حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مفسر قرآن نمبر ۲۰۰۸ء

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انہوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے اور جن کے دیکھنے کو اب آنکھیں ترستی ہیں۔

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ صاحب فراش تو کافی برسوں سے تھے مگر گذشتہ دو ماہ سے طبیعت زیادہ خراب تھی،گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا، خوراک بھی نالی کے ذریعے معد ے میں جا رہی تھی، کمزوری حد سے بڑھ گئی تھی مگر امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا تھا۔ دعائیں بھی ہو رہی تھیں اور ڈاکٹر صاحبان بھی اپنی کوشش کر رہے تھے۔ چند روز قبل والد محترم حضر ت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اپنی علالت اور ضعف کے باوجود صوفی صاحب کو دیکھنے کے لیے آگئے اور ان کی حالت دیکھ کر خاصے پریشان ہو گئے۔ دونوں بھائیوں میں مثالی محبت اور جوڑ تھا۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے رفیق تھے۔ اکٹھے تعلیم حاصل کی، اکٹھے نصف صدی تک پڑھایا اور ایک ہی سال ضعف کی وجہ سے پڑھانا چھوڑا۔ میں عام طور پر جمعہ کے دن شام کو گکھڑ جا یا کرتا ہوں، نماز مغرب کے بعد حضرت والد صاحب کی مسجد میں درس ہو تا ہے اور اس بہانے ان سے ملاقات ہو جاتی ہے ۔میں جب بھی والد صاحب سے ملا، ان کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ ”صوفی کا کیا حال ہے؟ “۔ مجھے یاد نہیں کہ ہماری کوئی کوئی ملاقات اس سوال کے بغیر شروع ہوئی ہو۔ اسی کیفیت میں وہ گذشتہ روز ہمیں داغ مفارقت دے کر خالق حقیقی سے جا ملے،انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اتوار کے روز جب حسب معمول مدرسہ نصرۃ العلوم میں اسباق سے فارغ ہو کر دس بجے کے لگ بھگ گھر جا رہا تھا، ابھی نصف راستہ طے کیا ہو گا کہ اردو بازار سے گزرتے ہوئے برادرم مولانا محمد ریاض خان سواتی کا فون آگیا۔ انہوں نے بتایا ”ابا جی کا انتقال ہو گیا ہے“۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہو اورمیں وہیں سے واپس پلٹ گیا۔ حضرت صوفی صاحب کے چھوٹے بیٹے مولانا محمد عرباض خان سواتی ان کی آنکھیں بند کر رہے تھے اور ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے ۔پتہ چلا کہ تھوڑی دیر قبل ان کے معالج ڈاکٹر صاحب آئے تھے اور انہوں نے چیک کرکے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔گھر کے افراد کا اصرار تھا کہ ایک بار اور چیک کرا لیا جائے کیونکہ پہلے بھی ایک بار ایسی کیفیت ہو گئی تھی مگر وہ بے ہوشی تھی۔ ایک اور ڈاکٹر صاحب کو بلایا گیا، انہوں نے بھی چیک کر کے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا جس سے امید کی ایک موہوم سی کرن بھی ختم ہو گئی اور ہم تہجیز و تکفین اور دوسرے معاملات کے لیے مشاورت میں مصروف ہو گئے۔

تدفین کے بارے میں طے پایا کہ ان کی اپنی خواہش عام قبرستان میں دفنائے جانے کی تھی، اس لیے شہر کے بڑے قبر ستان میں قبر کی تیاری شروع کر دی گئی۔جنازے کے بارے میں مشورہ ہوا کہ دن کے وقت مشکل ہے، اگلے روز تک رکھنا مناسب نہیں ہے اور رات کے وقت جنازے کے لیے سب سے مناسب اور محفوظ جگہ خود مدرسہ نصرۃا لعلوم اور جامع مسجد نور ہے، اس لیے طے پایا کہ جنازہ رات کو نو بجے مدرسہ نصرۃ العلوم میں ادا کیا جائے گا اور اس کے بعد عام قبرستان میں تدفین ہو گی۔ یہ طے پانے کے بعد احباب کو اطلاعات دینے اور شہر میں اعلانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ہر طرف سے احباب جمع ہو نے لگے، حضرت والد محترم کو اطلاع دی گئی تو وہ بھی شام کو تشریف لے آئے۔ انہیں کرسی پر بٹھا کر حضرت صوفی صاحبؒ کی چارپائی کے پاس لایا تو ان کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر رونے لگ گئے ۔میں چونکہ گذشتہ ساٹھ برس سے ان کے تعلق اور باہمی محبتوں کا گواہ ہوں، میں نے قریب ہو کر حضرت والد صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا کہ ”آج آپ دونوں کی جوڑی ٹوٹ گئی ہے“۔ یہ کہتے ہوئے میری آنکھیں بھی چھلک پڑیں اور مزید کوئی بات کہنا میرے بس میں نہ رہا ۔

نماز عصر کے بعد سے جامعہ نصرۃ العلوم میں اجتماع اور خطابات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف علماءکرام تشریف لا کر اپنے جذبات کا اظہار کر تے رہے اور حضرت صوفی صاحبؒ کی دینی و علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کر تے رہے۔ خطاب کرنے والوں میں حضرت مولانا قاری سعید الرحمن، حضرت مولانا محمد فیروز خان، حضرت صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی، حضرت مولانا قاضی محمد اویس خان ایوبی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاری جمیل الر حمن اختر، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا میاں عبد الرحمن اور دیگر سر کردہ علماءکرام شامل تھے۔ رات نو بجے تک خطابات کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ طے پایا کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے بڑے فرزند اور جانشین مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نو بجے نماز عشاء پڑھائیں گے اور فرض پڑھاتے ہی سنتوں سے قبل نماز جنازہ بھی وہی پڑھائیں گے۔ چنانچہ نماز عشاءسے قبل میں نے اس کا اعلان کیا اور وہاں پر موجود سر کردہ علماءکرام سے گزارش کی کہ وہ حضرت صوفی صاحبؒ کے جانشین کے طور پر مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کی دستار بندی کر دیں۔ چنانچہ دستار بندی ہوئی اور اس کے بعد مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کی امامت میں نماز عشاءاور نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد حضرت صوفی صاحبؒ کے جسد خاکی کو بڑے قبرستان لے جایا گیا۔ ہزاروں افراد اپنے اس محبوب استاذ اور مربی کو رخصت کرنے کے لیے ساتھ ساتھ تھے جبکہ نماز جنازہ میں مذکورہ بالا علماء کرام، ہزاروں دیگر علماء کرام اور دینی کارکنوں کے علاوہ حضرت صاحبزادہ حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا حافظ حسین احمد سابق ایم این اے، مولانا سیف الدین سیف، مولانا مفتی عبد الشکور کشمیری، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، مولانا حافظ منیر محمد میانوالی اور بہت سے دیگر سرکردہ علماءکرام بھی پہنچ گئے۔چنانچہ رات کو کم و بیش گیارہ بجے کے لگ بھگ علم و حکمت کے اس عظیم خزانے کو مادر زمین کی آغوش میں اتار دیا گیا۔

حضرت صوفی صاحبؒ میرے چچا تھے، استاذ تھے، مربی تھے، سرپرست تھے اور میرے سمدھی بھی تھے کہ ان کے بڑے فرزند اور جانشین مولانا محمد فیاض خان سواتی میرے داماد ہیں۔ ان رشتوں کے امتزاج نے جو کیفیت پیدا کر رکھی تھی اسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے، وہ صاحب فراش تو تھے لیکن تھوڑی بہت گفتگو کر لیتے تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضرہوا تو چچی محترمہ نے ان سے پوچھا کہ کون آیا ہے؟ غور سے دیکھ کر کہنے لگے کہ زاہد ہے۔ پوچھا کہ زاہد کون ہے؟ فرمانے لگے ”میرا پتر ہے“۔ بس میرے لیے اتنی بات ہی کافی تھی اور اس کی سرشاری ابھی تک ذہن میں قائم ہے۔

میں نے اپنی زندگی کا وہ حصہ جو ذہن کی نشوونما اور شخصیت کی تشکیل کا ہوتا ہے، انہی کی سرپرستی اور تربیت میں گزارا ہے۔ میں نے ۱۹۶۰ء میں بارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا اور ۱۹۶۲ء میں چودہ سال کی عمر میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں آگیا تھا۔ پھر ۱۹۷۰ء یعنی دورۂ حدیث سے فراغت تک انہی کے پاس رہا اور ان کی تربیت اور فیضان سے بہرہ ور ہوتا رہا۔ اس لیے کسی تکلف کے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں، اس میں حضرت والد صاحب مدظلہ کے بعد سب سے بڑا اور کلیدی حصہ حضرت صوفی صاحبؒؒ کا ہے۔

حضرت صوفی صاحبؒ کی جس بات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ ان کی حق گوئی اور بے باکی تھی اور اس کے بعداپنے شیخ حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت و محبت تھی۔ حق بات کہنے میں وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے، انہوں نے اس کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور مقدمات اور پابندیوں کے مراحل سے بھی کئی بار گزرے۔ جامع مسجد نور میں ان کا خطبہَ جمعہ ”اظہار حق “ کا اعلیٰ نمونہ ہوتا تھا اور دور دراز سے لوگ ان کا نعرہَ حق سننے کے لیے مسجد نور میں آیا کرتے تھے۔ وہ بات دلیل کے ساتھ کرتے تھے لیکن دو ٹوک کرتے تھے اور لہجے کی کاٹ بھی متاثر کن ہوتی تھی۔

ان کی یادوں کا تذکرہ کسی اور موقع کے لیے چھوڑتے ہوئے سردست قارئین کو ان کے سفر آخرت کی روداد سے آگاہ کر رہا ہوں۔ وہ اگر چہ تہہ خاک جا چکے ہیں لیکن ان کی باتیں ابھی تک کانوں میں گونج رہی ہیں اور ان کا چلنا پھرنا ابھی تک نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے ا س لیے ان کے لیے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہوئے اس موقع پر یہی کہہ سکتا ہوں کہ

رفتید ولے نہ از دلِ ما

ایک صدی پہلے کا قصہ ہے، ہزارہ میں شاہراہ ابریشم پر واقع شنکیاری سے چند میل آگے کڑمنگ بالا کے قریب پہاڑ کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا ڈیرہ تھا جسے ”چیڑاں ڈھکی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیرہ نور احمد خان مرحوم کا تھا جوسواتی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔تھوڑی سی زمین تھی جس پر کھیتی باڑی کر کے زندگی بسر کر رہے تھے۔بے اولاد تھے اور میاں بیوی کو فطری طور پر اس بات کی تمنا تھی کہ ان کے صحن میں پھول کھلیں مگر جب خاصے انتظار کے بعد امید بر نہ آئی تو بیوی کی خواہش اور کوشش پر دوسری شادی ہوئی جس سے نور احمد خان مرحوم کو اللہ نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے دیے۔ بیٹوں میں سے ایک کا نام محمد سرفراز خان ہے جو ۱۹۱۴ ءمیں پیدا ہوئے اور دوسرے کا نام عبد الحمید خان جن کی ولادت ۱۹۱۷ ءمیں ہوئی۔ ابھی بچپن کے حصار میں ہی تھے کہ والدہ مرحومہ کا انتقال ہو گیا اور والد محترم نے ان دونوں بچوں کو تعلیم و تربیت کے لیے ان کے پھوپھی زاد بھائی مولوی سید فتح علی شاہ صاحبؒ کے سپرد کر دیا جو اسی علاقہ میں بٹل کے قریب ایک بستی ”لمی“ میں مقیم تھے، جبکہ طالب علمی کے ابتدائی مراحل کے دوران ہی والد محترم بھی رحلت کر گئے۔

ان دونوں بھائیوں نے ابتدائی تعلیم سید فتح علی شاہ صاحبؒ سے حاصل کی، پھر ملک پور اور کھکھو نامی مقامات میں کچھ دیر پڑھتے رہے اور بعد میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد یہ دونوں بھائی اس دور کے روایتی طلبہ کی طرح مختلف علاقوں کے دینی مدارس میں گھومتے رہے اور جن جگہوں میں انہوں نے تعلیم پائی، ان میں لاہور کا محلہ میراں شاہ، وڈالہ سندھواں ضلع سیالکوٹ، سرگودھااور جہانیاں منڈی شامل ہیں۔ دورۂ حدیث سے پہلے آخری چند سال انہوں نے مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانولہ میں پڑھا اور پھر ۱۹۴۱ء میں دار العلوم دیوبند چلے گئے جہاں انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور دیگر اساتذہ سے دورہَ حدیث کی تکمیل کر کے سند فراغت حاصل کی۔

دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے کے بعد بڑے بھائی نے گوجرانوالہ کے قریب گکھڑ میں ڈیرہ لگا لیا اور تعلیم و تدریس اور خطابت و امامت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور وہ آج کی دنیامیں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے نام سے متعارف ہیں، جبکہ چھوٹے بھائی مزید تعلیم کے لیے لکھنو چلے گئے۔ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ سے فن مناظرہ سیکھا اور مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں استفادہ کیا۔ اس کے بعد وہ حیدر آباد دکن گئے اور طبیہ کالج میں چار سال کا کورس مکمل کر کے حکیم حاذق کی سند حاصل کی۔یہ مولانا عبد الحمیدؒ سواتی ہیں جو اپنے نام کے ساتھ عبد الحمید خان اختر کا تخلص اور سواتی کی نسبت لکھتے تھے۔ وہ ایک مستند طبیب کے طور پر گوجرانولہ آئے اور چوک نیائیں کے قریب ایک دکان میں مطب کا آغاز کیا مگر انہیں مطب راس نہ آیا کہ قدرت انہیں کسی اور کام کے لیے منتخب کر چکی تھی۔ چنانچہ ان کے بزرگوں اور دوستوں نے انہیں اس بات کے لیے آمادہ کر لیا کہ وہ گھنٹہ گھر چوک کے قریب محلہ طوطیانوالہ میں واقع ایک بڑے جوہڑ کے کنارے ڈیرہ لگائیں اور ایک دینی مدرسہ اور مسجد کی بنیاد رکھ کر اس جوہڑ کو بھرنا شروع کر دیں،چنانچہ وہ ۱۹۵۲ء میں دکانداری چھوڑ کر اس چھپڑ کے کنارے آ بیٹھے اور ایک چھوٹی سی کچی مسجد اور اس کے ساتھ مدرسہ کے دو تین کمرے بنا کر دینی مرکز کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔یہ مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کا نقطۂ آغاز تھا جن کا شمار آج شہر نہیں بلکہ ملک کے بڑے دینی اداروں میں ہوتا ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے علماءکرام پاکستان،بھارت، بنگلہ دیش، برما، افغانستان، چین، وسطی ایشیا، برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں مختلف حوالوں سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

صوفی صاحبؒ کے بڑے بھائی مولانا محمد سرفراز خان صفدر بھی جو اس سے قبل گکھڑ کی جامع مسجد میں تدریسی خدمات سر انجام دیتے تھے، اس کارخیر میں ان کے ساتھ شریک کار ہوگئے اور پھر ان دونوں بھائیوں نے نصف صدی تک اس گلشن علم کی ایسی آبیاری کی کہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کو آج کی علمی دنیا میں بعض حوالوں سے سند اور مرجع کا مقام حاصل ہے اور دنیا بھر کے اہل علم راہ نمائی کے لیے اس مرکز سے رجوع کرتے ہیں۔ مولانا عبد الحمیدؒ سواتی کی تدریس اہل علم اور علماءو طلبہ کے لیے تو تھی مگر گوجرانوالہ عوام بھی محروم نہیں رہے۔ ان کا نصف صدی تک معمول رہا کہ نماز فجر کے بعد ہفتہ میں چار دن قرآن کریم اور دو دن حدیث نبویؐ کا پابندی سے درس دیا کرتے تھے۔ ان کے قرآن کریم کے دروس کتابی شکل میں مرتب ہو کر بیس ضخیم جلدوں میں ”معالم العرفان“ کے نام سے طبع ہو چکے ہیں اور انہیں اردو زبان میں قرآن کریم کی سب سے بڑی تفسیر کہا جاتا ہے۔ ان کا اسلوب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ کرتے تھے اور تشریح میں شان نزول اور متعلقہ واقعات کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر کے مسائل کی وضاحت اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت کا خاص طور پر تذکرہ کرتے تھے۔ انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے افکار کی جس طرح ترجمانی کی ہے، اس کی وجہ سے انہیں فلسفہ امام ولی اللہ دہلویؒ کا شارح اور ترجمان سمجھا جاتا ہے۔

مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی ایک بے باک عوامی خطیب بھی تھے، ان کا خطبہَ جمعہ علمی معلومات اور دینی راہ نمائی کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر بھرپور تبصرہ کا حامل ہوتا تھا اور وہ لگی لپٹی رکھے بغیر مسائل حاضرہ پر دینی حوالے سے دو ٹوک بات کیا کرتے تھے۔ وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں اسی حق گوئی کے باعث گرفتار ہوئے اور سات ماہ تک جیل میں رہے۔ اس کے بعد متعدد بار پابندیوں،زبان بندی،ضلع بدری اور مقدمات کے مراحل سے گزرے حتیٰ کہ صدر ضیاءالحق مرحوم کے دور میں انہیں اشتہاری ملزم بھی قرار دے دیا گیا۔ وہ اپنے اساتذہ اور اکابر کے ساتھ عقیدت کا تعلق رکھتے تھے اور کھلم کھلا اظہار کرتے تھے، مگر حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی،حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ ان کی عقیدت و محبت سب سے زیادہ تھی اور ان کے انداز گفتگو سے ان بزرگوں کے ساتھ ان کی عقیدت و محبت چھلکتی تھی۔

انہوں نے نصف صدی تک مدرسہ نصرۃ العلوم میں اہتمام و تدریس اور جامع مسجد نور میں خطاب کے فرائض سر انجام دیے۔ ان سے ہزاروں علماءکرام اور لاکھوں عام مسلمانوں نے استفادہ کیا۔ انہوں نے ساری زندگی مدرسہ نصرۃ العلوم کی چار دیواروں میں گزار دی، کسی شدید مجبوری کے بغیر مدرسہ سے باہر نہیں نکلتے تھے اور اس کا موقع بھی بمشکل سال میں ایک آدھ بار ہی آتا تھا۔ انہیں گوشہ نشین بزرگ سمجھا جاتا تھا مگر ان کے علوم و فیوض کی وسعت دنیا کے ہر بر اعظم میں دیکھی جا سکتی ہے۔

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کے حوالہ سے یادداشتوں کو ترتیب دینے کے لیے کئی بار قلم اٹھایا مگر اندازہ ہوا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا میں سمجھ رہا ہوں، اس لیے کہ جہاں اتنا قریبی تعلق ہو اور اتنا طویل عرصہ ہو، وہاں یادداشتوں کی ترتیب قائم کرنا، ان میں سے انتخاب کرنا اور پھر پوری طرح بیان کردینا مشکل ہو جایا کرتا ہے۔ بہر حال حضرت صوفی صاحب نور اللہ مرقدہ کے بارے میں ماہنامہ”نصرۃ العلوم“ کی خصوصی اشاعت کی مناسبت سے چند باتیں تحریر میں لا رہا ہوں جبکہ یہ سلسلہ تو ان شاءاللہ تعالیٰ زندگی بھر چلتا رہے گااور کسی نہ کسی حوالہ سے یہ یادداشتیں قلمبند ہوتی رہیں گی۔

میں نے اپنی طالب علمی کا زیادہ تر عرصہ حضرت صوفی صاحبؒ کی سر پرستی اور شفقت میں گزارا ہے۔ جب قرآن کریم یاد کرتا تھا، تب بھی چند ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں رہا اور اٹھارہواں پارہ میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضر ت قاری محمد یاسینؒ سے یاد کی۔ وہ صاحب فن اور صاحب ذوق استاذ تھے،میں نے تلفظ کی تصحیح اور تلاوت و قراءت کے آداب کی رعایت میں ان سے زیادہ باذوق اور کوئی استاذ نہیں دیکھا۔ ہزارہ کے دو بھائی مولانا محمد شفیق صاحب اور مولانا محمد رفیق صاحب اور ان کے بھتیجے مولانا محمد یوسف گلفام، جو آج کل کراچی میں ہوتے ہیں، ان دنوں مدرسہ میں زیر تعلیم تھے اور مولانا محمد شفیق صاحب جامع مسجدنور میں نمازیں پڑھانے پر مامور تھے۔ والد محترم مدظلہ نے میری نگرانی ان کے سپرد کر رکھی تھی جبکہ صبح کا ناشتہ میں حضرت صوفی صاحبؒ کے دستر خوان پر کیا کرتا تھا۔ اس وقت حضرت صوفی صاحبؒ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ وہ مدرسہ کے ایک کمرہ میں رہتے تھے اور ان کی خدمت میں صوفی محمدکریم صاحب، صوفی محمد عالم صاحب، مستری رشید احمد مرحوم اور مستری منیر احمد صاحب ہوا کرتے تھے۔ ان حضرات کو حضرت صوفی صاحبؒ کے خصوصی خدام کی حیثیت حاصل تھی۔ ان میں سے کوئی صاحب حضرت صوفی صاحبؒ کی صبح کی چائے بنایا کرتے تھے جو ان کے ذوق کے مطابق خاص چائے ہوتی تھی اور بیکری سے کیک رس منگوا کر چائے کے ساتھ استعمال ہوتے تھے۔ میرے لیے الگ کپ میں دودھ ڈال کر اس میں کیک رس بھگو دیے جاتے تھے اور میں چمچ کے ساتھ کھاتا۔ نصف صدی کے لگ بھگ وقت گزر گیا ہے مگر اس کا منظر اور ذائقہ اب تک یا د ہے۔

اس زمانے میں لوگ حج کے لیے بحری جہاز کے ذریعہ جاتے تھے اور کئی ماہ لگ جایا کرتے تھے۔ کراچی سے جانا ہوتا تھا، حاجی حضرات کو بڑے اہتمام کے ساتھ رخصت کیا جاتا تھا، خاندان کے لوگ حاجی صاحبان کو رخصت کرنے اور پھر واپسی پر وصول کرنے کے لیے کراچی جایا کرتے تھے اور باقاعدہ جشن کی کیفیت ہوتی تھی۔ حضر ت صوفی صاحبؒ نے جب حج کیا تو وہ بھی میری طالب علمی کا زمانہ تھا اور میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہی تھا۔ مجھے ان کے سفر حج کی دو تین باتیں یاد ہیں۔ ایک یہ کہ بڑی خاموشی کے ساتھ ٹرین پر سوار ہو کر کراچی گئے اور واپسی کا ہمیں تب پتہ چلا کہ اچانک کسی نے کہا کہ حضرت صوفی صاحبؒ تو آبھی گئے ہیں۔ ہم دوڑتے دوڑتے دروازے کی طرف گئے تو وہ مسجد کی ٹوٹیوں پر سامان کی گٹھڑی ایک طرف رکھے وضوکررہے تھے۔ وضو کے بعد انہوں نے مسجد میں دورکعت نماز پڑھی اور پھر اپنے کمرے میں آگئے، ورنہ یہاں بعض دوستوں میں مشورہ ہو رہا تھا کہ حضرت صوفی صاحبؒ کی واپسی کے پروگرام کا پتہ چلے تو ایک دو ساتھی انہیں لانے کے لیے کراچی جائیں گے۔ مگر انہوں نے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور خاموشی کے ساتھ واپس پہنچ گئے۔ اس سفر حج میں وہ میرے لیے ایک چھوٹا سا سنہری رومال لائے تھے جو پگڑی نما تھا اور کافی عرصہ میرے زیر استعمال رہا۔

مجھے غلطیوں اور کوتاہیوں بلکہ بعض اوقات حماقتوں پر حضرت صوفی صاحبؒ زیادہ تر سمجھانے کا طریقہ اختیار کرتے تھے، کبھی غصہ بھی ہوتے تھے اور ڈانٹ دیا کرتے تھے، مگر ان سے مار کھانے کی نوبت صرف ایک بار اور صرف ایک تھپڑ کی صورت میں پیش آئی جو ابھی تک یاد ہے۔ میں عصر کے بعد عام طور پر شیرانوالہ باغ کے سامنے پھاٹک کی دوسری جانب واقع محلہ رام بستی میں اپنے نانا مرحوم مولوی محمد اکبرؒ کے ہاں جایا کرتا تھا جو وہاں ایک مسجد میں امام تھے اور مسجد کے مکان میں ہی رہتے تھے۔ میں وہاں جا کر ان سے اور نانی مرحومہ سے مل آیا کرتا تھ۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شیخوپورہ موڑ کے سامنے میدان میں ایک سرکس لگ گئی جو کئی روز جاری رہی۔ میں عصر کے بعد نانا مرحوم کے گھر جانے کی بجائے وہاں جانے لگ گیا۔ دو تین دن گھر نہیں گیا تو نانا مرحوم کو جنہیں ہم میاں جی کہا کرتے تھے، تشویش ہوئی اور وہ عصر کے بعد میرا پتہ کرنے کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم جا پہنچے۔ حضرت صوفی صاحبؒ نے انہیں بتایا کہ وہ تو آپ ہی کی طرف گیا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ دو تین روز سے نہیں آیا۔ اس کیفیت میں جب مغرب کے بعد میں مدرسہ واپس پہنچا تو حضرت صوفی صاحبؒ نے پوچھا کہ کہاں گئے تھے؟ مجھے نانا مرحوم کی آمد کا کوئی علم نہیں تھا، میں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ میاں جی کے ہاں گیا تھا۔ اس پر اچانک ایک زور دار تھپڑ میری گال پر پڑا اور فرمایا کہ بکواس کرتے ہو؟ وہ تو ابھی تمہیں تلاش کرتے ہوئے یہاں آئے تھے، مجھے بتانا پڑا کہ میں سرکس دیکھنے لگ گیا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے سمجھایا بھی اور غصے کا اظہار بھی کیا، اس کے بعد پھر مجھے سر کس جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔

حضرت صوفی صاحبؒ سفر میں بہت کم جایا کرتے تھے۔ ان کا زیادہ تر وقت مدرسہ کی چار دیواری میں ہی گزر تا تھا مگر ان کے ساتھ دو تین سفر مجھے یاد ہیں، ایک بار لاہور تشریف لے گئے اور مجھے ساتھ لے گئے۔ وہ صوفی کہلاتے تھے اور تصوف کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ حضرت صوفی صاحبؒ کے وحدت الوجود پر مستقل مقالے بھی ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت مجدد صاحبؒ کے بارے میں سنا ہے کہ وہ وحدت الوجود کے بارے میں مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ صوفی صاحبؒ نے کہا کہ جس کی سمجھ میں نہیں آئے گا وہ یہی کہے گا۔ تصوف کا عملی رنگ بھی صوفی صاحبؒ پر غالب تھا جس کی ایک جھلک میں نے یہ دیکھی کہ لاہور کے ایک سفر میں، جس میں وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ حضرت سید علی ہجویریؒ المعروف حضرت گنج بخشؒ کی قبر پر مراقب ہوئے اور کافی دیر مراقبہ کی کیفیت میں رہے۔ اس کے بعد وہ حضرت شاہ محمد غوثؒ کے مزار پر گئے اور وہاں بھی ان کی قبر پر مراقبہ کیا۔ پھر ایک بار گجرات گئے، میں بھی ساتھ تھا، وہاں انہوں نے حضرت شاہ دولہؒ کی قبر پر مراقبہ کیا۔ مگر سب سے دلچسپ صورت حال دیوبند کے سفر میں پیش آئی۔

دار العلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس میں حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ دونو ں بزرگ گئے۔ میں کسی وجہ سے بر وقت نہیں پہنچ سکا اور جب اجلاس کے آخری روز دیوبند پہنچا تو قاری محمد طیب صاحبؒ اختتامی خطاب فرما رہے تھے۔ والد صاحب اور صوفی صاحب مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ گوجرانوالہ کے قافلے میں قاری محمد یوسف عثمانی، حاجی عبد المتین چوہان مرحوم، مولانا حکیم محمود سلفیؒ اور مولانا مفتی نعیم اللہ صاحب بھی تھے۔ یہ حضرات باہر برآمدے میں قیام پذیر تھے اور اندر کمرے میں دونوں بزرگوں یعنی والد صاحب اور صوفی صاحبؒ کے بستر لگائے گئے تھے۔ جب میں پہنچا تو میرا بستر دونوں بزرگوں کے درمیان لگا دیا گیا۔ میں نے حال احوال پوچھا تو والد صاحب نے کہا کہ کوئی حال نہیں، صوفی رات کو خراٹے لیتا ہے اور سونے نہیں دیتا۔ صوفی صاحبؒ کہنے لگے کہ خراٹے خود لیتے ہیں اور ذمے دوسروں کے لگا دیتے ہیں۔ اب جب رات ہوئی اور ہم بستر پر لیٹے تو میں نے دیکھا کہ دونوں بزرگ زور زور سے خراٹے لے رہے ہیں، میں نے منہ پر ہاتھ رکھا اور بھاگتا ہوا باہر آ گیا اور پھر میری ہنسی چھوٹ گئی۔

صد سالہ اجلاس سے فارغ ہو کر ایک روز دونوں بزرگوں نے میرے بارے میں مشورہ کیا کہ اسے دیوبند کی سیر کرانی چاہیے، چنانچہ مجھے لے کر دونوں حضرات نے دیوبند کا چکر لگایا۔ میں نے ان کے ہمراہ حضرت حسین احمدؒ مدنی کا مکان اور مسجد دیکھی، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے گھر حاضری دی جہاں ان کے فرزند مولانا محمد ازہر شاہ قیصرؒ اور داماد حضرت مولانا احمد رضا بجنوریؒ سے ملاقات ہوئی۔ مسجد چھتہ میں انار کا وہ درخت دیکھا جس کے نیچے بیٹھ کر حضرت ملا محمودؒ نے مولانا محمود حسنؒ کو پہلاسبق پڑھایا تھا اور دارالعلوم دیوبند کا آغاز ہوا تھا اور دیگر بہت سے مقامات مجھے دکھائے۔ چلتے چلتے والد صاحب نے پوچھا کہ ”مڑھیاں“ بھی دیکھنی ہیں؟ (یعنی قبرستان جانا ہے؟) میں نے کہا کہ جی۔ ہم قبرستان گئے تو بالکل دل کی بات کرتا ہوں کہ واقعتاً حضرت شیخ الہند او رحضرت مدنی کی قبروں پر، جو ساتھ ساتھ بنی ہوئی ہیں، عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ میں تاریخ کا طالب علم ہوں، اس عظیم المرتبت استاذ اور جلیل القدر شاگرد کو اکٹھے آرام فرما دیکھ کر تاریخ کے کئی مناظر ایک تیز رفتارفلم کی طرح ذہن کی اسکرین پر گھوم گئے۔ حضرت صوفی صاحبؒ کا شیخ الاسلام حضرت مدنی کے ساتھ شاگردی کے ساتھ ساتھ بیعت کا تعلق بھی تھا، وہ تو قبر کو دیکھ کر سیدھے وہاں پہنچے اور مراقبہ میں بیٹھ گئے۔ اب منظر یہ تھا کہ حضرت صوفی صاحبؒ مراقبہ میں بیٹھے ہیں، حضرت والد صاحبؒ تھوڑے فاصلے پر کھڑے کچھ پڑھ رہے ہیں اور میں درمیان میں کھڑا ہوں۔ میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں بھی چچا جان کے ساتھ مراقبہ میں بیٹھ جاؤں، مگر پیچھے کھڑے والد صاحب سے ڈر بھی رہا ہوں۔ تھوڑی دیر گزری تو حضرت والد صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ”اٹھا ایس بدعتی نوں، جھنڈ مار کے بہہ گیا اے“۔ (اس بدعتی کواٹھاؤ، یہ کیا چادر میں سر دے کر بیٹھ گیا ہے)۔ اب میں انہیں کیا اٹھاتا کہ میرا تو خود جی ان کے ساتھ بیٹھنے کو چاہ رہا تھا۔ حضر ت صوفی صاحبؒ کم و بیش دس بارہ منٹ تسلی سے مراقبہ میں بیٹھے رہے۔ پھر اٹھے اور کہا کہ ”چلیں، آپ کو ہر کام بدعت نظر آتاہے‘‘۔ اور پھر ہم تینوں کوئی اور بات کیے بغیر اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ دیوبندیت شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کے الگ الگ ذوقوں کے اجتماع اور امتزاج کا نام ہے۔ دونوں الگ الگ بلکہ بظاہر متضا د ذوق نظر آتے ہیں مگر حضرت قاری صاحبؒ کا ارشاد ہے کہ ان دونوں ذوقوں کو جمع کیا جائے تو دیوبندیت تشکیل پا جاتی ہے۔ میں ا س پر کہا کرتا تھا کہ ہمارے گھر میں دونوں ذوق موجود ہیں۔ والد محترم شیخ الاسلام حضرت ابن تیمیہؒ کے ذوق کی نمائندگی کرتے ہیں اور حضرت صوفی صاحبؒ شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کے ذوق کے نمائندہ ہیں، اس لیے ہمارا گھرانہ دیوبندیت کی مکمل نمائندگی کرتا ہے۔ خود میرا حال یہ ہے کہ میں نے کئی بار اپنے دل و دماغ کو ٹٹولا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ میرا دل و دماغ ابن تیمیہؒ اور ابن عربیؒ میں سے کس کو ترجیح دیتا ہے؟ مگر آج تک فیصلہ نہیں کر پایا، مجھے دونوں سے یکساں دلی محبت ہے اور دونوں کے الگ الگ ذوق کو دین کا اہم اور ضروری حصہ سمجھتا ہوں۔

حضرت صوفی صاحبؒ کے حالات اور ان کےساتھ گزرے ہوئے اوقات کی بہت تفصیلات ہیں جن میں سے کچھ ذہن میں تازہ ہیں جبکہ کچھ کو ذہن کی سکرین پر لانے کے لیے وقت لگے گا اور کسی نہ کسی بہانے وقتاً فوقتاً یہ سامنے آتی رہیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، سر دست ان چند باتوں پر اکتفا کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حضرت صوفی صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ہم سب کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔