ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اگست ۲۰۰۲ء

روزنامہ اوصاف اسلام آباد، فرینکفرٹ اور لندن کے بعد ۱۱ اگست ۲۰۰۲ء کو ملتان سے اپنی اشاعت کا آغاز کر رہا ہے، اس مناسبت سے ملتان کے حوالہ ے چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

ملتان ایک پرانا اور تاریخی شہر ہے جس کا ذکر قبل از مسیح دور کی تاریخ میں اسی نام سے ملتا ہے اور تاریخ کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں جب اسلامی فوجیں ۴۴ھ میں سجستان اور مکران پر قابض ہوئیں تو مسلم کمانڈر ابن المہلبؒ کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملتان تک پہنچا لیکن اس شہر پر قبضہ نہ کر سکا۔ اس کے بعد جب سندھ کے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں اسلامی فوجوں نے یلغار کی اور سندھ کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسمؒ نے پیش قدمی جاری رکھی تو ۹۵ھ میں اس نے ملتان کا محاصرہ کر لیا جہاں راجہ داہر کا چچا زاد بھائی گوڑ سنگھ حکمران تھا، گوڑ سنگھ نے حملہ کی تاب نہ لاتے ہوئے راہِ فرار اختیار کی اور محمد بن قاسمؒ نے شہر پر لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا۔ اس طرح یہ تاریخی شہر پہلی بار اسلامی قلمرو میں شامل ہوا اور اموی خلیفہ ولید بن عبد الملکؒ کا پوتا داؤد بن نصرؒ اس علاقہ کا حکمران بنا جس کے خاندان نے کم و بیش ایک سو سال تک اس خطہ پر حکومت کی۔

اس کے بعد مصر میں فاطمی خاندان کی خلافت قائم ہوئی اور قرامطہ اور اسماعیلیوں کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوا تو ملتان بھی اس کی زد میں آگیا اور ایک مرحلہ ایسا آیا کہ ملتان کا الحاق مصر کی فاطمی خلافت سے ہوگیا اور فاطمی خلیفہ کے نام سے خطبہ پڑھا جانے لگا۔

چوتھی صدی ہجری کے آخر میں سلطان محمود غزنویؒ ملتان کی طرف متوجہ ہوا، متعدد حملوں کے بعد ۴۰۱ھ میں ملتان کو فتح کر لیا اور ۴۱۶ھ میں اس نے سومنات پر حملہ کے لیے جاتے ہوئے جنگ کی تیاریاں بھی ملتان میں رک کر مکمل کیں۔

دہلی میں مغل سلطنت کے زوال اور کمزوری کے بعد جب جنوبی ہند کے مرہٹوں نے زور پکڑا اور ہندو جنونیت کے جوش میں مرہٹہ فوجیں دہلی کی طرف بڑھیں تو اسی دوران مرہٹوں نے ملتان پر بھی قبضہ کر لیا اور ملتان کا مسلم حاکم جہاں خان کابل فرار ہوگیا۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دعوت پر افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ نے ہندوستان پر چڑھائی کی اور پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دے کر ان کی قوت کو توڑ دیا تو اس کے بعد اس نے ملتان کو بھی مرہٹوں کے قبضہ سے نجات دلائی۔ ملتان کے ساتھ احمد شاہ ابدالیؒ کا خصوصی تعلق بھی تھا کہ اس کے باپ خان زمان نے ملتان میں یہاں کی خاتون سے شادی کی تھی اور احمد شاہ ابدالی اسی خاتون کے بطن سے ملتان میں ہی پیدا ہوا تھا۔ اس طرح ملتان احمد شاہ ابدالیؒ کی جائے پیدائش اور ننھیال کی حیثیت بھی رکھتا تھا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد پنجاب میں سکھوں کا زور بڑھا تو گنڈا سنگھ کی قیادت میں سکھوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا جسے نو سال کے بعد شجاع خان نے نواب بہاولپور کی مدد سے واگزار کرایا۔ لیکن اس کے بعد پھر سکھوں کا قبضہ ہوگیا جس پر شجاع خان کے بیٹے مظفر خان نے احمد شاہ ابدالیؒ کے بیٹے تیمور شاہ کی مدد سے دوبارہ حملہ کر کے ملتان کا قبضہ حاصل کیا۔ مگر ۱۸۱۸ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان پر پھر قبضہ کر لیا کر لیا اور اس جنگ میں نواب مظفر خان مذکور اپنے پانچ بیٹوں سمیت شہید ہوگیا۔

۱۸۴۹ء میں انگریزوں نے ملتان پر قبضہ کیا جس کے بعد یہ تاریخی شہر برطانوی عملداری میں چلا گیا اور ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا حصہ بنا۔ ملتان کو اولیائے کرامؒ اور مزارات کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہاں شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ، شاہ گردیزیؒ، شاہ شمس سبزواریؒ، حضرت موسیٰ پاکؒ اور حافظ محمد جمالؒ ملتانی سمیت سینکڑوں بزرگان دین مدفون ہیں۔ حافظ محمد جمالؒ ملتانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چشتی سلسلہ کے بزرگ تھے، سکھوں کے خلاف جہاد میں سرگرم حصہ لیا اور انگریزوں کے ملتان پر قبضہ کے موقع پر انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

قیام پاکستان کے بعد یہ تاریخی شہر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، حضرت مولانا سید احمد سعید کاظمیؒ اور حضرت مولانا حامد علی خانؒ جیسے اکابر علماء کا مسکن بنا اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ بھی ایک عرصہ تک ملتان میں تدریس و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ان بزرگوں کی وجہ سے ملتان کو پاکستان کی دینی تحریکات میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے اور اس شہر کے زندہ دلوں نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفٰیؐ میں قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا صدر دفتر ملتان میں ہونے کی وجہ سے ملتان کو تحریک ختم نبوت کے ہر دور میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفٰیؐ میں مولانا حامد علی خانؒ کوجس طرح شہر کے بے تاج بادشاہ کا مقام حاصل ہوگیا تھا اس کا میں خود گواہ ہوں کہ میں ان دنوں پاکستان قومی اتحاد کا صوبائی سیکرٹری جنرل تھا اور تحریک نظام مصطفٰیؐ پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی تھی۔

ملتان بڑے بڑے دینی مدارس کا شہر ہے اور اسی شہر میں جامعہ خیر المدارس کے بانی حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ نے دینی مدارس کو ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ایک مربوط نظام میں شریک کرنے کی تحریک کی جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اب دینی مدارس کے سب سے بڑے اور منظم فورم کی حیثیت حاصل کر چکا ہے اور اس کا صدر دفتر بھی ملتان میں ہے۔

الغرض ملتان بہادر لوگوں کا شہر ہے، عظیم المرتبت اولیاء کرامؒ کا شہر ہے، مجاہد علماء کا شہر ہے اور غیور دینی کارکنون کا شہر ہے جس کی تمام تر تاریخی حیثیتوں کا اعتراف اور احترام کرتے ہوئے میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ ملتان احمد شاہ ابدالیؒ کی جائے ولادت ہے جس نے برصغیر میں مسلمانوں کے خلاف مرہٹوں اور جنونی ہندوؤں کی خوفناک یلغار کا راستہ روکا تھا اور شمالی ہند کے مسلمانوں کو مرہٹوں کی جارحیت سے نجات دلا دی تھی۔ اب پھر جنوبی ہند میں ہندو جنونیت سر اٹھا رہی ہے۔ مسلمانوں کو ایک بار پھر اسلام قبول کرنے اور اس پر قائم رہنے کی سزا دینے کے مشورے ہو رہے ہیں اور عالمی استعمار، برہمن ازم اور صیہونیت کے گٹھ جوڑ نے شمالی ہند کے مسلمانوں کی اسلامیت پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس لیے وقت پھر ملتان کی طرف دیکھ رہا ہے اور زمانے کو پھر کسی احمد شاہ ابدالیؒ کا انتظار ہے جو آگے بڑھے اور شمالی ہند کے مسلمانوں کی اسلامیت کے تحفظ کا پرچم اٹھا کر پانی پت کی چوتھی اور آخری لڑائی کے لیے ہندوؤں، یہودیوں اور عالمی استعمار کے گٹھ جوڑ کے مقابلہ کے لیے میدان میں کود پڑے۔

درجہ بندی: