جمعیۃ علماء اسلام اور امام ولی اللہ کا انقلابی اسلامی پروگرام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ فروری ۱۹۷۵ء

تحریک آزادیٔ ہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں ایک عرصہ تک صرف داخلی خودمختاری اور آئینی مراعات کے مطالبات پر اکتفا کیے ہوئے تھیں لیکن بہت جلد ان کو جمعیۃ علماء ہند کی طرح مکمل آزادی کے اسٹیج پر آنا پڑا۔ آزادی کی آئینی تحریک میں ولی اللہی پارٹی کے نامور رہنماؤں حضرت شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ، حضرت مولانا احمد سعیدؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ، حکیم محمد اجمل خانؒ، ڈاکٹر انصاریؒ، حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا عبد الرحیمؒ پوپلزئی، حضرت مولانا تاج محمودؒ امروٹی، حضرت مولانا غلام محمد دین پوریؒ، حضرت مولانا محمد نعیم لدھیانویؒ، اور مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم پر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ، چوہدری افضل حقؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، شیخ حسام الدینؒ، مولانا گل شیر شہیدؒ، حافظ علی بہادرؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ نے عظیم قربانیاں دیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور آزادیٔ وطن کی عظیم تحریک کے ہراول دستے کا کردار ادا کر کے تاریخ میں اپنے اسلافؒ کے کارناموں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔

اور پھر جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اگرچہ ولی اللہی پارٹی کے سرکردہ ارکان قیام پاکستان کے مخالف تھے اور جمعیۃ علماء ہند نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی تھی، لیکن اس فیصلہ سے اختلاف کر کے تحریک پاکستان کے کیمپ میں شامل ہونے والے عظیم راہنما علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی ولی اللہی گروہ سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ قطع نظر اس بات کے کہ دونوں میں سے کن بزرگوں کا موقف درست تھا اور مرور زمانہ نے کن کے خدشات کو حقیقت کے روپ میں پیش کر دیا ہے، بہرحال تحریک پاکستان بھی اپنی کامیابیوں میں علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ان کے رفقاء کے فیصلہ کن کردار کی رہینِ منت ہے جس کا اعتراف خود بانیٔ پاکستان اور اس وقت کے قومی پریس نے کیا تھا۔

پاکستان بن چکا تو اس کی مخالفت کرنے والوں نے اسے بنانے والوں سے بھی زیادہ اپنا عزیز وطن سمجھا، اس کی سالمیت کے لیے جدوجہد کی اور جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آیا تو ولی اللہی گروہ کے تمام ارکان نے بلاتمیز ملک کے تحفظ کے لیے قربانیاں دیں۔ قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ملکی سالمیت پر تقاریر، اور سقوط ڈھاکہ سے قبل ملک کی تقسیم کو روکنے کے لیے قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی مخلصانہ مساعی اس حقیقت کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

یہ تذکرہ نامکمل ہوگا اگر فرنگی کے خود کاشتہ پودے قادیانیت کے خلاف ولی اللہی گروہ کی خدمات کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ قادیانیت کا محاسبہ کرنے میں یہ گروہ سب سے پیش پیش رہا۔ دوسرے بزرگوں مثلاً حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا داؤد غزنویؒ، حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ، حضرت مولانا ابوالحسناتؒ، حضرت مولانا غلام محمد ترنمؒ، حضرت مولانا مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، اور حضرت مولانا مظہر علی اظہرؒ کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسے مشن بنا کر شب و روز اس کے لیے وقف ہوجانا اور علمی و عملی ہر سطح پر اس کا مکمل محاسبہ ولی اللہی قاسمی مکتب فکر ہی کے حصہ میں آیا ہے۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، حضرت مولانا محمد حیات مدظلہ، حضرت العلام مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ، قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی خدمات جلیلہ اس پر شاہد عدل ہیں۔ اور اب جب کہ

  • پاکستان میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی برائیاں اپنی جڑیں روز بروز مضبوط تر کرتی جا رہی ہیں،
  • ربع صدی گزر جانے کے بعد بھی پاکستان کو اسلامی نظام نہیں دیا جا سکا،
  • ابھی تک ہم فرنگی کے سیاسی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی، قانونی اور سول سروس کے نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے،
  • عوام بے یقینی اور نئی نسل گمراہی کا شکار ہوتی جا رہی ہے،
  • یہ نظام دم توڑ رہا ہے اور نئی نسل کو اس کی جگہ ایک اور کافرانہ نظام قبول کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے،

ولی اللہی گروہ پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام کے نام سے اس مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے کہ امام ولی اللہؒ کے سیاسی اور اقتصادی نظریات کی روشنی میں ’’فک کل نظام‘‘ (ہمہ گیر انقلاب) کے ذریعہ قرآن و سنت کا عادلانہ نظام اس ملک میں نافذ کیا جائے۔ قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد میں اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ کی پیروی میں اسلامی اصلاحات کا نفاذ کر کے جمعیۃ کے مقاصد کی عملاً وضاحت کر دی ہے۔