نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ جون ۱۹۸۷ء

متحدہ شریعت محاذ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ۷ جون ۱۹۸۷ء کو محاذ کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں صبح دس بجے منعقد ہو رہا ہے جس میں ۲۷ رمضان المبارک تک ’’شریعت بل‘‘ منظور نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق حکومت کے خلاف ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا عملی طریقِ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ۶ جون کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں زیربحث آنے والے امور میں بھی اہم ترین مسئلہ راست اقدام کی تحریک کا ہے۔

سینٹ میں شریعت بل کو پیش ہوئے بیس ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران سینٹ کی منتخبہ کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے شریعت بل کو منظور کرنے کی سفارشات اور بل کی حمایت میں رائے عامہ کے پرجوش، بھرپور اور ریکارڈ اظہار کے باوجود حکمران پارٹی جس طرح حیلوں بہانوں سے شریعت بل کی منظوری کو ٹالنے یا اسے من مانی ترامیم کے ذریعہ غیر مؤثر بنانے کی کوشش کر رہی ہے وہ بدعہدی اور اصول شکنی کی بدترین مثال ہے۔ اور حکومت کی اسی ہٹ دھرمی نے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ احتجاجی جدوجہد کے ان روایتی طریقوں کو اپنائے جن کے بغیر ہمارے حکمرانوں کو نہ کسی مسئلہ کی اہمیت کا صحیح طور پر احساس ہوتا ہے او رنہ ہی وہ سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

نوآبادیاتی طرزِ حکومت کے تربیت یافتہ حکمرانوں کی یہ روایت چلی آرہی ہے کہ وہ ملکی مسائل کو قومی ضروریات اور عوامی تقاضوں کے معیار پر پرکھنے کی بجائے ہمیشہ ’’اسٹریٹ پاور‘‘ کے باٹ سے تولتے ہیں اور اس وقت تک کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کر پاتے جب تک اس مسئلہ کی سنگینی کا شکار ہونے والے مظلوم عوام کے فلک شگاف نعرے ان حکمرانوں کے ذہنوں کے مقفل دروازوں پر ہتھوڑوں کی طرح برسنا نہ شروع ہو جائیں۔ عوامی احتجاج کے یہ کچوکے ان حکمرانوں کی ذہنی خوراک بن چکے ہیں، اس لیے اگر آج متحدہ شریعت محاذ پاکستان مجبور ہو کر اسٹریٹ پاور کی قوت کو آزمانے کا فیصلہ کر رہا ہے تو یہ ردِعمل حکمرانوں کی اس بے حسی اور بدعہدی کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے دورِ اقتدار کے آغاز سے اب تک مسلسل روا رکھے ہوئے ہیں اور اس کی ذمہ داری بھی بہرحال حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔

ہمیں اس امر کا پوری طرح احساس ہے کہ

  • جن طبقوں کے ہاتھ میں ملک کا نظم و نسق ہے وہ نفاذ اسلام کی طرف عملی پیش رفت کے لیے کسی صورت میں تیار نہیں ہیں۔
  • امریکہ اور روس دونوں عالمی طاقتوں کی لابیاں پاکستان میں نفاذِ اسلام کا راستہ روکنے، اسلامی احکام و اقدار کے خلاف مکروہ پراپیگنڈا کرنے اور دینی قوتوں کے درمیان اختلاف و انتشار کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے پوری قوت اور وسائل کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
  • تحریک پاکستان کے نام نہاد ٹھیکیدار بیشتر قومی اخبارات نے سیکولر ذہن کی مکمل پشت پناہی، اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے، فحاشی و بے حیائی کے فروغ اور دینی قوتوں کی مسلسل حوصلہ شکنی و کردار کشی کو مشن اور پالیسی کے طور پر اپنا رکھا ہے۔
  • لادین سیاستدانوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے بعض نام نہاد مذہبی حلقوں کی طرف سے شریعت بل کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا اس ملک میں سیکولر سیاست کی تقویت اور استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے راہنماؤں نے عزیمت و استقامت کی جس شاہراہ پر گامزن ہونے کا فیصلہ کیا ہے، نفاذِ اسلام کی منزل کی طرف اصل راستہ وہی جاتا ہے اور اسلامی تاریخ کی یہ روایت چلی آتی ہے کہ حالات جس قدر زیادہ سنگین ہوں، مشکلات جتنی زیادہ ہوں اور خطرات کا دائرہ جتنا بھی وسیع ہو، راہنماؤں کا عزم و حوصلہ اور کارکنوں کا ایثار اور جذبہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور مشکلات کی بلند و بالا رکاوٹیں بالآخر ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ۷ جون کو متحدہ شریعت محاذ کی مرکزی مجلس شّریٰ کا فیصلہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا اور اس ملک کے دینی حلقے اپنے اتحاد اور قربانی کے ساتھ حکمرانوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ اپنے چہروں سے منافقت کے نقاب اتار کر یا تو نفاذِ اسلام کی طرف عملی قدم بڑھائیں اور یا پھر اپنے پیش رو حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے رسوائی اور بدنصیبی کے گھاٹ اتر جائیں۔ ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین۔