واپڈا میں غبن / چینی کا بحران / صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری/ مفرور ملزموں کی گرفتاری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

صوبائی وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واپڈا کے ریکارڈ میں ستائیس کروڑ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، یہ رقم قومی کاموں پر لگانے کی بجائے خردبرد کر لی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ انکشاف کوئی نیا نہیں، اس سے قبل بھی واپڈا اور دیگر قومی اداروں میں اس قسم کے غبن ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہر بار بڑے شدومد کے ساتھ تحقیقات کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا۔

قومی رقوم کا اس قدر بے دردی کے ساتھ ضیاع معمولی جرم نہیں، خصوصاً اس وقت جبکہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے بے پناہ غیر ملکی قرضوں کا طوق بھی قوم کی گردن میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی افسر شاہی ناقابل برداشت ہے۔ ہم پنجاب کے نیک دل وزیر اعلیٰ سے صرف اتنی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اس غبن کی تحقیقات کا حشر بھی پہلی تحقیقات جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے وہ کسی رعایت کے حقدار نہیں ہیں، جرم کے ثبوت پر نہ صرف انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جائے بلکہ انہیں مناسب سزا دینے کے ساتھ ساتھ اس غبن سے بنائی ہوئی ان کی جائیدادوں کو ضبط کر کے اس قومی نقصان کی تلافی کی جائے۔

چینی کا بحران

باوجودیکہ ملک میں چینی کی ملیں پہلے سے زیادہ ہیں اور بیرون ممالک سے درآمد کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر چینی کے نرخ غریب اور متوسط طبقہ کی استطاعت سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ تا دمِ تحریر چینی ہمارے شہر میں آٹھ روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ خدا جانے اس کی کیا وجہ ہے مگر اس سلسلہ میں دو خبریں خصوصاً قابل توجہ ہیں۔

ایک خبر یہ کہ شوگر ملوں کے اسٹاک میں ایک لاکھ ٹن چینی صرف اس لیے رکی پڑی ہے کہ حکومت اور شوگر ملوں کے مالکان کے مابین نرخ اور کھلی مارکیٹ کے کوٹہ کے تعین کے بارے میں ابھی تک قطعی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ دوسری خبر کے مطابق کراچی کی بندرگاہ میں درآمدی چینی اور دوسری اجناس کے ۳۲ جہاز کافی عرصہ سے رکے ہوئے ہیں اور ان سے مال اتارا نہیں جا سکا۔

تعجب کی بات ہے کہ ملک میں چینی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور حکومت ابھی تک شوگر ملوں سے تصفیہ اور بندرگاہ پر مال اتارنے کے انتظامات نہیں کر سکی۔ چینی کی گرانی اور کم یابی کے اسباب مندرجہ بالا ہوں یا کوئی اور، بہرحال یہ معاملہ اب حد درجہ تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ اب مسئلہ ہفتہ میں دو دن مٹھائی کے ناغہ یا اس قسم کے اقدامات سے حل نہیں ہوگا، بلکہ حکومت کو فوری اور ٹھوس قدم اٹھا کر صارفین کو اس ہوش ربا گرانی سے نجات دلانی چاہیے۔

صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاریوں کا تقرر

صوبہ سرحد کی حکومت نے صوبہ کے تمام ہائی اسکولوں میں ایک ایک قاری مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو طلباء کو صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن کریم پڑھائیں گے۔ اس طرح دیہات کے پرائمری اسکولوں میں بھی اسلامیات کی تعلیم کے لیے پروگرام پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی مستحسن اور قابل صد تبریک ہے۔ اس اہم فیصلہ سے نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے مانوس کرنے اور قرآن کریم کی اشاعت میں مدد ملے گی۔

ہم اس مبارک فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوسری صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی باضابطہ تعلیم کے لیے مستند قراء کا تقرر کریں۔

۲۱ مفرور ملزموں کی گرفتاری

صوبہ سرحد میں امن عامہ کی صورتحال دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے مگر مرکزی وزراء صوبائی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ حالانکہ اب تک وہاں ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہو۔ البتہ اغواء کی وارداتیں ایک اہم مسئلہ کی صورت اختیار کر گئی ہیں مگر یہ صرف صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ مرکزی حکومت بھی اس ذمہ داری میں برابر کی شریک ہے۔ کیونکہ اغواء کی وارداتیں وہ مفرور ملزم کرتے ہیں جو مختلف مقدمات میں ملوث ہیں مگر پولیس کی دسترس سے باہر قبائلی علاقوں میں چھپے بیٹھے ہیں اور قبائلی علاقہ براہ راست مرکزی حکومت کے تحت ہونے کے باعث صوبائی کنٹرول میں نہیں۔

اس کے باوجود مولانا مفتی محمود نے گزشتہ دنوں مفرور ملزموں کو پکڑنے کے لیے ایک خصوصی مہم کا اعلان کیا جس کے بعد اب تک مردان کے ایس پی کے مطابق صرف مردان میں ۲۱ مفرور ملزم گرفتار کر لیے گئے ہیں جو متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کے قبضہ سے مسروقہ اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ہم صوبائی حکومت کی اس خوش آئند مہم کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور مرکزی حکومت نیز قبائلی عوام اور سرداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جرائم کے مکمل انسداد کے لیے صوبائی حکومت کی اس مہم میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔