بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مئی ۱۹۷۴ء
اصل عنوان: 
ایٹم، قوت و توانائی کا محور

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا۔

ایٹم اس دور میں قوت و توانائی کا محور شمار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس قوت سے بہرہ ور ممالک ہی آج دنیا کے بڑے ممالک سمجھے جاتے ہیں اور عملاً دنیا کی قیادت انہی ممالک کے ہاتھ میں ہے۔ حتیٰ کہ اقوام عالم کے مابین عدل و انصاف کے سب سے بڑے علمبردار ادارہ اقوام متحدہ میں بھی ایٹمی قوتوں کو خصوصی اور امتیازی مراعات و اختیارات حاصل ہیں۔ ایٹم جہاں قوت و توانائی کا نشان ہے وہاں تباہی و بربادی کا بھی ایک خوفناک ذریعہ ہے۔ اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تہذیب و امن کی نام نہاد پرچارک بڑی طاقتوں نے اس عظیم قوت کو انسانیت کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی بجائے تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ نتیجتاً ایٹمی ہتھیاروں کی آج اس قدر بہتات ہو چکی ہے کہ خود ایٹمی طاقتیں دوسری اقوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بسا اوقات ایٹمی اسلحہ میں تخفیف کی بات کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

بڑی طاقتوں کے اسی دوہرے کردار کے باعث وہ ایٹم جو انسانی ترقی و فلاح میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے آج اس کا نام زبان پر آتے ہی تباہی و بربادی کے ہولناک تصورات ذہنوں میں لرزنے لگتے ہیں گویا ’’ایٹم‘‘ اور ’’تباہی‘‘ مترادف لفظ ہیں۔ اسی بنا پر بھارت کے اس دعوے کو عالمی رائے عامہ نے کوئی وقعت نہیں دی کہ وہ ایٹمی قوت کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا کیونکہ اس کی پیشرو ایٹمی قوتوں نے ’’پر امن مقاصد‘‘ کے حسین خول اور ’’تخفیف اسلحہ‘‘ کی خوبصورت اوٹ میں ہی انسان کی ہلاکت و خانماں بربادی کے سامان تیار کیے ہیں بلکہ دن رات ان ہتھیاروں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔

ایٹمی طاقتوں میں ایک اور کے اضافے سے عالمی سطح پر کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی اور برصغیر میں کونسی اور حقیقتیں تسلیم کی میز پر رونمائی کے لیے تشریف فرما ہوں گے، اس کے بارے میں صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔ سردست ہم عالم اسلام کے قائدین کو اس طرف توجہ دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بھی اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں اور بڑی طاقتوں کے مفادات سے الگ ہو کر کچھ دیر کے لیے اپنے سود و زیاں کی بابت سوچیں۔ آخر عالم اسلام کب تک بے یقینی کی اس دلدل میں پھنسا رہے گا؟ جہاں تک وسائل کا تعلق ہے عالم اسلام کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن ان وسائل پر اغیار کا تسلط ہے اور مسلم ممالک اپنے وجود کی حفاظت تک کے لیے ’’دشمن‘‘ سے تحفظ کے حصول پر مجبور ہیں۔ عالم اسلام کے قائدین کو یہ باور کر لینا چاہیے کہ مسلم ممالک کا روشن مستقبل بڑی طاقتوں کے دامن سے وابستہ ہو کر سیاسی و دفاعی تحفظ کے حصول میں نہیں بلکہ اپنے تمام تر وسائل کو مجتمع کر کے صنعتی و دفاعی سائنس میں بڑی طاقتوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے میں مضمر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنی استطاعت اور وسائل کی حد تک قوت فراہم کرو۔ اور آج کے دور میں قوت و طاقت کے بغیر کسی قوم کا باوقار طور پر زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اس لیے ہم جس قدر جلد یہ راستہ اختیار کر لیں گے عالم اسلام کے لیے مفید اور یقین و اعتماد کا باعث ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے قائدین کو صحیح سمت چلنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین۔