حضرت مولانا مفتی محمودؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ نومبر ۱۹۸۰ء
اصل عنوان: 
ایک عہد ساز شخصیت ۔ زمانہ جس کی سوچ، کردار اور مزاج پر اثر انداز نہ ہو سکا

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے۔ لیکن ان کا دنیا سے جانا ایسے وقت میں ہوا جب وطن عزیز اندرونی و بیرونی طور پر الجھنوں اور پیچیدگیوں کا شکار ہے اور ان الجھنوں اور پیچیدگیوں کے رموز و اسرار اور تہہ منظر و پس منظر پر نظر رکھنے والے ارباب دانش مولانا مفتی محمودؒ کے تدبر، حب الوطنی، حوصلہ، جرأت اور ایثار کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کر رہے تھے۔

خالق موت و حیات کی حکمتیں سب سے بالا ہیں، وہ حکیم مطلق ہے، اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں اور اس کے ہر فیصلہ کو صدق دل کے ساتھ حکیمانہ سمجھ کر صبر و رضا کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دینا ہی بندگی ہے۔ مگر انسان اپنی ہمت اور ضرورت کے دائرہ میں رہ کر سوچتا ہے کہ

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

یہی وجہ ہے کہ اسلام، قوم اور ملک سے محبت رکھنے والوں نے مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کی اچانک خبر کو اس تیر کی طرح دلوں میں پیوست ہوتے محسوس کیا ہے جو بے خبری اور غفلت کے عالم میں سنسناتا ہوا آئے اور دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر قومی حلقوں میں وسیع پیمانے پر جس غم و صدمہ کا اظہار ہوا اور جس محبت و عقیدت کے ساتھ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا وہ دراصل دین، قوم اور ملک کے لیے مفتی صاحبؒ کی وسیع تر خدمات اور جدوجہد کا عملی اعتراف ہے، اور اس امر کا ثبوت ہے کہ مرحوم پر قوم نے قیادت کی ذمہ داریوں کے ضمن میں جو اعتماد کیا تھا وہ اس سلسلہ میں قوم کے سامنے سرخرو رہے ہیں۔

  1. مولانا مفتی محمودؒ کون تھے؟
  2. انہوں نے اعتماد و مقبولیت کے ساتھ قومی قیادت کا مقام کیسے اور کن مراحل سے گزر کر حاصل کیا؟
  3. ان کی زندگی اور جدوجہد نے معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے دوچار کیا؟
  4. اور ان کی وفات کے بعد ان کے مشن، جدوجہد اور کردار کو معاشرہ میں کارفرما رکھنے کی کیا صورت ہوگی؟

ان میں سے اول الذکر تین سوال تو تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ بن کر مؤرخ کی میز پر جا چکے ہیں، جبکہ آخری سوال نہ صرف مفتی صاحبؒ کے مشن سے تعلق رکھنے والے کارکنوں بلکہ اس مشن کو معاشرہ کی بنیادی ضرورت سمجھنے والے محب وطن عناصر کے ذہنوں میں بھی کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔ مجھے نہ تو مؤرخ ہونے کا دعویٰ ہے اور نہ ہی ایسی فراست کا کہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کر سکوں۔ لیکن تحریک ولی اللہی کے ایک شعوری کارکن اور مولانا مفتی محمودؒ کے ایک رفیق کار کی حیثیت سے ان سوالات کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں تاکہ بہت سی غلط فہمیاں جو مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے حلقہ فکر و عمل کے مزاج، اجزاء ترکیبی اور قوتِ کار سے ناواقفیت کی بنا پر بہت سے ذہنوں میں جنم لے رہی ہیں، یقین کی منزل کی طرف پیش رفت نہ کر سکیں۔

مفتی محمودؒ بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے جنہوں نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں عبدل خیل میں ایک غریب مگر دین دار گھرانے میں جنم لیا۔ ان کے والد نے اپنے دینی مزاج اور علاقہ کی خوشگوار روایت کے باعث اپنے بچے کو سکول کی ضروری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔ دوران تعلیم انہیں دیوبند، مراد آباد، دہلی اور دیگر علمی مراکز میں وقت کے چوٹی کے علماء سے تعلیم حاصل کرنے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ذہانت و فراست کی دولت اللہ تعالیٰ نے وافر دے رکھی تھی۔ حضرت السید مولانا حسین احمدؒ مدنی، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ اور حضرت مولانا سید محمد میاںؒ جیسے مجاہد اہل علم کی صحبت نے اس فراست کو جلا بخشی اور ملک و قوم کی پسماندگی اور درماندگی کو دیکھ کر دل میں بیدار ہونے والے درد نے اس ذہانت و فراست کا رخ قومی خدمت کی طرف موڑ دیا۔

مفتی صاحبؒ کو جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا یا دورانِ تعلیم جن کی صحبت سے فیض یاب ہوئے وہ اپنے وقت کے سرکردہ علماء ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے سرگرم مجاہد اور شب زندہ دار اہل اللہ بھی تھے۔ ولی اللہی خاندان اور اس سے فیض یاب ہونے والے علماء کے قافلہ کی، جس نے بعد میں دیوبندی مکتب فکر کی شکل اختیار کر لی، امتیازی خصوصیت یہی تھی کہ اس کاروان کے افراد علم میں یکتا، عمل میں محکم اور جہاد کے جذبہ میں منفرد تھے۔ آپ امام ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے تمام فرزندوں، شاہ اسماعیل شہیدؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور اس کاروانِ صدق و صفا کے دیگر سرخیلوں کو دیکھیں، وہ محدث و فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ عابد و زاہد ولی اور دین و قوم کے لیے ہر وقت سربکف مجاہد بھی تھے۔ علم و عمل اور جہاد کے اس حسین امتزاج نے ہی کاروان ولی اللہی کو نہ صرف برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں بلکہ پورے عالم اسلام میں امتیازی حیثیت عطا کی ہے۔

مولانا مفتی محمودؒ کی تعلیم و تربیت کے جملہ مراحل اسی ماحول میں طے ہوئے اور یہ وہ وقت تھا جب تحریکِ آزادی پورے شباب پر تھی۔ برطانوی استعمار کے خلاف باشندگانِ دین انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ برسرِ پیکار تھے اور مدارس کی چٹائیوں پر بیٹھ کر قرآن و حدیث کا درس دینے والے طلبہ کے کانوں میں قال اللہ و قال الرسول کی پرسوز صداؤں کے ساتھ زنجیروں کی جھنکار اور آزادی کے فلک شگاف نعرے گونج رہے تھے۔ ان سب عوامل نے مل کر مفتی محمودؒ کے دل میں قومی درد کی چنگاری کو ہوا دی اور اس چنگاری نے دھیمے دھیمے بھڑکنے والے اس شعلہ کی شکل اختیار کر لی جس کی حرارت اور چمک نے ایک عرصہ تک لاکھوں دلوں کو دینی و قومی درد کی تپش سے گرمایا اور انہیں جدوجہد پر ابھار کر منزل کی طرف ان کی راہنمائی کی۔

اپنے اسلاف کی طرح مفتی محمودؒ بھی علم، عمل اور جذبۂ جہاد کا حسین مرقع تھے۔ وہ اپنے وقت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے تھے، مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے ان کا حسین تعلیمی دور حدیث کے طلبہ کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ حدیث اور اس کے متعلقات پر مفتی صاحبؒ کی پر مغز گفتگو بالخصوص عصری مسائل پر ان کی مضبوط گرفت انہیں اپنے معاصر محدثین سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ فقیہ النفس مفتی تھے، ان کے تفقہ و ادراک، نظر کی وقت و وسعت، اور تجزیہ و تحقیق کی صلاحیت پر معاصرین ان کی زندگی میں خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔ اور معاصرین کے اعتراف و تحسین سے بڑھ کر کسی کے کمال پر اور کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔ وہ معقولات کے استاذ تھے، ایسے استاذ کہ جنہیں استاذ کہتے ہوئے ارباب فن بھی فخر محسوس کرتے تھے۔ درس نظامی سے تعلیمی دلچسپی رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ اس دور میں معقولات کا اچھا استاذ ہونا ہی کمال کی معراج سمجھا جاتا ہے او رمفتی محمودؒ عروج کے اس زینہ میں بھی آخری سیڑھی پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس ہمہ پہلو علم نے مفتی محمودؒ کو علم اور بڑائی کے نشہ سے دوچار نہیں کیا اور علم کا سہ آتشہ جام پینے کے باوجود وہ آپے سے باہر نہیں ہوئے۔ عمل و کردار کا آئینہ بھی علم و فضل کی طرح انہیں بام عروج سے ہمکنار دکھاتا ہے۔ مرحوم کے قریبی رفقاء شاہد ہیں کہ شرعی احکام کی پابندی، فرائض کی بجا آوری اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے معاملہ میں ان کی خلوت و جلوت میں کوئی فرق نہ تھا۔ سفر، تکان اور علالت کی شدت کے دور میں بھی وہ شرعی احکام و فرائض کی اسی جذبہ و رفتار کے ساتھ پابندی کرتے دکھائی دیتے تھے جیسے عام حالات میں معمول تھا۔

روحانی طور پر وہ اپنے آبائی پیر خانہ یاسین زئی شریف سے آخر دم تک وابستہ رہے۔ اس وابستگی پر انہیں فخر تھا اور اپنی روحانی تربیت گاہ کے ساتھ ان کا قلبی لگاؤ ان کے خلوص اور دل کی صفائی کا غماز ہے۔

عمل کا ایک اور پہلو جو سب سے زیادہ روشن اور چمکدار ہے وہ مرحوم کا قابل رشک کردار ہے۔ کردار کا ایک رخ یہ ہے کہ مفتی صاحبؒ نے مدرسہ قاسم العلوم کے شیخ الحدیث، قومی اسمبلی کے ممبر، ایک سرگرم سیاسی جماعت کے قائد، صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور تحریک نظام مصطفٰیؐ جیسی تحریک کے قائد کے طور پر زندگی کے مختلف ادوار دیکھے۔ ان کے سامنے طلبہ نے زانوئے تلمذ تہہ کیے، ان کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس ہوئے، ان کے قلم سے سینکڑوں احکامات اور درجنوں قوانین کا اجراء ہوا، اور ان کے گرد لاکھوں افراد کے ہجوم نے زندہ باد اور مرحبا کے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ لیکن ان میں سے کوئی بات ان کے اپنے مزاج، گھر کے ماحول، طرزِ معاشرت اور سوچ کے انداز میں تبدیلی پیدا نہ کر سکی۔ زمانہ انہیں متاثر کرنے کے لیے ہر انداز میں سامنے آیا لیکن انہوں نے اپنے کردار اور عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ متاثر ہونے کے لیے نہیں بلکہ متاثر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔

ایک اور رخ کردار کا یہ بھی ہے کہ اقتدار، جس کی چوکھٹ پر لاکھوں جبینیں ہر وقت جھکی رہتی ہیں، مفتی محمودؒ نے اس پر بے نیازی کی ایسی ضرب لگائی کہ اقتدار کے سکہ پر کی گئی ملمع سازی کی چمک دمک ماند پڑ کر رہ گئی اور اس مرد درویش نے وقت کے ترازو پر اپنی بے نیازی کو اقتدار سے کہیں زیادہ وزنی ثابت کر دکھایا۔ وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ کے بعد استعفیٰ کی واپسی پر اصرار سے لے کر وفاقی وزارت کی پیشکش اور پھر اس کے بعد موت کے دن تک وزارتوں کی پیشکش کا تسلسل اور پھر ان پیشکشوں کے جواب میں اصولوں کے حوالے سے مفتی صاحبؒ کا انکار ملک کی تاریخ کا ایک روشن اور تابناک باب ہے جس سے اہل عزم و ہمت صدیوں تک راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

مولانا مفتی محمودؒ کا تعلق سیاست سے اگرچہ طالب علمی کے دور میں ہی قائم ہوگیا تھا اور انہوں نے جمعیۃ علماء ہندکے پلیٹ فارم پر آزادیٔ وطن کی تحریک میں عملی حصہ بھی لیا۔ مگر سیاست میں ان کی باقاعدہ آمد ۱۹۵۷ء میں ہوئی جب خود ان کی تحریک اور امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر ملتان میں مغربی پاکستان کے سرکردہ علماء کے کنونشن میں جمعیۃ علماء اسلام کے احیاء کے بعد ۱۹۵۶ء کے دستور پر مفتی صاحبؒ کی تنقیدات و ترامیم منظر عام پر آئیں۔ ارباب فہم و ادراک نے ان ترامیم و تنقیدات کے پس منظر میں کارفرما عزائم و محرکات کو بھانپ کر یہ اندازہ کر لیا تھا کہ ملتان کے ایک دینی مدرسہ کا یہ شیخ الحدیث ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔

۱۹۶۲ء میں مفتی صاحبؒ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انہوں نے خداداد صلاحیتوں اور محنت کے ساتھ قومی بحثوں میں حصہ لے کر خود کو ایک اچھے پارلیمنٹیرین کے طور پر متعارف کرا لیا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے احیاء کے بعد سے مفتی صاحبؒ اس کے نائب امیر چلے آرہے تھے کہ ۱۹۶۸ء میں مشرقی پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام کے قیام کے بعد مرکزی جمعیۃ کے قیام کا مرحلہ پیش آیا تو انہیں مرکزی ناظم عمومی (جنرل سیکرٹری) منتخب کر لیا گیا اور آخر دم تک وہ اسی عہدہ پر فائز رہے۔ ایوب خان مرحوم کی گول میز کانفرنس میں جمہوری مجلس عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفیق کار حضرت مولانا پیر محسن الدین احمدؒ بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر مفتی صاحبؒ نے علماء کے ۲۲ نکات کو دستور کی بنیاد بنانے اور مسلمان کی تعریف کو آئین میں شامل کرنے کا مطالبہ کر کے پورے ملک کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا لیا۔ اس وقت تو اس مطالبہ کو دیوانے کا ایک خواب سمجھا گیا مگر صرف چھ سال کے بعد ملک کی پارلیمنٹ نے مسلمان کی تعریف کو آئین کا حصہ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ گول میز کانفرنس میں مفتی محمودؒ کا مطالبہ نہ صرف صحیح بلکہ قوم کی ایک اہم ضرورت تھا۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات سے قبل ملک میں جو سیاسی خلفشار رونما ہوا یا پیدا کیا گیا، مفتی صاحبؒ اور ان کی جماعت نے اس خلفشار کو خانہ جنگیؒ تک پہنچنے سے بچانے کے لیے توازن، اعتدال اور جرأت کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنایا۔ انہوں نے سیاست اور ووٹ کی لڑائی کو اسلام اور کفر کا معرکہ نہ بننے دیا اور محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں اور نچلے طبقوں کے مسائل و مشکلات کو اسلام کے حوالے سے موضوعِ سیاست بنا کر اس تاثر کو عملاً دور کر دیا کہ سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے خلاف محنت کشوں کی معرکہ آرائی میں اسلام سرمایہ داری اور جاگیرداری کا حلیف ہے۔ سوشلزم اور کمیونزم کی راہ روکنے کا یہی ایک فطری راستہ تھا جو ۱۹۷۰ء میں مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت میں علماء حق نے اختیار کیا۔ اور آج بھی جبکہ کمیونزم اور سوشلزم کے اندرونی و بیرونی محرکات پورے نظم و وسائل کے ساتھ متحرک ہیں، سوشلزم کی راہ روکنے کا منطقی راستہ مروجہ معاشی و اقتصادی نظام کا دفاع نہیں ہے، بلکہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مروجہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف محنت کشوں کی بے چینی اور اضطراب کو محسوس کیا جائے اور انہیں خلوص دل کے ساتھ خلافت راشدہ کے غیر طبقاتی معاشرہ کی برکات و فیوض سے آگاہ کر کے ان کے لیے سوشلسٹ لیڈرشپ کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔

پاکستان کا محنت کش مسلمان ہے۔ معاشرہ میں خوشحال لوگوں کی فیشن ایبل بستیوں اور کچی آبادیوں کے درمیان معیارِ زندگی کے ہوشربا تفاوت نے مروجہ نظام کے خلاف محنت کشوں کے اضطراب اور بے چینی کو جواز کی ناقابل تنسیخ سند فراہم کر دی ہے۔ لیکن اگر آج بھی محنت کشوں کو عمل اور کردار سے یہ یقین دلا دیا جائے کہ مروجہ نوآبادیاتی اور غیر اسلامی نظام کے خلاف ان کے اضطراب میں اسلام ان کا حریف نہیں حلیف ہے تو پاکستان کا غریب مگر دیندار محنت کش سوشلسٹ قیادت کا جوا گلے سے اتارنے میں شاید چوبیس گھنٹے کی تاخیر بھی گوارا نہ کرے۔ مگر علماء کو آپس کی لڑائیوں اور بے مقصد بحثوں سے فرصت ہو تو وہ وقت کے اس سب سے بڑے چیلنج کی طرف توجہ کریں۔ بہرحال وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر علماء نے اتحاد و اشتراک اور تدبر و فراست کے ساتھ وقت کے اس چیلنج کا سامنا نہ کیا تو خاکم بدہن، بخارا و تاشقند کی تاریخ دنیا کے سامنے ایک بار پھر دہرائی جائے گی۔ اور تکلف برطرف! جہد و عمل سے خالی دعائیں اور اتحاد و یگانگت سے معرا بیانات و تقاریر اس سیلاب کا راستہ نہ روک سکیں گی۔

جذبات کی رو میں دور تک بہہ گیا، ذکر مولانا مفتی محمودؒ کی ۱۹۷۰ء کی حکمت عملی کا ہو رہا تھا، اس حکمت عملی نے ملک کے سیاسی حلقوں میں مفتی صاحبؒ اور ان کی جماعت کے لیے اعتماد اور دلچسپی کے در وا کیے، اور اسی فضا میں ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے۔ جمعیۃ علماء اسلام نے قومی اسمبلی میں سات نشستیں حاصل کی تھیں اور سرحد و بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں توازن کی قوت اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس طرح مولانا مفتی محمودؒ کی مدبرانہ قیادت میں علماء حق کی جماعت ملکی سیاست کا ایک ناگزیر حصہ بن کر ابھری۔

۱۹۴۷ء تک کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کو قیام پاکستان کے مخالفین میں شمار کیا جاتا ہے اور انہیں بھی ۱۹۴۷ء سے پہلے کی سیاسی زندگی کے حوالہ سے معذرت کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمان اور مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے دوران مولانا مفتی محمودؒ نے اپنی جماعت کی سطح پر اور چھوٹی پارلیمانی پارٹیوں کی لاہور کانفرنس کے حوالے سے ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے جو پرخلوص اور جرأت مندانہ کردار ادا کیا، وہ حب الوطنی کے بہت سے اجارہ داروں کے لیے بھی قابل رشک ہے۔ مسٹر بھٹو نے قومی اسمبلی کے ڈھاکہ سیشن کا بائیکاٹ کر کے ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘ کے نعروں کی گونج میں ڈھاکہ جانے والے ارکان اسمبلی کی ٹانگیں توڑ دینے کا جو چیلنج دیا، اس کا جواب سب سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی نشست سے مسٹر بھٹو کو شکست فاش دینے والے اسی مرد قلندر نے ڈھاکہ سیشن میں شرکت کا دوٹوک اعلان کر کے دیا۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات سے سقوط ڈھاکہ کے المناک سانحہ تک مولانا مفتی محمودؒ کا سیاسی کردار جس طویل تذکرہ کا متقاضی ہے یہ صفحات اس کے متحمل نہیں ہیں، لیکن اتنی بات ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ (۱) جمعیۃ علماء اسلام کے ارکان اسمبلی کی طرف سے ڈھاکہ سیشن میں شرکت کا اعلان،(۲) مولانا مفتی محمودؒ کی طرف سے طلب کردہ چھوٹے پارلیمانی گروپوں کی لاہور کانفرنس کے فیصلے، (۳) اور یحییٰ خان کی طرف سے قومی اسمبلی کے مشرقی پاکستان کے ارکان کو نااہل قرار دے کر ان کی جگہ نام نہاد انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام کا حصہ نہ لینے کا اعلان، مفتی صاحبؐ کی سیاسی بصیرت اور حب الوطنی کے ایسے شاہکار ہیں جن کے سامنے بڑے بڑے سیاسی جغادریوں کے حب الوطنی کے چراغ ماند پڑ گئے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان میں مارشل لاء کے خاتمہ کی جدوجہد بھی مفتی صاحبؒ کے قومی کردار کا ایک تابناک باب ہے۔ مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی کے تعاون سے وزیراعلیٰ بنے۔ سرحد و بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ کی مخلوط وزارتوں کا سیاسی پس منظر اور قومی سیاست پر ان کے اثرات ایک مستقل مقالہ کا تقاضہ کرتے ہیں، مگر یہاں صرف تین پہلوؤں پر مختصرًا گزارش کرنا چاہوں گا۔

  1. مفتی صاحب نے اردو کو صوبہ سرحد کی سرکاری زبان کا درجہ دے کر سرحد کی سیاسی عظمت کو دوبالا کر دیا،
  2. شراب پر پابندی اور دیگر اسلامی قوانین کے اجراء سے اسلامی قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں پائی جانے والی جھجھک اور گومگو کو ختم کر دیا،
  3. اور وفاتی وزراء کے مخالفانہ دوروں اور تقاریر کے باوجود دفعہ ۱۴۴، لاٹھی، گولی اور کسی بھی قسم کے امتناعی قوانین کے بغیر دس ماہ تک کامیابی کے ساتھ صوبہ کا نظام چلا کر یہ ثابت کر دیا کہ ملا اگر صحیح معنوں میں ’’ملا‘‘ ہو تو وہ حکومت اور سیاست کے نظام کو دوسروں سے کہیں زیادہ بہتری اور کامیابی کے ساتھ چلا سکتا ہے۔

اصولوں کی خاطر صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ اور اس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر آئین سازی میں مفتی صاحبؒ کی مسلسل جدوجہد کے مناظر ابھی تک پاکستانی عوام کی نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ جبکہ تحریک نظام مصطفٰیؐ کی قیادت کا مرحلہ تو ابھی تازہ ہے، انہوں نے جس تدبر اور صلاحیت کے ساتھ تحریک کی قیادت کی اور پھر مذاکرات کے طویل اور جانگسل مرحلہ کو نمٹایا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ مفتی صاحبؒ سیاست کا کاروبار معطل ہونے کے بعد بھی نہ تو کسی دوسرے ملک میں جا کر بیٹھ گئے اور نہ ہی اپنے گھر میں گوشہ نشیں ہوئے بلکہ ایک عالم دین ہونے کے حوالے سے ’’نظام العلماء پاکستان‘‘ کے نام سے مذہبی اور دینی پلیٹ فارم قائم کر کے آخر دم تک قوم کی دینی راہ نمائی اور عوام کے حقوق و مسائل کے سلسلہ میں جدوجہد کرتے رہے۔

آج مفتی صاحبؒ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کی جدوجہد اور کارنامے زندہ ہیں۔ اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے علماء حق کی سیاست کو مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور جلسہ و جلوس کے دائرہ سے نکال کر ان ایوانوں تک پہنچایا جہاں قوم کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے جلسہ، جلوس، ایوان اور میز پر علماء کو سیاستدانوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر کے اس اعتماد اور حوصلہ سے سرشار کیا کہ وہ اگر اپنے اسلاف کی جرأت، بے نیازی اور خلوص کو وطیرہ بنا لیں تو سیاست کے ہر شعبہ میں وہ قوم کی قیادت کر سکتے ہیں۔

آخر میں اس سوال پر کچھ عرض کرنا مناسب خیال کرتا ہوں کہ مفتی صاحبؒ کے بعد کیا ہوگا؟ اس لیے کہ بہت سے حلقوں اور افراد کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی جنم لے رہی ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ کے بعد شاید اس علماء حق کے کیمپ میں سناٹا طاری ہو جائے گا اور یہ قافلہ معاشرہ میں جو کردار ادا کرتا آرہا ہے، اس کا باب بند ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ جس حلقہ کی نمائندگی مولانا مفتی محمودؒ کرتے رہے ہیں اس کی نوعیت شخصی نہیں نظریاتی ہے۔ اور نظریاتی حلقے اشخاص کے سہارے نہیں بلکہ نظریۂ خلوص اور کارکنوں کے جذبہ و عمل کے سہارے زندہ رہتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مفتی صاحبؒ جیسی قدآور شخصیت کی موت اس حلقہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان اور ایک مدت تک نہ بھلایا جانے والا صدمہ ہے، لیکن اس سے قبل یہ حلقہ فکر و عمل شاہ ولی اللہؒ، شاہ عبد العزیزؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، سید احمد شہیدؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، شیخ الاسلام مولانا علامہ شبیر احمدؒ عثمانی، قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسی عظیم شخصیات کی جدائی کا صدمہ برداشت کر چکا ہے۔ اس لیے اگرچہ مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کا صدمہ تازگی کی بنا پر کیفیت و کمیت کے لحاظ سے ان صدموں سے منفرد محسوس ہوتا ہے۱ لیکن جیسے ان مذکورہ بالا اکابر کی جدائی ولی اللہی تحریک کے کارکنوں کے جذبہ و عمل اور قوت کار پر اثر انداز نہیں ہوئی اسی طرح مولانا مفتی محمودؒ کی موت بھی یقیناً منفی اثرات و نتائج کی حامل نہیں ثابت ہوگی۔

مولانا مفتی محمودؒ نے اپنی مدبرانہ قیادت کے دور میں کاروانِ ولی اللہی کو

  • اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد،
  • ملکی سالمیت کی ہر قیمت پر حفاظت،
  • اور عوامی حقوق و مسائل کے لیے بے لوث اور جرأت مندانہ کردار

کی جس شاہراہ پر گامزن کیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ یہ قافلہ اسی شاہراہ پر گامزن رہے گا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو منور کرے اور ہمیں توفیق مرحمت فرمائے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین، ملک اور قوم کی مخلصانہ خدمات سرانجام دیتے رہیں، آمین یا رب العالمین۔