مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اکتوبر ۲۰۱۷ء

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر شیخ رشید احمد کی گھن گرج کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کے طوفان باد و باراں نے جو صورتحال پیدا کر دی ہے اس کے مختلف پہلوؤں پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کی طرف سے اس قسم کے بیانات کو ذرائع ابلاغ پر نہ لانے کی اپیل کے باوجود یہ تبصرے آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیپٹن صفدر نے فوج میں قادیانیوں کی بھرتی پر پابندی سمیت جو مطالبات کیے ہیں ان پر فیصلہ قومی اسمبلی نے کرنا ہے لیکن اس سے تحریک ختم نبوت کے کارکنوں کو جو خوشی ہوئی ہے اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر شیخ رشید احمد اور کیپٹن صفدر (ر) ایک پیج پر نظر آرہے ہیں جو قومی وحدت کا امید افزا رخ ہے۔

تحفظ ختم نبوت کے بارے میں ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر تو اپنے تمام تر اختلافات و تنازعات کے باوجود ہمیشہ سے متحد چلے آرہے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن (ر) صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا۔ لیکن پارلیمنٹ کے اس دستوری اور جمہوری فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے قادیانیوں نے نہ صرف یہ مسئلہ باقی رکھا ہوا ہے بلکہ اس کے حوالہ سے وہ دنیا بھر میں حکومت پاکستان کے خلاف مورچہ بندی بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

سادہ سی بات ہے کہ اگر مذکورہ قادیانی ترجمان جناب سلیم الدین کے بقول ان کی جماعت پاکستان کی وفادار ہے تو اسے ملکی رائے عامہ، منتخب پارلیمنٹ، عدالت عظمیٰ اور پوری قوم کے متفقہ فیصلے کو قبول کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بلکہ ایسا کرنے کی صورت میں نہ 1984ء کے صدارتی آرڈیننس کوئی ضرورت پیش آنا تھی، نہ اس کے بعد تحریک ختم نبوت کے دیگر مطالبات کا کوئی موقع رہ گیا تھا، اور نہ ہی قومی اسمبلی میں کیپٹن (ر) صفدر کے ان مطالبات کی نوبت آتی جن کی ذرائع ابلاغ میں اشاعت کو رکوانے کے لیے جماعت احمدیہ کو یہ اپیل کرنا پڑی ہے۔ آج بھی اس مسئلہ کا فطری اور منطقی حل یہی ہے کہ قادیانی امت اس متفقہ قومی فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان کرے اور دستور کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے دنیا بھر کی امت مسلمہ کے خلاف محاذ آرائی ترک کر دے۔ اگر قادیانی قیادت یہ فطری راستہ اب بھی اختیار کر لیتی ہے تو اس پر عملدرآمد کی تفصیلات طے کرنے اور مسلمہ انسانی حقوق کے دائرے میں ان کے تحفظات کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے جس سے تحریک ختم نبوت کی باشعور قیادت کو یقیناً انکار نہیں ہوگا۔

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ شیخ رشید احمد اور کیپٹن (ر) صفدر نے قومی اسمبلی میں جس لہجے میں بات کی ہے وہ سیاسی نمبر سکور کرنے کے لیے یا احتساب سے بچنے کے لیے ہے اس لیے اسے سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ مگر میرا ذوق اس حوالہ سے مختلف ہے اور احباب جانتے ہیں کہ کسی بھی معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے میں مثبت رخ کو ترجیح دیتا ہوں، افادیت کے امکانات کریدتا ہوں، باہمی مفاہمت کے راستے تلاش کرتا ہوں اور نیتوں کی جانچ پڑتال سے حتی الامکان گریز کرتا ہوں۔ حتیٰ کہ اپنے اس ذوق سے الجھن محسوس کرنے والے حضرات کو بھی مخلص ہی گردانتا ہوں۔ لیکن بالفرض اس سب کچھ کو سیاسی ضروریات کے کھاتے میں ہی ڈال دیا جائے تب بھی یہ بات توجہ طلب ہے کہ بچے کو اگر باہر سے کوئی مارے تو وہ ماں کی گود میں گھستا ہے لیکن ایک گھر کے بچے اگر آپس میں لڑ پڑیں تو بھی وہ ماں ہی کی طرف لپکتے ہیں جس کی گود ان سب کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت و عقیدت او رناموس رسالتؐ و تحفظ ختم نبوت کا جذبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ماں کی گود ہی کی حیثیت رکھتا ہے جہاں آکر نہ صرف اختلافات دب جاتے ہیں بلکہ چھوٹی بڑی غلطیوں کی معافی بھی مل جاتی ہے۔ اس لیے اگر بچے ایک دوسرے سے بچنے کے لیے ماں کی گود کا رخ کر رہے ہیں تب بھی خوشی کی بات ہے اور ہمارے خیال میں پارلیمنٹ کے حالیہ چند اجلاسوں کے ماحول کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

البتہ ایک بات اس ضمن میں ان ’’منصوبہ بندوں‘‘ کے ساتھ بھی کرنا ضروری ہے جنہوں نے یہ ساری پلاننگ کی ہے اور قوم کو ایک نئے مخمصے سے دوچار کر دیا ہے کہ اس قسم کی حرکتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہیں یاد ہوگا کہ ختم نبوت کے اسی حلف نامہ کے بارے میں اس قسم کی سازش ضیاء الحق مرحوم کے دور میں بھی کی گئی تھی جو اسی طرح ناکام ہوئی تھی۔ اب کم و بیش تین عشروں کے بعد بھی وہی حرکت دہرائی گئی ہے تو اس کا حشر بھی انہوں نے دیکھ لیا ہے جو قرآن کریم کے ارشاد گرامی ’’ومکروا ومکر اللہ‘‘ کی زندہ تعبیر کی صورت میں ایک بار پھر ہم سب کے سامنے ہے۔ اور جب تک مسلمانان پاکستان ’’ان تنصروا اللہ ینصرکم‘‘ کا مصداق بنے رہیں گے یہ سازشیں بے نقاب ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس لیے عقل و دانش کا راستہ یہی ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کر لیا جائے اور پوری قوم کے جذبات و احساسات کا بار بار امتحان لینے کی بجائے ان کا احترام کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے سرخم کر دیا جائے۔ آخر اس طرح قوم کا، قومی اداروں کا اور خود اپنا وقت ضائع کرتے چلے جانا تو کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔