حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
مہک، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۹۸۲ء

محدث پنجاب مولانا عبد العزیز سہالویؒ ۱۸۸۴ء میں تھانہ چونترہ ضلع راولپنڈی کی بستی سہال میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم مولانا غلام رسول مرحوم بھی عالم دین تھے۔ مولانا عبد العزیزؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اور اردگرد نواح کے روایتی درسوں میں حاصل کی، اس کے بعد انہی شریف کی معروف درسگاہ میں برصغیر کے نامور استاد حضرت مولانا غلام رسولؒ المعروف بابا انہی والے سے کافی عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر دارالعلوم دیوبند چلے گئے اور دورۂ حدیث شریف شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد لاہور کے مدرسہ نعمانیہ میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے پھر انجمن حمایت اسلام لاہور کے مدرسہ حمیدیہ میں پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ کے ہیڈ ماسٹر مولانا ضیاء الدین فاضل دیوبند مرحوم کی مساعی سے بطور استاد اسلامیہ ہائی سکول آگئے۔ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب ان دنوں مولانا نذیر حسین مرحوم تھے جن کی علمی وجاہت اور عوامی اثر و رسوخ کی وجہ سے فرنگی حکومت نے انہیں آنریری مجسٹریٹ کا منصب عطا کر رکھا تھا لیکن جب ملک کے دوسرے حصوں کی طرح گوجرانوالہ میں بھی فرنگی استعمار کے خلاف بغاوت کے شعلے بھڑکے تو گوجرانوالہ کے عوام نے روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جیل ریلوے اسٹیشن اور دیگر سرکاری عمارات نذرِ آتش کر دی گئیں، مارشل لاء لگا اور فرنگی استعمار کے خلاف اس جوش و خروش اور نفرت کی فضا میں شہر کے لوگوں نے مولانا نذیر حسین مرحوم سے تقاضا کیا کہ وہ آنریری مجسٹریٹ کے منصب سے دستبردار ہو جائیں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے اور جامع مسجد کی خطابت سے دستبرداری کو ترجیح دی جس کے بعد معززین شہر بالخصوص ملک لال خان مرحوم کی کوشش سے مولانا عبد العزیزؒ کو جامع مسجد کی خطابت قبول کرنے پر آمادہ کیا گیا اور انہوں نے یہ فرائض ۱۹۱۸ء کے لگ بھگ سنبھالے۔

مولانا عبد العزیزؒ خالصتاً علمی ذوق کے بزرگ تھے، علم حدیث کے ساتھ گہرا شغف تھا اور اسی بنا پر انہیں محدث پنجاب کہا جاتا تھا۔ اپنے وقت کے معروف محدث حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اکثر اپنے تلامذہ اور متعلقین کو مولانا عبد العزیزؒ سے استفادہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔ مولانا عبد العزیزؒ کا یہ علمی ذوق اور شغف ہی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مدرسہ انوار العلوم کے قیام کا باعث بنا جو غالباً گوجرانوالہ میں درس نظامی کا پہلا باقاعدہ مدرسہ تھا۔ یہ مدرسہ ۱۹۲۶ء میں قائم ہوا اور اب تک پورے اہتمام و تسلسل کے ساتھ دینی علوم کی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ آج کل اس مدرسہ کے مہتمم مولانا عبد العزیزؒ کے بھتیجے اور جانشین مولانا مفتی عبد الواحد ہیں جبکہ مولانا قاضی حمید اللہ، راقم الحروف، مولانا سید عبد المالک شاہ اور قاری محمد شفیق تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں (یہ مضمون مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی زندگی میں لکھا گیا تھا)۔ موقوف علیہ تک درس نظامی کی تعلیم ہوتی ہے اور کم و بیش ساٹھ بیرونی طلبہ مدرسہ کے دارالاقامہ میں مقیم رہتے ہیں جن کے اخراجات کی کفالت مدرسہ کرتا ہے۔ مولانا عبد العزیزؒ کے قائم کردہ اس قدیمی مدرسہ میں مختلف اوقات میں حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا غلام رسولؒ انہیّ والے، حضرت مولانا حبیب الرحمانؒ عثمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ اور دیگر چوٹی کے اکابر تشریف لاتے رہے ہیں اور یہ سب بزرگ مولانا مرحوم کے علم و فضل اور دینی خدمات کے معترف و مداح تھے۔

مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کے محاذ پر بھی کام کیا جو بظاہر مختصر ہے مگر درحقیقت بہت زیادہ وقیع ہے۔ صحیح بخاری پر انہوں نے ’’النبراس الساری علی اطراف البخاری‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جو اپنے موضوع پر واحد کتاب سمجھی جاتی ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب طحاوی شریف پر مولانا مرحوم کا قلمی حاشیہ بھی معرکے کی چیز ہے اور اب مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی مساعی سے زیور طبع سے آراستہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ حدیث ہی کی ایک اور کتاب ’’نصب الرایہ علی احادیث البدایہ‘‘ کا جو متداول نسخہ حیدر آباد دکن سے طبع ہو کر اس وقت اہل علم کے کتب خانوں کی زینت ہے اس پر حواشی مولانا عبد العزیزؒ مرحوم ہی کے تحریر فرمودہ ہیں اور اس کی تصحیح بھی انہوں نے کی ہے۔ علاوہ ازیں مولانا عبد العزیزؒ نے گوجرانوالہ سے ہفت روزہ العدل کے نام سے ایک علمی جریدہ کی اشاعت کا آغاز بھی کیا جو سالہا سال تک شائع ہوتا رہا اور اس میں مذہب اہل سنت والجماعت اور مسلک حنفی کی ترجمانی اور دفاع کے محاذ پر نمایاں کام ہوا۔

مولانا عبد العزیزؒ جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ اور اس کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے، جمعیۃ نے جو وفد حجاز میں سعودی حکمرانوں کے پاس اسلامیانِ ہند کے جذبات سے انہیں آگاہ کرنے کے لیے بھیجا تھا اس میں مولانا عبد العزیزؒ کا نام بھی شامل تھا۔ مولانا عبد العزیزؒ ان علماء میں سے تھے جو صدیوں کے بعد جنم لیتے ہیں، وہ فی الواقع اس شہر کی دینی، علمی اور فکری آبرو تھے۔ انہوں نے ایک عہد کو سنوارا، نکھارا اور سوزِ دل سے فکر و نظر کے چراغ جلائے۔ اور ان کی یاد آج بھی زبانوں کی حلاوت، نگاہوں کی جلا اور تذکروں کا سرمایہ ہے

سالہا زمزمہ پروازِ جہاں خواہد بود
زیں نواہا کہ دریں گنبدِ گرداں زدہ است

جہاں تک مولانا کی علمی وجاہت اور ثقاہت کا تعلق ہے ان کا اعتراف ایک دنیا کو تھا۔ مولانا سید سلیمان ندوی ’’معارف‘‘ مئی ۱۹۴۸ء کے شمارے میں مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی وفات حسرتِ آیات کا ماتم کرتے ہوئے ایک تاریخی یاد کو یوں تازہ کر رہے ہیں:

’’مرحوم (مولانا ثناء اللہ امرتسری) کو ایک دفعہ مجھ سے شکایت بھی پیدا ہوئی، اس کی صورت یہ ہوئی کہ دس پندرہ برس ہوئے مرحوم اور ان کے حنفی حریف مولانا عبد العزیز صاحب خطیب گوجرانوالہ مصنف اطراف ببخاری کے درمیان حدیث ’’واذا قرء الامام فانصتوا‘‘ کے صحیح مسلم میں موجود ہونے یا نہ ہونے پر اخبارات میں تحریری مناظرہ ہو رہا تھا۔ فریقین نے اس باب میں مجھے حکم مانا، میں نے مولانا مرحوم سے کچھ پوچھے بغیر صرف دونوں کی تحریروں کو دیکھ کر فیصلہ مرحوم کے خلاف اور مولانا عبد العزیز صاحب کے موافق کیا‘‘۔

اور معارف دسمبر ۱۹۴۰ء کے شمارے میں ان کی وفات پر مولانا سلیمان ندوی نے انہیں یوں خراج تحسین پیش کیا تھا:

’’دو ماہ ہوئے کہ مولانا عبد العزیز صاحب خطیب و امام جامع مسجد گوجرانوالہ نے، جو دیوبند کے عالم اور وقت کے بڑے محدث تھے، وفات پائی۔ انہوں نے صحاح و مسانید کی مختلف کتابوں کی فہرستیں بطور اطراف بڑی محنت سے لکھی تھیں جن میں صرف بخاری کی فہرست ’’النبراس الساری فی اطراف البخاری‘‘ کے نام سے چھپی ہے۔ مرحوم نے مجھے لکھا تھا کہ مسند ابن حنبل کی بھی ایک فہرست بنائی ہے اور وہ اس کے چھپوانے کی فکر میں تھے۔ کیا اچھا ہو اگر ان کی یادگار میں ان کی یہ کتاب گوجرانوالہ کے قدردان چھپوا سکیں یا وہ اس نسخہ کو کسی قدر شناس کے سپرد کریں کہ اس کو چھپوا کر اس فیض کو عام کرے‘‘۔

مولانا عبد العزیزؒ ۱۹۳۶ء میں بیمار ہوگئے اور خطابت و اہتمام کے فرائض کی ادائیگی سے معذوری کے بعد اپنے گاؤں چلے گئے جہاں ۱۹۴۰ء میں ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا عبد العزیزؒ کے بعد ان کے بھتیجے اور داماد مولانا مفتی عبد الواحدؒ فاضل ڈابھیل نے جامع مسجد کی خطابت اور مدرسہ انوار العلوم کے اہتمام کے فرائض سنبھال لیے جو اب تک سر انجام دے رہے ہیں۔ البتہ جامع مسجد کی خطابت میں ۱۹۶۹ء سے راقم الحروف نے ان کے نائب کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں اور مولانا عبد الواحدؒ پر فالج کے حملے کے بعد سے مستقل خطیب کے طور پر فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔