خلافتِ راشدہ اور مروجہ سسٹم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم ستمبر ۱۹۹۶ء

اپوزیشن لیڈر میاں محمد نواز شریف نے خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کی ہے تو اس کے ساتھ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی اصطلاح قومی سطح پر بحث و مباحثہ کا عنوان بن گئی ہے۔ میاں صاحب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ جب برسرِ اقتدار تھے اس وقت انہیں خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کیوں نہ سوجھی؟ اور بعض راہنماؤں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خلافت کی بات موجودہ نظام کے خلاف سازش ہے اور اس طرح سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جہاں تک اپنے دورِ اقتدار میں خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب تو میاں نواز شریف کو دینا چاہیے کیونکہ یہ سوال انہی سے متعلق ہے۔ البتہ خلافت کے نام پر مروجہ سسٹم کو ختم کرنے کی سازش کے الزام پر ہم ضرور کچھ عرض کرنا چاہیں گے۔ ہمارا مروجہ نظام نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے جو مغل حکمرانوں سے اقتدار چھین لینے کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہم پر نافذ کیا تھا اور انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہم نے اس نظام میں کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت محسوس کیے بغیر اسے بدستور باقی رکھا ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس نظام میں چالیس برس تک اقتدار کی باگ ڈور تین طاقتور طبقوں (۱) جاگیردار طبقہ (۲) بیوروکریسی اور (۳) جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی ہے اور ان میں سے ہر طبقہ اپنی اپنی طاقت اور گرفت کے مطابق باری باری اقتدار کا حصہ وصول کرتا رہا ہے۔ البتہ پانچویں عشرے میں ایک اور طبقہ ’’صنعتکار‘‘ بھی اقتدار کی اس دوڑ میں شریک ہوگیا ہے اور اب باریوں کی تقسیم کا توازن بگڑجانے پر سیاسی خلفشار بھی اضافہ پذیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اس نظام نے ملک کے عوام کو کیا دیا ہے؟ مہنگائی، کرپشن، نا اہلی، لوٹ کھسوٹ، بیرونی قرضے، ہر معاملہ میں توہین آمیز حد تک غیر ملکی مداخلت کا تسلسل اور ذہنی خلفشار۔ جبکہ اس نظام کی وکالت کرنے والے حضرات مروجہ سسٹم کے ان نتائج و ثمرات کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ آزادی کی جنگ اور پاکستان کا قیام نظام کی تبدیلی کے لیے ہی عمل میں لایا گیا تھا، ورنہ اگر نظام جوں کا توں رہنا تھا تو تحریک آزادی اور تحریک پاکستان دونوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اس لیے یہ بات درست ہے اور اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں کہ خلافت کا نظام قائم کرنا ہے تو موجودہ سسٹم کو چھٹی کرانا ہوگی۔ اس نظام کے ساتھ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی مصالحت اور شراکت نہیں ہو سکتی ورنہ خود خلافت اپنا مفہوم کھو بیٹھے گی۔ خلافت راشدہ کا نظام اس سے بالکل مختلف نظام ہے اور اس کے لیے چلانے والے بھی بالکل مختلف لوگ درکار ہیں۔

  1. خلافت راشدہ کا جب آغاز ہوا تو خلافت کی مجلس مشاورت نے سب سے پہلا فیصلہ سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے اخرجات کے بارے میں کیا تھا اور یہ طے پایا تھا کہ قومی خزانے پر حاکم وقت کا صرف اتنا حق ہے کہ وہ ایک عام شہری جیسی زندگی بسر کر سکے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ اتنے ہی وظیفے پر آخر وقت تک گزارہ کرتے رہے اور وفات کے بعد بھی دو میلی چادروں میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
  2. پھر خلافت راشدہ نے ایک قدم اور آگے بڑھایا تو خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے حکام اور سرکاری افسروں کے لیے ہدایات جاری کیں کہ کوئی گورنر اور سرکاری افسر ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا، باریک لباس نہیں پہنے گا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا اور گھر کے دروازے پر ڈیوڑھی نہیں بنائے گا۔ یہ اس امر کا اعلان تھا کہ حکمران طبقہ اور سرکاری افسران عام شہریوں جیسی زندگی بسر کرنے کے پابند ہیں اور انہیں خوراک، لباس اور بود و باش میں امتیازی حیثیت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
  3. اس کے بعد خلافت راشدہ حضرت عثمانؓ کے حصہ میں آئی تو انہوں نے ایک نئی روایت کا اضافہ کیا کہ خود پر اور اپنے عمال و حکام پر ہونے والے اعتراضات کے حوالے سے ملک کے تمام صوبوں میں عام اعلان کر کے اعتراض اور شکایت رکھنے والے حضرات کو جج کے اجتماع میں آنے کی دعوت دی اور اپنے تمام گورنروں کو طلب کر کے ان کے ہمراہ منٰی کے میدان میں عوامی احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہوگئے۔ یہ کوئی ’’ارینجڈ کھلی کچہری‘‘ نہیں تھی بلکہ حقیقی معنوں میں عوامی احتساب کی عدالت تھی جس میں امیر المومنین حضرت عثمانؓ خود اپنے عمال کے ہمراہ پیش ہوئے اور سرخرو ہوئے۔
  4. اور خلافت راشدہ کا چوتھا گھر تو حضرت علیؓ کا گھر تھا جو اپنے ہی مقرر کردہ جج قاضی شریح کی عدالت میں ایک زرہ کی ملکیت کا دعوٰی لے کر پیش ہوئے تو ان کے اپنے بیٹے حضرت امام حسنؓ کی گواہی ان کے حق میں قبول نہ ہوئی۔ امیر المومنین کا دعوٰی خارج کر دیا گیا اور قاضی اس کے بعد بھی قاضی ہی رہا۔

اس لیے ’’خلافت راشدہ‘‘ کے نام سے بدکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس نظام کو سمجھنے اور اس کے لیے راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے سوا ہماری مشکلات و مسائل کا فی الواقع اور کوئی حل نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے نظام کی تبدیلی کے علاوہ ہاتھوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ قومی سیاست میں گزشتہ ربع صدی میں باری باری سامنے آنے والے لیڈروں (چند افراد کے استثنا کے ساتھ) کے منہ سے ’’خلافت راشدہ‘‘ کا نعرہ سن کر یوں لگتا ہے جیسے کوئی صاحب حالتِ جنابت میں نماز پڑھانے کے لیے مصلے پر کھڑے ہوگئے ہوں۔