سیاسی جماعتوں کی تعداد ۔ حکومت اور قومی راہنماؤں کی توجہ کے لیے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ اپریل ۱۹۷۸ء

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے گزشتہ روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی تعداد کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس وقت ملک میں باضابطہ طور پر ۶۷ سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔

اگرچہ ان ۶۷ باضابطہ سیاسی جماعتوں میں سے بیشتر کا وجود صرف الیکشن کمیشن کی فائلوں اور بانی صدور کی ذاتی ڈائریوں تک محدود ہے تاہم عملی میدان میں سیاسی ورک کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی تعداد بھی ایک درجن سے کم نہیں ہے اور یہ تعداد ایک آزاد سیاسی معاشرہ کی ضرورت سے بہت زیادہ ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں سیاسی عمل کے تسلسل اور آزادی کے ساتھ جاری نہ رہنے کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو منظم ہونے اور فطری طور پر کچھ سیاسی پارٹیوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل سکا جس کی وجہ سے غیر منظم اور غیر مربوط سیاسی گروپوں نے مذکورہ بالا صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔

اگر ہمارے ہاں سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ آزادانہ طور پر جاری رہتا تو تین چار عام انتخابات کے بعد ملک گیر سطح پر عوام سے منظم رابطہ رکھنے والی تین چار سیاسی جماعتیں خود بخود سامنے آجاتیں اور بے عمل و غیر منظم سیاسی گروپ عملی سیاست سے ’’ناک آؤٹ‘‘ ہو جاتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور چند عہدہ داروں، منشور، دستور، ایک آدھ دفتر اور سیاسی بیانات کی کاغذی دیواروں پر قائم ہونے والی بے شمار پارٹیاں ’’برساتی کھمبیوں‘‘ کی طرح نمودار ہوتی چلی گئیں جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی گروپوں میں بٹ کر رہ گئی ہے اور ان کی صلاحیتیں ملک و قوم کے مفاد میں صرف ہونے کی بجائے باہمی مسابقت پر برباد ہو رہی ہیں۔ اور سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ رائے عامہ منظم ہونے کی بجائے ان سیاسی جماعتوں کی گروہی انا کے باعث منتشر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مختلف مواقع پر ہم خیال سیاسی جماعتوں نے متحدہ محاذ قائم کر کے اور باہم مدغم ہو کر بھی اس صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے اور وقتی طور پر کچھ مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑے تجربہ پاکستان قومی اتحاد کو جو ’’ریورس گیئر‘‘ لگا ہے اس کے پیش نظر بعض سیاسی حلقوں کے اس رجحان کو یقیناً تقویت حاصل ہوئی ہے کہ متحدہ محاذوں کا تجربہ ہمارے ہاں شاید کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور غالباً سیاسی جماعتوں کی تعداد کو کم کرنے کی تجویز بھی اس پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں کی تعداد کو محدود کرنے کی خواہش ہے ہمارے خیال میں یہ فطری اور مناسب خواہش ہے لیکن ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کا فطری راستہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ

  • سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے،
  • سیاسی پارٹیوں کا دائرہ عمل دفتروں، پریس کانفرنسوں اور اخبارات کے دفاتر تک محدود رہنے کی بجائے رابطۂ عوام کا وسیع میدان ہو،
  • اور عام انتخابات کا کسی تعطل کے بغیر انعقاد ہوتا رہے۔

تاکہ عوام سے براہ راست رابطہ رکھنے والی دو چار پارٹیاں سامنے آکر قومی سیاست میں مؤثر اور مفید کردار ادا کر سکیں۔ لیکن اگر اس طویل اور صبر آزما فطری طریق کار کی بجائے کوئی ’’شارٹ کٹ‘‘ راہ اختیار کرنا ہی کسی ’’مصلحت‘‘ کے باعث ضروری ہو تو بھی ہم یہ گزارش کریں گے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں میں سے کچھ کو باقی رکھ کر باقی کو مسترد کرنے کا اختیار صرف اور صرف عوام ہی کو حاصل ہے۔ اور رائے عامہ کو اعتماد میں لیے بغیر اس سلسلہ میں کیا گیا کوئی بھی فیصلہ نہ تو مؤثر ثابت ہوگا اور نہ ہی دیرپا۔

اس لیے اس سلسلہ میں ہماری تجویز یہ ہے کہ پارٹی سسٹم کی بنیاد پر ریفرنڈم کرا کے ملک گیر سطح پر رائے عامہ کا سب سے زیادہ اعتماد حاصل کرنے والی چار پارٹیوں کو قائم رکھا جائے اور باقی جماعتوں کو ان چار میں سے کسی ایک میں شامل ہوجانے کا پابند کر دیا جائے۔ تاکہ سیاسی جماعتوں کی تعداد میں تحدید کا یہ عمل رائے عامہ کے اعتماد کے باعث مؤثر، نتیجہ خیز اور دیرپا ثابت ہو۔