ظلم کے خلاف جنگ اور ہمارے اسلاف کا مثالی کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ مئی ۱۹۷۵ء

ہمارے اکابر و اسلاف نے، اللہ تعالیٰ ان کی قبور پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، جن مقاصد کے لیے دنیا میں جدوجہد کی اور قربانیاں دیں ان میں دو مقصد بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور ان اکابر و اسلاف کے نقش قدم پر چلنے والے کسی بھی شخص کے لیے ان مقاصد کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

پہلا مقصد مسلم معاشرہ میں دینی اقدار و روایات کا تحفظ اور دینی علوم کی ترویج و اشاعت ہے جس کے لیے بزرگان دین نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے۔ قرآن کریم کی تفاسیر، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات، فقہ کی ترتیب و تدوین، تاریخ اسلام اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم و آثارِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حفاظت اور اس سے متعلق اہم امور پر بزرگان دین کا وسیع تر تحریری کام اس بنیادی مقصد کے تکمیل کی پہلی کڑی ہے۔ تعلیم و تربیت کا نظام جو ہر دور میں علماء کرام نے کسی نہ کسی شکل میں قائم رکھا ہے اور آج بھی دنیائے اسلام خصوصا برصغیر پاکستان و ہندوستان و بنگلہ دیش میں ہزاروں مدارس موجود ہیں جن میں قرآن کریم، احادیث نبوی علی صاحبہا التحیۃ والسلام، فقہ، اصول فقہ، اسلامی تاریخ، عربی ادب، صرف و نحو اور دیگر ضروری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اپنی معاشرت پر پابند رہنے کی ترغیب و تلقین دی جاتی ہے، وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

تعلیم و تربیت کے علاوہ ہمارے اسلاف نے ہر دور میں عمومی تبلیغ و اصلاح کا کام بھی کسی نہ کسی انداز میں جاری رکھا ہے۔ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اس کے طریق کار میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور مجموعی طور پر اس نظام نے معاشرہ میں دینی اقدار کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی بنیادی مقصد کی ایک بنیادی کڑی روحانی تربیت کا خانقاہی نظام ہے۔ اولیاء کرامؒ نے مسلم معاشرہ کو دلی امراض سے پاک رکھنے، مسلمانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے او رشیطانی وساوس کے سدباب کے لیے روحانی تربیت کا نظام قائم کیا۔ قادری، سہروردی، چشتی اور نقشبندی سلسلے اسی روحانی تربیت کے لیے مختلف مکاتب فکر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مندرجہ بالا تین نظاموں یعنی نظام تالیف و تصنیف، نظام تعلیم و تربیت، اور نظام تبلیغ و اصلاح کے ساتھ نظام خانقاہی بھی اس اہم اور بنیادی مقصد کی تکمیل کے لیے ہمیشہ سے سرگرم عمل ہے کہ مسلم معاشرہ میں اسلامی اقدار و روایات کا غلبہ رہے اور غیر اسلامی اخلاق و اقدار مسلم معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔

دوسرا بڑا مقصد جس کے لیے ہمارے اکابر و اسلاف نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ظلم و کفر کے خلاف جنگ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے لے کر حضرت قطب الاقطاب مولانا احمد علی قدس سرہ العزیز تک اکابر کے پورے سلسلہ کی ایک کڑی بھی ایسی نہیں جو ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کے اثرات سے خالی ہو۔ اور اسلامی تاریخ کے وسیع دور میں ایک لمحہ کا بھی ایسا وقت موجود نہیں ہے جب ہمارے اسلاف میں سے کسی نہ کسی نے ظلم و جبر کے خلاف کلمۂ حق نہ بلند کیا ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جیل میں زہر کا پیالہ پی کر جام شہادت نوش کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کی پشت پر روزانہ کوڑے برستے رہے۔ امام شمس الائمہ سرخیؒ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ابن تیمیہؒ کو ظلم و جبر کا سامنا کرنے کے جرم میں کال کوٹھڑی کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ حضرت مجدد الفؒ ثانی نے قلعہ گوالیار کو اپنی نظر بندی سے روشنی بخشی۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے آنکھوں جیسی نعمت اس عظیم مشن پر قربان ک ردی اور دہلی بدر ہونا قبول کر لیا۔ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ بالاکوٹ کے دامن میں ذبح ہوگئے۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حافظ ضامن شہیدؒ، مولانا عبد الجلیل شہیدؒ، مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ، علامہ فضل حق خیرآبادیؒ اور دوسرے اکابر کو ظلم و کفر کے خلاف مسلح جنگ کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ شیخ الہندؒ مولانا محمود الحسنؒ مالٹا کے جزیرے میں اپنے رفقاء سمیت نظر بند ہوئے۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے ساری زندگی ظلم و جبر کے خلاف جنگ میں گزار دی۔ قطب الاقطاب حضرت لاہوریؒ ظلم و جبر کے عتاب کا نشانہ بنے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے نصف زندگی جیل میں گزاری۔

قربانیوں کا یہ لامتناہی سلسلہ صرف ایک بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظلم و جبر کے خلاف جنگ کو ہمارے اسلاف نے زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھا ہے اسی لیے سب سے زیادہ قربانیاں اسی مقصد کے لیے پیش کیں۔ ظلم و جبر کا کوئی دور ہو، مسلمان حکمران ظلم کی لاٹھی لہرا رہے ہوں یا کافروں کی حکومت ہو، ہمارے بزرگوں نے ظلم کو قبول نہیں کیا، برداشت نہیں کیا اور ہر ممکن طریقہ سے ظلم و جبر کے خلاف جنگ کے شعلے بھڑکاتے رہے۔ آج بھی ان اکابر نے جہاں ہمیں تحریری جدوجہد مدارس، تبلیغ اور خانقاہ کے نظام وراثت میں دیے ہیں وہاں ظلم کے خلاف جنگ بھی انہی کا ورثہ ہے اور ہم اکابر و اسلاف کے نقش قدم کو پوری طرح اپنائے بغیر ان کے عظیم مشن کے ساتھ اپنی وابستگی کے دعوے میں سچے نہیں ہو سکتے۔ جمعیۃ علماء اسلام کا بنیادی موقف یہی ہے کہ جب تک ظلم کے نظام کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوتا، ہم مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی عملداری کو پوری طرح قائم نہیں کر سکتے۔ قرآن و سنت کا نظام سیاسی قوت کا مطالبہ کرتا ہے، وہ سیاسی قوت جو دراصل قرآن و سنت کے وارثوں کا ورثہ تھی اور ان کی سستی، کوتاہی اور غفلت نے یہ قوت غیروں کے ہاتھ میں دے دی۔ آج ہماری جدوجہد کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ سیاسی قوت نااہلوں کے ہاتھوں سے نکل کر اہل لوگوں کے ہاتھ میں آجائے کیونکہ وہی لوگ ظلم و جبر کو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں اور جب تک ظلم و جبر کے نظام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا، مسلم معاشرہ میں شریعت اسلامیہ کا نفاذ ایک خواب رہے گا، وہ خواب جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔