قرآن کریم اور نو مسلم خواتین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء

رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس میں قرآن کریم لوح محفوظ سے نازل ہوا اور اسی میں قرآن کریم کی سب سے زیادہ تلاوت ہوتی ہے۔ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ رمضان المبارک میں باقی سال کی بہ نسبت قرآن کریم کی تلاوت زیادہ کیا کرتے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان المبارک میں اہتمام کے ساتھ تشریف لاتے اور آنحضرتؐ کے ساتھ اس سال تک نازل ہونے والے قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔ آخری سال حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دو دفعہ دور کیا جس کے بارے میں محدثین کا کہنا ہے کہ یہ جناب رسول اللہؐ کے لیے اشارہ تھا کہ اگلے سال موقع نہیں ملے گا۔

یہ قرآن کریم کے اعجاز کا ایک پہلو ہے کہ دنیا میں لاکھوں سینوں میں ہر دور میں محفوظ رہتا ہے اور روزمرہ تلاوت کے علاوہ رمضان المبارک کے دوران لاکھوں مساجد میں اہتمام کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس قسم کی باتیں عام طور پر سننے میں آتی تھیں کہ اس طرح الفاظ کو رٹنے اور بلا سمجھے دہرائے چلے جانے کا کیا فائدہ تھا؟ لیکن جوں جوں اس قسم کے اعتراضات و شبہات زیادہ ہوئے اس سے کہیں زیادہ قرآن کریم کے حفاظ کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ ایسی بستیوں میں جہاں آج سے ربع صدی قبل تراویح میں قرآن کریم سنانے کے لیے ایک حافظ بھی میسر نہیں آتا تھا، وہاں اب ایک ایک مسجد میں کئی کئی حافظِ قرآن موجود ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دور میں یہ بھی قرآن کریم کے اعجاز کا اظہار ہے۔

مگر اس مناسبت سے قرآن کریم کے اعجاز کے ایک اور پہلو کا مختصر تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ روز ’’نومسلم خواتین کی آپ بیتیاں‘‘ نامی ایک کتاب کے مطالعہ کے دوران نظر سے گزرا۔ یہ کتاب محترمہ نگہت عائشہ نے ترتیب دی ہے اور اس میں مختلف ممالک کی ستر نو مسلم خواتین کی آپ بیتیاں شامل کی گئی ہیں۔ پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب ندوۃ المعارف ۱۳ کبیر اسٹریٹ اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے اور اس میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ایک سفرنامے کو بطور دیباچہ شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے لندن کے معروف روزنامہ لندن ٹائمز کی ۹ نومبر ۱۹۹۳ء کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ماضی قریب میں مسلمان ہونے والی بعض نومسلم خواتین کے تاثرات بیان کیے ہیں۔ ان میں اسکاٹ لینڈ کی ایک خاتون کا تذکرہ بھی ہے جو ۱۹۷۴ء میں مسلمان ہوئیں اور انہوں نے اپنا اسلامی نام ’’نوریہ‘‘ رکھا۔ اس خاتون کے قبول اسلام کی وجہ ’’ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ تھی کہ انہیں (نعوذ باللہ) ردی میں قرآن کریم کے کچھ اوراق ملے جن کے مطالعہ سے انہیں قرآن کریم کے باقاعدہ مطالعہ کا شوق ہوا۔ اور جب انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا تو اسلام قبول کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ کار نہ رہا۔

یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس کا مطالعہ آج بھی بھٹکے ہوئے انسانوں کی ہدایت کا سبب بنتا ہے بشرطیکہ وہ مطالعہ ہماری طرح رسمی اور روایتی نہ ہو۔ یہ واقعہ پڑھ کر مجھے نو سال پرانا ایک اور واقعہ یاد آگیا جب امریکہ سے ایک نومسلم خاتون گوجرانوالہ آئیں اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی سے ملاقات کے علاوہ ہمارے گھر بھی تشریف لائیں۔ اس خاتون کے قبول اسلام کی وجہ قرآن کریم کا مطالعہ بنا اور یہ واقعہ انہوں نے خود ہمیں سنایا۔ خاتون کا پہلا نام ’’مارسیہ کے ہرمینسن‘‘ تھا اور ایم کے ہرمینسن کہلاتی تھیں ۔اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے نام کا مخفف قائم رکھنے کے لیے اسلامی نام مجاہدہ رکھ لیا اور اس طرح ان کے نام کا مخفف ایم کے ہرمینسن قائم رہا۔

اس نومسلم خاتون کا کہنا تھا کہ فلسفہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں ذہنی طور پر ایک خلاء محسوس ہوتا تھا اور کہیں سکون نہیں مل رہا تھا۔ اسی سکون کی تلاش میں وہ مختلف ملکوں میں گھومتی رہیں اور یونیورسٹیوں میں کورسز کرتی رہیں۔ اسی دوران اسپین کی کسی یونیورسٹی میں وہ اپنے ہاسٹل میں تھیں کہ ایک روز ریڈیو کی سوئی گھماتے ہوئے ایک جگہ سے عجیب سی پرکشش آواز سنائی دی۔ آواز میں کشش تھی مگر زبان سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ایک دو دفعہ سننے کے بعد مختلف حضرات سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ یہ مراکش ریڈیو ہے اور اس وقت مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم کا سننا معمول بن گیا۔ قرآن کریم کا انگلش ترجمہ منگوا کر پڑھا مگر لطف نہ آیا تو عربی زبان کا کورس کیا۔ زبان سے مانوس ہو کر براہ راست قرآن کریم کا مطالعہ کیا اور مسلمان ہوگئیں۔

ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن نے اس کے بعد مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات کا مطالعہ کیا اور سب سے زیادہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے متاثر ہوئیں۔ حتیٰ کہ ’’مغرب اور شاہ ولی اللہ کا تعارف‘‘ کے موضوع پر برکلی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ اس وقت وہ کیلی فورنیا کی سین ڈیگو یونیورسٹی میں فلسفہ کی استاذ ہیں اور انہوں نے اسی یونیورسٹی میں امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و تعلیمات پر ریسرچ کے لیے ’’شاہ ولی اللہ چیئر‘‘ قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الاراء تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا انگلش ترجمہ بھی کیا ہے اور مختلف جرائد میں شاہ صاحبؒ کے بارے میں مضامین لکھتی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن نے وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی پروفیسر محمد علوی سے شادی کی۔ وہ ۱۹۹۰ء میں اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان آئیں تو گوجرانوالہ بھی تشریف لائیں۔ انہیں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تیاری کے دوران ہمارے چچا محترم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کی بعض تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا تھا، وہ اسی نسبت سے ان سے ملاقات و گفتگو کے لیے آئی تھیں۔ میں بھی اس ملاقات میں شریک تھا۔ ان سے حضرت صوفی صاحب نے یہ سوال کیا تھا کہ آج کے دور میں ہم مسلمانوں میں تو کوئی ایسی کشش کی بات نہیں ہے جسے دیکھ کر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو، اور آپ پڑھی لکھی خاتون ہیں آپ کیسے مسلمان ہوگئی ہیں؟ اس کے جواب میں محترمہ نے کہا کہ وہ کسی مسلمان سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوئی ہیں۔ اور پھر انہوں نے یہ سارا واقعہ سنایا جس کا تذکرہ سطور بالا میں ہو چکا ہے۔

چنانچہ قرآن کریم کا یہ اعجاز آج بھی قائم ہے کہ وہ ہر ایک کو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے بشرطیکہ کوئی اسے اس نیت سے پڑھے۔ اگر اسکاٹ لینڈ کی نوریہ کے لیے ردی کی ٹوکری میں پڑے قرآن کریم کے چند اوراق ہدایت کا باعث بن سکتے ہیں اور امریکہ کی مارسیہ کو مراکش ریڈیو سے نشر ہونے والی قرآن کریم کی آواز ہدایت کی منزل تک پہنچا سکتی ہے تو ہماری مسجدوں، گھروں اور محفلوں میں شب و روز اہتمام کے ساتھ پڑھا اور سنا جانے والا قرآن کریم ہمیں گمراہی، اخلاق باختگی، کرپشن اور بے راہ روی کی دلدل سے کیوں نہیں نکال سکتا؟ بات صرف لائن سیدھی کرنے کی ہے، اس لیے کہ کنکشن درست ہو اور بلب فیوز نہ ہو چکا ہو تو ’’پاور ہاؤس‘‘ کو روشنی منتقل کرنے میں بخل سے کام لینے کی آخر کیا ضرورت ہی کیا ہے؟

درجہ بندی: