مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۱۰ء

آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والدمحترم کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں۔

مسلکی اختلافات اور ان کے حوالے سے طرز فکر اور راہ عمل کے سلسلے میں حضرت والد محترم کے ذوق واسلوب کو تین حصوں میں تقسیم کروں گا:

  • موجودہ معروضی حالات میں مسلکی اختلافات کے بارے میں ان کا اصولی موقف کیا تھا؟
  • دوسرے مسالک کے حضرات کے ساتھ ان کے معاشرتی تعلقات ومعاملات کی نوعیت کیا تھی؟
  • مشترکہ ملی مقاصد کے لیے جدوجہد کے میدان میں دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ان کا طریقہ اور ذوق کیا تھا؟

اس وقت کے موجودہ معروضی حالات میں مسلکی تقسیم کو مندرجہ ذیل دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. سنی شیعہ اختلافات،
  2. دیوبندی بریلوی اختلافات،
  3. حنفی اہل حدیث اختلافات،
  4. جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات،
  5. حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سماع موتی کا تنازعہ۔

سنی شیعہ اختلافات کے حوالے سے حضرت والد محترم کا موقف یہ تھا کہ یہ اصولی اختلافات ہیں اور ان کا تعلق ایمان وعقیدہ سے ہے۔ انھوں نے اس پر ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے اس موقف کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ وہ اہل تشیع کی اور ان میں سے خاص طورپر اثنا عشریہ کی تکفیر کرتے تھے اور اس سلسلے میں ان کے موقف میں کوئی لچک نہیں تھی جبکہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اصولی طورپر اس موقف سے متفق ہوتے ہوئے بھی اس کے اظہار کے لیے الگ اسلوب رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لفظ شیعہ کو تکفیر کی بنیاد بنانے کی بجائے عقائد کی بنیاد پر تکفیر کرنی چاہیے، مثلاً یہ کہ جو شخص قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہے یا صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے وغیر ذالک تو وہ کافر ہے۔ خود میرا ذوق بھی اس حوالے سے حضرت صوفی صاحب والا ہے، اس لیے کہ عالم اسلام میں شیعہ کہلانے والے ایسے گروہ بھی موجود ہیں جن کی ائمہ اہل سنت نے تکفیر نہیں کی۔ مثلاً یمن میں زیدی فرقہ کے لوگوں کی تعداد پچیس فی صد سے زائد ہے۔ ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو زیدی اور شیعہ کہلانے کے باوجود اہل سنت جیسے عقائد رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی ایسے بزرگ موجود ہیں جو متصلب سنی ہیں لیکن زیدی کہلاتے ہیں۔ حضرت سید نفیس شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے نام کے ساتھ زیدی لکھتے تھے، امام زید کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے، امام زید بن علی پر انھوں نے الاستاذ ابو زہرہ کی کتاب ’’الامام زید بن علی‘‘ بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی تھی۔ اپنے مکان کے قریب انھوں نے جو دینی مدرسہ قائم کیا، اس کا نام ’’مدرسہ زید بن علی‘‘ ہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ میری پسندیدہ ترین شخصیتیں تین ہیں۔ ایک امام زید بن علی، دوسرے خواجہ گیسو دراز اور تیسرے سید احمد شہیدؒ ۔

ایران کے اہل تشیع زیدیوں کو شیعہ کا فرقہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران کے دستور میں زیدیوں کو شیعہ اکثریت کا حصہ تسلیم کرنے کی بجائے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کے ساتھ اقلیتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے اثنا عشری شیعہ کی تکفیر میں کوئی کلام نہ ہونے کے باوجود عمومی تکفیر میں عالم اسلام کے مجموعی تناظر کو ملحوظ رکھنا بھی میرے نزدیک ضروری ہے، البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت والد محترمؒ کا موقف اس بارے میں بے لچک تھا اور جن تحفظات کا ہم اظہار کرتے ہیں، وہ ان کو چنداں اہمیت نہیں دیتے تھے۔

دیوبندی بریلوی اختلافات کے حوالے سے بھی ان کا موقف یہ تھا کہ یہ عقائد کے اختلافات ہیں اور اصولی اختلافات ہیں۔ انھوں نے ان اختلافات کے ہر پہلو پر کتابیں لکھی ہیں اور تفصیل کے ساتھ لکھی ہیں۔ ان اختلافات کی تنقیح وتوضیح میں وہ جس گہرائی تک گئے ہیں، وہ انھی کا امتیاز ہے اور یہی انھیں دیوبندیوں کا علمی ترجمان قرار دیے جانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

دیوبندی بریلوی اختلافات کو کم کرنے اور باہمی مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف مواقع پر کوششیں ہوئی ہیں اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ،حضرت مولانا سید حامدمیاںؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسی شخصیات بھی ان مساعی کا حصہ رہی ہیں۔ عام طور پر اس سلسلے میں جب بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اصل تنازعہ اکابر علماء دیوبند کی چند مبینہ طو رپر متنازعہ عبارات ہیں جن پرمولانا احمد رضا خان اور ان کے رفقا نے علماء دیوبند کی تکفیر کی ہے۔ اگر ان عبارات کو حذف کر دیا جائے یا ان سے براء ت کا اظہار کر دیا جا ئے یا ان کی فریقین کے اتفاق سے کوئی متفقہ تاویل وتعبیر کر دی جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن حضرت والد محترم کا موقف اس سے مختلف تھا۔ وہ یہ فرماتے تھے کہ:

  • تنازعہ صرف چند عبارات کا نہیں بلکہ عقائد اور ان کی تعبیرات کا بھی ہے، اس لیے عبارات کے ساتھ ساتھ متنازعہ عقائد اور ان کی تعبیرات پر بھی بات ہونی چاہیے۔
  • عبارات میں صرف یک طرفہ طور پر علماء دیوبند کی عبارات مابہ النزاع نہیں ہیں، بلکہ اسی نوعیت کی بریلوی علماء کی بعض عبارات پر بھی اختلاف ہے، اس لیے عبارات کے حوالے سے گفتگو دو طرفہ بنیاد پر ہونی چاہیے۔

اس سلسلے میں مولانا عبد الستار خان نیازی نے ایک بار دیوبندی بریلوی اتحاد کے لیے چار نکاتی فارمولا پیش کیا تھا جس پر میں نے حضرت والد محترم سے بات کی۔ انھوں نے فرمایا کہ اس بارے میں خود ان کی مولانا عبد الستار خان نیازی کے ساتھ حرم مکہ میں گفتگو ہوئی تھی اور انھوں نے نیازی صاحب سے کہا تھا کہ معاملہ صرف ایک طرف کی عبارات کا نہیں، بلکہ دوسری طرف کی عبارات بھی مابہ النزاع ہیں، اس لیے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ علماء دیوبند کی متنازعہ عبارات کی نشان دہی کریں اور ہم بریلوی علماء کی متنازعہ عبارات کی نشان دہی کرتے ہیں اور ان پر آپس میں بیٹھ کر خالص علمی ماحول میں گفتگو کر لیتے ہیں اور درمیان میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان کاایک پینل بٹھا لیتے ہیں۔ ہم جن عبارات پر اس پینل کی موجودگی مں آپ حضرات کومطمئن نہ کر سکے، ان پر ہم نظر ثانی کر لیں گے اور جن عبارات پر آپ حضرات ہمیں مطمئن نہ کر سکے، ان سے آپ کو براء ت کرنا ہوگی۔ اس پر مولانا نیازی نے وطن واپس پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کے بعد جواب دینے کا وعدہ کیا لیکن اس کی تکمیل کی نوبت نہ آ سکی۔

یہ بات جو حضرت والد محترم نے مجھے زبانی طور پر فرمائی تھی، بعد میں میرے نام ایک خط میں بھی انھوں نے لکھ دی جو ان کی یاد میں شائع ہونے والی ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہو چکا ہے۔

حنفی اہل حدیث اختلافات بھی حضرت والد محترم کی تدریس وتصنیف کا مستقل موضوع رہے ہیں اور وہ نہ صرف ترمذی شریف کی تدریس میں ان مباحث پر باحوالہ تحقیقی گفتگو کرتے تھے بلکہ ان میں سے بہت سے مسائل پر انھوں نے مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں،لیکن یہ تنازعہ ان کے نزدیک دیوبندی بریلوی تنازعہ کی طرح اصولی نہیں تھا بلکہ وہ ان مسائل کو فروعی مسائل کا درجہ دیتے تھے۔ حضرت والد محترمؒ کے شاگرد مولانا حافظ محمد یوسف (الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ) نے اپنے ایک مضمون میں جو ’’امام اہل سنت کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق‘‘ کے عنوان سے الشریعہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہوا ہے، جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ دورۂ تفسیر کے آغاز کے موقع پر حضرت امام اہل سنت کے خطاب کا ایک پورا اقتباس یوں درج کیا ہے کہ:

’’قرآن کریم کی تفسیر میں ہم ان مسائل کو نہیں چھیڑیں گے جو فروعی مسائل کہلاتے ہیں، کیونکہ اتنا وقت نہیں ہوتا۔ اگر ہم یہ بحث شروع کر دیں کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں پڑھنی، آمین جہر کے ساتھ ہے یا سر کے ساتھ تو مہینہ اسی میں گزر جائے گا۔‘‘

یعنی اہل حدیث حضرات کے اعتراضات کے جواب میں وہ حنفی موقف کی مدلل وضاحت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے، لیکن ان اختلافات کا درجہ ان کے نزدیک عقیدہ اور اصول کے اختلاف کا نہیں تھا اور وہ اسی درجے میں ان مسائل پر بات کرتے تھے۔

جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات میں وہ جمہور کے ساتھ تھے اور ہر ضروری موقع پر جمہور اہل سنت کے موقف کی ترجمانی اور وضاحت کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک اہم واقعہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ کے نام سے دو دھڑوں میں تقسیم تھی۔ ایک دھڑے کے امیر حضرت درخواستی اور دوسرے کے امیر حضرت مولانا سید حامدمیاں تھے۔ لاہور میں حضرت درخواستی کے نائب امیر کے طور پر حضرت مولانا محمد اجمل خان جماعتی قیادت کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے تھے، جبکہ قاضی حسین احمد صاحب جماعت اسلامی کے قیم (سیکرٹری جنرل) ہوا کرتے تھے۔ قاضی صاحب محترم نے حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا محمد اجمل خان سے رابطہ قائم کر کے یہ پیش کش کی کہ مولانا مودودی کی جن عبارات پر علماء اہل سنت کو اعتراض ہے، ان کے بارے میں ہم جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ میں قرارداد منظور کر دیتے ہیں کہ یہ مولانا مودودی کی ذاتی آرا ہیں، جماعت اسلامی کا بحیثیت جماعت یہ موقف نہیں ہے اور جماعت اسلامی اس حوالے سے وہی موقف رکھتی ہے جو جمہور اہل سنت کا ہے۔ اگر ہم یہ قرارداد کر دیں تو کیا جمعیۃ علماء اسلام ہمارے ساتھ مذہبی اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے؟

دونوں بزرگوں یعنی حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا محمد اجمل خان نے باہمی مشورہ سے راقم الحروف کے ذمے لگایا کہ میں اس سلسلے میں تین بزرگوں یعنی حضرت مولانا قاضی مظہر حسین، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ سے بات کر کے ان کا موقف معلوم کروں، اس کی روشنی میں ہم فیصلہ کریں گے۔ میں نے تینوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہو کر بات کی۔ تینوں بزرگوں کا جواب مختلف تھا۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین نے فرمایا کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کو اپنی قرارداد میں مولانا مودودی کی عبارات کے ساتھ ساتھ خود مولانا مودودی کے بارے میں بھی اپنے موقف کا اظہار کرنا ہوگا۔ والد محترم نے فرمایا کہ اگر جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ قرارداد منظور کر کے مولانا مودودی کی متنازعہ عبارات سے براء ت کا اعلان کر دیتی ہے تو ہمارے پاس اختلافات کو باقی رکھنے کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جائے گا۔ جبکہ حضرت علامہ خالد محمود نے فرمایا کہ خالی قرارداد سے بات نہیں بنے گی، اس لیے کہ اصل تنازعہ جماعت اسلامی کے دستور کی اس دفعہ سے شروع ہوا تھا جس میں جماعت اسلامی کا رکن بننے کے لیے پر کیے جانے والے حلف نامے میں موجود یہ اقرار نامہ تھا کہ وہ

’’رسول خدا کے سوا کسی کو معیار حق نہیں سمجھے گا، کسی کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھے گا اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہیں ہوگا۔‘‘

اس اقرار نامے پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے اعتراض کیا تھا کہ اس میں صحابہ کرا م کے معیار حق ہونے اور ان کے تنقید سے بالاتر ہونے کی نفی کی گئی ہے اور ذہنی غلامی کے نام سے تقلید کو رد کیا گیا ہے جبکہ صحابہ کرام کا معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہونا اہل سنت کے مسلمات میں سے ہے۔ علامہ خالد محمود صاحب کا ارشاد یہ تھا کہ جب تک دستور میں یہ شق موجود ہے، جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کی قرارداد کے باوجود اصل تنازعہ باقی رہے گا، اس لیے اگر جماعت اسلامی دینی حلقوں کے ساتھ مصالحت چاہتی ہے تو قرارداد کے ساتھ دستور کی اس شق میں بھی ترمیم کرے، ورنہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

میں نے یہ رپورٹ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں بزرگوں کو پیش کی تو انھوں نے حضرت علامہ خالد محمود صاحب کی رائے سے اتفاق کیا اور میری ہی ڈیوٹی لگائی کہ میں قاضی حسین احمد صاحب کو یہ بات پہنچا دوں۔ قاضی صاحب محترم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ میں مجلس شوریٰ میں قرارداد تو کروا سکتا ہوں، مگر دستور میں ترمیم کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اس پر یہ گفتگو اس وقت آگے نہ بڑھ سکی۔ بعدمیں اس گفتگو کے اور مراحل بھی آئے جن کا ذکر کسی اور مضمون میں تفصیل سے کروں گا، لیکن تازہ صورت حال یہ ہے کہ میری معلومات کے مطابق جماعت اسلامی کی موجودہ مجلس شوریٰ نے اس دستوری دفعہ میں ترمیم کا اصولی طور پر فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ خدا کرے کہ کوئی بہتر صورت نکل آئے۔ آمین یا رب العالمین۔

جہاں تک سماع موتی، حیات النبی اور ان کے ساتھ چند دیگر مسائل کا تعلق ہے تو والد محترم نے ان مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے بلکہ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے جماعتی موقف کا تعین حضرت والد محترم کے ذمے لگایا تھا جس پر انھوں نے ’’تسکین الصدور‘‘ نامی کتاب لکھی اور اکابر جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور حضرت مولانا شمس الحق افغانی نے اسے حرف بہ حرف سن کر اس کی تصدیق کی اور اسے جمعیۃ اسلام کا جماعتی موقف قرار دیا۔ حضرت والد محترم کا موقف یہ تھا کہ عام اموات کے سماع میں امت کے اہل علم میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے اور دونوں طرف دلائل موجود ہیں، اس لیے جس کا جس موقف پر اطمینان ہو، وہ وہی موقف رکھے لیکن اسے دوسرے موقف والوں کی تکفیر، تضلیل اور تحقیر کا حق نہیں ہے۔ البتہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عند القبر سماع اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی قبر میں حیات پر اہل السنۃ والجماعۃ کا شروع سے اتفاق چلا آ رہا ہے، اس لیے اس کا انکار اہل السنۃ کے اجماعی موقف سے انحراف ہے۔

یہ میں نے ایک ہلکا سا خاکہ موجودہ معروضی صورت حال میں فرقہ وارانہ اختلافات کے حوالے سے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے موقف کے بارے میں پیش کیا ہے اور کم وبیش یہی موقف ان مسائل کے بارے میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کا بھی تھا۔ لیکن مختلف سطح پر ان اختلافات کے باوجود دوسرے مکاتب فکر کے اہل علم کے ساتھ ان کے معاشرتی تعلقات کی صورت حال یہ تھی کہ شیعہ اور بریلوی حضرات کے ساتھ کسی اشد مجبوری کے سوا ان کا رابطہ وتعلق نہیں ہوتا تھا، جبکہ اہل حدیث حضرات کے ساتھ ان کے روابط رہتے تھے۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے جنازے میں یہ دونوں بزرگ شریک ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلویؒ کی وفات کا حضرت والد محترم کو دوسرے دن بتایا گیا تو انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے کل کیوں نہیں بتایا گیا؟ میں ان کے جنازے میں شریک ہونا چاہتا تھا۔ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ کے جنازے میں بھی دونوں بزرگوں نے شرکت کی ہے بلکہ حضرت قاضی صاحب کی وفات سے چند دن قبل حضرت والد محترم ان کی عیادت کے لیے گئے تو میں اور عزیزم عمار ناصر بھی ہمراہ تھے۔ میں نے اس موقع پر قاضی صاحب سے عرض کیا کہ ’’حضرت! تین پشتیں حاضر ہیں‘‘ تو حضرت قاضی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب مدظلہ حضرت والد محترم کی عیادت کے لیے متعدد بار گکھڑ گئے ہیں اور علالت کے باوجود جنازے کے لیے بھی گکھڑ پہنچے ہیں۔ حضرت والد محترم بھی ایک موقع پر قلعہ دیدار سنگھ کے ایک سفر میں قاضی صاحب محترم سے ملاقات کے لیے ان کے گھر گئے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب کی والدہ محترمہ کا جنازہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے پڑھایا ہے اور میرا تو معمول ہے کہ جب بھی قلعہ دیدار سنگھ کسی حوالے سے حاضری ہوتی ہے تو حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی بیمار پرسی کرتا ہوں اور ان سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ میں اپنے دوستوں سے اکثر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ حضرت والد محترم کی وفات کے بعد ہمارے ارد گرد دو ہی بزرگ رہ گئے ہیں جن کی خدمت میں دعا اور استفادہ کے لیے حاضری کو جی چاہتا ہے۔ ایک ڈسکہ کے حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب فاضل دیوبند اور دوسرے قلعہ دیدار سنگھ کے حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صحت وعافیت سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

حیات النبی کے مسئلے کے سلسلے میں ایک بات اور بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ چند سال قبل علاقہ چھچھ کے علماء کرام نے حضرو کے حضرت مولانا عبد السلام صاحب مدظلہ کی راہ نمائی میں اس تنازعہ کے حل کے لیے کوشش کی اور اس کے لیے یہ راستہ اختیار کیا کہ ایک موقع پر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ نے پاکستان تشریف لا کر راول پنڈی میں دونوں طرف کے بزرگوں کو جمع کر کے ایک متفقہ تحریر لکھوائی تھی جس پر دونوں طرف کے ذمہ دار حضرات نے دستخط کر دیے تھے، لیکن بعد میں یہ اتفاق قائم نہ رہ سکا۔ مولانا عبد السلام صاحب اور ان کے رفقا نے اس تحریر پر دوبارہ دستخط کرانے کی مہم شروع کی۔ اس پر شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری سعید الرحمن نے میری رائے دریافت کی کہ کیا اس تحریر پر دستخط سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ ذاتی طور پر تو میرے نزدیک مسئلہ حل ہو جانا چاہیے، لیکن حضرت والد محترم سے بات کرنے کے بعد ہی حتمی طورپر کچھ عرض کر سکوں گا۔ چنانچہ میں نے اس پر حضرت والدمحترم سے بات کی تو انھوں نے کھلے دل سے فرمایا کہ جو حضرات، حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی والی تحریر پر دستخط کر دیں گے، ان سے ہمارا کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ میں نے یہ بات مولانا قاری سعید الرحمن کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اس کے بعد مولانا عبد السلام کی قیادت میں علاقہ چھچھ کے بہت سے علماء کرام نے اس تحریر پر دستخط کر کے اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

آخر میں حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب کے حوالے سے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود مشترکہ دینی مقاصد کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کی مشترکہ جماعتوں اور متحدہ محاذوں میں ہمارے یہ دونوں بزرگ شریک رہے ہیں اور ان میں عملی کردار ادا کیا ہے۔ حضرت والد محترم نے اپنی خود نوشت سوانح میں جو ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت میں چھپ چکی ہے، خود لکھا ہے کہ وہ قیام پاکستان سے پہلے دس سال تک مجلس احرار اسلام کے کارکن رہے ہیں اور یہ دور وہ تھا جب مجلس احرار اسلام کی مرکزی قیادت میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ ساتھ مولانا سید محمد داؤد غزنوی، صاحب زادہ سید فیض الحسن آف آلو مہار شریف اور مولانا مظہر علی اظہر بھی شامل تھے اور اس مشترکہ قیادت کے تحت حضرت والد محترم دس سال تک ایک کارکن کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ دونوں نے حصہ لیا ہے، دونوں جیل میں گئے ہیں اور کئی ماہ تک جیل میں رہے ہیں۔ اس تحریک کی قیادت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ مولانا سید ابو الحسنات قادری، مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور حافظ کفایت حسین مجتہد شامل تھے۔

جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر کی حیثیت سے حضرت والد محترم مسلسل پچیس برس تک خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اس دوران جمعیۃ علماء اسلام نے متعدد بار متحدہ محاذوں میں شرکت کی ہے اور ہر متحدہ محاذ میں والد محترمؒ نے بھی کردار ادا کیا ہے، حتیٰ کہ جمعیۃ علماء اسلام میں جب حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور حضرت مولانا مفتی محمود کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت مولانا ہزاروی کا موقف یہ تھا کہ مفتی صاحب نے مودودیوں سے اتحاد کر لیا ہے اور وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں مسٹر ذو الفقار بھٹو کے مقابلے میں مولانا شاہ احمد نورانی کو امیدوار بنا کر مسلکی حمیت سے انحراف کیا ہے۔ حضرت مولانا ہزاروی ہمارے ان دونوں بزرگوں کے استاذ تھے اور ایک استاذ کی حیثیت سے وہ ان کا بہت احترام کرتے تھے، لیکن جب مولانا ہزارویؒ ان دونوں شاگردوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے گوجرانوالہ آئے تو دونوں بزرگوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارے مخدوم اور بزرگ ہیں، لیکن ہم مولانا مفتی محمود کے موقف کو صحیح سمجھتے ہیں، اس لیے اس اختلاف میں ان کے ساتھ ہیں۔

حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب نے ۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں کئی جلوسوں کی قیادت کی اور حضرت والد محترم ایک ماہ تک جیل میں بھی رہے، حتیٰ کہ ایف ایس ایف کے کمانڈر کی طرف سے گولی مار دینے کی دھمکی کے باوجود کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ریڈ لائن کراس کرنے کا واقعہ بھی اسی تحریک کا ہے۔

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت بھی مشترکہ قیادت کے تحت چلائی گئی تھی اور ان قیادتوں میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ اور حضرت مولانا مفتی محمود کے ساتھ ساتھ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا معین الدین لکھوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، قاضی حسین احمد، پروفیسر غفور احمد، سید مظفر علی شمسی اور علامہ علی غضنفر کراروی بھی شامل تھے۔ ہمارے ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے ان تحریکات میں سرگرم کردار ادا کیا اور متعدد جلوسوں کی قیادت کی، بلکہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر کی حیثیت سے ان متحدہ محاذوں کا باقاعدہ حصہ رہے اور ان کی حیات کے آخری دور میں تمام مکاتب فکر کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی بھی حضرت والد محترم نے حمایت کی اور اس کے امیدواروں کو کھلم کھلا سپورٹ کیا۔ اس لیے مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ ترجیحات میں واضح اور دوٹوک موقف اور رویہ رکھنے کے باوجود ملک میں نفاذ شریعت اور ختم نبوت کی تحریکات میں یہ دونوں بزرگ متحدہ محاذوں اور مشترکہ پلیٹ فارم کا آخر دم تک حصہ رہے ہیں۔

آخر میں ان دونوں بزرگوں کے حوالے سے اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسلکی اختلافات کے اظہار میں ان دونوں بزرگوں نے ہمیشہ تصنیف اور تدریس کو ہی ذریعہ بنایا ہے اور ان دو دائروں سے ہٹ کر عام جلسوں، جمعۃ المبارک کے خطبات اور مسجد میں دیے جانے والے عام دروس میں مسلکی اختلافات پر، خواہ وہ دیوبندی بریلوی ہوں، حنفی اہل حدیث ہوں یا حیات النبی کا مسئلہ ہو، گفتگو سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ جہاں ضروری ہوا ہے، وہاں مسئلہ کی وضاحت ضرور کی ہے اور اس کے دلائل بھی پیش کیے ہیں، لیکن کسی اختلافی مسئلے کو موضوع بنا کر خطبہ جمعہ، پبلک اجتماع کی تقریر یا عمومی درس میں بات نہیں کی۔ اگر کوئی دوست ان بزرگوں کے طرز عمل کا جائزہ لینا چاہیں تو دونوں بزرگوں کے خطبات جمعہ اور عمومی دروس کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان خطبات اور دروس کے مرکزی اور ذیلی عنوانات کی فہرست پر نظر ڈال لیں۔ اختلافی مسائل کا تناسب شاید کھینچ تان کر بمشکل پانچ فی صد تک پہنچ جاتا ہو، ورنہ ان کے خطبات جمعہ اور عمومی درس کے موضوعات اصلاحی مضامین اور مثبت انداز میں عقائد واعمال کی اصلاح کے حوالے سے ہوتے تھے۔

اس سلسلے میں یہ واقعہ ایک سابقہ مضمون میں ذکر کر چکا ہوں کہ ایک مجلس میں گکھڑ کے ایک جدید تعلیم یافتہ دوست نے حضرت والد محترم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات میں نہیں پڑتے تھے اور مثبت انداز میں لوگوں کی دینی راہ نمائی کرتے تھے۔ ان صاحب کے چلے جانے کے بعد حضرت کے ایک شاگرد نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ اگر حضرت امام اہل سنت فرقہ وارانہ اختلافات میں نہیں پڑتے تھے تو اور کون پڑتا تھا؟ ان کی ساری تصانیف فرقہ وارانہ اختلافات کے حوالے سے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں اور یہ صاحب بھی درست فرما رہے تھے، اس لیے کہ آپ نے حضرت کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان سے حدیث کے اسباق پڑھے ہیں جن میں مسلکی اختلافات کی پورے دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے اور یہ صاحب حضرت کامسجد کا عمومی درس اور جمعۃ المبارک کے خطابات سنتے رہے ہیں جن میں عام طور پر ایسے مسائل پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بس یہی توازن ہے جس کا حضرات شیخین کریمین کے حوالے سے لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

درجہ بندی: