وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جون ۱۹۸۷ء
اصل عنوان: 
یہ منافقت ہے

مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خان نے گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم حزب الاحناف کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے کیونکہ شریعت کا نفاذ اس روز سے شروع ہو گیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہر مسلمان کا کام یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق کام کرے اور دوسروں کو بھی تلقین کرے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء)

وزیر موصوف نے بے حد خوبصورتی کے ساتھ یہ کہہ کر نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں حکومتی ذمہ داریوں کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی ہے کہ شریعت کا نفاذ تو اول دن سے ہو چکا ہے اب صرف اس پر عملدرآمد کا مرحلہ ہے او ریہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حاجی سیف اللہ خان کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اگرچہ شریعت اسلامیہ اصولی طور پر روزِ اول سے ہی مسلمانوں پر نافذ ہے مگر عالم اسلام کے مسلم معاشروں میں شریعت کی عملی تنفیذ میں وہاں کی حکومتیں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ اس طور پر بھی کہ انہوں نے اپنے ممالک میں غیر اسلامی نظاموں کو عملاً رائج کر رکھا ہے اور اس طور پر بھی کہ نفاذِ اسلام کی تحریکات کی راہ میں یہ حکومتیں روڑہ بن کر اٹکی ہوئی ہیں۔ پاکستان ہی کا معاملہ لے لیجئے، اس مملکت کا قیام اسلام کے نام پر اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے وجود میں آیا تھا مگر اس کے قیام کے بعد سے اب تک حکمران اسی فرسودہ نظام سے چمٹے ہوئے ہیں جو فرنگی سامراج نے یہاں مسلط کیا تھا۔ عدالتوں کا نظام وہی ہے، انتظامی ڈھانچہ کی چال ڈھال وہی ہے، بینکاری و تجارت اسی طرح سود کی بنیاد پر ہے اور دیگر شعبوں میں بھی وہی نوآبادیاتی اور فرنگی طور طریقے اور ضابطے نافذ ہیں۔ ہمارے حکمران ان فرنگی قوانین اور طور طریقوں کو اس طرح سینے سے لگائے ہوئے ہیں جیسے ان کے خاتمے سے خود ان حکمرانوں کی روح جسم سے پرواز کر جائے گی۔

ایک طرف ملک میں چالیس سال سے قومی زندگی کے ہر شعبہ میں کافرانہ فرنگی نظام مسلط ہے اور حکمران اس نظام کو عملاً نافذ رکھنے کے علاوہ پوری قوت کے ساتھ اس کی حفاظت بھی کر رہے ہیں اور دوسری طرف وفاقی وزیر مذہبی امور یہ فلسفہ جھاڑ رہے ہیں کہ اسلام تو شروع سے نافذ ہے اب سارے مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کو منافقت کے سوا اور کیا جا سکتا ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ حکمران طبقہ کی یہی منافقت اسلام کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے اور اس کا خاتمہ جس قدر جلد ہو جائے ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔