قرآن کریم کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ / روسی جارحیت اور انتخابات / قادیانی اور آئین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ مارچ ۱۹۸۲ء

گزشتہ دنوں سرکاری ذرائع سے یہ خبر قومی اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ تخریب کاروں کے خلاف پولیس کی مہم کے دوران قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا یہ افسوسناک سانحہ سامنے آیا ہے کہ کچھ بدبخت عناصر نے قرآن کریم کے نسخوں کو اندر سے کاٹ کر ان میں بارود بھرا اور پھر ان نسخوں کو بعض اہم شخصیات کو پیش کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس ضمن میں اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے قرآن کریم کے کٹے ہوئے نسخے کی نمائش بھی کی گئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اس المناک واقعہ پر احتجاج اور غم و غصہ کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ رب العزت نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے نازل فرمایا اور قیامت تک کے لیے یہی نسخۂ کیمیا انسانیت کے تمام دکھوں اور مشکلات و مصائب کا واحد علاج ہے۔ اس عظیم اور آخری آسمانی کتاب کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کی عقیدت اور جذباتی وابستگی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں اور اسی عقیدت کا اظہار ملک کے مختلف حصوں میں ہڑتالوں، جلوسوں اور احتجاجی اجتماعات کی شکل میں ہو رہا ہے۔ ہم اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی مسلمان اپنے گروہی مقاصد کے لیے قرآن مقدس کی توہین جیسے سنگین جرم کا بھی ارتکاب کر سکتا ہے لیکن قران کریم کا کٹا پھٹا نسخہ بتاتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب ہوا ہے اور نام نہاد مسلمانوں کی بدبختی اور شقاوت قلبی اس سرحد کو بھی عبور کر چکی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ قرآن مقدس کی بے حرمتی اور توہین کی یہ مذموم حرکت فی الوقع تخریب کاروں کی کاروائی ہے یا بعض حلقوں کے مطابق یہ واردات تخریب کاروں کے گرد حصار تنگ کرنے کے لیے ہوئی ہے، اور قرآن کریم کے زخمی نسخے کی تصویریں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب پر چاقو چلا ہے اور اس کا سینہ چاک ہوا ہے۔ کرنے والا کوئی بھی ہو اس کی بدبختی اور شقاوت قلبی میں کوئی شک نہیں، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس المناک سانحہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے، اس سنگین اور مذموم حرکت کے مرتکب افراد اور اس کے پس پردہ عوامل و محرکات کو بے نقاب کیا جائے اور مجرموں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کسی کو اس قسم کی حرکت کے بارے میں سوچنے کی بھی جرأت نہ ہو۔

روسی جارحیت اور انتخابات

وزیرداخلہ جناب محمود ہارون نے اپنے دورۂ کویت کے دوران کویت کی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کو علاقائی اور اندرونی طور پر درپیش صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور اس ضمن میں یہ بھی فرمایا ہے کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے جاری رہنے تک پاکستان میں انتخابات نہیں ہو سکتے اور یہ بھی کہا کہ سیاستدان حکومت کو متفقہ سیاسی لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انٹرویو کے دیگر مندرجات سے قطع نظر ہم جناب محمود ہارون کے ان دو نکات سے اختلاف کی جسارت کریں گے کیونکہ:

  1. ہمارے خیال میں پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کو روسی جارحیت کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہنا مبنی برحقیقت ہے کہ پاکستان میں حالات انتخابات کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران نے اپنی چوٹی کی لیڈرشپ کے حادثہ میں ہلاک ہونے کے بعد عراق کے ساتھ جنگ کے دوران انتخابات منعقد کرائے ہیں اور ہماری طرح ایران کو بھی روسی جارحیت کے اثرات کا سامنا ہے۔ ہاں اگر انتخابات کے ضمن میں روسی جارحیت کے حوالہ سے انتخابات کے حامی عناصر بات کریں تو زیادہ جچتی ہے کیونکہ ان کا یہ کہنا زیادہ قرین قیاس ہوگا کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے تسلسل کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے ذریعے منتخب حکومت کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جائے تاکہ نمائندہ حکومت عالمی برادری میں پاکستان کے موقف کو زیادہ اعتماد اور حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھا سکے۔
  2. اسی طرح جناب محمود ہارون کا یہ کہنا بھی واقعہ کے مطابق نہیں ہے کہ پاکستان کے سیاسی رہنما حکومت کو متفقہ سیاسی لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ ملک کے تمام قابل ذکر سیاسی رہنما سیاسی عمل کی بحالی، ۱۹۷۳ء کے آئین کی بالادستی، سنسرشپ کے مکمل خاتمہ اور انتخابات کے ذریعے نمائندہ حکومت کے جلد از جلد قیام پر متفق ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جسے ان نکات سے اختلاف ہو اور یہ چار متفقہ نکات موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے جسے اختیار کرنے میں حکومت کو تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔

قادیانی اور آئین

ملک کے ممتاز قانون دان مسٹر یحییٰ بختیار نے یہ کہہ کر پورے ملک کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے آئین سے قادیانیوں کے بارے میں شقوں کو حذف کر دیا گیا ہے اور مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد جب ۱۹۷۳ء کا آئین بحال ہوگا تو اس میں یہ شقیں موجود نہیں ہوں گی۔ اس کے جواب میں حکومت کی طرف سے جو وضاحتیں جاری ہوئی ہیں وہ سب عبوری آئین کے حوالہ سے ہیں مگر ۱۹۷۳ء کے آئین میں قادیانیوں کے بارے میں شقوں کی موجودگی یا حذف ہوجانے کے بارے میں سرکاری حلقے مکمل طور پر خاموش ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ یہ دینی مسئلہ ہے، اس سے کروڑوں مسلمانوں کی دینی حمیت و غیرت وابستہ ہے اور یہ مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان کا ہے۔

اس لیے ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں قومی و دینی حلقوں کو مطمئن کرے۔ اور ہم دینی و قومی حلقوں سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ اس نازک مسئلہ پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر کے قادیانیوں کے بارے میں پوری قوم کے متفقہ فیصلہ کے تحفظ کا اہتمام کریں۔