قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ ستمبر ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
قرآن کریم کے بعض اہم حقوق

اس دفعہ برطانیہ سے واپسی سے دو روز قبل یکم ستمبر کو آکسفورڈ کی سٹینلی روڈ کی مسجد میں ظہر کے بعد ’’قرآن کریم کے حقوق‘‘ کے حوالہ سے مختصر گفتگو کا موقع ملا جس کا خلاصہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔

سورۃ الفرقان کی آیت ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست کا ذکر فرمایا ہے کہ اس روز جبکہ ظالم و فاسق لوگ اپنی بداعمالیوں پر حسرت اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دانتوں میں چبائیں گے اور اپنی اس کوتاہی کا حسرت کے ساتھ تذکرہ کریں گے کہ اے کاش! ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کی ہوتی اور فلاں فلاں کے نقش قدم پر نہ چلے ہوتے۔ اس روز آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ’’اے میرے رب! میری اس قوم نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا تھا‘‘۔ مہجور ہجر سے ہے جس کا عام فہم معنٰی یہ ہے کہ چھوڑ دینا۔ اس لیے میں اس کا محاورے کا ترجمہ یوں کیا کرتا ہوں کہ اے اللہ! میری اس قوم نے قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا تھا اور نظر انداز کر دیا تھا۔

اس حوالہ سے ہم نے دو باتوں پر غور کرنا ہے۔ ایک یہ کہ جب عدالت اللہ تعالیٰ کی ہوگی، میدان حشر کا ہوگا اور مدعی جناب رسول اللہؐ خود ہوں گے تو مدعا علیہ کون ہوں گے؟ کیا ان مدعا علیہم کی فہرست میں ہمارا نام تو نہیں ہوگا؟ اور جس کیس میں مدعی خود رسول اکرمؐ ہوں گے، اس میں مدعا علیہم کا حشر کیا ہوگا؟ یہ بڑا نازک اور ضروری سوال ہے جس پر مجھے اور آپ کو غور کرنا چاہیے اور اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں حضور علیہ السلام کے دائر کردہ کیس میں مدعا علیہم کی فہرست میں ہمارا نام نہ آجائے۔ دوسری بات یہ غور طلب ہے کہ قرآن کریم کو چھوڑ دینے کا معنٰی کیا ہے اور وہ کون سا عمل ہے جس کے ارتکاب کو قرآن کریم کو ترک کر دینے سے تعبیر کیا جائے گا؟ اس پر آٹھویں صدی ہجری کے معروف محدث اور فقیہ حافظ ابن القیمؒ کا ایک ارشاد بیان کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے اپنی کتاب ’’الفوائد‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ہجرِ قرآن‘‘ یعنی قرآن کریم کو چھوڑ دینے، پس پشت ڈال دینے اور نظر انداز کر دینے کی مختلف عملی صورتیں ہیں۔

  1. پہلی صورت یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے اور سننے کا اہتمام نہ کیا جائے کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اس کو اہتمام کے ساتھ سننا دونوں عبادت ہیں اور جناب نبی اکرمؐ کی سنت ہیں۔ حضورؐ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے اور اہتمام کر کے مختلف حضرات سے اسے سنتے بھی تھے اور قرآن کریم پڑھنے اور سننے کے دونوں عملوں پر آپؐ نے اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرے اور اسے سننے کا معمول بھی بنائے تاکہ وہ قرآن کریم سے بے توجہی کا مرتکب قرار نہ پائے۔
  2. حافظ ابن القیمؒ نے ہجر قرآن کی دوسری عملی صورت یہ بیان فرمائی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ یہ عجیب سی صورتحال ہے کہ ہم ایمان تو رکھتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے مگر ہم اس کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اور اس سے زیادہ تعجب انگیز بلکہ مضحکہ خیز صورت یہ ہے کہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام مانتے ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہم سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اور نماز میں ہم اللہ تعالیٰ کی باتیں سنتے بھی ہیں اور اس سے باتیں کرتے بھی ہیں لیکن نہ وہ باتیں سمجھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے کرتا ہے اور نہ وہ باتیں سمجھتے ہیں جو ہم اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ یہ دنیا کی عجیب ترین گفتگو ہے جو ہم شب و روز پورے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم آج کے مسلمان اس پر دنیا کا ایک مستقل ’’اعجوبہ‘‘ کہلانے کے مستحق ہیں۔
  3. حافظ ابن القیمؒ کے بقول قرآن کریم کو ترک کر دینے کی تیسری عملی شکل یہ ہے کہ اس کے احکام پر عمل نہ کیا جائے اور اس کے بیان کردہ حلال و حرام کی پروا نہ کی جائے ۔اس لیے کہ قرآن کریم کا اصل مقصد تو رہنمائی اور ہدایت ہے اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے احکام پر عمل کرے اور اس کے بیان کردہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے دائروں کو زندگی میں ملحوظ رکھے۔ یہ قرآن کریم کا حق ہے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس حوالہ سے اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ اور بالخصوص اس بات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جن امور پر کچھ بحث ہے وہ تو ایک طرف رہیں، کچھ معاملات ایسے ہیں جن کے حلال و حرام ہونے کو قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ دو ٹوک انداز میں بیان کیا ہے، کیا ہم ان پر عمل کر رہے ہیں؟
  4. چوتھی عملی صورت قرآن کریم کو ترک کر دینے کی یہ ہے کہ اسے اپنی زندگی کے معاملات میں جج اور فیصل تسلیم نہ کیا جائے۔ کیونکہ قرآن کریم ہمارے لیے حکم اور قانون کی کتاب ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت نمبر ۱۰۵ میں جناب رسول اکرمؐ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لیے اتاری ہے کہ آپ اس کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے معاملات کے فیصلے کریں۔ چنانچہ قرآن کریم کو اپنے تنازعات اور زندگی کے ہر معاملہ میں حکم تسلیم کرنا بھی ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔ مگر اس کا طریقہ یہ نہیں جو ہم نے اختیار کر رکھا ہے کہ دو آدمیوں میں لین دین کا جھگڑا ہے تو ایک فریق نے پیسے قرآن کریم پر رکھ دیے کہ تمہارے ہیں تو اٹھا لو۔ اور پھر دونوں فریق خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کے ذریعے فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح کسی مقدمہ میں فریقین قرآن کریم پر حلف اٹھانے کے لیے تیار ہوگئے اور حلف اٹھا کر خوشی خوشی گھر واپس ہوئے کہ ہم نے قرآن کریم سے فیصلہ لیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بعض اوقات تو صورتحال اتنی مضحکہ خیز ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی بے حرمتی اور توہین تک نوبت ؒپہنچ جاتی ہے۔ قرآن کریم سے فیصلہ لینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس معاملہ میں تنازعہ ہے یا معاملہ فیصلہ طلب ہے اس کے بارے میں قرآن کریم کو کھول کر دیکھا جائے کہ اس کی ہدایات کیا ہیں اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
  5. ہجرِ قرآن کریم کی پانچویں صورت حافظ ابن القیمؒ نے یہ بیان کی ہے کہ قرآن کریم کو بیماریوں میں شفا کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اس لیے کہ قرآن کریم روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی بیماریوں کی شفا ہے اور اس کی برکت سے نہ صرف روحانی بیماریوں مثلاً، تکبر، بغض، حسد، حرص اور خودغرضی وغیرہ سے شفا حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کی تلاوت سے گھروں میں برکات نازل ہوتی ہیں، روحانی سکون ملتا ہے اور جسمانی بیماریوں سے بھی اللہ تعالیٰ شفاء عطا فرماتے ہیں۔ اور اس کے متعلق جناب رسول اللہؐ کی متعدد روایات میں ہدایات موجود ہیں۔

یہ قرآن کریم کے حقوق کا ایک خاکہ ہم نے حافظ ابن القیمؒ کے حوالہ سے عرض کیا ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق درست کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں تاکہ قیامت کے روز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ دعویٰ کی صورت میں ان کے مدعا علیہم میں شامل ہونے سے بچ سکیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: