انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ء

انتخابی اصلاحات کے بل میں قادیانیوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی خفیہ ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں نیا ترمیمی بل طے ہو جانے اور حکومتی حلقوں کی طرف سے متعدد وضاحتوں کے باوجود مطلع صاف نہیں ہو رہا اور شکوک و شبہات کا ماحول بدستور موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ کیا اس قسم کی فضا قائم کرنے کا مقصد کسی اور خفیہ کام سے توجہ ہٹانا تو نہیں ہے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ قوم کو ایک طرف الجھا کر پس منظر میں دوسرے کام سر انجام دیے جاتے رہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام چناب نگر میں منعقدہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ذمہ دار دینی راہنماؤں کی طرف سے ان شکوک و شبہات کا برملا اظہار کیا گیا ہے اور کانفرنس کا مجموعی ماحول حکومتی اقدامات و اعلانات پر عدم اعتماد کے اظہار کا تھا۔ مجھے بھی کانفرنس میں شریک ہونا تھا مگر گزشتہ چند سالوں سے چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ میری آنکھ مچولی چل رہی ہے جس کے باعث چنیوٹ اور چناب نگر میں کسی کھلے اجتماع سے خطاب کے موقع سے اکثر محروم رہتا ہوں۔ کانفرنس سے دو تین روز قبل لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے طلب کردہ ایک مشترکہ اجلاس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بتایا کہ میرے کانفرنس سے خطاب کرنے پر پابندی کا حکم برقرار ہے تو میں نے چناب نگر جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اپنے تفصیلی خطاب کے دوران دینی حلقوں کے ان جذبات و مطالبات کا دوٹوک اظہار کیا ہے اور صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ خان سے ان کے متنازعہ بیان کے حوالہ سے وضاحت طلب کی ہے۔ جبکہ مجلس احرار اسلام بھی ان دنوں مرکزی دفتر لاہور میں مبلغین کی تربیتی کلاس جاری رکھے ہوئے ہے جس میں شرکاء کو اس کے بارے میں تفصیلات بتائی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلہ میں گزشتہ دنوں ملی یک جہتی کونسل پاکستان کا ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی اور حالیہ حکومتی اقدامات و اعلانات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے طے پایا کہ تحریک ختم نبوت کی عوامی رابطہ مہم کو اس وقت تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے جب تک معاملہ پوری طرح صاف نہیں ہو جاتا۔

دوسری طرف راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں سہ رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت سے متعلقہ شقوں کو ایک سازش کے تحت چھیڑا گیا ہے اور رپورٹ میں اس کاروائی کی ذمہ دار حضرات کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے جس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ یہ کاروائی جن لوگوں نے بھی کی ہے وہ ان کے خلاف فوری کاروائی کے مطالبہ پر قائم ہیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے بھی اس مطالبہ کی تائید کی ہے او رمختلف دینی و عوامی جماعتوں کی طرف سے اس رپورٹ کی اشاعت اور اس کی بنیاد پر کاروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

چنانچہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں پر یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ صورتحال کا ازسرنو تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر قوم کی راہنمائی کریں اور صورتحال کے پوری طرح واضح ہونے تک عوامی جذبات کے اظہار کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے متحرک کردار ادا کریں۔

اس موقع پر قادیانی مسئلہ کے ان بین الاقوامی عوامل کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو قادیانی مسئلہ کو ہر حالت میں جاری رکھنے اور اسے قادیانیوں کی ہٹ دھرمی اور بے جا ضد کے مطابق واپس پہلی پوزیشن پر لے جانے پر اصرار کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اس کا مقصد امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو خوامخواہ ایک مسئلہ میں الجھائے رکھنے کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔ اس سلسلہ میں ۱۹۹۵ء کے دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ پر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اگست کے شمارہ میں شائع ہونے والے تفصیلی تبصرہ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے اس مسئلہ کے بین الاقوامی تناظر کو کسی حد تک سمجھا جا سکتا ہے:

’’جہاں تک قادیانیوں کی اسلام کے نام پر سرگرمیوں کی ممانعت کا تعلق ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قادیانی گروہ ایک نئے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے اور اپنے پیشوا کی ہدایات کو وحی الٰہی پر مبنی تسلیم کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کی رو سے یہ گروہ ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے اور قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دعوے کے باوجود بالکل اسی طرح مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار ہے۔ جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان کے باوجود عیسائی صرف اس لیے یہودیوں سے الگ نئے مذہب کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں کہ وہ ایک نئے پیغمبر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی وحی کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور توراۃ و انجیل دونوں پر ایمان کے باوجود مسلمان ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار کہلاتے ہیں کہ وہ قرآن کریم اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔

یہ آسمانی مذاہب کے درمیان ایک طے شدہ اصول ہے جس کے تحت سچ جھوٹ سے قطع نظر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار پاتا ہے اور اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے نیا نام اختیار کرے اور مسلمانوں سے الگ نئی مذہبی اصطلاحات اور شعائر کو متعارف کرائے۔ مگر قادیانی گروہ اس مسلمہ حقیقت اور طے شدہ اصول کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے اور اپنی نئی نبوت اور نئی وحی کو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر مصر ہے۔ اس پر مسلمانوں کو اعتراض ہے اور اسی اعتراض کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ اور اس کے بعد قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے قانوناً روکنے کا قانون بھی اسی آئینی فیصلے کا منطقی تقاضا اور اس پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت ہے جس کی ضرورت قادیانیوں کے انکار کی وجہ سے پیش آئی تھی۔

یہ ہے مسلم قادیانی تنازعہ کا اصل پس منظر جس کی بنیاد قادیانیوں کو شہری حقوق دینے یا ان سے محروم کرنے پر نہیں بلکہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی امتیاز اور جداگانہ تشخص قائم کرنے پر ہے جو بہرحال دونوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔ لیکن انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ قادیانی حضرات مبادیات اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے منطقی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی نازل ہوئی تھی اور اس وحی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ان کے ہم مذہب نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے مذہب کو الگ الگ تسلیم کرتے ہوئے بھی وہ اپنے مذہب کے لیے الگ نام اور اصطلاحات اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ صرف اس لیے کہ اشتباہ اور التباس کی فضا قائم رہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا کر سکیں۔

قادیانیوں کے لیے اصولی اور منطقی طور پر دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ نئی نبوت اور نئی وحی کو چھوڑ کر ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آجائیں اور یا پھر اپنے لیے الگ نام اور الگ شناخت اختیار کریں، تیسرا کوئی راستہ بھی جائز اور معقول نہیں ہے۔ اور جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ تنازعہ اور کشیدگی جاری رکھنے کا راستہ ہے جو اختیار بھی انہوں نے کیا ہے اور اس کے نتائج بھی انہی کو بھگتنا ہیں۔

مسلم قادیانی تنازعہ کے اس پس منظر میں اگر حقوق کی پامالی کا سوال کہیں پیدا ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے حقوق کا ہے نہ کہ قادیانیوں کے حقوق کا۔ کیونکہ اپنی شناخت اور امتیاز کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے جو قادیانیوں کے غلط طرز عمل کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے۔ اس کشمکش میں اصل خطرہ مسلمانوں کو درپیش ہے کہ ان کا نام اور ان کی شناخت کا استعمال ایک ایسے گروہ کے لیے ہو رہا ہے جو ان کے وجود کا حصہ نہیں ہے اور ان سے الگ مذہبی وجود رکھتا ہے۔ اس لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر مغربی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر واقعی انصاف کے علمبردار ہیں تو اپنے طرزعمل پر نظر ثانی کریں اور واقعات کی یک طرفہ تصویر پیش کر کے اس پر فیصلے صادر کرنے کی بجائے مسلمانوں کے موقف او رمشکلات کا جائزہ لیں اور ان کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔‘‘