ہمارے معاشی مسائل اور مولانا مفتی محمودؒ کے افکار و خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۰ء

آج کی نشست میں پاکستان کے معاشی مسائل کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے چند ارشادات وافکار کو پیش کیا جا رہا ہے جو مولانا ڈاکٹر عبدالحکیم اکبری (گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان) کی کتاب ’’مولانا مفتی محمودؒ کی علمی، دینی وسیاسی خدمات‘‘ سے ماخوذ ہیں۔ اس مرد درویش کے خیالات وارشادات ملاحظہ فرمائیے اور اس کی فراست وبصیرت پر اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان فاصلوں کو بھی دیکھنے کی کوشش فرمائیے جو ان کی وفات کو صرف دو عشرے گزرنے کے ساتھ ہی ہمارے اور ان کے درمیان نہ صرف دکھائی دے رہے ہیں بلکہ دن بدن بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

مولانا مفتی محمودؒ فرماتے ہیں:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک میں سب سے اہم مسئلہ ملک کی ۹۰ فیصد آبادی کے بڑے طبقے اور غریب عوام کے مسائل ہیں جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں جنہیں اپنے وطن میں نہ مکان میسر ہے، نہ خوراک نہ لباس اور نہ زندگی کی دوسری سہولتیں میسر ہیں اور وہ یقیناً حیوانات سے بھی بدتر زندگی گزاررہے ہیں۔ جب تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس وقت تک پاکستان میں کسی کو امن وسکون حاصل نہیں ہوگا ۔اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ ایک عام مسلمان تو پاکستان میں محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کا پیٹ نہ پال سکے اور بھوک اور فاقہ کشی کی زندگی گزارتا رہے جبکہ چند انسان یہاں خرمستیاں کرتے پھریں۔ خلیفۂ دوم حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر ایک کتا بھی فرات کے کنارے بھوک سے مرتا ہے تو قیامت کے دن عمر(رضی اللہ عنہ) سے اس کا سوال کیا جائے گا۔‘‘

’’اس کے لیے بنیادی طورپر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جوقریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں ،ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں؟ اگر ایسا ہے تو ایسی تمام اراضی کو لازماً واپس لے کر بے زمین لوگوں میں تقسیم کردیاجائے۔ اگر مزارعین کو اس کے باوجود مظلومیت محسوس ہو تو کوئی بھی اسلامی حکومت ضرورت کے تحت مزارعت کے سسٹم کو ناجائز قرار دے سکتی ہے ۔امام ابوحنیفہ ؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ تینوں امام اس بات پر متفق ہیں کہ مزارعت کا معاملہ جائز نہیں۔ چونکہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، اس لیے ضرورت کے تحت اس کو ممنوع قرارد ینا کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں ہوسکتا‘‘۔

’’رہا بڑے بڑے صنعت کاروں کا مسئلہ تو اس سے متعلق سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ حکومت لازمی طور پر مزدوروں کی تنخواہوں کو اس حد تک بڑھادے کہ مزدور کو اپنی محنت کا پورا صلہ مل سکے جس سے اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات، بچوں کی تعلیم اور علاج وغیرہ کی حسن وخوبی کے ساتھ کفالت ہوسکے۔‘‘

’’زراعت کو عام کیا جائے ،غیرآباد زمینوں کو آباد کیا جائے، زمینوں کو ناجائز طور پر سیاسی رشوتوں کے لیے الاٹ نہ کیا جائے، زمین بے زمین لوگوں میں الاٹ ہو، آب پاشی کے ذرائع میں توسیع ہو، مشینی آلات کے ذریعہ سے بھی ملکی زراعت کو ترقی دی جاسکتی ہے بشرطیکہ مشینی آلات کے تمام ذرائع اجتماعی طور پر استعمال ہوں، صرف ایک شخص کو یہ اختیارات حاصل نہ ہوں ،اس طرح مزدور کسان بے کار ہوجائیں گے۔‘‘

’’بڑے شہروں میں کارخانوں کے قیام نے دیہات کی ترقی تو کیا ان کے وجود ہی کو خطرے میں ڈال دیا ہے غریب لوگ دیہات سے بھاگ رہے ہیں ،شہروں میں کارخانوں( اور دیگر سرکاری وغیرسرکاری اداروں) میں ملازمت کرتے ہیں، شہروں کے مسائل بھی اس طرح بڑھ جاتے ہیں اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ دیہی ترقیاتی اسکیموں پر زور دیا دیا جائے ،اس لیے کہ ہمارے ملک کی غالب اکثریت دیہی آبادی پر مشتمل ہے، اس کے بغیر ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا اور اس روش سے ملک کی زرعی معیشت بھی بہت متاثر ہوئی ہے۔‘‘

’’غریبوں سے ہمدردی رکھنے کی بنا پر بعض لوگ ہم پر ’’سوشلسٹ مولوی‘‘ ہونے کاالزام لگاتے ہیں حالانکہ اسلام غریبوں کا حامی اور مددگار بن کر آیا ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق غریبوں کی مشکلات دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم پاکستان میں سرمایہ داری کی حفاظت کے لیے اسلام کا نام استعمال نہیں ہونے دیں گے، سرمایہ داری کے ظالمانہ نظام کی حفاظت کے خواہاں اور امریکی سامراج کی مدد سے پاکستان کو ترقی دینے کے دعویدار پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔‘‘

’’موجودہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت جس میں غریب، غریب تر اور امیرامیرتر بنتے جارہے ہیں ،اسے بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکناچاہیے، مغربی استعماری نظام، مغرب زدہ ظالمانہ نظام ہمارے تمام مسائل کی بنیاد ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک معاشرے میں فلاح کا کوئی تصور بے سود ہے، بے کار ہے، خام خیالی ہے۔‘‘

’’سادگی اختیار کی جائے، وزیراپنا نمونہ پیش کریں، اپنے گھروں کی تزیین وآرائش پر ہزاروں روپے خرچ نہ کریں، ڈرائنگ روم میں قیمتی صوفوں کی بجائے چٹائی کیوں نہیں بچھائی جاسکتی؟ اور بیڈروم میں نفیس پلنگوں کی بجائے عام چارپائی کیوں کام نہیں دے سکتی؟ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ شہری علاقوں میں بڑے مکانوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے۔ تین سو گزسے زیادہ مکان کسی صورت میں نہ بننے دیا جائے۔ ہمارے اکثر ملکی قوانین ایسے ہیں جو رشوت کا دروازہ کھولتے ہیں اور لوگوں کے مصائب میں اضافہ کرتے ہیں، ان کا جائزہ لے کرہر قانون میں چوردروازے بند کیے جائیں۔ رشوت بدعنوانی پر کڑی سزائیں دی جائیں اور ان کا قلع قمع کیا جائے۔ شلوار قمیص کی حوصلہ افزائی ہو، سرکاری ملازم دفتر میں قومی لباس پہن کر آئیں۔ اس طرح غیرملکی لباس جو نفسیاتی رعب داب عطا کرتا ہے اس سے نجات مل جائے گا۔ ایسے ضوابط بنائے جائیں کہ جھوٹ چھاپا یا لکھا نہ جاسکے۔ جھوٹ ایک زہر ہے، جو معاشرہ کی اچھائیوں کو ڈس لیتا ہے بے حیائی اور فحاشی کی روک تھام ہو اور ذرائع ابلاغ کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘

’’ہم پاکستان کے غریب عوام، کسانوں، مزدوروں، طالب علموں اور تمام آدمیوں کو اس سطح پر لانا چاہتے ہیں جہاں پاکستان کے تمام مسلمان عملاً بھائی بھائی نظر آسکیں اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جبکہ بے لاگ طور پر ملک میں قرآن وسنت کے احکام نافذ کردیے جائیں ،خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد کا عملی نمونہ اختیار کرلیاجائے اور ملک سے سیاسی، اقتصادی اور معاشی ظلم وجبر کا خاتمہ کردیا جائے۔‘‘