دینی قیادت کی آواز بھی سنی جائے!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ اپریل ۲۰۰۳ء

۳۰ مارچ ۲۰۰۳ء کو مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے شہداء کی یاد میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت منعقد ہونے والی ایک تقریب میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان میں سے چند معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

آج ہم ان عظیم شہداء ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں جنہوں نے ۱۹۵۳ء میں عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے جذبہ سے سرشار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور قادیانیت کے بڑھتے ہوئے قدموں کو بریک لگا دی۔ اس تحریک میں جس کی قیادت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا سید ابوالحسنات قادریؒ اور حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ جیسے عظیم بزرگوں کے ہاتھ میں تھی، دینی جماعتوں کے دو بڑے مطالبات تھے۔

  1. ایک یہ کہ قادیانیوں کو ملک میں دستوری حوالہ سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے،
  2. اور دوسرا یہ کہ قادیانی لیڈر چودھری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے برطرف کیا جائے۔

چودھری ظفر اللہ خان قیام پاکستان کے بعد سے ملک کے وزیرخارجہ چلے آرہے تھے اور ان کی وجہ سے نہ صرف ملک کے اندر سرکاری طور پر قادیانیوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کے سفارتخانے قادیانیت کی تبلیغ اور اثر و نفوذ کے اڈے بنتے جا رہے تھے۔ ملک کی دینی جماعتوں نے چودھری ظفر اللہ خان کی برطرفی کا مطالبہ کیا لیکن ان کا مطالبہ منظور کرنے کی بجائے تحریک کے راہنماؤں اور کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اور ہزاروں علماء کرام اور دینی کارکن جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے۔

میں اس حوالہ سے ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج جس خارجہ پالیسی نے پوری قوم کو بند گلی میں دھکیل دیا اور امریکی غلامی کے ریموٹ کنٹرول شکنجے میں اس بری طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی چودھری ظفر اللہ خان کی تشکیل کردہ ہے۔ اس قادیانی وزیرخارجہ نے پاکستان کو امریکہ نواز پالیسی کی پٹڑی پر چڑھایا اور ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۳ء تک پانچ چھ سال کے عرصہ میں ملک کو امریکی مفادات کے چنگل میں اس قدر پھنسا دیا کہ ہم آج تک اس میں مزید آگے کی طرف دھنستے چلے جا رہے ہیں اور ہمیں پیچھے ہٹنے بلکہ دائیں بائیں دیکھنے کا بھی کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ سارا کرشمہ چودھری ظفر اللہ خان کا ہے اور اس کی بوئی ہوئی فصل آج پوری قوم کو کاٹنی پڑ رہی ہے۔ دینی حلقوں نے تو پاکستان بننے کے بعد سے ہی اس پر واویلا مچانا شروع کر دیا تھا لیکن اس طرف کسی نے توجہ نہ دی اور آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ قومی و ملی معاملات میں دینی قیادت کے موقف کو نظر انداز کیا ہے اور ہر بار اس کی سزا بھگتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے طرزعمل میں کوئی تبدیلی ابھی تک دیکھنے میں نہیں آرہی۔ آج سے ایک صدی قبل جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے عرب ممالک میں عرب قومیت کے نام پر اور ترکی میں ترک نیشنلزم کے نام پر جذبات کو ابھارا جا رہا تھا اور خلافت کو بے فائدہ قرار دے کر اسے ختم کرنے کی سازش کی جا رہی تھی، ہماری دینی قیادت نے اس وقت بھی شور مچایا تھا کہ خلافت کے خاتمہ کی یہ تحریک یہودیوں کی سازش ہے۔ بہت سے عرب علماء نے آواز اٹھائی اور ہمارے ہاں جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں زبردست عوامی تحریک خلافت بپا ہوئی۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ خلافت کا تحفظ کیا جائے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی سیاسی مرکزیت کے اس ادارے کو بچایا جائے لیکن نہ ترکوں نے بات سنی اور نہ ہی عربوں نے اس آواز پر توجہ دی۔ حتیٰ کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کو تو شریف مکہ نے اسی جرم میں گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالہ کیا تھا کہ انہوں نے خلافت عثمانیہ کے خلاف شریف مکہ کی بغاوت کے جواز کے فتوے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس موقع پر جنوبی ایشیا کی دینی قیادت نے ایک اور آواز بھی اٹھائی کہ یہاں کے مسلمان برطانیہ کی فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ متحدہ ہندوستان کے سینکڑوں علماء کرام نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ برطانیہ کی فوج میں مسلمانوں کا بھرتی ہونا حرام ہے اس لیے کہ یہ فوج اسلام کے خلاف، مسلمانوں کے خلاف اور خلافت عثمانیہ کے خلاف استعمال ہوگی۔ مگر اس فتویٰ پر کسی نے کان نہ دھرے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے اور پھر یہی فوجی مشرق وسطیٰ لے جائے گئے اور انہیں کے ہاتھوں ترک فوجیوں کو شکست دلوا کر خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی راہ ہموار کی گئی۔ آج اگر خلافت کا فورم موجود ہوتا، خواہ کتنی ہی کمزور اور ڈھیلی ڈھالی خلافت ہوتی، مگر عالمی سطح پر اپنی بات کہنے کا کوئی فورم تو ہوتا اور حالات یقیناً اس مقام تک نہ پہنچتے جن کا ہم اب سامنا کر رہے ہیں۔

ہم اسی دور سے کہہ رہے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ یہودیوں کی سازش کا نتیجہ ہے لیکن آج اسرائیلی وزیردفاع جنرل موفاذ نے کھلے بندوں یہ بات کہہ کر ہمارے موقف کی تصدیق کر دی ہے کہ ہمیں عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید دوم نے فلسطین میں آباد ہونے کے لیے جگہ دینے سے انکار کر دیا تھا اس کے نتیجے میں ہم نے نہ صرف اس کی حکومت ختم کرا دی بلکہ سرے سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرا دیا۔ جنرل موفاذ نے ایک بات اور بھی کہی ہے کہ عراق پر اب ہمارا قبضہ ہوگا اور اسرائیل کے عزائم میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا یہی حشر ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسرائیل کے عزائم کیا ہیں اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ عراق پر امریکہ اور برطانیہ کا حملہ دراصل اسرائیل کی توسیع اور ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے قیام کے منصوبے کا حصہ ہے جس میں عراق، مصر، شام، لبنان اور دیگر علاقوں کے علاوہ مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کا بھی ایک بڑا علاقہ شامل ہے۔

دینی قیادت نے اس وقت بھی واویلا کیا تھا جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر کے اپنا گورنر بٹھا دیا تھا اور دنیا بھر کے یہودیوں کو یہ حق دے دیا تھا کہ وہ فلسطین میں آکر آباد ہو سکتے ہیں اور زمین خرید کر کالونیاں بنا سکتے ہیں۔ اس وقت سرکردہ علماء کرام نے فتویٰ دیا تھا کہ یہودی چونکہ فلسطین میں آباد ہو کر اسرائیل قائم کرنا چاہتے ہیں اور بیت المقدس پر قبضہ بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے اس لیے فلسطین میں یہودیوں کو زمین کا بیچنا شرعاً جائز نہیں۔ یہ فتویٰ ہمارے بزرگوں نے بھی جاری کیا۔ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے فتاویٰ موجود ہیں۔ اور حضرت تھانویؒ کا تفصیلی فتویٰ ان کی کتاب ’’بوادر النوادر‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہ کی اور فلسطینی اپنی زمینوں کو ڈیڑھ گنا اور دو گنا قیمت کی لالچ میں یہودیوں پر فروخت کرتے چلے گئے جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ جن یہودیوں کا آج سے ایک صدی قبل فلسطین کی آبادی میں قابل ذکر حصہ نہ تھا، آج وہ وہاں نہ صرف قابض ہیں بلکہ پوری عرب دنیا کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں۔

حالیہ عالمی بحران کے آغاز میں بھی ہماری دینی قیادت نے امت کی بروقت رہنمائی کی کہ امریکی خواہشات اور عزائم کے سامنے گردن جھکانے اور ہاں میں ہاں ملاتے چلے جانے کی بجائے جرأت و حوصلہ کے ساتھ اس کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہماری بات پر بروقت توجہ نہ دی گئی اور آج وہی بات سب حضرات کہہ رہے ہیں۔ میں اس موقع پر یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) نے آج جو موقف اختیار کیا ہے کہ عراق کی سرحدوں، ملکی سالمیت اور قومی وحدت کا تحفظ ضروری ہے اور اس کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی، یہ موقف آج سے ڈیڑھ سال قبل افغانستان پر امریکہ کے حملہ سے پہلے اختیار کرنے کی ضرورت تھی اور اس موقف کا صحیح وقت وہ تھا۔ کیونکہ افغانستان کی قومی وحدت اور سرحدوں کے تقاضے بھی اس نوعیت کے تھے لیکن ہم نے اس وقت جائز موقف اختیار نہیں کیا۔ اسی طرح ہمارے عرب بھائیوں نے اس وقت یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کسی عرب ملک پر حملہ نہ کیا جائے لیکن صرف ایک سال کے بعد ایک عرب ملک پر نہ صرف حملہ ہوگیا بلکہ اس کے ساتھ کئی عرب ممالک کی سرحدات اور قومی سلامتی بھی خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔ ہمارے خیال میں او آئی سی اور عرب لیگ نے آج جو موقف اختیار کیا ہے اور اس پر اسٹینڈ لیا ہے اس کا صحیح وقت افغانستان پر امریکہ کی یلغار سے قبل تھا۔ اب بھی غنیمت ہے کہ ہمارے مسلم اور عرب حکمرانوں نے کسی جگہ کھڑا ہونے کی ضرورت محسوس کی، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ موقف اگر افغانستان پر امریکی حملہ سے قبل اختیار کر لیا جاتا اور مسلم حکمران اس پر سنجیدگی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تو نہ صرف افغانستان تباہی سے بچ سکتا تھا بلکہ عراق اور اس کے ساتھ دیگر کئی عرب ممالک کی تباہی کو بھی ٹالا جا سکتا تھا۔

بہرحال ان معروضات کا مقصد یہ ہے کہ ہماری دینی قیادت نے ہر دور میں اور ہر اہم مسئلہ پر امت کو حالات کی سنگینی سے خبردار کیا اور صحیح موقف کی طرف راہنمائی کی لیکن ہم نے قومی اور ملکی سطح پر کبھی اس کی بات پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی اور ہر بار اس کی سزا بھگتی ہے۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور عالم اسلام کے حالیہ بحران اور ملکی مسائل کے حوالہ سے دینی قیادت کی آواز کو سنا جائے اور اسے سنجیدہ توجہ دی جائے کیونکہ ملی حمیت اور دینی غیرت کا تقاضا یہی ہے اور مشکلات و مصائب کی دلدل سے نکلنے کا راستہ بھی یہی ہے۔