پنجاب میں زمینوں کی تقسیم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جون ۱۹۷۱ء

پنجاب میں سرکاری زمینوں کی تقسیم کا کام شروع ہو گیا ہے اور ہر جگہ پر اس سلسلہ میں کمیٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں جو اس سلسلہ میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی اور اراضی کی تقسیم کی نگرانی کریں گی۔ ہر کمیٹی دس افراد پر مشتمل ہے جس میں زمینداروں، کاشتکاروں، ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ اس بات کا اعلان ریونیو بورڈ کے ممبر جناب محمد مسعود ایس ایس پی نے کیا ہے۔

پنجاب گورنمنٹ کا یہ اقدام انقلابی اور ہدیۂ صد ہزار تبریک و تحسین کا مستحق ہے کہ اس نے بے زمین کاشتکاروں میں سرکاری اراضی کی تقسیم کا فیصلہ کر کے ایک دیرینہ عوامی مطالبہ اور خواہش کی تکمیل کی طرف جرأت مندانہ قدم بڑھایا ہے۔ اور جناب ایم مسعود بھی لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے نگران کمیٹیوں میں ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کی نمائندگی کا اعلان کر کے قومی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ان دو مظلوم طبقوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ دینی نظام تعلیم میں ائمہ مساجد اور عصری نظام تعلیم میں اسکول ماسٹر قوم کی تعلیم و تربیت اور نئی نسل کی ذہنی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خصوصاً دیہات میں ان کا کردار اور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن یہی دو طبقے ہیں جو سب سے زیادہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور معاشی تفکرات ان کے فرائض منصبی کی تکمیل کی راہ میں ہر وقت رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔

ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس رائے کے اظہار پر مجبور ہیں کہ ان دو طبقوں کو محض کمیٹیوں میں نمائندگی دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ بے زمین کاشتکاروں کی طرح ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کو بھی زمین کی تقسیم میں حقدار قرار دیا جانا چاہیے۔ اور کم از کم ہر خاندان کو گزارہ یونٹ ضرور ملنا چاہیے تاکہ وہ معاشی تفکرات سے فارغ ہو کر اپنے منصبی فرائض کی تکمیل میں پوری توجہ اور دل جمعی کے ساتھ محنت کر سکیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جناب ایم مسعود، ریونیو بورڈ کے دیگر ارکان اور حکومت پنجاب ہماری گزارشات پر گہری ہمدردی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔