قرآن کریم اور نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی عقیدت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ فروری ۲۰۰۶ء

توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت

یورپ کے بعض اخبارات کی طرف سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی پر عالم اسلام میں اضطراب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان کی کم و بیش تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے ۳ مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے جس کی تیاریاں ملک بھر میں ہر سطح پر جاری ہیں۔ قوم کا مطالبہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا اہتمام کرنے والے اخبار کے ملک ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں اور مغربی میڈیا کی اسلام دشمن مہم اور سرگرمیوں کا اسلامی سربراہ کانفرنس کی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ وزیراعظم جناب شوکت عزیز نے گزشتہ روز ایک بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مسئلے کا او آئی سی کے فورم پر جائزہ لیا جائے گا۔

لاہور میں گزشتہ دنوں ہڑتال کے موقع پر جو افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی وہ بھی زیر بحث ہے اور اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر ہمارے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور ہماری دینی و سیاسی قیادت کو اس سلسلہ میں عوامی جذبات کا پوری طرح اندازہ نہیں ہے اس لیے احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے والے لوگ قیادت کے بغیر ہی اپنے اپنے انداز میں جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس صورتحال سے کچھ تشدد پسند عناصر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہوں لیکن اگر سیاسی و دینی قیادت بیدار ہو اور عوامی جذبات کے اظہار کی تحریک کی عملا قیادت کر رہی ہو تو ایسی صورتحال پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ عوام اس بات پر غصہ میں ہیں کہ بعض یورپی اخبارات نے توہین رسالتؐ کے جس نئے مذموم سلسلہ کا آغاز کیا ہے اس پر مسلم حکومتوں کا (ایک دو کے سوا) رد عمل روایتی اور رسمی سا ہے اور اس کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس نہیں لیا جا رہا۔ اور اس کے ساتھ اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف مسلم ممالک کے عوام کا وہ غصہ بھی شامل ہوگیا ہے جو ان حکومتوں کی مغرب نواز پالیسیوں کے باعث ایک عرصہ سے مسلم عوام کے دلوں میں پرورش پا رہا ہے۔ اور اس حوالہ سے بی بی سی کا یہ تبصرہ بالکل درست اور حقیقت پسندانہ ہے کہ مظاہروں کی شدت میں مسلمان عوام کا اپنی حکومتوں کے خلاف غصہ بھی پوری طرح کارفرما ہے۔

ہم نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ مغرب اس معاملے میں مسلمانوں کے جذبات کی شدت اور حساسیت کا پوری طرح اندازہ نہیں کررہا اور وہ اس بات کا ادراک نہیں کر پا رہا کہ مسلمان قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور تقدس کے مسئلے پر اس قدر جذباتی اور حساس ہیں کہ وہ اس کے تحفظ کے جذبے کے تحت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ جناب رسول اکرمؐ کے ناموس اور حرمت کے سوال پر دنیا بھر کے مسلمان اپنے جذبات کا جس انداز سے اظہار کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے جبکہ قرآن کریم کے حوالے سے مسلمانوں کی حساسیت کا اندازہ ایک حالیہ واقعہ سے کیا جا سکتا ہے۔

قرآن کریم کی طباعت کا معاملہ

قدرت اللہ اینڈ کمپنی لاہور میں قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کا ایک بڑا ادارہ ہے جس نے گزشتہ دنوں قرآن کریم کا ایک نسخہ سعودی عرب کی طرز پر شائع کیا ہے جو مسئلہ بن گیا ہے۔ سعودی عرب کا رسم الخط اور انداز تحریر جنوبی ایشیا سے مختلف ہے۔ قرآن کریم کے متن میں تو کسی جگہ کوئی فرق نہیں اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بعض سورتوں کے ناموں اور بعض الفاظ کے طرز تحریر میں فرق ہے جس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کی طرز پر طبع شدہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقت پیش آتی ہے۔ چنانچہ حرمین شریفین یعنی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام لوگوں کو تلاوت کے لیے دونوں طرز کے نسخے الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں۔

مثلاً قرآن کریم کی بعض سورتوں کے ناموں میں فرق ہے۔ ہمارے ہاں جس سورۃ کو بنی اسرائیل کے نام سے پڑھا جاتا ہے، سعودی نسخوں میں اس سورۃ کو ’’الاسراء‘‘ کے نام سے لکھا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ المومن کا نام سورۃ الغافر، سورۃ حم السجدہ کا نام سورۃ فصلت، سورۃ الدھر کا نام سورۃ الانسان اور سورۃ اللہب کا نام سورۃ المسد لکھا گیا ہے۔ ان سورتوں کے یہ سب نام درست ہیں اور احادیث و آثار میں ان کا تذکرہ موجود ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں جو رسم الخط اور مصحف صدیوں سے رائج چلا آرہا ہے اس کے مطابق یہ نام معروف نہیں ہیں اس لیے قدرت اللہ اینڈ کمپنی کی طرف سے اس نسخے کی اشاعت کے ساتھ ہی یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے کہ قرآن کریم کی سورتوں کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ اس پر معروف قانون دان جناب ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی اور پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے محترمہ فرزانہ پراچہ نے تحریک التواء کا نوٹس دے دیا۔ محکمہ اوقاف اور وزارت مذہبی امور نے بھی اس کا نوٹس لیا اور قدرت اللہ اینڈ کمپنی نے صورتحال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے قائم کردہ قرآن بورڈ سے رجوع کر لیا اور ذمہ دار مفتیان کرام سے بھی رابطہ قائم کیا۔ اس پر جامعہ اشرفیہ لاہور کے مولانا مفتی حمید اللہ خان نے لکھا

’’سوال میں ذکر کردہ قدرت اللہ کمپنی کا چھپا ہوا تجویدی قران مجید نمبر ۵۷ میں نے بغور بعض جگہوں سے دیکھا ہے، جن سورتوں کے نام مرتب نے تبدیل کیے ہیں، روایات سے ان کا ثبوت تو اپنی جگہ مسلم ہے لیکن یہ ہمارے ملک میں غیر معروف ہیں جس کی وجہ سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور مزید فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ وہ یہ تو کر سکتے تھے کہ معروف نام لکھ کر بین القوسین غیر معروف نام ذکر کر دیے جائیں لیکن مرتب نے ایسا نہیں کیا۔ نیز رسم الخط میں خط عثمانی کی اتباع بالاجماع واجب ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود دلی خواہش اور جائز ہونے کے خانہ کعبہ کی (ابراہیمی بنیادوں پر) ازسرنو تعمیر نہیں فرمائی تھی کہ کہیں امت میں فتنہ برپا نہ ہو جائے۔ لہٰذا سد الفتنہ (فتنہ کے امکان کو روکنے کے لیے) مذکورہ قرآن مجید کی اشاعت پاکستان میں فی الفور بند کی جائے یا اس کی اصلاح کی جائے۔‘‘

جبکہ جامعہ خیر المدارس ملتان کے حضرت مولانا مفتی عبد الستار نے یہ تحریر فرمایا کہ

’’حفاظت قرآن پاک کا مسئلہ نہایت حساسیت کا حامل ہے خصوصاً جبکہ یہود و نصارٰی کی طرف سے تحریف قرآن پاک کی سازشیں بھی چل رہی ہیں اس لیے امکانی حد تک کسی تغیر و تبدل سے احتراز لازم ہے۔ مذکورہ تبدیل شدہ نام اگرچہ اصول تفسیر کی بعض کتابوں میں ملتے ہیں تاہم امت میں فتنے اور انتشار کا سبب ہونے کی بناء پر اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے تاکہ آئندہ چل کر اسے اختلاف فی القرآن کی دلیل نہ بنا لیا جائے۔ نیز یہ تعامل کے بھی خلاف ہے۔‘‘

پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اس پر ۱۲ فروری ۲۰۰۲ء کو مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا ایک اجلاس لاہور بورڈ کے دفتر میں طلب کر لیا جس میں مولانا مفتی محمد خان قادری، مولانا عبد المالک خان ایم این اے، پروفیسر عبد الجبار شاکر، محترم میاں نعیم الرحمان اور راقم الحروف نے شرکت کی۔ اجلاس میں ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جس رائے کا اظہار کیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے

’’مذکورہ سورتوں کے تبدیل شدہ نام اگرچہ روایات سے ثابت ہیں لیکن ہمارے ہاں متعارف نہیں ہیں۔ اسی طرح سعودی رسم الخط ہمارے ہاں بعض دیگر حوالوں سے بھی معروف نہیں ہے اس لیے اس سے عام مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا آئندہ اس قسم کے نسخے کی اشاعت سے گریز کیا جائے اور قدرت اللہ اینڈ کمپنی ایک وضاحتی نوٹ چھپوا کر مطبوعہ قرآن کریم کے ہر نسخے پر چسپاں کرے۔‘‘

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں، جس میں محکمہ اوقاف پنجاب کے سیکشن آفیسر جناب محمد صدیق منہاس اور دیگر بعض افسران نے بھی شرکت کی، قرآن کریم کی حرمت و تقدس کے حوالے سے لاہور میں ہونے والا ایک اور واقعہ بھی زیر بحث آیا جو قارئین کی دلچسپی کی خاطر پیش خدمت ہے۔

لاہور کے ایک کاروباری بزرگ جناب ناظم الدین پنجاب قرآن بورڈ کے ممبر ہیں اور قرآن کریم کے پرانے اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں۔ انہیں گزشتہ ہفتے لاہور میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے ایک واقعہ کی نشاندہی پر پولیس نے گرفتار کر لیا۔ یہ داستان خود انہی کے قلم سے ملاحظہ کیجئے جو انہوں نے مذکورہ بالا اجلاس میں پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کو پیش کی۔

’’کل بعد نماز جمعہ نہر میں پڑے شہید قرآنی اور مقدس اوراق کے بارے میں ۱۵ پر پولیس کو اور خبریں اخبار کو اطلاع دی تو خود مجھے ہی پولیس نے اس واقعہ کا ملزم سمجھا اور تقریباً ۶ گھنٹے جوہر ٹاؤن اور تھانہ گرین ٹاؤن میں تفتیش کرتی رہی۔ میرے دو ہمسائے جو وہاں سے گزر رہے تھے مجھے دیکھ کر رکے انہیں بھی میرے ساتھ یہ شرمندگی چھ گھنٹے تھانے میں رہ کر برداشت کرنا پڑی جنہیں وہ میرے ساتھ تھانہ لے گئے۔ میں نے انہیں یہ باور کرانے کی بہت کوشش کی کہ میں ایک ذمہ دار آدمی ہوں اور زندگی کا بہت قیمتی وقت اس عظیم کارخیر میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہوں۔ میں تو اسے (قرآن کریم) توہین اور بے ادبی سے بچانے کے لیے اپنی بہترین کوشش کر رہا ہوں اور پنجاب قرآن بورڈ کا ممبر بھی ہوں۔ مگر میرا موبائل اور گاڑی اپنے قبضے میں رکھی، کچھ ریکارڈ میری گاڑی میں شہید قرآن عظیم اور نشر و اشاعت سے متعلق تھا جو میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں وہ اسے چیک کرتے رہے۔ اس واقعے سے جہاں میری ہمسایوں کے سامنے بے عزتی ہوئی وہاں گھر والے بھی سخت پریشان رہے، مسلسل چھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی پھر رہائی ملی۔‘‘

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اجلاس میں بتایا کہ جناب ناظم الدین نے اس حراست کے دوران کسی طرح انہیں موبائل فون پر اطلاع کروا دی تھی جس پر انہوں نے آئی جی پنجاب پولیس سے خود بات کی او ربڑی مشکل سے یہ سمجھا پائے کہ ناظم الدین صاحب ایک شریف شہری ہیں، پنجاب قرآن بورڈ کے معزز رکن ہیں اور ایک عرصے سے قرآن کریم کے بوسیدہ نسخوں اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے رضاکارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تب جا کر انہیں لاہور پولیس کی تفتیش سے نجات ملی ورنہ خدا جانے انہیں دہشت گردی کے کون سے کیس میں ڈال دیا جاتا کیونکہ تفتیش کے دوران ان سے مسلسل یہی پوچھا جا رہا تھا کہ ان کا تعلق کس دہشت پسند تنظیم سے ہے؟اجلاس میں اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے پنجاب پولیس کے اس طرز عمل پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت پنجاب اور آئی جی پولیس سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

چنانچہ اس قسم کے واقعات قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت و محبت اور ان کے جذبات کی شدت و حساسیت کی علامت ہیں جس کا مسلم حکومتوں اور مغرب کو بہرحال احترام کرنا ہوگا۔

درجہ بندی: