’’دی لیڈر‘‘ اور قومی نصاب کمیٹی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ دسمبر ۲۰۰۵ء

وفاقی حکومت نے گیارہویں جماعت کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی تیار کردہ انگریزی کی نصابی کتاب سے ’’دی لیڈر‘‘ کے عنوان کے تحت شامل کی جانے والی نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس نظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ کے صدر جارج بش کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ این این آئی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیر تعلیم لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف کی صدارت میں منقعد ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ یہ نظم انٹرنیٹ سے لی گئی اور اس نظم کو، جس کے شاعر کا نام بھی مذکو رنہیں ہے، گیارہویں جماعت کی نصابی کتاب میں شامل کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ملک کے نامور ماہرین تعلیم اور ارباب دانش کی طرف سے اس نظم کو شامل نصاب کرنے پر شدید احتجاج ریکارڈ پر آچکا ہے جس کے مطابق اسے مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے ممتاز اہل دانش نے کہا ہے کہ صدر بش کی تعریف کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے اور یہ نئی نسل کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ وفاقی وزرات تعلیم کی طرف سے اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ نظم محض ’’اتفاق‘‘ سے شامل نصاب ہوگئی ہے جسے نصاب سے خارج کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ اگلے سال سے پوری کتاب کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جہاں تک نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا تعلق ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ وزارت تعلیم نے ملک کے کروڑوں عوام اور ارباب علم و دانش کے جذبات کا احترام کیا ہے اور اس کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو عذر پیش کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے اور اس نے ایک اور نازک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قومی نصاب سازی کا معیار یہی ہے کہ کسی صاحب کو انٹرنیٹ سے اپنے ذوق کی کوئی نظم مل گئی اور اس نے اسے اٹھا کر نصاب میں شامل کر دیا؟ ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’’قومی نصاب کمیٹی‘‘ میں منظوری کے مراحل سے گزری ہے اور اس کے بعد ہی نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اسے شائع کیا ہے۔ کیا قومی نصاب کمیٹی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن میں کارکردگی کا معیار یہی ہے اور کیا تعلیمی نصاب کے لیے مواد منتخب کرنے کا طریق کار یہی ہے؟

اس پس منظر میں قومی نصاب کمیٹی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے پورے ڈھانچے اور طریق کار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ اس قدر ہلکا پھلکا اور آسان نہیں ہے کہ اسے محض ’’اتفاق‘‘ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس لیے ہم یہ گزارش کریں گے کہ قومی سطح پر ماہرین تعلیم کا ایک کمیشن قائم کیا جائے جو قومی نصاب کمیٹی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے طریق کار کا جائزہ لے کر اس متنازعہ نظم کے شامل نصاب ہونے کی وجوہ اور اسباب کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان دونوں قومی اداروں کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں بھی رپورٹ پیش کرے۔

جہاں تک ’’دی لیڈر‘‘ کے عنوان سے قومی نصاب تعلیم میں صدر بش کو خراج تحسین پیش کرنے کا تعلق ہے، یہ کارروائی جس کسی کو خوش کرنے کے لیے بھی کی گئی ہے، نہ صرف قوم کے مجموعی جذبات و احساسات اور ملت اسلامیہ کے رجحانات کے منافی ہے بلکہ معروضی حقائق سے بھی متصادم ہے۔ کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں بلکہ خود امریکہ میں صدر بش کی پالیسیوں اور طرز عمل کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے آنکھیں بند کر لینا کسی طرح بھی عقل و دانش کا تقاضا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس نقطۂ نظر سے نظم کا جائزہ لیا جائے تو اس کا معروضی تناظر اس وقت ہمارے سامنے کچھ اس طرح بنتا ہے کہ ایک طرف تو اس نظم میں صدر بش کے بارے میں ان جذبات کا اظہار کیا گیا ہے کہ

’’دی لیڈر‘‘ صابر اور ثابت قدم رہتا ہے، وہ سب کچھ برداشت کر کے تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے، وہ اپنے طرز عمل میں نرم ہے مگر اسٹیل کی طرح مضبوط بھی ہے، ایمان کا پکا اور خوشگوار طبیعت کا عادی ہے، وہ اپنی اہلیت کی وجہ سے قوم کو مشکل ترین حالات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ سچائی کے لیے لڑتا ہے، وہ لڑائی کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، تاہم امن کا داعی بھی ہے اور امن کے لیے ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہے، جب وہ سچائی کے راستے پر چل نکلتا ہے تو پھر پیچھے نہیں ہٹتا، وہ آگے بڑھتا جاتا ہے اور اپنے اوپر ہونے والے شبہے کو دور کرنے کے لیے بار بار اپنا کیس واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان لوگوں تک بھی پہنچتا ہے جو اس کو نہیں سنتے، وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کی ثابت قدمی کا ساتھ دے، وہ امن کو چاہتے ہوئے بدی کو مٹانے میں اپنی قوت لگا رہا ہے اور ہر وہ کام کرنا چاہتا ہے جو صحیح ہو۔

اس نظم کو اگر صدر بش کی شخصیت اور کردار سے ہٹ کر دیکھا جائے تو بلاشبہ کسی بھی صحیح الفکر قومی لیڈر یا انسانیت دوست عالمی راہنما میں یہی اوصاف ہونے چاہئیں۔ لیکن ان اوصاف کو صدر بش پر منطبق کرنے سے پہلے ہمیں تصویر کے دوسرے رخ پر بھی ایک نظر ڈالنا ہوگی اور اس کے لیے ہم امریکہ ہی کے سابق صدر جناب جمی کارٹر کے ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہیں گے جو گزشتہ دنوں امریکہ کے معروف اخبار ’’لاس اینجلس ٹائمز‘‘ میں شائع ہوا ہے اور جس میں صدر بش کی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مضمون کا اردو ترجمہ روزنامہ پاکستان نے ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کے شمارے میں شائع کیا ہے اور ہمارے نزدیک امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کا یہ مضمون امریکہ کے موجودہ صدر جارج ڈبلیو بش کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے قومی تعلیمی نصاب میں صدر بش کی تعریف کے لیے شامل کی جانے والی اس نظم کا مسئلہ سامنے نہ آتا تو ہم اس مضمون کے بعض پہلوؤں کا ’’جمی کارٹر بنام جارج ڈبلیو بش‘‘ کے عنوان سے جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے مگر نظم کے مسئلے نے رخ تھوڑا سا تبدیل کر دیا۔ جمی کارٹر اپنے اس مضمون میں صدر بش کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

  • ہمارے تاریخی اوصاف یہ ہیں کہ ہم اپنے شہریوں کو درست معلومات مہیا کرتے ہیں اور اختلاف رائے اور اختلاف عقائد کو عزت و احترام کے ساتھ برداشت کرتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ تاریخی اوصاف خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔
  • ہمارے سیاسی رہنماؤں نے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی تنظیموں اور دیرینہ معاہدوں کی پابندیوں سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں وہ تمام معاہدے بھی شامل ہیں جو ایٹمی اسلحے اور جراثیمی و حیاتیاتی ہتھیاروں کے ضمن میں طے ہوئے، یا جو عالمی نظام انصاف کے بارے میں تھے۔
  • جب تک ہماری ملکی سلامتی کو (براہ راست) کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، امن ہماری قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے لیکن ہم اپنی اس روایت کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ ہم نے ’’قبل از وقت‘‘ حملے کی پالیسی اپنا لی ہے۔ اگر کسی ناپسندیدہ حکومت کو بدلنا مقصود ہو یا کوئی اور مقصد پیش نظر ہو تو یکطرفہ اقدام کو ہم نے اپنا حق سمجھ لیا ہے۔ ہم اسے ’’عالمی اچھوت‘‘ قرار دے کر اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیتے ہیں۔
  • ہمارے چوٹی کے رہنماؤں کی شدید کوشش ہے کہ ساری دنیا پر امریکی سامراجیت مسلط کر دی جائے، انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ اس خواہش یا کوشش کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
  • ایک طرف ہماری فوج مصروف جنگ ہے اور دوسری طرف ہمیں دہشت گردی کے خطرات لاحق ہیں، پھر بھی ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’یا تو ہمارا ساتھ دو یا ہم تمہیں اپنا مخالف سمجھیں گے‘‘۔ ہم نے کسی کے لیے تیسرا راستہ رہنے ہی نہیں دیا۔
  • ممکنہ حد تک حقائق چھپائے جا رہے ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکی عوام کو مرنے والے امریکی فوجیوں کی اصل تعداد کا علم نہ ہو سکے۔
  • بجائے اس کے کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار اور چیمپئن کا کردار ادا کرتے، قانون حب الوطنی (Patriot Act) کی بعض انتہا پسندانہ شقوں نے ہماری شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔
  • امریکہ نے جنیوا سمجھوتوں پس پشت ڈال کر عراق، افغانستان اور گوانتاناموبے میں تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مختلف ملکوں کی جو حکومتیں امریکہ کی حامی ہیں ان سے بھی ان کے عوام پر تشدد کرایا جا رہا ہے۔
  • گزشتہ نصف صدی کے دوران تخفیف اسلحہ کے ضمن میں جتنے معاہدے طے پائے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں بیک جنبش قلم منسوخ کر دیا جائے، یا ان کی صریحاً خلاف ورزی کی جائے۔ ہم اب عالمی سطح پر ایٹمی پھیلاؤ کے ’’بڑے مجرم‘‘ بن چکے ہیں۔

جمی کارٹر نے اس چارج شیٹ میں اور بھی بہت کچھ کہا ہے مگر ہم ان چند باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے پاکستان کی قومی نصاب کمیٹی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے بزر جمبروں سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ان کی نظر میں ’’دی لیڈر‘‘ کا معیار یہی ہوتا ہے؟