صحافت اور ذمہ داری / بسوں کے کرایوں میں اضافہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اپریل ۱۹۸۲ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ذمہ دارانہ صحافت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی پابندی عائد کرنے کا ارادہ ہے۔ اخبارات کو چاہیے کہ وہ ایک عظیم مشن اور سماجی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے پیشہ وارانہ مفادات کا لحاظ رکھتے ہوئے عوام کی مثبت خطوط پر رہنمائی کریں۔

صدر کا یہ کہنا اس پس منظر میں بالخصوص قابل غور ہے کہ پریس پر سنسرشپ مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اب اس کیفیت میں ہے کہ روزنامہ اخبارات پر پیشگی سنسر نہیں ہے جبکہ سنسر کے قوانین و احکام بدستور موجود ہیں اور ہفتہ روزہ و ماہنامہ جرائد پر پیشگی سنسر کی پابندی ابھی جاری ہے۔

صحافت کی آزادی اور اظہارِ رائے کا غیر مشروط حق آج کے دور میں کسی بھی آزاد معاشرہ کا ایک حصہ ہے جس کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات و جرائد پر جب بھی کوئی پابندی عائد کی گئی آزادیٔ صحافت کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے چند وقتی اور یکطرفہ ضروریات کو اس پابندی کے جواز کی بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اور ہمارے ہاں سیاست کی طرح صحافت میں بھی تسلسل کے بار بار ٹوٹ جانے سے ہی وہ شکایات اور مشکلات پیدا ہوئیں جنہیں آج سنسر شپ کے جواز کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ ہمیں صحافت میں ذمہ دارانہ کردار کی اہمیت سے انکار نہیں اور نہ ہی ہم ان مختلف النوع شکایات کو بالکل بے وجہ قرار دیتے ہیں جو آج کی صحافت سے قومی معاشرے کے مختلف حلقوں کو درپیش ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ صحافت میں ذمہ دارانہ معیار کے قائم نہ ہو سکنے کی وجہ کیا ہے؟ ہمارے خیال میں اس کی بڑی وجہ صحافت کی غیر مشروط آزادی کے تسلسل کا بار بار ٹوٹنا ہے جس کے باعث قومی صحافت کسی ایک متعین معیار اور رخ پر قائم نہیں رہ سکی۔ ایک ترقی پذیر معاشرہ میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح سیاست اور صحافت میں بھی تسلسل ہی کے ذریعے خرابیوں اور خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

بسوں کے کرایوں میں اضافہ

حکومتِ پنجاب کے ایک سرکاری اعلان کے مطابق پنجاب میں مختلف شہروں کے درمیان اور اندرون شہر چلنے والی بسوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے حالانکہ ابھی اس اضافے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جو گزشتہ سال حکومت پنجاب نے کیا تھا۔ ہر سال کرایہ بڑھانے کے رجحان نے عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ حکومت کے کارپردازوں کو کرایوں میں اضافہ کا فیصلہ کرتے وقت عوام کی قوتِ خرید پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اشیاء خوردونوش کی روز افزوں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تنخواہوں اور فروخت میں انجماد سے عوام کا متوسط طبقہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ فلک بوس گرانی کے باعث سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے بھی اب کوئی ذریعہ موجود نہیں رہا۔

عوام کی اکثریت سرکاری بسوں میں اندرون شہر سفر کرتی ہے، عام آدمی کے سفر کا یہی قدرے سستا ذریعہ تھا لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ نے عوام کی مجبوریوں کو مدنظر رکھے بغیر کرایوں میں جو اضافہ کیا ہے اس سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ ہمارے خیال میں حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کر کے اربن ٹرانسپورٹ کی بسوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے اس کی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے۔ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بسوں کی روزانہ آمدنی میں چوری کا سدباب اور نئے عملہ کی بلاضرورت بھرتی کی روک تھام کی جائے، اس سے نہ صرف یہ کہ آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی بہتر سہولیات میسر ہونے کی توقع ہے۔