پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شورٰی کا تاسیسی اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۹۶ء

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، عورت کی حکمرانی سے نجات اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دینی حلقوں کے تعاون کے ساتھ عوامی تحریک منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مولانا فداء الرحمان درخواستی کو کونسل کا امیر اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کر کے مارچ ۱۹۹۷ء کے دوران لاہور میں ملک گیر سطح پر ’’نظام شریعت کنونشن ‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے تاسیسی اجلاس میں کیے گئے جو ۱۳ و ۱۴ اگست ۱۹۹۶ء کو مدنی مسجد لنگر کسی بھوربن مری میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمان درخواستی نے کی اور اس میں ملک کے مختلف حصوں سے سرکردہ علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔

مولانا فداء الرحمان درخواستی (کراچی)، مولانا محمد اسحاق مدنی (آزاد کشمیر)، مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، مولانا قاضی عبد الکریم (کلاچی)، مخدوم منظور احمد (لاہور)، مولانا مطیع الرحمان درخواستی (خانپور)، قاری محمد یوسف عثمانی (گوجرانوالہ)، قاری محمد اکرم مدنی (سرگودھا)، مولانا حافظ مہر محمد (میانوالی)، مولانا حسین احمد قریشی (بھوئی گاڑ)، مولانا حامد علی رحمانی (حسن ابدال)، مولانا قاری محمد ایاز عباسی (اسلام آباد)، مولانا محمد عبد اللہ (اسلام آباد)، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ (کوہاٹ)، مولانا حافظ محمد طیب مری)، مولانا فضل الرحمان درخواستی (خانپور)، مولانا مفتی سیف الدین (گلگت)، مولانا ولی محمد (راولپنڈی)، قاضی نثار احمد (گلگت)، ڈاکٹر عبد القادر (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا قاری اللہ داد (کراچی)، مولانا رشید احمد درخواستی (کراچی)، مولانا عبد العزیز محمدی (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا قاری محمد یوسف (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد زمان (کلاچی)، مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل (پشاور)، مولانا قاری محمد اسد اللہ عباسی (مری)، جناب محمد معروف (مری)، جناب عبد الغفار شاہ (بھوربن)، مولانا محمد اکرام الحق خیری (کراچی)، مولانا سیف الرحمان آرائیں (حیدر آباد)، مولانا حافظ محمد اکبر راشد (میرپور خاص)، جناب فضل قادر خان (ڈیرہ اسماعیل خان)، جناب رشید احمد (ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد حسن (کوئٹہ)، مولانا صوفی عبد الحنان (کراچی) مولانا قاری عمر فاروق عباسی (رحیم یار خان)، مولانا محمد ادریس (ڈیرہ غازی خان)، جناب صلاح الدین فاروقی (ٹیکسلا)، مولانا سید چراغ الدین شاہ (راولپنڈی)، مولانا بشیر احمد شاد (چشتیاں)، جناب ندیم اقبال اعوان (حاصل پور)، مولانا اللہ وسایا قاسم (خانیوال)، مولانا معین الدین وٹو (منچن آباد)، حافظ سعید احمد فاروقی (منچن آباد)، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر (لاہور)، مولانا قاری نذیر احمد (لاہور)، جناب محمد افضل عباس بھٹہ (لاہور)، حافظ محبوب الحسن طاہر (بھلوال)، مولانا محمد امین (ہنگو)، مولانا عبد العزیز (اسلام آباد)، مولانا قاری سیف اللہ اختر (اسلام آباد)، مولانا محمد احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا قاری سعید الرحمان (راولپنڈی)، مولانا قاری محمد یعقوب (راولپنڈی)، قاری محمد ابراہیم (بہبودی)، جناب حکیم خان (بہبودی)، مولانا محمد انس (راولپنڈی)، مولانا عتیق الرحمان (راولپنڈی)، محمد اشفاق خان (اٹک)، حافظ عابد الٰہی۔

اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے اس کے دستور کی تیاری کے لیے مولانا زاہد الراشدی کی سربراہی میں دستور کمیٹی قائم کی گئی جو مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں دستوری خاکہ پیش کرے گی۔ کمیٹی میں ندیم اقبال اعوان ایڈووکیٹ، مفتی حبیب الرحمان درخواستی، قاری محمد اسد اللہ عباسی اور صلاح الدین فاروقی شامل ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دستور کی منظوری اور دستور کے مطابق باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل تک عبوری مدت کے لیے مری کے تاسیسی اجلاس کے شرکاء پر مشتمل مرکزی مجلس شوریٰ، کونسل کے پالیسی اور انتظامی امور کو چلائے گی اور امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمان درخواستی کو مرکزی مجلس شوریٰ کے ارکان میں اضافے اور حسب ضرورت مرکزی اور صوبائی سطح پر عہدہ داروں اور کمیٹیوں کے تقرر کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

اجلاس میں عبوری مدت کے لیے مندرجہ ذیل مرکزی عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ امیر: مولانا فداء الرحمان درخواستی (کراچی)، نائب امیر اول: حضرت مولانا قاضی عبد الکریم (کلاچی)، نائب امیر دوم: مولانا منظور احمد چنیوٹی (جھنگ)، نائب امیر سوم: مولانا زرولی خان (کراچی)، نائب امیر چہارم: مولانا اللہ داد کاکڑ (ژوب)، سیکرٹری جنرل: مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، سیکرٹری اطلاعات: مولانا قاری اسد اللہ عباسی (مری)، سیکرٹری مالیات: حاجی مطیع الرحمان درخواستی (خانپور)، رابطہ سیکرٹری: مخدوم منظور احمد تونسوی (لاہور)، ان کے ساتھ ڈاکٹر شیر علی شاہ (میران شاہ)، مولانا اکرام الحق خیری (کراچی)، مولانا علاء الدین (ڈیرہ اسماعیل خان)، مفتی حبیب الرحمان درخواستی (خانپور)، اور حاجی غلام مصطفیٰ چڈھر (صادق آباد) پر مشتمل مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔ رابطہ کمیٹی کے مزید ارکان کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے کنوینر اور سیکرٹری مقرر کیے گئے اور انہیں صوبائی رابطہ کمیٹیاں مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا جن کی تفصیل یہ ہے۔

پنجاب کے کنوینر مولانا حامد علی رحمانی (حسن ابدال) اور سیکرٹری مولانا قاری جمیل الرحمان اختر (لاہور)۔ سندھ کے کنوینر مولانا سیف الرحمان آرائیں (حیدر آباد) اور سیکرٹری مولانا احسان اللہ ہزاروی (کراچی)۔ سرحد کے کنوینر مولانا محمد امین (ہنگو) اور سیکرٹری مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل (پشاور)۔ بلوچستان کے کنوینر مولانا محمد حسن (کوئٹہ) او رسیکرٹری مولانا عبید اللہ (مستونگ)۔ شمالی علاقہ جات کے لیے کنوینر مولانا محمد لقمان اور سیکرٹری قاضی نثار احمد۔ آزاد کشمیر کے لیے کنوینر حضرت مولانا محمد الیاس خان (چناری) اور سیکرٹری مولانا عبد الحئی (دھیر کوٹ)

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کا آئندہ اجلاس دسمبر کے آخری ہفتہ کے دوران طلب کیا جائے گا جس میں دستور اور آئندہ پروگرام کی منظوری دی جائے گی۔ جبکہ مارچ ۱۹۹۷ء میں کونسل کے صوبائی اور علاقائی کنونشن منعقد ہوں گے اور مارچ کے آخر میں لاہور میں ’’کل پاکستان نظام شریعت کنونشن‘‘ منعقد کیا جائے گا جس میں مرکزی عہدہ داروں کے باقاعدہ انتخاب کے علاوہ عملی جدوجہد کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل ملک میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے مکمل اور عملی نفاذ کے لیے جدوجہد کرے گی، انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے گی، رائے عامہ کو بیدار کر کے تحریکی قوت منظم کرے گی، اور اسلامی نظام کے نفاذ کی مخلصانہ کوشش کرنے والے ہر فرد اور طبقے کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور ان سے تعاون کرے گی۔ نیز اس امر کا اعلان بھی ضروری سمجھا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل جبر و تشدد کے ذرائع پر یقین نہیں رکھتی اور اس کی جدوجہد پرامن اور قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے منظم کی جائے گی۔

اجلاس میں اس امر کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا کہ پاکستان میں دستوری طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کی ضمانت کے باوجود نفاذِ اسلام میں رکاوٹیں بدستور موجود اور موثر ہیں جن کی وجہ سے اسلام کی عملداری اور بالادستی کا مقصد حاصل نہیں ہو رہا۔ اس لیے مرکزی مجلس شوریٰ نے اس امر کو ضروری قرار دیا ہے کہ دستور پاکستان کا اسلامی نظام کے حوالہ سے ازسرنو تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا تعین کیا جائے جو نفاذ اسلام میں حائل ہیں۔ اس مقصد کے لیے مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی کی سربراہی میں دستوری جائزہ کمیٹی قائم کی گئی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا قاری سعید الرحمان اور مولانا محمد امین آف ہنگو شامل ہیں۔ جبکہ اس سلسلہ میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر (گوجرانوالہ)، جسٹس (ر) مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا محمد یوسف خان (پلندری، آزاد کشمیر)، مولانا محمد حسن جان (پشاور)، مولانا محمد یوسف لدھیانوی (کراچی)، علامہ ڈاکٹر خالد محمود (لاہور) اور دیگر اکابر علمائے کرام اور سرکردہ آئینی ماہرین سے بھی راہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دستور پاکستان کا تفصیلی جائزہ لے کر مرکزی مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی اور یہ رپورٹ پاکستان شریعت کونسل کی جدوجہد اور عوامی تحریک کی علمی و نظریاتی بنیاد ہوگی۔

اجلاس میں انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں، این جی اوز اور بعض اقلیتی گروہوں کی طرف سے اسلامی احکام و قوانین کے خلاف مہم کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلہ میں ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ مرتب کر کے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں کو ان لابیوں کی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے اور ان کے تعاقب کے لیے انہیں منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مولانا سیف اللہ آرائیں آف حیدر آباد کی سربراہی میں کمیٹی مقرر کی گئی جو مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی میں مولانا محمد حسن آف کوئٹہ، مولانا عبد الرشید انصاری آف کراچی، مولانا محمد امین انصاری آف کراچی، اور مولانا قاری محمد اسد اللہ عباسی آف مری شامل ہیں۔

اجلاس میں سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور سنی کاز کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے رابطہ قائم کر کے سنی جدوجہد کو ازسرنو منظم کرنے اور پاکستان کو دستوری طور پر سنی ریاست قرار دلانے کے لیے رائے عامہ کو بیدار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں مولانا قاری محمد اسد اللہ عباسی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جس میں قاضی نثار احمد آف گلگت، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ آف کوہاٹ اور صلاح الدین فاروقی آف ٹیکسلا شامل ہیں۔ یہ کمیٹی مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی۔

اجلاس میں مدارس دینیہ کے خلاف عالمی لابیوں کی مہم اور حکومت پاکستان کے مبینہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، اور مدارس دینیہ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے دینی مدارس کے وفاقوں کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے اس سلسلہ میں بھرپور تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مولانا محمد عبد اللہ آف اسلام آباد کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جو متعلقہ امور کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر مرکزی مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی میں مولانا بشیر احمد شاد، مولانا معین الدین وٹو، مولانا محمد ادریس، مولانا فضل الرحمان درخواستی، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ اور مولانا عبد القیوم حقانی شامل ہیں۔

اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی ہر سطح پر تشکیل کے لیے ملک بھر میں رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا او رطے پایا کہ مرکزی اور صوبائی راہنما اضلاع کی سطح پر دورے کریں گے اور علماء کرام، دینی اداروں اور کارکنوں سے ملاقاتیں اور رابطہ کرنے کے علاوہ عام اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ اجلاس میں مولانا عبدا الخالق آف راولپنڈی، مولانا حافظ ممتاز علی آف بھکر اور مخدوم حافظ عبد الشکور تونسوی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی، نیز مولانا اکرام الحق خیری کے والد محترم کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت کی گئی۔