فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ مئی ۲۰۱۷ء

گزشتہ دو تین روز وفاقی دارالحکومت اور اس کے اردگرد گزارنے کا موقع ملا۔ باگڑیاں گکھڑ کے مدرسہ کے استاد مولانا محمد جاوید اور ان کے ساتھی محمد عمران رفیق سفر تھے۔ ہماری بڑی ہمشیرہ محترمہ اچھڑیاں ہزارہ سے آنکھوں کے آپریشن کے لیے چھوٹی ہشیرہ کے پاس جھلم آئی ہوئی ہیں جہاں ان کی بیمار پرسی اور دونوں بہنوں سے ملاقات کی۔ ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ جھلم کے مہتمم مولانا حافظ محمد ابوبکر صدیق حال ہی میں برطانیہ کے سفر سے واپس آئے ہیں، ان سے وہاں کے حالات معلوم کیے اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ گوجر خان میں ہمارے ایک بزرگ مولانا عبد المتین رحمہ اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء اسلام اور تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنما تھے، ان کے پاس پرانے رسالوں اور کاغذات کا ریکارڈ ہوا کرتا تھا، ان کے فرزند مولانا سعید اللہ سے جو رشتہ میں ہمارے بہنوئی ہوتے ہیں، اس ریکارڈ کی دستیابی کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے رکے۔ ان سے ملاقات کر کے اسلام آباد شہزاد ٹاؤن پہنچ گئے۔

محمدی مسجد شہزاد ٹاؤن اسلام آباد میں مولانا عبد القدوس محمدی ہر سال علماء کرام کے لیے سالانہ تعطیلات کے دوران میڈیا ورکشاپ کا اہتمام کرتے ہیں جس کا مقصد علماء کرام کو ذرائع ابلاغ کی اہمیت و ضرورت کی طرف توجہ دلانا اور دینی مقاصد کے لیے ان کے مؤثر استعمال کے اسلوب و طریقہ سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر سے دینی مدارس کے فضلاء اور منتہی طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور مجھے بھی ہر سال ایک دو نشستوں میں حاضری کا موقع ملتا ہے۔ اس سال مولانا عبد القدوس محمدی خود تو عمرہ کے لیے حرمین شریفین گئے ہوئے ہیں مگر یہ ورکشاپ اپنے معمول کے مطابق ہو رہا ہے جس کا اہتمام ان کے چھوٹے بھائی اور پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرؤف محمدی کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے اس ورکشاپ کی دو نشستوں میں مختلف متعلقہ مسائل پر گفتگو کی۔

ورکشاپ میں شرکت کے بعد جامعہ محمدیہ چائنہ چوک میں حاضری ہوئی، وہاں بھی ہر سال حضرت مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل آف مدینہ منورہ کی نگرانی میں علماء کرام کے لیے مختلف عنوانات پر سالانہ تربیتی کورسز ان تعطیلات کے دوران ہوتے ہیں۔ مولانا ظہور احمد علوی سرپرستی جبکہ مولانا تنویر علوی ان پروگراموں کا نظم سنبھالتے ہیں۔ اس کورس کی دو نشستوں میں خطابت، شاعری، بین المذاہب مکالمہ اور دیگر موضوعات پر معروضات پیش کیں۔ وہاں سے مری کے لیے روانگی ہوئی۔
مری کے راستہ میں چھتر پارک کے مقام پر مولانا مفتی محمد سعید خان نے ’’الندوۃ لائبریری‘‘ کے عنوان سے علمی مرکز قائم کر رکھا ہے اور ایک بڑی لائبریری کے ساتھ تعلیمی و خانقاہی ماحول میں تحقیق و مطالعہ کا ذوق رکھنے والوں کے لیے دلچسپی اور کشش کا سامان مہیا کیا ہوا ہے۔ وہاں حسب معمول رکا، لائبریری میں کتابوں کے وقیع ذخیرے پر حسرت بھری نظر ڈالی اور مفتی صاحب محترم کے ساتھ بعض امور پر گفتگو ہوئی۔ ان سے رخصت ہو کر ہم سنی بینک پہنچے جہاں ہمارے ایک محترم بزرگ حاجی محمد شعیبؒ کی قیام گاہ ایک عرصہ سے اکابر علماء کرام کی فرودگاہ چلی آرہی ہے۔ بڑے بڑے اکابر وہاں تشریف لاتے رہے ہیں، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے بھی متعدد بار وہاں کئی کئی روز قیام کیا ہے۔ حاجی صاحب مرحوم کے فرزند مولانا محمد قاسم کا تقاضہ ہوتا ہے کہ جب بھی اس علاقہ میں آنا ہو قیام ان کے ہاں ہو۔ سفر کی ترتیب کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل ہو جاتا ہے البتہ تھوڑی دیر کے لیے حاضری دینے کی کوشش ضرور کرتا ہوں جو اس سفر میں بھی ہوئی۔

مری جنرل بس اسٹینڈ پر ہمارے مجاہد و متحرک ساتھی مولانا قاری سیف اللہ سیفی کے ادارہ جامعہ فاروق اعظمؓ کا سالانہ جلسہ دستار بندی ظہر کی نماز کے بعد تھا جہاں فیصل آباد سے حضرت مولانا مفتی محمد زاہد بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہ مری کا مرکزی تعلیمی ادارہ ہے، علاقہ بھر سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ جلسہ میں ’’قرآن کریم کے چند ضروری تقاضے‘‘ کے عنوان سے معروضات پیش کیں اور دستار بندی میں شریک ہو کر بھوربن کی طرف روانگی ہوئی۔ ہمارے ایک فاضل دوست مولانا جہانگیر محمود چند دوستوں کے ساتھ مل کر علماء اور فضلاء کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی کورسز کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں وہ ان دنوں نوجوان علماء کرام کو سوسائٹی کی قیادت اور لیڈرشپ کی طرف متوجہ کرنے اور اس کی ضروریات اور تقاضوں سے آگاہ کرنے کے لیے دو ہفتوں کا پروگرام بھوربن میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مغرب کے بعد کورس کے شرکاء کے ساتھ معاشرتی قیادت کی اہمیت اور اس میں علماء کرام کے کردار کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی اور رات وہیں قیام رہا۔

۸ مئی کو ماڈل ٹاؤن ہمک اسلام آباد میں ’’انسداد سود رابطہ کمیٹی اسلام آباد‘‘ نے ’’علماء کنونشن‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا، وہاں جاتے ہوئے بھارہ کہو کے معروف دینی مرکز ادارہ علوم اسلامیہ میں تھوڑی دیر قیام کیا جہاں ہمارے محترم ساتھی اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل مولانا مشفق الدین آئے ہوئے تھے، ان سے ملاقات و تبادلہ خیالات کیا اور ان کے ساتھ ناشتہ میں شریک ہوئے۔ علماء کنونشن مسجد الیاس ماڈل ٹاؤن میں دس سے ایک بجےتک منعقد ہوا اور علاقہ بھر کے علماء کرام کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ مولانا محمد رمضان علوی نے صدارت کی اور ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا محمد اسحاق المدنی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ راقم الحروف نے اسلام آباد کے علماء کرام سے سود کے مسئلہ پر خصوصی توجہ دینے اور وفاقی شرعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکلاء کی راہنمائی اور معاونت کرنے کی درخواست کی، جبکہ علماء کنونشن کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کرنے پر مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا حافظ سید علی محی الدین، مولانا عبد الرؤف محمودی اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی شرعی عدالت میں سود کے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل جناب قیصر امام ایڈووکیٹ نے کنونشن کے شرکاء کو کیس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا اور مختلف علماء کرام نے خطاب کیا۔

ظہر کے بعد جی نائن مرکز اسلام آباد کی جامع مسجد سیدنا عثمانؓ میں مولانا محمد رمضان علوی نے پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کا مشاورتی اجلاس رکھا ہوا تھا جہاں مولانا مفتی محمد سیف الدین، مولانا مسعود علوی اور دیگر علماء کرام سے ملاقات و مشاورت ہوئی اور اس طرح اسلام آباد اور مری میں دو تین روز مصروف رہنے کے بعد بحمد اللہ تعالیٰ عشاء تک ہم گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔ اگلے روز ۹ مئی کو ظفر وال ضلع نارووال کے قریب ’’اونچا کلاں‘‘ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے راہنما مولانا افتخار اللہ شاکر کے زیر انتظام سالانہ پندرہ روزہ ختم نبوت کورس میں حاضری ہوئی اور کورس کی دو نشستوں کے شرکاء سے منکرین ختم نبوت کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کی سعادت حاصل کی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔