ارشد پرویز کیس پاکستان کے خلاف عالمی سازش ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں امریکہ کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ عالمی طاقتوں کی اس مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمِ اسلام کو ایٹمی قوت سے بہرحال محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ ایٹمی فولاد کی سمگلنگ کے سلسلہ میں ارشد پرویز کا مبینہ کیس ایک سازش کے تحت کھڑا کیا گیا ہے جس کا مقصد ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلہ میں پاکستان کی جائز کوششوں پر اثر انداز ہونا ہے اور اس دباؤ کو بڑھانا ہے۔

امریکہ اگر پاکستان کو جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتِ حال کے پیشِ نظر امداد دیتا ہے تو یہ ہم پر اس کا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ اس علاقہ میں اس کے اپنے مفادات کا تقاضا ہے۔ اس لیے اگر امریکی حکومت پاکستان کی امداد بند کر کے اسے بے بس دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اس کے فطری ردِعمل اور منطقی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

پاکستان کو امریکی شرائط اور دباؤ کے سامنے سپر انداز نہیں ہونا چاہیے اور تمام سیاسی و دینی حلقوں کو چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی وقار اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے یک جہتی کا مظاہرہ کریں۔