مرزا مظفر احمد کی ’’خدمات‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد کے بارے میں عوامی حلقہ میں کبھی اس بات میں شک نہیں رہا کہ وہ انہی خطوط پر کام کر رہے ہیں جو مرزائی گروہ کے لیے برطانوی سامراج نے وضع کیے تھے۔ نہ صرف ایم ایم احمد بلکہ اس ٹولہ سے متعلق دوسرے افسران بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر برطانوی سامراج کے خودکاشتہ پودے قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد کے مشن کی تکمیل میں سرگرم ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں عوامی تحریک کا مقصد یہی تھا کہ کسی طرح قوم ان ’’پیران تسمہ پا‘‘ سے نجات حاصل کر لے۔ مگر افسوس کہ ایوان اقتدار نے آنکھیں بند کر لیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ قوم کی گردن پر ان کے تسموں کی گرفت اور زیادہ سخت ہوگئی۔ اس وقت کسی نے دھیان نہ دیا اور آج جب اس عقلت کے ثمرات اپنی تمام تر ہولناکیوں کے جلو میں نمودار ہو رہے ہیں تو ہر ایک انگشت بدنداں ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ حالیہ انتخابات سے قبل مشرقی پاکستان کے متعدد سیاسی راہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں مسٹر ایم ایم احمد کو اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ماضی میں اقتصادی طور پر مشرقی پاکستان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں ان کے ذمہ دار مسٹر ایم ایم احمد ہیں کہ انہوں نے اقتصادی منصوبہ بندی میں مشرقی پاکستان کو ثانوی حیثیت دی۔ اور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات جو آج سیاسی بحران کا باعث بنے ہیں اسی نا انصافی اور ترجیحی سلوک کی صدائے بازگشت ہیں۔

صدر مملکت نے مسٹر ایم ایم احمد کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے تو ہٹا دیا مگر اس سے زیادہ اہم پوسٹ ان کو دے کر اپنا اقتصادی مشیر مقرر کر لیا۔ اور صدر کے مشیر کی حیثیت سے ان صاحب نے جو ’’خدمات‘‘ سرانجام دیں وہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ، پی آئی اے کے سابق سربراہ، سابق ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور سابق گورنر مغربی پاکستان جناب نور خان سے دریافت کیجئے۔ انہوں نے ۲ مارچ کو اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرف اشارات کیے ہیں۔ روزنامہ آزاد لاہور ۳ مارچ کے مطابق جناب نور خان نے مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کا ذمہ دار نوکر شاہی خصوصاً ایم ایم احمد کو قرار دیا اور الزام لگایا کہ موصوف صدر مملکت کو غلط مشورے دے کر ملک کے دونوں حصوں کے درمیان اختلافات کی خلیج کو وسیع کر رہے ہیں۔ جناب نور خان نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ سیاسی بحران بپا کرنے کے لیے مسٹر احمد اور ان کے ساتھی افسروں نے اور بھی خفیہ سازشیں کی ہیں۔

گویا اقتصادی اور سیاسی دونوں میدانوں میں ایم ایم احمد اور ان کا ٹولہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو آپس میں لڑانے کے لیے پوری منصوبہ بندی سے کام کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے کہ یہ منصوبہ بندی کسی منطقی نتیجے تک پہنچے، اگر خدانخواستہ خدانخواستہ خدانخواستہ خاکم بدہن ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری نہ صرف نوکرشاہی ایم ایم احمد اور ان کے رفقاء پر ہوگی بلکہ وہ افراد بھی اس قومی جرم میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے جنہوں نے ۱۹۵۳ء میں عوامی مطالبہ پر قوم کو ان ’’پیرانِ تسمہ پا‘‘ سے نجات دلانے کی بجائے قوم کے ہزاروں نونہالوں کے خون سے پاک سرزمین کو رنگ دیا تھا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس روز بد سے قوم کو بچائیں، آمین یا الہ العالمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء
اصل عنوان: 
ایم ایم احمد کی خدمات