حامد میر صاحب کی سیاسی چاند ماری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اپریل ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
فکری و سیاسی اختلافات میں الزام تراشی کا رویہ

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کر دیں گے۔

حامد میر صاحب سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کی دنیا کے آدمی ہیں، البتہ مطالعہ وتحقیق کو کسی بھی موقع پر اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں، اسی لیے جب وہ کوئی بات خود سے کہنا چاہتے ہیں تو انھیں کوئی نہ کوئی حوالہ مل جاتا ہے اور وہ یہ تحقیق کیے بغیر کہ یہ حوالہ سند کی دنیا میں کیا درجہ رکھتا ہے اور درایت میں اس کی کیا حیثیت ہے، اس کی بنیاد پر اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ انھوں نے بھٹو مرحوم کی پھانسی کے کیس کو ’’ری اوپن‘‘ کیے جانے کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ کالم میں ۱۹۷۷ء کی تحریک مصطفی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ تحریک بھٹو مرحوم کے خلاف امریکہ کے کہنے پر چلائی گئی تھی اور اس میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ او رمولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ لاہور کے برطانوی قونصل جنرل کا مسلسل رابطہ تھا۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کون سی تحریک کس کے کہنے پر چلائی گئی تھی، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جنوبی ایشیا کی کوئی سیاسی تحریک بھی ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں یہ نہ کہا گیا ہو کہ وہ فلاں قوت کے اشارے پر چلائی گئی تھی، حتیٰ کہ تحریک پاکستان کے بارے میں خان عبد الولی خان مرحوم اور لاہور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب محمد نورالحق قریشی کے پیش کردہ بھاری بھرکم حوالہ جات پر اعتماد کیا جائے اور حامد میر صاحب کے طرز استدلال کو اختیار کیا جائے تو اس کے پیچھے بھی امریکہ اور برطانیہ کے سیاسی مقاصد اور ایجنڈے کی جھلک صاف نظر آنے لگتی ہے۔ یہ بات ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن گئی ہے کہ ہم اپنے سوا کسی اور کو کوئی سیاسی موقف طے کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جس سے ہمیں اختلاف ہوتا ہے، اس کی دیانت پر اعتماد کرنے کی بجائے اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی دشمن کے ساتھ ملا دینے میں نفسیاتی تسکین محسوس کرتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار میں ملک کے ایک معروف دانش ور نے بعض معاشی مسائل کے حوالے سے چند معروف علما کے موقف پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ انھوں نے فلاں قوت سے پیسے لے کر یہ موقف اختیار کیا ہے۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے اپنے خطاب میں گزارش کی کہ جب ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح پر پائی جانے والی دانش کا یہ حال ہے کہ بعض حضرات خود سے اختلاف رکھنے والوں کو کسی دوسرے کا ایجنٹ بتائے بغیر اپنا موقف پیش کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ایک غریب اور عام شخص کا کیا حال ہوگا؟ ہم میں یہ حوصلہ اور اخلاقی جرات ہی نہیں رہی کہ ہم کسی دوسرے کے موقف اور رائے کو اس کا حق سمجھتے ہوئے اس کی دیانت پر اعتماد کریں اور یہ کہہ کر اس سے اختلاف کریں کہ اس نے اپنی صواب دید اور دیانت کے مطابق جو موقف خلوص کے ساتھ اختیار کیا ہے، ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے اور اس پر کوئی الزام عائد کیے بغیر ہم دلیل کے ساتھ اس اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں۔

اہل علم کے ہاں راوی اور روایت کا درجہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ درایت کو بھی روایت کے قبول یا عدم قبول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ حامد میر صاحب نے اس واقعہ میں جن صاحب کو بطور راوی پیش کیا ہے، ان کا اخلاقی حدود اربعہ کیا ہے؟ مگر میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کو جانتا ہوں اور اتنا قریب سے جانتا ہوں کہ شاید ہی ان کا کوئی اور رفیق کار اس درجے میں اس بات کا دعویٰ کر سکے۔ وہ اس مزاج کے بزرگ ہی نہیں تھے۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں ہے کہ مولانا عبید اللہ انور کے ساتھ کسی سفارت کار کے مسلسل رابطے تھے، اس لیے کہ وہ تو گوشہ نشین اور خلوت پسند قسم کے بزرگ تھے۔ بالخصوص ایوبی آمریت کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی جلوس کی قیادت کے دوران پولیس کے لاٹھی چارج سے ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کے بعد سے وہ معذور بھی ہو گئے تھے اور ان کا زیادہ تر وقت اپنے گھر کے بالا خانے میں گزرتا تھا ہاں وہ مطالعہ اور ذکر الٰہی میں شب وروز مصروف رہتے تھے۔ ہم چند لوگ جو ان کے قریب ترین ساتھی شمار ہوتے تھے، کسی اشد ضرورت کے بغیر انھیں ملاقات اور تشریف آوری کی زحمت نہیں دیا کرتے تھے اور وہ کئی کئی دن اپنے خاص مریدوں اور ساتھیوں کو بھی میسر نہیں آتے تھے۔ ان کے گھر کے زیر سایہ مدرسہ قاسم العلوم میں جمعیۃ علماء اسلام کے اہم اجلاس ہوتے تھے اور ہمیں ان سے دریافت کرنا پڑتا تھا کہ وہ اجلاس میں شریک ہونے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں؟ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ایک غیر ملکی سفارت کار کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور سیاسی تحریک کو مخصوص رخ پر چلانے کے لیے کوئی متحرک کردار ادا کر رہے تھے، لطیفہ اور ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟

حامد میر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ’’سیاسی چاند ماری‘‘ کا شوق ضرور پورا کریں کہ آج کل سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ کالم نویسوں کے پاس بھی اس کے سوا کوئی مشغلہ باقی نہیں رہا، لیکن کم از کم ایسے بزرگوں کو تو معاف کر دیا کریں کہ جن کی شرافت، دیانت اور ثقاہت کے سہارے ہمارے معاشرے میں ان مقدس الفاظ کا کچھ نہ کچھ بھرم قائم ہے۔ کیا وہ اس رہے سہے بھرم کو بھی ختم کر دینے کی خواہش رکھتے ہیں؟