ایرانی عوام کی جدوجہد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم ہے کہ شاہ ایران کی قائم کردہ متعدد حکومتیں فوجی طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد دستبردار ہو چکی ہیں۔ مگر تحریک کی شدت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر کی زبردست پشت پناہی کے باوجود ایران میں شاہ اور شاہی خاندان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔

پاکستان کا قومی پریس اور سرکردہ سیاستدان ایرانی عوام کی اس جدوجہد کے بارے میں ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس کے پیچھے کمیونسٹ عناصر کا ہاتھ ہے اور اگر یہ تحریک کامیاب ہوگئی تو ایشیا کے اس خطہ میں کمیونزم کا نفوذ ایک بڑی اور مؤثر رکاوٹ عبور کر جائے گا۔ اسی خدشہ کے پیش نظر پاکستان میں شاہ ایران کی حمایت اور ایرانی عوام کی جدوجہد کی مخالفت کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے مگر ہمارے خیال میں یہ نقطۂ نظر درست نہیں ہے۔

  • اولاً اس لیے کہ ایرانی عوام کی اس تحریک میں مذہبی عنصر کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور تحریک اور عوامی جذبات پر مذہبی راہنماؤں کے کنٹرول کا یہ عالم ہے کہ اس کی موجودگی میں کمیونسٹ عنصر کے مؤثر ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
  • ثانیاً اس لیے کہ کمیونزم ہمیشہ جبر اور گھٹن کے راستے سے آگے بڑھتا ہے جبکہ ایران میں شہنشاہیت کا وجود ہی جبر اور گھٹن کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اور کمیونزم کا راستہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ شہنشاہیت ختم ہو اور کھلی فضا قائم ہو کیونکہ کھلی فضا میں کمیونزم کے جراثیم اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔
  • ثالثاً اس لیے کہ ایرانی عوام کی اس تحریک میں کمیونسٹ عناصر کا عمل دخل موجود ہو تب بھی حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ تحریک کے کمیونسٹ عنصر کے مقابلہ میں مذہبی عنصر کو تقویت دی جائے اور اسے زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
  • رابعاً اس لیے کہ پاکستان اور ایران دو پڑوسی ملک ہیں اور ملکوں کے درمیان دوستی افراد اور خاندانوں کے حوالے سے نہیں بلکہ عوام کے حوالے سے ہوتی ہے۔ چنانچہ اس دوستی کے پیش نظر بھی ایرانی عوام اس بات کا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد کی حمایت کی جائے۔
  • خامساً اس لیے کہ تحریک کے قائدین بار بار اس عزم اور ارادے کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ ایران میں اسلامی قوانین و نظام کا نفاذ کریں گے اور چونکہ ایسا کہنے والے مذہبی پیشوا ہیں اس لیے اس عزم کے بارے میں بے اعتمادی کا اظہار بھی نہیں کیا جا سکتا، اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ایران میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک کو سپورٹ کیا جائے۔

ان وجوہ کی بنا پر ہم پاکستانی پریس اور قومی راہنماؤں سے یہ عرض کریں گے کہ وہ صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور ایران کے حالیہ واقعات کو دائیں اور بائیں بازو کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے انسانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھیں اور ایرانی عوام کی جدوجہد کی حمایت کریں۔

درجہ بندی: