محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء

محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟

یہ شکایت نئی نہیں بہت پرانی ہے اور جب سے مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہو کر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے تب سے یہ شکوہ بہت سی زبانوں پر ہے اور مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔

مغل حکومت کے دور میں مسجد و مدرسہ کو ریاستی ادارے کی حیثیت حاصل تھی، ان کے اخراجات کی ذمہ داری ریاست پر تھی، درس نظامی ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا اور عدالتوں میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری تھی۔ جب اس سارے سسٹم کو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد انگریز سرکار نے لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا اور مساجد و مدارس کی بندش کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مخصوص اوقاف و وسائل بھی ضبط کر لیے تو باقی سارے معاملات سے قطع نظر، کم سے کم عام مسلمانوں کی عبادات کا نظام برقرار رکھنے اور ان کے لیے دینی تعلیم کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے عوامی چندے اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعہ مسجد و مدرسہ کے نظام کو چلانے کا رجحان پیدا ہوا۔ اور کچھ اصحاب بصیرت نے غریب عوام کے سامنے جھولی پھیلا کر، زکوٰۃ و صدقہ اکٹھا کر کے، قربانی کی کھالیں جمع کر کے، بلکہ ایک ایک گھر سے روٹی مانگ کر مسجد و مدرسہ کے اس نظام کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔ ورنہ تاشقند اور سمرقند میں ایسی مساجد میں نے خود دیکھی ہیں اور وہاں نمازیں ادا کی ہیں جو گزشتہ نصف پون صدی کے عرصہ میں سیمنٹ کے گودام اور سینما ہال کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں کے منبر و محراب کے وارث کھالوں اور چندوں کے پیچھے نہ پھرتے تو یہاں بھی صورتحال تاشقند اور سمرقند سے مختلف نہ ہوتی۔

مسجد و مدرسہ اور مولوی و چندہ کے اس نظام پر دو قسم کے حضرات کو اعتراض ہے اور ان کی شکایات کے پس منظر کو الگ الگ طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

  • کچھ حضرات کو تو اس بات پر غصہ ہے اور وہ اپنے غیظ و غضب کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو رہے کہ یہ نظام ابھی تک بدستور قائم کیوں ہے؟ نہ صرف قائم ہے بلکہ مغرب اور اسلام کے درمیان موجودہ ’’گلوبل سولائزیشن وار‘‘ میں ایک ناقابل تسخیر مورچہ کی حیثیت کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟ اور چونکہ اس نظام کے باقی رہنے بلکہ دن بدن ترقی کرنے میں ظاہری سبب یہی صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالیں اور چندہ ہے اس لیے انہیں یہ سارا کچھ بہت برا لگتا ہے۔
  • لیکن کچھ حضرات خیر خواہی اور خلوص کے جذبہ کے ساتھ بھی اس خواہش کا اظہار کر دیتے ہیں کہ علماء کرام کو صدقہ و زکوٰۃ کی بجائے کوئی ہنر اپنا کر اپنی معیشت کا انتظام کرنا چاہیے۔ ایسے دوستوں کے پیش نظر انتہائی خلوص کے ساتھ یہ بات ہوتی ہے کہ منبر و محراب کے وارثوں کا معاشرتی مقام بلند ہونا چاہیے اور انہیں لوگوں کا دست نگر ہونے کی بجائے خود کفیل ہو کر دینی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے تاکہ ان کی بات میں زیادہ وزن ہو اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ معاشرہ کی دینی قیادت کر سکیں۔

مگر منبر و محراب کے وارثوں کے لیے اس خواہش کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے اور اس کی وجہ بھی مدرسہ و مسجد کے اسی نظام کا تحفظ ہے۔ کیونکہ ایک طرف حافظ، قاری اور مولوی کے ذاتی معاشرتی وقار کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف مسجد و مدرسہ کے نظام کو باقی رکھنے کے تقاضے ہیں۔ اور ’’مولوی‘‘ پوری ہوش مندی کے ساتھ آج بھی اپنے ذاتی مفاد پر مسجد و مدرسہ کے نظام کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے۔

ہم ان کالموں میں عرض کر چکے ہیں کہ ایک دور میں ریاست حیدر آباد دکن کے نواب نے، جو اپنے دور کے امیر ترین مسلمان حکمران سمجھے جاتے تھے، دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ کو پیشکش کی کہ اگر دارالعلوم کے نصاب میں کچھ جدید مضامین کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ دارالعلوم کے اخراجات میں تعاون کرنے اور دارالعلوم کے فضلاء کو اپنی ریاست میں ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے جواب میں مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے یہ تاریخی جملہ کہہ کر اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا کہ

’’ہم ریاست حیدر آباد کا نظام چلانے کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کی نماز، روزہ اور دینی تعلیم کا نظام باقی رکھنے کے لیے پڑھا رہے ہیں۔‘‘

مولانا کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم بھی اپنے مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو جدید تعلیم کا ٹچ دے کر ریاستی نظام کے کل پرزے بنا دیں تو پھر مسجدوں میں نماز کون پڑھائے گا اور لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم کون دے گا؟ اس لیے اس دور کے اکابر علماء نے شعوری طور پر حکمت عملی کے تحت اپنے طلبہ کو جدید علوم اور ہنر و فن سے دور رکھا تاکہ وہ مسجد و مدرسہ کے سوا کسی اور جگہ فٹ نہ آسکیں اور عام مسلمانوں کا عبادات اور دینی تعلیم کا نظام چلتا رہے۔

چنانچہ یہ بات اپنی جگہ پر کہ قیام پاکستان کے بعد اسلامی نظام کے لیے رجال کار فراہم کرنے کے نقطۂ نظر سے دینی مدارس کو اپنے نصاب و نظام میں ضروری تبدیلیاں کرنی چاہئیں تھیں اور ہم خود اس پر مسلسل معروضات پیش کر رہے ہیں، مگر جہاں تک مسجد و مدرسہ کے موجودہ نظام کی افادیت اور اس کے معاشرتی ثمرات کا تعلق ہے، اس کا مدار ظاہری طور پر اسی صدقہ و خیرات اور قربانی کی کھالوں پر ہے۔ اور اس سسٹم کو طنز و طعن کا نشانہ بنا کر اس کی نفی کرنا عام مسلمانوں کی عبادات اور دینی تعلیم کے نظام کو سبوتاژ کرنے کی شعوری یا غیر شعوری کوشش کرنے کے سوا اور کسی عنوان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

راجہ انور صاحب محترم نے ایک واقعہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کرنے والے شخص کو کلہاڑی دے کر جنگل سے لکڑیاں کاٹنے اور محنت کر کے پیٹ پالنے کی ترغیب دی تھی۔ یہ واقعہ درست ہے اور کسی بھی تندرست شخص کے لیے یہی حکم ہے تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محنت مزدوری کر کے روٹی کمائے۔ لیکن یہاں ایک عمومی رویہ اور الجھن کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ دور نبویؐ کے انفرادی واقعات کا سہارا لے کر ان کے حوالہ سے اپنے جذبات و افکار پیش کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اس دور کے سسٹم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ جس مسئلہ پر ہم بات کر رہے ہیں اس کی حیثیت جناب رسول اللہؐ اور خلفاء راشدینؓ کے رائج کردہ مجموعی نظام میں کیا تھی؟ اس سلسلہ میں دو حوالے سامنے لانا مناسب خیال کرتا ہوں۔

  1. ایک خود جناب رسول اکرمؐ کے بارے میں ہے کہ آپؐ کا اپنا ذریعہ معاش کیا تھا؟ اور اگر راجہ صاحب کو مسلمان حکمرانوں کی خود ان کے بقول ’’لوٹ مار‘‘ کی کہانی پھر سے یاد نہ آجائے تو یہ گزارش ہے کہ ضابطہ اور قانون کے طور پر جنگوں میں حاصل ہونے والے ’’مال غنیمت‘‘ کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے مخصوص تھا اور پھر اس کا پانچواں حصہ آنحضرتؐ اور ان کے خاندان کے اخراجات کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ یعنی کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والے کل مال غنیمت کا چار فیصد حصہ جناب نبی اکرمؐ کے لیے متعین ہوتا تھا جس سے حضورؐ اور آپؐ کے اہل خانہ کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا حتیٰ کہ اسی مال غنیمت میں سے ایک بہت بڑے باغ ’’فدک‘‘ کو آنحضرتؐ کی ملکیت سمجھتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ سے اسے وراثت کے طور پر انہیں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے جواب دیا کہ یہ باغ آنحضرتؐ کی وراثت کے طور پر نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ بیت المال کی ملک میں رہے گا۔ البتہ اس کی آمدنی سے رسول اکرمؐ کی ازواج مطہراتؓ اور دیگر اہل خاندان کے اخراجات بدستور ادا کیے جاتے رہیں گے۔
  2. دوسرا حوالہ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بنے تو ان کا معاملہ یہ تھا کہ مدینہ منورہ سے تھوڑے فاصلہ پر ’’سخ‘‘ نامی جگہ میں ان کی کپڑے کی کھڈیاں تھیں اور وہ کپڑا بیچ کر گزارا کیا کرتے تھے۔ خلیفہ بننے کے بعد وہ جب معمولی کپڑوں کی گٹھڑی اٹھا کر بازار کی طرف چلے تو حضرت عمرؓ نے انہیں روک لیا کہ آپ کا کاروبار میں مصروف رہیں گے تو لوگوں کے معاملات کون نمٹائے گا؟ اس لیے آج کے بعد آپ کاروبار نہیں کریں گے بلکہ کاروبار سلطنت کے لیے خود کو فارغ رکھیں گے۔ اس کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ (اخبار کا ’’بقیہ‘‘ غائب ہے)