چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۶ جنوری ۲۰۱۶ء

برادر مکرم مولانا فضل الرحمان درخواستی زید مجدہم نے گزشتہ روز فون پر بتایا کہ وہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں ایک سیمینار کا اہتمام کر رہے ہیں، بے حد خوشی ہوئی۔ اپنے بزرگوں کو یاد رکھنا، ان کی خدمات و تعلیمات سے آگاہ ہونا اور ان کا تذکرہ کرتے رہنا باعث خیر و برکت ہونے کے ساتھ ساتھ راہنمائی کا ذریعہ بھی ہوتا ہے اور آج کے دور کی بطور خاص اہم ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارا یہ ذوق بڑھتا جا رہا ہے کہ اپنے بزرگوں کا نام تو لیتے ہیں اور ان کے تذکرہ کے فوائد و ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں مگر ان کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و آگاہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی راہنمائی سے محروم رہتے ہیں، اور دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا یہ ہوتا ہے کہ بار بار ان کا نام لینے سے لوگ انہیں بھی ہم پر قیاس کرنے لگتے ہیں اور ہم ان کی نیک نامی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے تعارف کو خراب کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔

حافظ الحدیث شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے کم و بیش پون صدی تک پاکستان میں امت مسلمہ اور خاص طور پر علماء کرام اور دینی کارکنوں کی علمی و روحانی اور دینی و فکری راہنمائی کی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ان سے مختلف حوالوں سے استفادہ کیا ہے جو بلاشبہ وطن عزیز کی علمی و دینی جدوجہد کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ وہ ہزاروں علماء کرام کے استاد اور لاکھوں انسانوں کے دینی و روحانی مربی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے متعدد دینی تحریکات کی جو قیادت اور سرپرستی فرمائی وہ انحطاط اور تنزل کے اس دور میں بہت یاد آتی ہے۔ مجھے حضرت درخواستیؒ کے ساتھ ایک کارکن کے طور پر ربع صدی تک خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی جسے دنیا و آخرت میں اپنے لیے باعث افتخار سمجھتا ہوں۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخاوستیؒ کا خصوصی ذوق دینی مدارس کا قیام اور ان کی سرپرستی تھا۔ جس علاقہ میں جاتے وہاں معلوم کرتے کہ دینی تعلیم کا کوئی ادارہ موجود ہے؟ اگر یہ دیکھتے کہ وہ علاقہ دینی مکتب و مدرسہ سے خالی ہے تو ان کی پہلی ترجیح یہ ہوتی تھی کہ علماء کرام اور اپنے عقیدت مندوں کو ترغیب دے کر مدرسہ قائم کراتے اور پھر اس کی سرپرستی بھی کرتے۔

دینی اجتماعات میں ان کے بیانات دینی معلومات کے ساتھ ساتھ جذب و کیف کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا حدیث رسولؐ کا تذکرہ ہوتا تھا، وہ جس محفل میں ہوتے کوئی نہ کوئی حدیث سناتے۔ جبکہ عوامی بیانات میں تو روانی کے ساتھ احادیث پڑھتے جاتے تھے۔ ان کے بیانات میں جہاد اور دینی جدوجہد کا تذکرہ لازمی ہوتا تھا، وہ اپنے سامعین کو دینی جدوجہد میں کسی نہ کسی طرح شریک رہنے کی تلقین کرتے۔ علماء اور طلباء کو بطور خاص ابھارتے، انہیں مجمع میں کھڑا کر کے ان سے دینی جدوجہد کرنے کا وعدہ لیتے اور بسا اوقات علماء کرام اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لیے دستار بندی بھی فرماتے۔ خود مجھے دو بار یہ شرف حاصل ہو چکا ہے اور دونوں مواقع پر میری باری آنے پر دستاریں ختم ہوجانے پر انہوں نے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر میرے سر پر رکھ دی۔ یہ دونوں ٹوپیاں میرے پاس محفوظ ہیں اور ان میں سے ایک ٹوپی جمعہ و عیدین کو دستار کے نیچے اہتمام سے پہنتا ہوں۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے وصال کے بعد علماء حق کے سب سے بڑے قافلہ ’’جمعیۃ علماء اسلام پاکستان‘‘ کا امیر منتخب کیا گیا اور زندگی کے آخری لمحہ تک وہ اس حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ افغانستان میں روسی استعمار کی عسکری یلغار کے بعد وہاں کے غیور علماء کرام نے علم بغاوت بلند کیا اور بیرونی جارحیت کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو ان کی سرپرستی اور معاونت میں حضرت مولانا درخواستیؒ پیش پیش تھے۔ انہوں نے پورے ملک میں اس مقصد کے لیے جہاد کی آواز لگائی اور قبائلی علاقوں کے مسلسل دورے کر کے وہاں کے مسلمانوں اور علماء کرام کو جہاد افغانستان کی حمایت اور پشت پناہی کے لیے تیار کیا۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ روسی جارحیت کے خلاف جہاد افغانستان کی کامیابی میں جہاں افغانستان، پاکستان اور دنیا بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی قربانیاں اور محنت کار فرما ہے وہاں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبد الحق اکوڑہ خٹک، اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی مساعی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور کوئی مؤرخ جہاد افغانستان کی تاریخ کو ان بزرگوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے قرارداد مقاصد، ۲۲ دستوری نکات اور تحریک ختم نبوت کی صورت میں نفاذِ اسلام کے جو دائرے متفقہ طور پر طے کیے تھے، حضرت درخواستیؒ نے دینی جدوجہد کے اس طریقہ کار اور حدود کا زندگی بھر پہرہ دیا۔ اور ان کی راہنمائی و سرپرستی میں نہ صرف قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ ہوا بلکہ دستور پاکستان میں نفاذِ اسلام کی اصولی بنیادیں ہمیشہ کے لیے طے پا گئیں جو بلاشبہ وطن عزیز میں نفاذِ شریعت کی مضبوط اساس ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلم ممالک اور حکومتوں کے لیے نفاذِ اسلام کے حوالہ سے مشعل راہ ہیں۔ ملک کے اندر انہوں نے ہمیشہ پر امن اور قانونی جدوجہد کا طریقہ اپنایا اور اہل دین کو اسی کی تلقین کرتے رہے۔ وہ ہر موقع پر فرماتے کہ ہمارے اکابر نے دینی جدوجہد کا جو طریق کار طے کیا ہے اور جس اندا زمیں انہوں نے محنت کی ہے ہمیں اس کے مطابق چلنا ہوگا، اس سے ہٹ کر ہم اگر دینی جدوجہد کا کوئی اور راستہ اختیار کریں گے تو وہ ہمارے لیے کامیابی کا راستہ نہیں ہوگا۔

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے زندگی بھر قرآن و سنت اور دینی علوم کی مسلسل تعلیم دی، وہ اس کے ساتھ دینی جدوجہد میں حصہ لیتے رہے، روحانی مجالس آباد کرتے رہے، دین کی دعوت و تبلیغ کے کام کو آگے بڑھانے اور باطل تحریکات کے مقابلہ کرنے کے لیے علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکنوں کو تیار کرتے رہے اور ان کی سرپرستی فرماتے رہے۔ آج دینی جدوجہد کے حوالے سے فکری خلفشار کی جو فضا پیدا کی جا رہی ہے اور طرح طرح کے فتنے ابھر رہے ہیں اس میں حضرت درخواستیؒ کے ذوق، فکر اور فیض کو عام کرنے اور نئی نسل کو ان بزرگوں سے متعارف کرانے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ اپنے بزرگوں کا بار بار تذکرہ کریں اور ان کے فکر و ذوق کو عام کر کے نئی نسل کی صحیح راہنمائی کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔