مری میں صدر بھٹو کے ساتھ جاری مذاکرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی ۱۹۷۳ء
اصل عنوان: 
مری مذاکرات

ان دنوں مری میں صدر مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو اور اپوزیشن کے پارلیمانی قائدین کے مابین اہم قومی مسائل پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ تا دمِ تحریر ان مذاکرات کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، البتہ وفاقی وزیر قانون جناب پیرزادہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان مذاکرات میں اصولی طور پر تمام اہم مسائل کو سیاسی و جمہوری بنیادوں پر افہام و تفہیم کے ذریعے طے کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے، اور تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

ہم نے ان کالموں میں بارہا اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے اہم قومی مسائل کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اس وقت ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل ہے۔ بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اہم مسائل طے کرتے وقت جمہوری اصولوں کا دامن نہ چھوڑے، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر افہام و تفہیم کے ساتھ قومی مسائل کا حل تلاش کرے، اور سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیا جائے۔ کیونکہ اگر سیاسی مسائل کے حل کے لیے غیر جمہوری ذرائع اختیار کیے جائیں تو نتیجہ انتشار، باہمی بد اعتمادی اور بے یقینی کے سوا کچھ نہیں نکلتا، جیسا کہ ہم مشرقی پاکستان میں اس سے بھی زیادہ تلخ نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین محاذ آرائی، اپوزیشن کی جمہوری سرگرمیوں کو نت نئے ہتھکنڈوں سے کچلنے اور سرحد و بلوچستان میں غیر جمہوری اقدامات کے باعث بے یقینی کی جو فضا قائم ہو چکی تھی اس سے ہر شہری پریشان تھا اور ابھی تک اس غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹنے نہیں پائے۔

ان حالات میں صدر مملکت کی طرف سے اپوزیشن راہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت اور مذاکرات کے پہلے دور میں تمام مسائل کو جمہوری بنیادوں پر حل کرنے کا اصولی فیصلہ یقیناً حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر ان راہنماؤں نے حوصلہ،تدبر اور رواداری سے کام لیا تو جلد باہمی اعتماد کی فضا بحال ہو جائے گی اور عوام بے یقینی کی کیفیت سے نجات پا سکیں گے۔

چونکہ مذاکرات جاری ہیں اس لیے ہم سردست مذکورہ بالا گزارشات کے سوا کچھ عرض نہیں کر سکتے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مذاکرات کے نتائج کو ملک و ملت کے حق میں بہتر بنائیں اور ہمارے راہنماؤں کو مل جل کر قوم کی کشتی کو بھنور سے نکال کر ساحل پر لگانے کی توفیق و ہمت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔