عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ اکتوبر ۲۰۱۷ء

الیکشن قوانین میں ترامیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں درج عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل کے انکشاف پر ملک بھر میں گزشتہ دنوں خاصا اضطراب اور ہیجان پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر قومی اسمبلی میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے حلف نامہ کی سابقہ پوزیشن بحال کر دینے پر خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ پاک آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے اس اعلان نے مزید اطمینان و اعتماد کا اضافہ کیا ہے کہ پاک فوج ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ختم نبوت کی شق کے خاتمہ کو کوئی پاکستانی قبول نہیں کر سکتا۔

چونکہ حلف نامہ اور شق 7B اور 7C کو سابقہ پوزیشن پر بحال کر دیا گیا ہے اس لیے اس حوالہ سے تفصیلات میں جانے کی اب ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس بارے میں جو کچھ اخبارات اور سوشل میڈیا پر آچکا ہے ہمارے خیال میں وہ کافی ہے۔ چنانچہ اس بحث میں کسی بھی پہلو سے حصہ لینے والے تمام ادارے، طبقات، جماعتیں اور افراد ساری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ عمومی مباحثہ کی یہ ایک بڑی خوبی ہوتی ہے کہ مسئلہ کا کوئی پہلو تشنہ نہیں رہتا اور قوم کو رائے قائم کرنے میں مجموعی طور پر راہ نمائی مل جاتی ہے۔ البتہ یہ بات جس انداز میں منظر عام پر آئی اور جس طرح آگے بڑھی اس پر ایک نظر ڈال لینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ بل سینٹ آف پاکستان میں زیر بحث تھا اس دوران اس پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور سینیٹر حافظ حمد اللہ صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے سینیٹر سراج الحق صاحب کے مشورہ سے یہ مسئلہ اٹھایا تھا لیکن مبینہ طور پر ان کی بات کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ البتہ قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے بل پاس ہوجانے کے بعد ایوان میں اس پر آواز بلند کی تو پورے ملک میں یہ مسئلہ توجہ کا مرکز بن گیا اور سوشل میڈیا نے ایک دو روز میں ہی ملک کے کونے کونے میں اس بحث کو پھیلا دیا جس کا کریڈٹ بہرحال شیخ رشید احمد اور سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔

ابتداء میں اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ محض پروپیگنڈا ہے اور ختم نبوت کے حلف نامہ میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی، پھر دستاویزات سامنے آنے پر کہا گیا کہ بعض الفاظ میں ردوبدل ہوا ہے جس سے عقیدہ نبوت اور حلف نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن جب متعدد اصحاب دانش کی طرف سے اس فرق اور تبدیلی کی نشاندہی کی گئی تو پھر اسے فنی اور کلیریکل غلطی کہہ کر اس کے ازالہ کا اہتمام ہوا۔ اس سلسلہ میں مولانا فضل الرحمان نے دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے متعدد راہنماؤں کے مشورہ سے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، مولانا موصوف اس دوران خود مکہ مکرمہ میں تھے لیکن ملک کے متعلقہ حضرات سے وہ مسلسل رابطہ میں رہے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل محنت کی۔ قومی اسمبلی میں حالیہ ترمیمی بل پیش کیے جانے سے قبل راقم الحروف سے بھی انہوں نے فون پر رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آج شام تک سب معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔

معاملہ حل ہوجانے کے بعد اس کی تفصیلات و جزئیات کو عوامی سطح پر دوبارہ کریدنا مناسب نہیں ہے البتہ قومی اسمبلی کے گزشتہ روز کے اجلاس میں وفاقی وزیرقانون جناب زاہد حامد، سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی اور تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی نے چند باتیں ایسی فرمائی ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرقانون کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا بل حکومت یا کسی فرد کا نہیں بلکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر مشتمل ہے، جو رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی اس میں ختم نبوت کے حلف کی بجائے اقرار کا لفظ شامل ہے جس کی نشاندہی سینٹ میں ہوئی اور وہاں ہم نے اس کی بحالی کا کہا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ ردوبدل پر سینٹ میں اس سے قبل بات ہو چکی تھی مگر اس وقت مسئلہ کی اہمیت و نزاکت کو محسوس نہیں کیا گیا لیکن جب ملک بھر کے دینی حلقوں اور رائے عامہ میں اس پر وسیع پیمانے پر احتجاج و اضطراب کی لہر اٹھی تو پھر اس پر توجہ دی گئی۔ ہمارے مقتدر حلقوں اور ایوانوں کا یہ مزاج اور نفسیات ہی ملک و قوم کے بہت سے مسائل حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے کہ جب تک احتجاج و اضطراب اور شوروغوغا کی عمومی کیفیت پیدا نہ کر دی جائے کسی مسئلہ کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا جاتا اور یہی کچھ اس مسئلہ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے ایوان میں نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بل میں یہ غلطی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بھی اس غلطی کے ذمہ دار حضرات کو سزا دینے کا کہہ چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جناب ظفر اللہ جمالی اور جناب شہباز شریف کی یہ بات توجہ طلب ہے اور ملک کے تمام دینی و سیاسی حلقوں کو اس کی تائید کرنی چاہیے تاکہ اس کی قسم کی دانستہ اور غیر دانستہ حرکات کا سدباب ہو سکے۔

تحریک انصاف کے جناب شاہ محمود قریشی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس اور جذبات کو مجروح کرنے والا معاملہ تھا، سمجھ نہیں آرہی کہ اس کو کیوں چھیڑا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کوئی حکومتی ذمہ دار اس کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار نہیں تو پھر یہ کیا کس نے ہے؟

ہم نہیں سمجھ پا رہے کہ اس ساری کاروائی کے پس پردہ عوامل اور سازش کو سمجھنے میں ہمارے مقتدر راہنماؤں کو اس قدر دشواری کیوں پیش آرہی ہے، حالانکہ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں پاکستان کے دستوری و قانونی فیصلوں کو ختم کرانے میں بین الاقوامی سیکولر قوتیں اور لابیاں ایک عرصہ سے متحرک ہیں۔ اور یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں کہ ہمارے اعلیٰ سیاسی، انتظامی، دفتری، عدالتی اور پارلیمانی ماحول میں ان سیکولر حلقوں کی کمین گاہیں ہر جگہ اور ہر سطح پر موجود ہیں ۔ہماری یہ اجتماعی کمزوری ہے کہ اس قسم کا کوئی المیہ رونما ہونے پر ہم ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے اور نیچا دکھانے کے لیے تو اسے پوری طرح استعمال کرتے ہیں لیکن پیچھے بیٹھے اصل کارندوں کو تحفظ فراہم کر کے کسی آئندہ کسی اور واردات کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ اصل ضرورت قومی اور ریاستی اداروں میں ان کمین گاہوں کو تلاش کرنے کی ہے جن میں بھیس بدل کر بیٹھے ہوئے لوگ ہر موقع پر اپنا وار کر کے خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور باہمی الزام تراشی کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں اور اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ باہم مل بیٹھ کر اس پہلو سے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور اس خطرناک مرحلہ سے بخیروخوبی نکل جانے پر اللہ رب العزت کے حضور شکر ادا کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی، ترجیحات اور طریق کار کا ازسرنو تعین کرنا چاہیے۔ اس موقع پر میں ایک اور احساس کا اظہار بھی کرنا چاہوں گا جس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ میں دینی تعلیمات اور تہذیبی تقاضوں کی نمائندگی موجود نہیں ہے اور نہ ہی افسران اور حکام کی دینی ذہن سازی اور تربیت کا کوئی نظم قائم ہے۔ آخر ہم کب تک قوم کے نظریاتی اور تہذیبی اثاثوں پر ایسے لوگوں کو محافظ بنائے رکھیں گے جو نہ صرف یہ کہ ان کی ماہیت اور قدر سے ناآشنا ہیں بلکہ ذاتی و طبقاتی مفادات کی خاطر وقتاً فوقتاً ان پر اغیار کے ایجنڈے کی راہ بھی ہموار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ فافہم و تدبر۔