لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جون ۱۹۷۳ء

ملتان اور لاہور میں متحدہ جمہوری محاذ کے عام جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے وہ تشدد اور فسطائیت کی دنیا میں نئے نہیں۔ قافلۂ جمہوریت کو اس سے قبل بھی امتحان و آزمائش کے اس موڑ سے بارہا گزرنا پڑا اور اب بھی یہ راہ متحدہ جمہوری محاذ کے رہنماؤں کے لیے جانی پہچانی گزرگاہ ہے۔ دراصل لیاقت باغ کے خونی المیہ کے بعد سے ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ حکمران طبقہ نے اصول، شرافت اور جمہوری عمل کی بساط لپیٹ دی ہے اور اب وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے عوام کو اعتماد میں لے کر سیاسی جنگ لڑنے کی بجائے بندوق کی نالی اور کرایہ کے غنڈوں پر بھروسہ کرے گا۔ جگہ جگہ دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ، ڈی پی آر کے اندھادھند استعمال، متحدہ جمہوری محاذ کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اپوزیشن کے جلسوں میں غنڈہ گردی نے اس امر کی تصدیق کر دی تھی۔ اور رہی سہی کسر ملتان اور لاہور میں متحدہ جمہوری محاذ کے جلسوں کو ناکام بنانے کی خاطر پولیس، وفاقی سکیورٹی فورس اور پیپلز گارڈ کے ’’عوامی‘‘ مظاہروں سے پوری ہو گئی ہے۔

ملتان اور لاہور میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سب کچھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہوا اور پورے صوبہ بلکہ مرکز کی انتظامی مشنری کو متحدہ محاذ کے جلسوں کی ناکامی کے لیے مصروف کر دیا گیا۔ اور جلسوں کی ناکامی کے بعد منائی جانے والی خوشیوں سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ گویا ہماری بہادر پولیس، وفاقی سکیورٹی فورس اور پیپلز گارڈ متحدہ محاذ کے جلسوں کو نہیں بلکہ دشمن کے کسی بڑے حملے کو پسپا کر کے آئی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جو دماغ اور قوت امن عامہ کی بحالی، غنڈہ گردی، جرائم کے انسداد اور جمہوری عمل کے تحفظ کے لیے خرچ ہونی چاہیے تھی، اسے سیاسی غنڈہ گردی کے فروغ اور جمہوری اقدار کی پامالی کی خاطر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہم اس سے قبل بھی ان کالموں میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ تشدد کے ذریعہ جمہوری تحریک کو روکنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر ہمارے حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لاٹھی اور گولی کے ذریعہ قافلۂ جمہوریت کی راہ روک سکیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے، وہ اس خواب سے جتنی جلدی بیدار ہو جائیں ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ حکمران پارٹی کو اس ملک میں سیاسی جنگ لڑنے کا خاصا تجربہ ہے اور وہ سیاسی راستوں سے ہی اس مقام پر پہنچی ہے تو پھر اسے سیاسی میدان میں آنے سے ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ اقتدار پر کسی کو دوام نہیں، یہ کسی کا وفادار نہیں۔ کوئی عقلمند اس پر بھروسہ نہیں کرتا کہ اقتدار آتا ہے تو جانے کے لیے۔

ہماری اپنے حکمرانوں سے صرف یہ گزارش ہے کہ سیاسی عمل کی سیڑھی کو درمیان سے نہ ہٹاؤ ورنہ ایوب خان کی طرح بلندی سے چھلانگ لگانا پڑ گئی تو اس مینار پر دوبارہ چڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاؤ گے۔ آؤ اور اخلاقی جرأت سے کام لے کر سیاسی عمل کو بحال کرو۔ متحدہ جمہوری محاذ اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو آزادی کے ساتھ اظہار رائے کا موقع دو اور خود بھی عوام میں آ کر اپنی پالیسیوں اور طرز عمل کی وضاحت کرو۔ عوام کو اعتماد میں لو اور اس بات کا فیصلہ انہی پر چھوڑ دو کہ حکومت اور اپوزیشن میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔

اس موقع پر ہم متحدہ جمہوری محاذ کے باہمت رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے حوصلہ، تدبر اور جرأت کے ساتھ تحریک جمہوریت کو سنبھالا دیا ہے اور قافلۂ جمہوریت آج پھر ان عظیم قائدین کی پرخلوص راہنمائی میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ قافلہ جلد اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا اور تشدد اور فسطائیت کا ہر وار اس قافلہ کے حوصلہ کے لیے مہمیز ثابت ہوگا، ان شاء اللہ العزیز۔