سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم / متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، اور بعض ناعاقبت اندیش پولیس آفیسرز نے تحقیقات کو غلط رخ پر لے جا کر معاملہ کو گول کرنے کی جو مذموم کوشش کی تھی وہ بحمد اللہ ناکام ہوگئی ہے۔

اس سلسلہ میں وزیرآباد بار ایسوسی ایشن کے معزز ارکان اور قومی پریس کے بعض اخبارات و جرائد بالخصوص نوائے وقت اور اسلامی جمہوریہ نے جو مثبت اور جرأت مندانہ کردار ادا کیا ہے مذکورہ بالا کوشش کو ناکام بنانے میں اسے کلیدی حیثیت حاصل ہے اور ہر شہری اسے اطمینان اور حوصلہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔

اب جب کہ ڈی آئی جی پولیس نے ان تمام افسروں اور اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے جو کیس کو گول کرنے کی سازش میں شریک تھے، ہم ان سے گزارش کریں گے کہ صرف اتنا کافی نہیں ہے کیونکہ نیاز علی اور اس کے مظلوم خاندان پر درندہ صفت ڈاکوؤں کے جبر و تشدد اور انسانیت سوز سلوک کے بعد اس پر پولیس کی طرف سے اس کی زبان بند رکھنے کے لیے دہرا تشدد سنگینی کے لحاظ سے پہلے تشدد سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ اس لیے ایسا کرنے والے پولیس افسروں اور اہل کاروں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلا کر انہیں اس جرم کی سزا دینا ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی پولیس افسر اور اہل کار کو کسی ایسی حرکت کا حوصلہ نہ ہو سکے۔

ریل کار اور بس کا تصادم

ٹریفک کے حادثات ویسے تو اب اس قدر عام ہوگئے ہیں کہ روزنامہ اخبارات کا کوئی صفحہ ان کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر شاہدرہ کے قریب ریلوے پھاٹک پر ریل کار اور بس کے تصادم میں ہونے والے بے پناہ جانی نقصان پر ملک کا ہر شہری سوگوار اور غمزدہ ہے۔ حادثہ کے اسباب و عوامل کا کھوج لگانے کے لیے تحقیقاتی افسر مصروف عمل ہیں اور شاید یہ سطور شائع ہونے تک اس کی رپورٹ منظر عام پر آچکی ہو۔

تاہم اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے ورثاء و پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہم حکومت سے یہ عرض کریں گے کہ ٹریفک کے روز مرہ حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا سدباب کیا جائے جو قیمتی جانوں کے اس قدر ارزاں ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ موت تو ہر شخص کی جہاں لکھی ہے وہاں آنی ہے مگر جان کی حفاظت کرنے اور ہلاکت کے راستے سے بچنا ہر انسان کا فرض ہے، اور اجتماعی طور پر انسانی برادری کو ہلاکت سے بچانے کی ہرممکن کوشش کرنا حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ شاہدرہ کے حادثہ کی لرزہ خیز سنگینی ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے حکومت کی کوششوں میں ضرور تیزی پیدا کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائیں، پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں اور زخمیوں کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین۔

قومی تعلیمی پالیسی

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے مشیر برائے تعلیم محمد علی ہوتی نے گزشتہ روز پی پی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کا جلد اعلان کر دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں تجاویز کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔

عبوری حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں تو اس کے سامنے آنے کے بعد ہی کچھ عرض کیا جا سکے گا لیکن اس ضمن میں ہم یہ عرض کرنا اور اس امر کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تعلیمی مسائل کے سلسلہ میں پالیسی کے لیے تجاویز پر غور و خوض کرنے کی غرض سے گزشتہ دنوں جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور تعلیمی کمیشن قائم کیا گیا تھا اس میں اسلامی و عربی تعلیم کے اس پورے نظام کو نظر انداز کر دیا گیا تھا جس کی شاخیں ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مدارس مصروف عمل ہیں۔ قومی سطح پر تعلیمی پالیسی کے تعین میں اس نظام کو نظر انداز کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے اور نہ ہی اس نظام کو اعتماد میں لیے بغیر بنائی ہوئی پالیسی کو قومی پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس لیے جناب محمد علی خان ہوتی سے گزارش ہے کہ وہ اس صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیں اور اسلامی و عربی مدارس کے ملک گیر نظام کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی کے تعین کے سلسلہ میں انہیں بھی اعتماد میں لیں اور ان کا نقطۂ نظر بھی سماعت فرمائیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں ایک قومی پالیسی کے تعین کی طرف آگے بڑھ سکیں۔

ایک نئی ملکۂ ترنم

پی پی آئی کی ایک خبر کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ میں بلوچستان کونسل کی طرف سے معروف گلوکارہ ناہید اختر کو سونے کا تاج پہنایا گیا۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے، نئی نسل کو نظریاتی و اخلاقی لحاظ سے مفلوج کرنے اور جنس و رومان کا دلادہ بنانے میں ہمارے گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ آرٹ اور ثقافت کے نام پر ان لوگوں نے فحش گوئی اور ہیجان انگیزی کی مہم کو جس طرح آگے بڑھایا ہے اس کے اثرات نوجوان نسل میں نمایاں نظر آرہے ہیں اور آنکھیں بند کر کے اس مہم کی ہلاکت خیزی کی شدت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ آرٹ اور ثقافت کے نام پر کھیلے جانے والے بے ہودگی کے اس عمل کو سرکاری سرپرستی اور پشت پناہی حاصل ہے اور یہ سب کچھ قومی سرمایہ کے بے دریغ استعمال سے ہو رہا ہے۔

اس سے قبل نور جہاں نامی ایک ملکۂ ترنم کو ریڈیو اور ٹی وی جیسے قومی نشریاتی اداروں پر اجارہ داری حاصل تھی اور اب بے ہودہ گوئی میں اسے پیچھے چھوڑ دینے والی ایک اور صاحبہ تشریف لا کر سونے کے تاج کی حقدار ٹھہری ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حالت پر رحم فرمائے۔

متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی۔

کچھ عرصہ سے حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جانے کے رجحان نے جو وسعت اور ہمہ گیری پیدا کی ہے اس کے پیش نظر مذکورہ بالا ضابطہ کا اثر سب سے زیادہ شاید پاکستانیوں پر پڑے، کیونکہ ناعاقبت اندیش ایجنٹوں اور غیر ذمہ دار ٹریول ایجنسیوں نے ہر جائز و ناجائز طریقہ سے لوگوں کو دوسرے ممالک میں پہنچانے کے دھندے کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دے رکھی ہے۔ اور ہزاروں پاکستانی اس مذموم کاروبار کے نتیجے میں بیرون ملک نہ صرف خود پریشان ہوتے ہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے بدنامی اور رسوائی کا باعث بھی بنتے ہیں۔

ہم اس سے قبل بھی ان کالموں میں اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ بیرون ملک جانے کے اس رجحان اور کاروبار کو کسی نظم و ضبط اور نظام کے دائرہ میں لانا ضروری ہے اور حکومت کو اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس سلسلہ میں ٹھوس لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ تاکہ باہر جانے والی افرادی قوت ملک و قوم کے لیے اقتصادی لحاظ سے فائدے کا ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور ملکی عزت کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔

اس رائے کے اعادہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے نئے ضابطے کے سلسلہ میں حکومت پاکستان سے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے پاکستانیوں کو مزید نقصان او رجگ ہنسائی سے بچانے کے لیے فورًا کوئی مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھایا جائے۔

اسٹامپ پیپروں کی کمی

صوبائی محکمہ اطلاعات نے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کو کم قیمت کے اسٹامپ پیپروں کی تیاری میں کچھ دشواریاں پیش آرہی ہیں جس کے باعث ان میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ کمی صرف کم قیمت کے اسٹامپ پیپرز ہی کی نہیں بلکہ کچھ عرصہ سے سرکاری طور پر چھپنے والی بعض دیگر اشیاء بالخصوص ڈاک کے لفافے اور کارڈ بھی مارکیٹ سے غائب ہیں اور لوگ اس سلسلہ میں پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے حکومت کو اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے ڈاک کے لفافوں، پوسٹر کارڈز، اسٹامپ پیپرز اور دیگر سرکاری فارموں کی بروقت فراہمی کا انتظام کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں پیدا شدہ دشواریوں کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری

مارشل لاء انتظامیہ ان دنوں آٹا بلیک کرنے والے ڈپو ہولڈروں کی چیکنگ کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اور اسی مہم کے سلسلہ میں مارشل لاء کی ایک معائنہ ٹیم نے لیفٹیننٹ کرنل جناب مسعود کی نگرانی میں سمن آباد ڈپو ہولڈر نواب دین کو گرفتار کر لیا جس نے ۴۸ بوری آٹا ڈپو پر لانے سے پہلے ہی بیلک میں فروخت کرایا تھا۔

ڈپو ہولڈروں کو راہ راست پر لانے اور راشن کی تقسیم کے نظام کو درست کرنے کی اس مہم سے محسوس ہوتا ہے کہ غالباً عبوری حکومت راشن کی مصنوعی قلت پر قابو پانے میں بہت جلد کامیاب ہو جائے گی اور سرکاری گوداموں سے گندم کی پوری مقدار میں فراہمی کے باوجود لوگوں تک آٹا نہ پہنچنے کے اسباب پر کنٹرول کر لیا جائے گا۔

تاہم مارشل لاء کو اس طرف توجہ دلانا بھی شاید نامناسب نہ ہوگا کہ ڈپو ہولڈروں کے علاوہ بھی اس گڑبڑ میں کچھ لوگ ملوث ہیں کیونکہ کوئی ڈپو ہولڈر محکمہ خوراک کے متعلقہ افسروں کے اشارہ یا مرضی کے بغیر بلیک میلنگ کی جرأت نہیں کر سکتا۔ اس لیے ڈپو ہولڈروں پر مضبوط گرفت کے ساتھ ساتھ راشن کی تقسیم کے نظام کو کنٹرول کرنے والے فوڈ آفیسرز کی کارکردگی پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ ڈپو ہولڈروں کو بلیک سے باز رکھنے کی مہم کہیں اوپر جا کر ناکامی کا شکار نہ ہو جائے۔

دیہات میں اطباء کا تعین

پاکستان طبی کانفرنس کے جنرل سیکرٹری جناب حکیم آفتاب احمد قریشی نے گزشتہ روز ایک بیان میں ’حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان فارغ التحصیل اطباء کی خدمات حاصل کی جائیں اور انہیں دیہی شفاخانوں میں متعین کیا جائے کیونکہ دیسی طب مفید، مؤثر اور کم خرچ ہے۔

ہم حکیم صاحب موصوف کے اس مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے یہ عرض کریں گے کہ دیسی طب کم خرچ اور مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی مزاج کے بھی قریب ہے اور اب بھی عملاً ہمارے دیہات میں لوگوں کا زیادہ تر انحصار دیسی طریق علاج پر ہے۔ اس لیے اسی طب کی بھرپور سرپرستی کرتے ہوئے دیہات بلکہ شہروں میں بھی دیسی طب کے فارغ التحصیل نوجوانوں کی خدمات سے فائدہ اٹھانا اور انہیں سرکاری سطح پر لوگوں کے علاج و معالجہ کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ایلو پیتھک طب کے ساتھ ساتھ دیسی طب بھی قومی زندگی میں اپنا کردار صحیح اور بھرپور طور پر ادا کر سکے۔