین کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ کی حیثیت رکھتی تھی جس کی تردید بخاری شریف کی روایات کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ کے علاوہ خود حضرت علیؓ نے بھی وضاحت کے ساتھ فرما دی تھی۔
اس کے بعد خوارج نے قرآن کریم کی بعض آیات مقدسہ کے ظاہری مفہوم کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی عمومی تکفیر کا بازار گرم کر دیا تھا حتیٰ کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں ان کے اس فتوے کی زد میں تھے۔ یہ بھی دین کے بنیادی مفہوم کو خطرے میں ڈالنے کی بات تھی بلکہ اس خطرے نے تو پورے عالم اسلام میں افراتفری اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا اور حضرات صحابہ کرامؓ نے براہ راست اس فتنے کا مقابلہ کیا تھا۔

اس کے بعد یونانی فلسفہ کے جلو میں آنے والے عقل پرستی کے فتنہ نے دینی عقائد کو ظاہری عقل کا پابند بنانے کی تحریک کھڑی کی تھی جس نے عباسی خلافت کے اعلیٰ ایوانوں تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اس کا مقابلہ بھی حضرت امام ابوحنیفہؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوالحسن اشعریؒ، امام ابومنصور ماتریدیؒ اور جمہور علماء امت نے دین کو درپیش خطرہ قرار دے کر ہی کیا تھا۔ بلکہ جنوبی ایشیا میں اکبر بادشاہ کے دور میں اسلامی عقائد و احکام کی تشکیل نو کے نام پر اجتہاد کے عنوان سے دین الٰہی کا جو ’’متبادل مذہبی بیانیہ‘‘ پیش کیا گیا تھا اس کا سامنا بھی حضرت مجدد الف ثانیؒ اور دیگر علماء امت نے دین کو درپیش خطرہ سمجھ کر ہی کیا تھا۔

اسے ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عباسی خلافت کا بغداد سے خاتمہ ہلاکو خان کی طوفانی یلغار کے باعث ہوا تھا جس نے اسلامی دنیا کے سب سے بڑے تہذیبی مرکز اور دارالحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، صلیبی جنگوں میں مسیحی افواج نے ’’بیت المقدس‘‘ مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھین لیا تھا اور تقریباً نوے سال تک صلیبیوں کے قبضہ میں رہا تھا، جبکہ اندلس میں مسلمانوں نے نہ صرف عسکری میدان میں شکست کھائی تھی بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی اندلس کی سرحدوں سے باہر کر دیا گیا تھا۔ ملت اسلامیہ کے ان عظیم المیوں کو اگر کچھ حضرات اسلام کے لیے خطرہ اور دین کا نقصان نہ سمجھتے ہوں تو ان کے حوصلے کی یقیناً داد دینا پڑے گی مگر ہمارے جیسے کمزور لوگ تو حرمین شریفین پر فاطمی حکومت کے دور کو بھی دینی نقصان اور خطرہ ہی تصور کرتے ہیں بلکہ ان خطروں کو دھیرے دھیرے مسلمانوں کی صفوں میں ازسرنو پیش رفت کرتا دیکھ رہے ہیں اور حتی الوسع اس حوالہ سے امت میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس مسئلہ کو دیکھنے کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں رونما ہونے والے جن مسلسل فتنوں کا ذکر کیا ہے اور جنہیں محدثین کرامؒ نے سینکڑوں روایات کے ذریعہ کے ذریعہ امت تک پہنچایا ہے ان میں زیادہ تر دین کے حوالہ سے درپیش خطرات کا ہی ذکر ہے۔ مثلاً عام مسلمانوں کا نماز کو ترک کر دینا، زکوٰۃ کی عدم ادائیگی، دیانت کا ختم ہو جانا، امانت کا تصور ناپید ہوجانا، زنا، سود اور شراب کا عام ہو جانا حلال و حرام کا فرق مٹ جانا، اولاد کا نا فرمان ہونا، حکمرانوں کا قرآن و سنت سے ہٹ کر اپنی مرضی کے احکام و قوانین نافذ کرنا، سوسائٹی کا سنت و فطرت سے بے گانہ ہو جانا وغیر ذالک۔ یہ سب دینی فتنے ہیں اور اسلام کے لیے نقصان کا باعث ہیں جن سے خود آنحضرتؐ نے امت کو خبردار کیا ہے۔

چنانچہ یہ کہہ دینا کہ اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا اور دین کو خطرہ کی بات مذہبی طبقات محض اپنے مفادات کے لیے کر دیتے ہیں، نہ صرف تاریخی حقائق بلکہ اسلام کے مزاج سے بھی ناواقفیت کی علامت ہے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اسلام کو درپیش خطرات کا ذکر کرتا ہے اور ان کے خلاف صف بندی کی بات کرتا ہے تو اس کی بات کو سننا چاہیے، توجہ دینی چاہیے اور اس سے تعاون کی کوشش کرنی چاہیے نہ یہ کہ سنجیدہ حلقے بھی سیکولر حلقوں سے سنی ہوئی باتوں اور ان کے فکری ہتھکنڈوں کا شکار ہو کر ان کی بولی بولنا شروع کر دیں اور ان کے پھیلائے ہوئے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔