حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ حق چار یار
تاریخ اشاعت: 
جولائی تا نومبر ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ (وفات: اپریل ۱۹۹۸ء) کو پہلی بار اس دور میں دیکھا جب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صرف ونحو کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اس قافلہ کے سرگرم رکن تھے جو جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے کے لیے قریہ قریہ، بستی بستی متحرک تھا۔ شمالی پنجاب میں جمعیۃ علماء اسلام کو ایک فعال اور متحرک جماعت بنانے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جن بے لوث اور ان تھک رفقاء کا تعاون حاصل تھا، ان میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سرگودھوی، حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اور حضرت مولانا حکیم شریف الدین بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ اور حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب وقتاً‌ فوقتاً‌ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تشریف لایا کرتے تھے اور عم مکرم حضرت صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ کے مہمان ہوتے تھے۔ گھر سے کھانا وغیرہ لانا اور اس نوعیت کی دیگر خدمت کی سعادت اکثر مجھے حاصل ہوتی تھی اور سچی بات ہے کہ ان دونوں بزرگوں کے خلوص، نیکی، تقویٰ اور حق گوئی کا اسی دور سے معترف چلا آ رہا ہوں۔ میرا وہ دور طالب علمی کا تھا اس لیے کسی بات سے اختلاف کا کوئی محل اور موقع ہی نہ تھا اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش تھی۔ بس ایک نیازمندانہ سا تعلق تھا جو عقیدت اور استفادہ کے ماحول میں آگے بڑھتا رہا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا بلکہ جن گنے چنے بزرگوں سے سیکھی ہوئی باتیں آج عملی زندگی میں مشعل راہ کا کام دے رہی ہیں اور بہت سے مشکل مقامات میں حصار اور پناہ گاہ بن جاتی ہیں، ان میں یہ دو بزرگ بھی شامل ہیں۔ مگر بعد میں جب جماعتی معاملات میں مجھے بھی عملاً‌ شریک ہونے اور آگے بڑھنے کا موقع ملا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جماعتی راہیں الگ ہو گئیں، تب بھی بعض امور پر اختلاف رائے کے باوجود ان کی عقیدت ومحبت میں کبھی سرمو بھی فرق محسوس نہیں ہوا۔

آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو تعلقات اور تجزبات کی ایک وسیع دنیا آباد دکھائی دیتی ہے اور تیس پینتیس سال کے طویل عرصہ پر محیط دور کی بہت سی یادیں ذہن کی اسکرین پر باری باری جھلملاتی نظر آتی ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد آ رہا ہے جب حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے قریب محلہ گوبند گڑھ کی ایک گلی میں جلسہ سے خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ برادرم قاری خبیب احمد عمر بھی ان کے ساتھ تھے۔ قاری صاحب پہلی بار گوجرانوالہ آئے تھے اور میری ان سے ابتدائی ملاقات تھی جو بعد میں دوستانہ پھر برادرانہ تعلقات اور باہم تعلق داری کے خوشگوار نتیجہ تک پہنچی۔ جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر تھا۔ غالباً‌ ۱۹۶۲ء یا ۱۹۶۳ء کا قصہ ہے۔ تقریر کا مضمون تو اب یاد نہیں رہا لیکن جلسہ کا منظر، حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ذکر اور مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کا والہانہ انداز ابھی تک نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ حضرت نبی اکرمؒ کی شان ومنقبت میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی نعت کے کچھ اشعار انہوں نے ترنم سے پڑھے۔ اب اسے ان کے جذب وکیف کا کرشمہ سمجھیے یا پہلی بار یہ اشعار سننے کا نتیجہ قرار دیجیے کہ وہ آواز اب بھی کانوں میں گونجتی اور رس گھولتی محسوس ہو رہی ہے۔

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کا تعلق جس قافلہ حق وصداقت سے تھا، اس نے ہر دور میں باطل کے خلاف مختلف محاذوں پر چومکھی جنگ لڑی ہے، بلکہ اہل حق کو ہر دور میں باطل کے خلاف جتنے محاذوں پر بیک وقت برسر پیکار رہنا پڑتا ہے، اس کی تعبیر کے لیے چومکھی جنگ کا محاورہ بھی کوتاہی اور تنگ دامنی کی شکایت کرتا رہ جاتا ہے۔ وہ اہل سنت کے قافلہ عزم واستقامت سے وابستہ تھے اور سنی کہلاتے تھے۔ اس پر اصرار اور فخر کرتے تھے اور بلا خوف لومۃ لائم اس کا پرچار کرتے تھے۔ ان کے ہاں سنیت کا ایک متعین دائرہ تھا جس سے باہر نکلنا بلکہ اس دائرہ سے باہر دیکھنا بھی ان کے نزدیک گناہ تھا۔ اس پر ان کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ اسے پہاڑ جیسی استقامت قرار دیتے ہوئے بھی یوں لگتا تھا کہ جیسے کوئی محاروہ نہیں بولا جا رہا بلکہ ایک حقیقت واقعہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ان کے ’’دائرہ سنیت‘‘ کو میں اور میرے جیسے وہ کارکن، جن کی تگ وتاز کا دائرہ دین وسیاست کے بہت سے شعبوں تک وسیع ہے، ہمیشہ محدود دائرہ کہتے رہے ہیں اور اس نقطۂ نظر سے اب بھی وہ دائرہ محدود ہی دکھائی دیتا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب چاروں طرف نظر دوڑا کر ایمان کی سلامتی کے حوالے سے کوئی گوشہ عافیت تلاش کرنے کا خیال ذہن میں آتا ہے تو بارش کی طرح برسنے والے فتنوں اور ان کی حشر سامانیوں کے اس دور میں اس ’’محدود دائرہ‘‘ کے سوا کوئی اور جائے پناہ بھی دکھائی نہیں دیتی۔

حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ دونوں لازم وملزوم تھے۔ دونوں ہمیشہ اسی دائرہ میں سرگرم عمل رہے اور باہمی اعتماد وتعاون کی ایک قابل تقلید مثال دنیا کے سامنے پیش کی۔ ان کی ترجیحات، ذہنی تحفطات اور حد درجہ احتیاط کو دیکھ کر مجھے وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جو حدیث کی بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے لیے تشریف لے گئے تو ایک صحابی (غالباً‌ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ یا حضرت عبد اللہ بن عباسؓ) ان کے ہمراہ تھے۔ آنحضرتؒ نے انہیں راستے میں ایک جگہ ٹھہرا دیا اور ان کے گرد زمین کا دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ میری واپسی تک اس دائرہ کے اندر رہنا، باہر سے تمہیں بہت سی شکلیں نظر آئیں گی جو تمھیں باہر بلانا چاہیں گی اور وہ تمہیں خوف زدہ بھی کریں گی، لیکن اگر تم اس دائرہ سے باہر نہ نکلے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ آنحضرتؒ کی واپسی تک تمام تر تخویف وتحریص اور طرح طرح کی ڈراؤنی شکلوں کے نظر آنے کے باوجود اپنے دائرہ کے اندر ڈٹے رہے اور اسی وجہ سے محفوظ بھی رہے۔

ہمارے ان بزرگوں نے بھی اپنے گرد ایک حصار کھینچ کر اس پر استقامت کا حق ادا کر دیا۔ ہم باہر والوں کو وہ دائرہ کتنا ہی محدود دکھائی دے لیکن ایک سبق ہم سب کے لیے اس میں موجود ہے کہ حق اور اس کی خاطر جدوجہد کے جو خطوط ذہن وقلب میں نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ قائم ہو جائیں، ان پر پختگی اور استقامت کا معیار ایسا ہی ہونا چاہیے اور پھر ان کے بارے میں کسی طعن وملامت کے خوف سے بالاتر ہو جانا چاہیے۔

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے ساتھ عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق تو شروع سے تھا، بعد میں رشتہ داری کا تعلق بھی استوار ہو گیا کہ ان کے بڑے بیٹے قاری خبیب احمد میرے بہنوئی ہیں۔ میری چھوٹی ہمشیرہ ان کے گھر میں جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے شعبہ بنات میں درس نظامی کی تدریس کی ذمہ داریاں سال ہا سال سے نباہ رہی ہیں اور بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت بخاری شریف سمیت دورۂ حدیث کے اسباق پڑھا رہی ہیں۔ اس مناسبت سے جہلم حاضری ہوتی رہتی ہے اور اسی وجہ سے حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ سے ملاقات وزیارت کا کوئی نہ کوئی موقع ملتا رہتا تھا۔ جماعتی دائرے الگ الگ تھے، وہ تحریک خدام اہل سنت کے ذمہ دار تھے اور میں جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے حوالے سے پاکستان قومی اتحاد، مجلس عمل ختم نبوت اور اس طرح کے مشترکہ محاذوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا، مگر اس کے باوجود ان کی شفقت اور میری نیازمندی میں کبھی فرق نہیں آیا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو میرا کوئی نہ کوئی اخباری بیان انہیں ضرور یاد ہوتا بلکہ بسا اوقات کٹنگ بھی محفوظ ہوتی جو ان کے نزدیک قابل اعتراض ہوتا۔ وہ اس پر بزرگانہ شفقت کے ساتھ نصیحت فرماتے اور جو بات ان کے نزدیک غلط ہوتی اس کی نشان دہی کرتے۔ میرا معمول یہ تھا کہ اگر کوئی بات وضاحت کے قابل ہوتی تو دھیمے لہجے میں وضاحت کر دیتا، ورنہ ان کا بزرگانہ حق سمجھتے ہوئے خاموشی کے ساتھ ان کی بات سنتا اور دعا کی درخواست کے ساتھ رخصت ہو جاتا۔

میری ہمیشہ سے یہ کمزوری رہی ہے کہ کام وہی کرتا ہوں جسے اپنے نقطۂ نظر سے صحیح اور اپنی جدوجہد کے حوالے سے ضروری سمجھتا ہوں اور حضرت والد محترم مدظلہ اور عم مکرم مدظلہ سمیت کوئی بھی بزرگ کسی بات پر ٹوکتے ہیں تو ان کی بات توجہ سے سنتا ہوں اور اسے ان کا بزرگانہ حق سمجھتا ہوں، کوئی بات وضاحت کے قابل ہوتی ہے تو وضاحت کر دیتا ہوں، ورنہ خاموش ہو جاتا ہوں اور کوئی رد وکد نہیں کرتا، البتہ بعد میں ایک بار پھر ان کے ارشاد اور اپنے طرز عمل کا جائزہ لیتا ہوں اور اگر پھر بھی اپنے کام پر شرح صدر قائم رہے تو پورے اطمینان کے ساتھ کام میں مگن رہتا ہوں۔

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی جدوجہد کا بنیادی میدان اہل السنۃ والجماعۃ کے مذہب وعقائد کا تحفظ تھا اور اس کے لیے انہوں نے ساری عمر محنت کی۔ اہل سنت کے عقائد ونظریات کو وہ سلف صالحین کی تعبیرات بالخصوص دار العلوم دیوبند کے اکابر فضلاء کی تشریحات کی روشنی میں دیکھتے اور ان کی ترویج واشاعت میں مسلسل مصروف رہتے۔ اس سے ہٹ کر جو بات بھی انہیں محسوس ہوتی، اس کے خلاف پوری قوت کے ساتھ ڈٹ جاتے۔ ان کا موقف اور طریق کار ہمیشہ بے لچک ہوتا اور اس کے لیے وہ کسی کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اہل سنت کے عقائد ونظریات کے تحفظ وترویج کے ساتھ ساتھ ملک میں اہل سنت کے حقوق ومفادات کی حفاظت بھی ان کی تگ وتاز کا ہدف رہی ہے۔ انہوں نے جہاں بھی اہل سنت کے مذہبی حقوق پر زد پڑتے دیکھی، اس کے خلاف آواز بلند کی اور اہل سنت کے موقف کی ترجمانی میں پیش پیش رہے۔

ذاتی زندگی میں سادگی، قناعت اور جفا کشی میں وہ اپنے اسلاف کی روایات پر عامل تھے۔ وہ بلاشبہ ان لوگوں میں سے تھے جو آخرت کو ہی اپنا اصل گھر سمجھتے ہوئے اس کی تیاری میں دنیا کی زندگی گزار دیتے ہیں اور دنیا اپنی تمام تر کشش اور رنگینیوں کے باوجود ان سے ایک گزرگاہ سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتی۔ اس وضع کے لوگ اب دنیا میں کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنے عظیم اکابر واسلاف کی زندگی اور ان کے کردار وتقویٰ اور عزیمت واستقامت کے بارے میں کتابوں میں تو ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں، مگر عملی زندگی میں گنتی کے کچھ افراد نگاہوں کے سامنے تھے جنہیں دیکھ کر پرانے بزرگوں کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، جن سے مل کر دل کو اطمینان ہوتا تھا کہ کسی نیک آدمی کی مجلس نصیب ہوئی ہے۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کا شمار بھی انہی بزرگوں میں ہوتا تھا مگر اب وہ ایک ایک کر کے نگاہوں سے اوجھل ہو رہے ہیں۔ جو چند بزرگ باقی ہیں، وہ چراغ سحری ہیں اور ان کے بعد قیامت کی نشانیوں کے سوا دور دور تک کوئی اور چیز دکھائی نہیں دیتی۔

اللہ تعالیٰ حضرت کو جوار رحمت میں جگہ دیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فتنہ اور آزمائش کے اس دور میں اپنے ایمان اور اکابر اہل سنت کی جدوجہد کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔