فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ نومبر ۱۹۸۷ء
اصل عنوان: 
تخریب کار کون؟

امورِ داخلہ کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز نے روزنامہ جنگ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ

’’حکومت کے علم میں لایا گیا ہے کہ تخریب کاروں کے ایک گروہ نے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر ملک میں وسیع پیمانے پر فساد بپا کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء)

ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کے پس منظر میں وفاقی وزیر مملکت کا یہ خدشہ اگرچہ کچھ زیادہ خلافِ قیاس نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت کا رویہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟ گزشتہ عاشوراء محرم سے قبل بھی حکمران طبقہ کی طرف سے اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن محرم اور صفر کے دوران ماتمی جلوسوں کے موقع پر خود حکومت نے جو کردار ادا کیا ہے اور کراچی، جھنگ، دومیل، اٹک، گولڑہ، کوہاٹ، اگوکی ضلع سیالکوٹ اور دیگر مقامات میں اہل سنت کے حقوق و مفادات کے خلاف ایک فریق کی حیثیت اختیار کر کے حکمرانوں نے جس طرح اشتعال کی آگ کو بھڑکاتے چلے جانے کی روش اپنائی ہے اس سے اس تاثر کی تصدیق ہوتی ہے کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے مذہبی تہواروں سے قبل حکمران گروہ کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے فسادات اور تخریب کاری کے امکانات کا اظہار محض خدشہ نہیں بلکہ خود ان کی خواہشات اور درونِ خانہ پالیسیوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت کی طرف سے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر فساد بپا ہونے کے امکان کا اظہا محض خدشہ ہے یا کسی خفیہ پالیسی کا الارم؟ محرم الحرام اور صفر کے ماتمی جلوسوں کے سلسلہ میں حکومت کی جارحانہ، جانبدارانہ اور ظالمانہ پالیسی و اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ لیکن روزنامہ جنگ لاہور کی اسی روز (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء) کی اشاعت میں شائع ہونے والی ایک خبر معاملہ کے اس پہلو کو اور زیادہ روشن کر رہی ہے۔ خبر یہ ہے کہ

’’حکومت نے صوبہ بھر میں دینی درس گاہوں، مدارس اور مساجد کے لیے مخص کی جانے والی تمام سرکاری اراضی کے احکامات معطل کر دیے ہیں اور اس سلسلہ میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو دینی مدارس، مساجد اور درسگاہوں کے لیے سرکاری اراضی کے حصول کی درخواستوں کا فیصلہ کرے گی۔ اس سے قبل جو اراضی مذہبی تعلیمی اداروں اور مساجد کو الاٹ کی گئی تھی ان کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔‘‘

قطع نظر اس سے کہ مساجد و مدارس کے لیے جن اراضی کی الاٹمنٹ کا فیصلہ ہو چکا ہے اور وہاں مساجد اور دینی ادارے ایک عرصہ سے کام کر رہے ہیں، ان کی الاٹمنٹ کو ری اوپن کرنے کا کوئی شرعی، قانونی اور اخلاقی جواز بھی موجود ہے یا نہیں، ہم اس کے نتیجہ میں مذہبی حلقوں کو پیش آنے والی مشکلات بالخصوص فرقہ وارانہ کشیدگی کا ایک اور محاذ کھل جانے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں اور اربابِ اقتدار سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا مذہبی محاذ پر اس نئی دھماچوکڑی کا اہتمام بجائے خود ’’تخریب کاری‘‘ نہیں ہے؟

مذہبی اجتماعات کو تخریب کاری سے محفوظ رکھنے کی خواہش اچھی بات ہے لیکن یہ صرف خدشات و امکانات کے اظہار سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے خود حکمرانوں کو اپنی روش پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ فرقہ وارانہ مسائل میں فریق بننے اور مسائل کو الجھاتے چلے جانے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ جانبدارانہ اور جارحانہ پالیسیوں کو خیرباد کہنا ہوگا اور توازن و اعتدال کے ساتھ تمام مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کرنا ہوگا۔ ورنہ اس قسم کے خدشات و خطرات کا اظہار درون خانہ پالیسیوں اور خواہشات کا آئینہ دار ہی کہلائے گا۔